بہار شریعت

نکاح کی وکالت کے متعلق مسائل

نکاح کی وکالت کے متعلق مسائل

مسئلہ ۱: نکاح کی وکالت میں گواہ شرط نہیں ۔ (عالمگیری)بغیر گواہوں کے وکیل کیا اور اس نے نکاح پڑھا دیا ہو گیا۔ گواہ کی یوں ضرورت ہے کہ اگر انکار کر دیا کہ میں نے تجھ کو وکیل نہیں بنایا تھا تواب وکالت ثابت کرنے کے لئے گواہوں کی حاجت ہے۔

مسئلہ ۲: عورت نے کسی کو وکیل بنایا کہ تو جس سے چاہے میرا نکاح کر دے تو وکیل خوداپنے نکاح میں اسے نہیں لا سکتا۔ یونہی مرد نے عورت کو وکیل بنایا تو وہ عورت اپنا نکاح اس سے نہیں کرسکتی۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۳: مرد نے عورت کووکیل کیا تو اپنے ساتھ میرا نکاح کر دے یا عورت نے مرد کو وکیل کیا کہ میرانکاح اپنے ساتھ کرے، اس نے کہا میں نے فلاں مرد (مؤکل کا نام لے کر) یا فلانی عورت (مؤکلہ کا نام لے کر ) سے اپنا نکاح کیا ، ہو گیا قبول کی حاجت نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۴: کسی کو وکیل کیا کہ فلانی عورت سے اتنے مہر پر میرا نکاح کر دے۔ وکیل نے اس مہر پر اپنا نکاح اس عورت سے کر لیا تو اسی وکیل کا نکاح ہوا۔ پھر وکیل نے اسے مہینے بھر رکھ کردخول کے بعد اسے طلاق دے دی اور عدت گزرنے پر مؤکل سے نکاح کر دیا تو مؤکل کا نکاح جائز ہو گیا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۵: وکیل سے کہا کسی عورت سے میرا نکاح کر دے اس نے باندی سے کیا صحیح نہ ہوا۔ یونہی اپنی بالغہ یا نابالغہ لڑکی یا نابالغہ بہن یا بھتیجی سے کرد یا جس کا یہ ولی ہے تو نکاح صحیح نہ ہوا۔ اور اگر بالغہ بہن یابھتیجی سے کیا تو صحیح ہے۔ یونہی عورت کے وکیل نے اس کا نکاح اپنے باپ یا بیٹے سے کر دیا تو صحیح نہ ہوا۔ (عالمگیری، درمختار)

مسئلہ ۶: عورت نے اپنے کاموں میں تصرفات کا کسی کو وکیل کیا۔ اس نے اس وکالت کی بناء پر اپنا نکاح اس سے کر لیا ۔ عورت کہتی ہے میں نے خرید و فروخت کے لئے وکیل بنایا تھا۔نکاح کا وکیل نہیں کیا تھا تو یہ نکاح صحیح نہ ہوا کہ اگر نکاح کا وکیل ہوتا بھی اسے کب اختیار تھا کہ اپنے ساتھ نکاح کر لے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۷: وکیل سے کہا کہ فلاں عورت سے میرا نکاح کردے اس نے دوسری سے کر دیا یا حرہ سے کرنے کو کہا تھا باندی سے کیا یا باندی سے کرنے کو کہا تھا آزاد عورت سے کیا یا جتنا مہر بتا دیا تھا اس سے زیادہ باندھا یا عورت نے نکاح کا وکیل کر دیا تھا اس نے غیر کفو سے نکاح کر دیا، ان سب صورتوں میں نکاح صحیح نہ ہوا۔ (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۸: عورت کے وکیل نے اس کا نکاح کفو سے کیا مگر وہ اندھا یا اپاہج یا بچہ یامعتوہ ہے تو ہو گیا یونہی مرد کے وکیل نے اندھی یا لنجھی یا مجنونہ یا نابالغہ سے نکاح کر دیا صحیح ہو گیا۔ اور اگر خوبصورت عورت سے نکاح کر نے کو کہا تھا اس نے کالی حبشن سے کر دیایا اس کا عکس تو نہ ہوا۔ اوراندھی سے نکاح کرنے کے لئے کہا تھا وکیل نے آنکھ والی سے کر دیا تو صحیح ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۹: وکیل سے کہا کسی عورت سے میرا نکاح کر دے، اس نے اس عورت سے کیا جس کی نسبت مؤکل کہہ چکا تھا کہ اس سے نکاح کروں تو اسے طلاق ہے تو نکاح ہو گیا اور طلاق پڑ گئی۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۰: وکیل سے کہا کسی عورت سے نکاح کر دے وکیل نے اس عورت سے کیا جس کو مؤکل توکیل سے پہلے چھوڑ چکا ہے اگر مؤکل نے اسکی بدخلقی وغیرہ کی شکایت وکیل سے نہ کی ہو تو نکاح ہو جائے گا اور اگر جس سے نکاح کیااسے وکیل بنانے کے بعد چھوڑا ہے تو نہ ہوا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۱: وکیل سے کہا فلانی یا فلانی سے نکاح کر دے تو جس ایک سے کریگا ہو جائے گا اوراگر دونوں سے ایک عقد میں کیا تو کسی سے نہ ہوا۔ (خانیہ)

