بہار شریعت

نماز کے وقتوں کا بیان

 نماز کے وقتوں کے متعلق احکام و مسائل کا تفصیلی مطالعہ

نماز کے وقتوں کا بیان

                        قال اﷲ تعالیٰ:۔

متعلقہ مضامین

                        اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَاباً مَّوْقُوْتاً

                        (بے شک نماز ایمان والوں پر فرض ہے وقت باندھا ہوا )

                        اور فرماتا ہے:۔

                        فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ  تُظْھِرُوْنَ

                        (اﷲ کی تسبیح کرو جس وقت تمہیں شام ہو (نماز مغرب و عشاء) اور جس وقت صبح ہو (نماز فجر) اور اسی کی حمد ہے آسمانوں اور زمین میں اور پچھلے پہر کو (نماز عصر) اور جب تمہیں دن ڈھلے (نماز ظہر)۔

    احادیث

حدیث ۱: حاکم نے عباس رضی اﷲ تعالیٰ سے روایت کی نبی ﷺ فرماتے ہیں فجر دو ہیں ایک وُہ جس میں کھانا حرام یعنی روزہ دار کے لئے اور نماز حلال دوسری وہ کہ اس میں (فجر) حرام اور کھانا حلال۔

حدیث ۲:            نسائی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ فرماتے ہیں ﷺ جس شخص نے فجر کی ایک رکعت قبل طلوع آفتاب پالی تو اس نے نماز پا لی (اس پر فرض ہو گئی اور) جسے ایک رکعت عصر کی قبل غروب آفتاب مل گئی اس نے نماز پا لی یعنی اس کی نماز ہو گئی اور یہاں جگہ رکعت سے تکبیر تحریمہ مرا دلی جائے گی یعنی عصر کی نیت باندھ لی تکبیر تحریمہ کہہ لی اس وقت تک آفتاب نہ ڈوبا تھا پھر ڈوب گیا نماز ہو گئی اور کافر مسلمان ہوا یا بچّہ بالغ ہوا اس وقت کہ آفتاب طلوع ہونے تک تکبیر تحریمہ کہہ لینے کا وقت باقی تھا اس فجر کی نماز اس پر فرض ہو گئی قضا پڑھے اور طلوع آفتاب کے بعد مسلمان بالغ ہوا تو وہ نماز  اس پر فرض نہ ہوئی۔

حدیث ۳:            ترمذی رافع بن خدیج رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ فرماتے ہیں ﷺ فجر کی نماز اجالے میں پڑھو کہ اس میں بہت عظیم ثواب ہے۔

حدیث ۴:            ویلمی کی روایت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ اس سے تمہاری مغفرت ہو جائے گی اور ویلمی کی دوسری روایت انھیں سے ہے کہ جو فجر کو روشن کرکے پڑھے گا اﷲ تعالیٰ اس کی قبر اور قلب کو منور کرے گا اور اس کی نماز قبول فرمائے گا۔

حدیث ۵:            طبرانی اوسط میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میری امت ہمیشہ فطرت یعنی دینِ حق پر رہے گی جب تک فجر کو اجالے  میں پڑھے گی۔

حدیث ۶:            امام احمد و ترمذی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں نما زکے لئے اوّل و آخر ہے اوّل وقت ظہر کا اس وقت ہے کہ آفتاب ڈھل جائے اور آخر وقت عصر کا اس وقت کہ آفتاب کا قرص زرد ہو جائے اور اوّل وقت مغرب کا اس وقت کہ آفتاب ڈوب جائے اور اس کا آخر وقت جب شفق ڈوب جائے اور اوّل وقت عشاء جب شفق ڈوب جائے اور آخر وقت جب آدھی رات ہو جائے (یعنی مباح بلا کراہت)۔

حدیث ۷:            بخاری و مسلم ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ فرماتے ہیں ﷺ ظہر کو ٹھنڈا کرکے پڑھو کہ سخت گرمی جہنم کے جوش سے ہے۔ دوزخ نے اپنے رب کے پاس شکایت کی کہ میرے بعض اجزاء بعض کو کھائے لیتے ہیں اسے دو مرتبہ سانس کی اجازت ہوئی ایک جاڑے میں اور ایک گرمی میں۔

حدیث ۸:            صحیح بخاری شریف باب الاذان للمسافرین میں ہے ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہم رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ ایک مرتبہ سفر میں تھے موذن نے اذان کہنی چاہی فرمایا ٹھنڈا کر پھر ارادہ کیا فرمایا ٹھنڈا کر پھر قصد کیا فرمایا ٹھنڈا کر یہا ں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہو گیا۔

