شرعی سوالات

نکاح پڑھانے کی اجرت لی جا سکتی ہے بشرطیکہ پڑھایا ہو

سوال:

قاضی جبراً اجرت نکاح حاصل کرنے کا مستحق ہے یا نہیں؟جو شخص مسائل نکاح ومحرمات ورضاعت و طلاق وعدت وغیرہ سے ناواقف ہو وہ شخص قابل عہدہ قضا ہے یا نہیں ؟ملخصاً

جواب:

نکاح خواں جس کو لوگ قاضی کہتے ہیں یہ شرعاً قاضی نہیں کہ اس کا قاضی کہنا عام لوگوں کی صطلاح ہے لہذا شرائط قضا کی بھی اس میں ضرورت نہیں ۔عموما نکاح خواں ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو قاضی کہنا عہدہ قضا کو ذلیل کرنا ہے یہ قاضی عرفی وکیل ومعبر ہوتا ہے کہ الفاظ ایجاب کہہ کر قبول کرانا اس کا کام ہوتا ہے اس کے لیے بس اتنی ضرورت ہے کہ ایجاب و قبول کے الفاظ صحیح طور پر کہہ سکے اور کہلا سکے ۔اس کے لیے نہ عالم ہونے کی ضرورت نہ نکاح وطلاق کے مسائل جاننے کی حاجت ۔نکاح خواں کو اجرت نکاح  خوانی لینا جائز ہے مگر اجرت اس وقت لے سکتا ہے جب اس نے نکاح پڑھایا بھی ہو ورنہ بغیر عمل گھر بیٹھے ہوئے اجرت ہرگز نہیں لے سکتا بلکہ یہ بھی ضرور نہیں کہ یہی لوگوں کے نکاح پڑھائے ،نکاح کرنے والوں کو اختیار ہے جس سے چاہیں پڑھوائیں اور اگر اس قاضی نے جبراً اجرت لی تو گناہ وحرام ہوگا۔

(فتاوی امجدیہ، کتاب الاجارۃ ،جلد3،صفحہ275،مطبوعہ  مکتبہ رضویہ،کراچی)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button