مسئلہ ۱۲: وکیل سے کہا ایک عورت سے نکاح کر دے اس نے دو سے ایک عقد میں کیا تو کسی سے نافذ نہ ہوا پھر اگر مؤکل ان میں سے ایک کو جائز کر دے تو جائز ہوجائے گا اور دونوں کو تودونوں ۔اوراگر دو عقد میں دونوں سے نکاح کیا تو پہلا لازم ہو جائے گا اور دوسرا مؤکل کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ اور اگر دو عورتوں سے ایک عقد کے ساتھ نکاح کرنے کوکہا تھا اس نے ایک سے کیا یا دو سے دو عقدوں میں کیا تو جائز ہو گیا اور اگر کہا تھا فلانی سے کر دے وکیل نے اس کے ساتھ ایک عورت کو ملا کر دونوں سے ایک عقد میں کیا تو جس کو بتا دیا تھا اس کا ہو گیا۔ (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۱۳: وکیل سے کہا اس سے میرا نکاح کر دے بعد کومعلوم ہوا کہ وہ شوہر والی ہے پھر اس عورت کا شوہر مر گیا یا اس نے طلاق دے دی اورعدت بھی گزر گئی اب وکیل نے اس سے نکاح کر دیا تو ہو گیا۔ (خانیہ)