حدیث ۹۔۱۰:       امام احمد و ابوداؤد، ابو ایوب و عقبہ بن عامررضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی کہ فرماتے ہیں ﷺ میری امت ہمیشہ فطرت پر رہے گی جب تک مغرب میں اتنی تاخیر نہ کریں کہ ستارے گُتھ جائیں۔

حدیث ۱۱:            ابوداؤد نے عبدالعزیز بن رفیع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ فرماتے ہیں ﷺ دن کی نماز (عصر) ابر کے دن میں جلدی پڑھو اور مغرب میں تاخیر کرو۔

حدیث ۱۲:           امام احمد ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ فرماتے ہیں ﷺ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری امت پر مشقت ہو جائے گی تو میں ان کو حکم فرمادیتا کہ ہر وضو کے ساتھ مسواک کریں اور عشاء کی نماز تہائی یا آدھی رات تک موخر کر دیتا کہ رب تبارک و تعالیٰ آسمان پر خاص تجّلی رحمت فرماتا ہے اور صبح تک فرماتا رہتا ہے کہ ہے کوئی سائل کہ اسے دوں، ہے مغفرت چاہنے والا کہ اس کی مغفرت کروں، ہے کوئی دُعا کرنے والا کہ قبول کروں۔

حدیث ۱۳:           طبرانی اوسط میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ فرماتے ہیں ﷺ جب فجر طلوع کر آئے تو کوئی (نفل) نماز نہیںسوا دو رکعت فجر کے۔

حدیث ۱۴:           بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ فرماتے ہیں ﷺ بعد صبح نماز نہیں تاوقتے کہ آفتاب بلند ہو جائے اور عصر کے بعد نما زنہیں یہاں تک کہ غروب ہو جائے۔

حدیث ۱۵:           صحیحین میں عبداﷲ صنابحی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی فرماتے ہیں ﷺ آفتاب شیطان کے سینگ کے ساتھ طلوع کرتا ہے جب بلند ہو جاتا ہے تو جدا ہو جاتا ہے پھر جب سر کی سیدھ پر آتا ہے تو شیطان اس سے قریب ہو جاتا ہے جب ڈھل جاتا ہے تو ہٹ جاتا ہے پھر جب غروب ہونا چاہتا ہے شیطان اس سے قریب ہو جاتا ہے جب ڈوب جاتا ہے جُدا ہو جاتا ہے تو ان تینوں وقتوں میں نماز نہ پڑھو۔

 مسائلِ فقہیہ

مسئلہ ۱:               وقت فجر طلوع صبح صادق سے آفتاب کی کرن چمکنے تک ہے۔ (متون)۔

فائدہ:                 صبح صادق ایک روشنی ہے کہ پورب کی جانب جہاں سے آج آفتاب طلوع ہونے والا ہے اس کے اوپر آسمان کے کنارے میں دکھائی دیتی ہے اور بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ تمام آسمان پر پھیل جاتی اور زمین پر اجالا ہو جاتا ہے اور اس سے قبل بیچ آسمان میں ایک دراز سپیدی ظاہر ہوتی ہے جس کے نیچے سارا اُفق سیاہ ہوتا ہے صبح صادق اس کے نیچے سے پھوٹ کر جنوباً شمالاً دونوں پہلوؤں پر پھیل کر اوپر بڑھتی ہے یہ دراز سپیدی اس میں غائب ہو جاتی ہے اس کو صبح کاذب کہتے ہیں اس سے فجر کا وقت نہیں ہوتا یہ جو بعض نے لکھا کہ صبح کاذب کی سپیدی جاکر بعد کو تاریکی ہو جاتی ہے محض غلط ہے صحیح وہ ہے جو ہم نے بیان کیا۔

مسئلہ ۲:               مختار یہ ہے کہ نماز فجر میں صبح صادق کی سپیدی چمک کر ذرہ پھیلنی شروع ہو اس کا اعتبار کیا جائے اور عشاء اور سحری کھانے میں اس کے ابتدائے طلوع کا اعتبار ہو۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۱)

