احادیث قدسیہ

نيكی اور برائی كےصلے ميں فرق

اس مضمون میں نيكی اور برائی كےصلے ميں فرق کے متعلق حدیث قدسی کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح کی گئی ہے۔

اس مضمون میں نيكی اور برائی كےصلے ميں فرق کے متعلق حدیث قدسی بیان کی جائے گی۔ آپ کی آسانی کے لئے اعراب کے ساتھ عربی میں حدیث شریف کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح کی گئی ہے۔

نيكی اور برائی كےصلے ميں فرق کے متعلق حدیث قدسی:

عن أِبي هُرَيرَةَ رضيَ الله عَنْهُ عن رَسُوْل الله صلى الله عليه وسلم: "قَال الله تَعَالَى إِذَاَ همَّ عَبْدي بِحَسَنَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبتُهَا لَهُ حَسَنَةً فَإِذا عَمِلَهَا كَتَبْتُهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلى سَبْعَمِائةِ ضِعْفٍ. وَإِذَاَ همَّ بسَيِّئَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ أكتُبْهَا عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبْتُهَا سَيِّئةً وَاحِدَةً

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی  نے ارشادفرمایا :

جب ميرا بنده کسی نیکی کا ارادہ کرتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کر پاتا تو میں اس کے لیے(ارادہ کرنے کی) ایک نیکی لکھ دیتا ہوں اور اگر وہ اس عمل کر لے تو میں اس کے لیے دس نیکیوں سے لے کر سات سو نیکیوں تک لکھ دیتا ہوں۔ اور اگر میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ کرے پھر اس سے رک جائے میں اسے نہیں لکھتا اور اگر وہ برائی کر بیٹھے تو میں اسے ایک برائی ہی لکھتا ہوں۔

حدیث قدسی کی تشریح:

ذیل میں نيكی اور برائی كےصلے ميں فرق کے متعلق حدیث قدسی کی آسان الفاظ میں پوائنٹس کی صورت میں تشریح اور مسائل بیان کئے جا رہے ہیں۔

  1. اچھے کام کی نیت کرنا بھی باعث ثواب ہے۔
  2. اللہ تعالی چاہے تو عمل کیے بغیر بھی اس کا ثواب عطا فرما دیتا ہے۔
  3. یہ امت محمدی کی خصوصیت ہے کہ اللہ تبارک وتعالی اپنے فضل و رحمت سے ایک عمل کا ثواب کئی گنا عطا فرماتا ہے۔” اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۚ-وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا“ ترجمہ: اللہ ایک ذرّہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اُسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے۔ (نساء:40) ”مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةًؕ-وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ۪-وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ“ترجمہ: ہے کوئی جو اللہ کو قرضِ حسن دے تو اللہ اس کے لیے بہت گنابڑھادے اور اللہ تنگی اور کشائش کرتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پھر جانا۔ (بقرۃ:245)
  4. اس حدیث میں سات سو گنا تک کا ذکر ہے جبکہ قرآن پاک میں اللہ تعالی نےسات سو  گناسے بھی زیادہ اجر کی بشارت دی:”مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕوَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ“ ترجمہ:ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُس دانہ کی طرح جس نے اوگائیں سات بالیں ہر بال میں سو دانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لیے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔ (بقرۃ: 261)
  5. یہ بھی اللہ تعالی کا فضل ہے کہ نیک اعمال کی نسبت بندے کی طرف فرماتا ہے حالانکہ اس کی توفیق بھی اسی نے عطا فرمائی تھی۔

حدیث شریف کا حوالہ:

1:صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب إذا هم العبد بحسنة كتبت، وإذا هم بسيئة لم تكتب ، جلد1، صفحہ117، حدیث نمبر128، دار إحياء التراث العربي ، بيروت

2:صحیح بخاری، كتاب اللباس ، باب ما يذكر في المسك ، جلد8، صفحہ103، حدیث نمبر 6491، دار طوق النجاہ،لبنان

حدیث شریف کا حکم:

اس حدیث شریف کی سند صحیح ہے۔ امام ترمذی اس حدیث شریف کے متعلق فرماتے ہیں:” هذا حديث حسن صحيح

۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button