مسئلہ ۱۴: وکیل سے کہا میری قوم کی عورت سے نکاح کر دے اس نے دوسری قوم کی عورت سے کیا جائز نہ ہوا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۵: وکیل سے کہا اتنے مہر پر نکاح کر دے اور اس میں اتنا معجل ہووکیل نے مہر تووہی رکھ مگر معجل کی مقدار بڑھا دی تو نکاح شوہر کی اجازت پر موقوف رہا۔ اور اگر شوہر کا علم ہو گیا اور عورت سے وطی کی تواجازت ہو گئی اورلا علمی میں کی تونہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۶: کسی کو بھیجا کہ فلانی سے میری منگنی کر آئو۔ وکیل نے جا کر اس سے نکاح کر دیا ہو گیا۔ اور اگر وکیل سے کہا فلاں کی لڑکی سے میری منگنی کر دے اس نے لڑکی کے باپ سے کہا اپنی لڑکی مجھے دے اس نے کہا دی اب وکیل کہتا ہے میں نے اس لفظ سے اپنے مؤکل کا نکاح مراد لیا تھا تواگر وکیل کا لفظ منگنی کے طور پر تھا اورلڑکے کے باپ کاجواب بھی عقدکے طور پر نہ تھا تو نکاح نہ ہوااوراگر جواب عقد کے طور پر تھا تو نکاح ہو گیا مگر وکیل سے ہوا مؤکل سے نہ ہوا۔ اوراگروکیل اور لڑکی کے باپ میں مؤکل سے نکاح کے متعلق بات چیت ہو چکنے کے بعد لڑکی کے باپ نے کہا میں نے اپنی لڑکی کانکاح اتنے مہر پر کر دیا یہ نہ کہا کہ کس سے وکیل سے یا مؤکل سے وکیل نے کہا میں نے قبول کی تولڑکی کا نکاح اس وکیل سے ہو گیا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۷: یہ بات توپہلے بتا دی گئی ہے کہ نکاح کے وکیل کویہ اختیار نہیں کہ وہ دوسرے سے نکاح پڑھوادے۔ ہاں اگر عورت نے وکیل سے کہہ دیا کہ تو جو کچھ کرے منظورہے تو اب وکیل دوسرے کو وکیل کر سکتاہے یعنی دوسرے سے پڑھوا سکتا ہے۔ اور اگر دو شخصوں کو مرد یاعورت نے وکیل بنایا ان میں ایک نے نکاح کر دیا جائز نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۸: عورت نے نکاح کا کسی کو وکیل بنایا پھر اس نے بطور خودنکاح کرلیاتووکیل کی وکالت جاتی رہی وکیل کواس کا علم ہوا یا نہ ہوا۔ اوراگر اس نے وکالت سے معزول کیا تو جب تک وکیل کو اس کا علم نہ ہو معزول نہ ہوگا یہاں تک کہ معزول کرنے کے بعد وکیل کو علم نہ ہوا تھا اس نے نکاح کر دیا ہو گیا۔ اور اگر مرد نے کسی خاص عورت سے نکاح کا وکیل کیا تھا پھر مؤکل نے اس عورت کی ماں یا بیٹی سے نکاح کر لیا تو وکالت ختم ہو گئی۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۹: جس کے نکاح میں چار عورتیں موجود ہیں اس نے نکاح کا وکیل کیا تو یہ وکالت معطل رہے گی جب ان میں سے کوئی بائن ہو جائے اس وقت وکیل اپنی وکالت سے کام لے سکتا ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۰: کسی کی زبان بند ہو گئی اس سے کسی نے پوچھا ، تیری لڑکی کے نکاح کا وکیل ہو جائوں اس نے کہا ہاں ہاں اس کے سوا کچھ نہ کہا اور وکیل نے نکاح کر دیا صحیح نہ ہوا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۱: جس مجلس میں ایجاب ہوا اگر اسی میں قبول نہ ہوا تو وہ ایجاب باطل ہو گیا بعدمجلس قبول کرنا بے کار ہے۔ا ور یہ حکم نکاح کے ساتھ خاص نہیں بلکہ بیع وغیرہ تمام عقود کا یہی حکم ہے مثلاً مرد نے لوگوں سے کہا گواہ ہو جائو میں نے فلانی عورت سے نکاح کیا اور عورت کو خبر پہنچی اس نے جائز کر دیا تو نکاح نہ ہوا یا عورت نے کہا گواہ ہو جائو کہ میں نے فلاں شخص سے جو موجود نہیں ہے نکاح کیا اور اسے جب خبر پہنچی تو جائز کر دیا نکاح نہ ہوا۔ (درمختار)

مسئلہ ۲۲: پانچ صورتوں میں ایک شخص کا ایجاب قائم مقام قبول کے بھی ہو گا۔ (۱) دونوں کا ولی ہو مثلاً یہ کہے میں نے اپنے بیٹے کا نکاح اپنی بھتیجی سے کر دیا۔ یا پوتے کا نکاح پوتی سے کر دیا۔ (۲) دونوں کا وکیل ہو مثلاً میں نے اپنے مؤکل کا نکاح اپنی مؤکلہ سے کر دیا اور اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ جو دو گواہ مرد کے وکیل کرنے کے ہوں وہی عورت کے وکیل بنانے کے ہوں ۔ اور وہی نکاح کے بھی گواہ ہوں ۔ (۳) ایک طرف سے اصیل دوسری طرف سے وکیل مثلاً عورت نے اسے وکیل بنایا کہ میرا نکاح تو اپنے ساتھ کر لے اس نے کہا میں نے اپنی مؤکلہ کا نکاح اپنے ساتھ کیا (۴) ایک طرف سے اصیل ہو دوسری طرف سے ولی مثلاً چچا زاد بہن نابالغہ سے اپنا نکاح کرے اور اس لڑکی کا یہی ولی اقرب بھی ہے۔ اور اگر بالغہ ہو اور بغیر اجازت اس سے نکاح کیا تو اگرچہ جائز کر دے نکاح باطل ہے۔ (۵) ایک طرف سے ولی ہو دوسری طرف سے وکیل مثلاً اپنی لڑکی کا نکاح اپنے مؤکل سے کرے۔ اور اگر ایک شخص دونوں طرف سے فضولی ہو یا ایک طرف سے فضولی ہو دوسری طرف سے وکیل یا ایک طرف سے فضولی ہو دوسری طرف سے ولی یا ایک طرف سے فضولی ہو دوسری طرف سے اصیل تو ان چاروں صورتوں میں ایجاب و قبول دونوں نہیں کر سکتا۔ اگر کیا تو نکاح نہ ہوا۔ (درمختار)