فائدہ:                 صبح صادق چمکنے سے طلوع آفتاب تک ان بلاد میں کم از کم ایک گھنٹہ اٹھارہ منٹ ہے اور زیادہ سے زیادہ تک ایک گھنٹہ پینتیس (۳۵) منٹ نہ اس سے کم ہو گا نہ اس سے زیادہ اکیس (۲۱) مارچ کو ایک گھنٹہ اٹھارہ منٹ ہوتا ہے پھر بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ ۲۲ جون کو پورا ایک گھنٹہ ۳۵ منٹ ہوجاتا ہے یہاں تک کہ بائیس (۲۲) دسمبر کو ایک گھنٹہ ۲۴ منٹ ہوتا ہے پھر کم ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ ۲۱ مارچ کو وہی ایک گھنٹہ اٹھارہ منٹ ہو جاتا ہے جو شخص وقت صحیح نہ جانتا ہو اسے چاہئے کہ گرمیوں میں ایک گھنٹہ ۴۰ منٹ باقی رہنے پر سحری چھوڑ دے خصوصاً جون جولائی میں اور جاڑوں میں ڈیڑھ گھنٹہ رہنے پر خصوصاً دسمبر جنوری میں مارچ و ستمبر کے اواخرمیں جب دن رات برابر ہوتا ہے تو سحری ایک گھنٹہ ۲۴ منٹ پر چھوڑ دے اور سحری چھوڑنے کا جو وقت بیان کیا گیا اس کے آٹھ دس منٹ بعد اذان کہی جائے تاکہ سحری اور اذان دونوں طرف احتیاط رہے بعض ناواقف آفتاب نکلنے سے دو پونے دو گھنٹے پہلے اذان کہہ دیتے ہیں پھر اسی وقت سنت بلکہ فرض بھی بعض دفعہ پڑھ لیتے ہیں نہ یہ اذان ہو نہ نماز بعضوں نے رات کا ساتواں حصہ وقتِ فجر سمجھ رکھا ہے یہ ہرگز صحیح نہیں ماہِ جون و جولائی میں جب کہ دن بڑا ہوتا ہے اور رات تقریباً دس (۱۰) گھنٹے کی ہوتی ہے ان دنوں تو البتہ وقت صبح رات کا ساتواں حصہ یا اس سے چند منٹ پہلے ہو جاتا ہے مگر دسمبر جنوری میں جب کہ رات چودہ گھنٹے کی ہوتی ہے اسوقت فجر کا وقت نواں حصہ بلکہ  اس سے بھی کم ہو جاتا ہے۔ ابتدائے وقت فجر کی شناخت دشوار ہے خصوصاً جب کہ گرد و غبار ہو یا چاندنی رات ہو لہٰذا ہمیشہ طلوع آفتاب کا خیال رکھے کہ آج جس وقت طلوع ہوا دوسرے دن اسی حساب سے وقت متذکرہ بالا کے اندر اندر اذان و نماز فجر ادا کی جائے (از افاداتِ رضویہ، عالمگیری ج ۱ ص ۵۱)

                        وقت ظہر و جمعہ:  آفتاب ڈھلنے سے اس وقت تک ہے کہ ہر چیز کا سایہ علاوہ اصلی کے دو چند ہو جائے (متون)۔

فائدہ:                 ہر دن کا سایہ اصلی وہ سایہ ہے کہ اس دن آفتاب کے خط نصف النہار پر پہنچنے کے وت ہوتا ہے اور وہ موسم اور بلاد کے مختلف ہونے سے مختلف ہوتا ہے دن جتنا گھٹتا ہے سایہ بڑھتا جاتا ہے اور دن جتنا بڑھتا ہے سایہ کم ہوتا جاتا ہے یعنی جاڑوں میں زیادہ ہوتا ہے اور گرمیوں میں کم اور ان شہروں میں کہ خطِ استوا کے قرب میں واقع ہیںکم ہوتا ہے بلکہ بعض جگہ بعض موسم میں بالکل ہوتا ہی نہیں جب آفتاب   بالکل سمت راس میں ہوتا ہے چنانچہ موسم سرما ماہِ دسمبر میں ہمارے ملک کے عرض بلد پر کہ ۲۸ درجہ کے قرب پر واقع ہے ساڑھے آٹھ قدم سے زیادہ یعنی سوائے کے قریب سایہ اصلی ہو جاتا ہے اور مکہ معظمہ میں جو۲۱ درجہ پر واقع ہے ان دنوں میں سات قدم سے کچھ ہی زائد ہوتا ہے اس سے زائد پھر نہیں ہوتا اسی طرح موسم گرما میں مکہ معظمہ میں ۲۷ مئی سے ۳۰ مئی تک دوپہر کے وقت بالکل سایہ نہیں ہوتا اس کے بعد پھر وہ سایہ الٹا ظاہر ہوتا ہے یعنی سایہ جو شمال کو پڑتا تھا اب مکہ معظمہ میں جنوب کو ہوتا ہے اور ۲۲ جون تک پاؤ قدم تک بڑھ کر پھر گھٹتا ہے یہاں تک کہ پندرہ جولائی سے اٹھارہ جولائی تک پھر معدوم ہو جاتا ہے اس کے بعد پھر شمال کی طرف ظاہر ہوتا ہے اور ہمارے ملک میں نہ کبھی جنوب میں پڑتا ہے نہ کبھی معدوم ہوتا ہے بلکہ سب سے کم سایہ ۲۲ جون کو نصف قدم باقی رہتا ہے (ازافاداتِ رضویہ)۔