مسئلہ ۲۳: فضولی نے ایجاب کیا اور قبول کرنے والا کوئی دوسرا ہے جس نے قبول کیا خواہ وہ اصیل ہو یا وکیل یا ولی یا فضولی تو یہ عقد اجازت پر موقوف رہا، جس کی طرف سے فضولی نے ایجاب یا قبول کیا۔ اس نے جائز کر دیا، جائز ہو گیا اور رد کر دیا باطل ہو گیا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۴: فضولی نے جو نکاح کیا اس کی اجازت قول و فعل دونوں سے ہو سکتی ہے مثلاً کہا تم نے اچھا کیا یا اللہ ہمارے لئے مبارک کرے یا تو نے ٹھیک کیا۔ اور اگر اس کے کلام سے ثابت ہوتا ہے کہ اجازت کے الفاظ استہزاء کے طور پر کہے تو اجازت نہیں ۔ اجازت فعلی مثلاً مہر بھیج دینا۔ا س کے ساتھ خلوت کرنا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۵: فضولی نے نکاح کیا اور مر گیا اس کے مرنے کے بعد جس کی اجازت پر موقوف تھا اس نے اجازت دی صحیح ہو گیا اگرچہ دونوں طرف سے دو فضولیوں نے ایجاب و قبول کیا ہو اور فضولی نے بیع کی ہو تو اس کے مرنے کے بعد جائز نہیں کر سکتا۔ (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۲۶: فضولی اپنے کئے ہوئے نکاح کو فسخ کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔ نہ قول سے فسخ کر سکتا ہے مثلاً کہے میں نے فسخ کر دیا نہ فعل سے مثلاً اسی شخص کا نکاح اس عورت کی بہن سے کر دیا تو پہلا فسخ نہ ہو گا۔ اور اگر فضولی نے مرد کی بغیر اجازت نکاح کر دیا اس کے بعد اسی شخص نے اس فضولی کو وکیل کیا کہ میرا کسی عورت سے نکاح کر دے اس نے اس پہلی عورت کی بہن سے نکاح کیا تو پہلا فسخ ہو گیا اور کہتا کہ میں نے فسخ کیا تو فسخ نہ ہوتا ۔ (خانیہ)

مسئلہ ۲۷: فضولی نے چار عورتوں سے ایک عقد میں کسی کا نکاح کر دیا اس نے ان میں سے ایک کو طلاق دے دی تو باقیوں کے نکاح کی اجازت ہو گئی اور پانچ عورتوں سے متفرق عقد کے ساتھ نکاح کیا تو شوہر کو اختیار ہے کہ ان میں سے چار کو اختیار کر لے اور ایک کو چھوڑ دے ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۸: غلام اور باندی کا نکاح مولی کی اجازت پر موقوف رہتا ہے وہ جائز کرے تو جائز رد کرے تو باطل خواہ مدبر ہوں یا مکاتب یا ام ولد یا وہ غلام جس میں کچھ حصہ آزاد ہو چکا اور باندی کو جو مہر ملے گا اس کا مالک مولی ہے مگر مکاتبہ اور جس باندی کا بعض آزاد ہوا ہے ان کو جو مہر ملے گا انہیں کا ہو گا۔ (خانیہ)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button