فائدہ:                 آفتاب ڈھلنے کی پہچان یہ ہے کہ برابر زمین میں ہموار لکڑی اس طرح سیدھی نصب کریں کہ مشرق یا مغرب کو اصلاً نہ جھکی ہو آفتاب جتنا بلند ہوتا جائے گا اس لکڑی کا سایہ کم ہوتا جائے گا جب کم ہونا موقوف ہو جائے تو اس وقت خط نصف النہار پر پہنچا اور اس وقت کا سایۂ اصلی ہے اس کے بعد بڑھنا شروع ہو گا اور یہ دلیل ہے کہ خط نصف النہار سے متجاوز ہوا اب ظہر کا وقت ہوا یہ ایک تخمینہ ہے اس لئے کہ سایہ کا کم و بیش ہونا خصوصاً موسم گرما میں جلد متمیز نہیں ہوتا اس سے بہتر طریقہ خط نصف النہار کا ہے ہموار زمین میں نہایت صحیح کمپاس سے سوئی کی سیدھ پر خط نصف النہار کھینچ دیں اور ان ملکوں میں اس خط کے جنوبی کنارے پر کوئی مخروطی شکل کی نہایت باریک نوک دار لکڑی خوب سیدھی نصب کریں کہ شرق یا غرب کو اصلاً نہ جھکی ہو اور وہ خط نصف النہار اس کے قاعدے کے عین وسط میں۔ جب اس کی نوک کا سایہ اس خط پر منطبق ہو ٹھیک دوپہر ہو گیا جب بال پر پورب کو جھکے دوپہر ڈھل گیا ظہر کا وقت آگیا ۔

                        وقت عصر: بعد ختم ہونے ظہر کے یعنی سوا سایۂ اصلی کے دو مثل سایہ ہونے سے آفتاب ڈوبنے تک ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۱) (متون)

فائدہ:                 ان بلاد میں عصر کم از کم ایک گھنٹہ ۳۵ منٹ اور زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے ۶ منٹ ہے اس کی تفصیل یہ ہے ۲۴ اکتوبر تحویل عقرب سے آخر ماہ تک ایک گھنٹہ ۳۶ منٹ پھر یکم نومبر سے اٹھارہ فروری یعنی پونے چار مہینے تک تقریباً ایک گھنٹہ ۳۵ منٹ سال میں یہ سب سے چھوٹا وقت عصر ہے ان بلاد میں عصر کا وقت کبھی اس سے کم نہیں ہوتا پھر ۱۹ فروری تحویل حوت سے ختم ماہ تک ایک گھنٹہ ۳۶ منٹ پھر مارچ کے ہفتہ اوّل میں ایک گھنٹہ ۳۷ منٹ ہفتہ دوم میں ایک گھنٹہ ۳۸ منٹ ہفتہ سوم میں ایک گھنٹہ ۴۰ منٹ پھر ۲۱ مارچ حمل سے آخر ماہ تک ایک گھنٹہ ۴۱ منٹ پھر اپریل کے ہفتہ اوّل میں ایک گھنٹہ ۳۴ منٹ دوسرے ہفتہ میں ایک گھنٹہ ۴۵ منٹ تیسرے ہفتہ میں ایک گھنٹہ ۴۸ منٹ پھر ۲۰، ۲۱ اپریل تحویل ثور سے آخر ماہ تک ایک گھنٹہ ۵۰ منٹ پھر مئی کے ہفتہ اول میں ایک گھنٹہ ۵۳ منٹ ہفتہ دوم میں ایک گھنٹہ ۵۵ منٹ ہفتہ سوم ایک گھنٹہ ۵۸ منٹ پھر ۲۲، ۲۳ مئی تحویل جواز سے آخر ماہ تک دو گھنٹے ایک منٹ پھر جون کے پہلے ہفتے میں  دو گھنٹے ۳ منٹ ہفتہ دوم میں دو گھنٹے ۴ منٹ ہفتہ سوم میں دو گھنٹے چار منٹ پھر ۲۲ جون تحویل سرطان سے آخر ماہ تک دو گھنٹے ۶ منٹ ہفتہ اوّل جولائی میں دو گھنٹے ۵ منٹ دوسرے ہفتہ میں دو گھنٹے ۴ منٹ تیسرے ہفتہ میںدو گھنٹے دو منٹ پھر ۲۳ جولائی تحویل اسد کو دو گھنٹے ایک منٹ آخر ماہ تک دو گھنٹے پھر اگست کے پہلے ہفتہ میں ایک گھنٹہ ۵۸ منٹ دوسرے ہفتہ میں ایک گھنٹہ ۵۵ منٹ تیسرے ہفتہ میں ایک گھنٹہ ۵۱ منٹ پھر ۲۳، ۲۴ اگست تحویل سنبلہ کو ایک گھنٹہ ۵۰ منٹ پھر اس کے بعد سے آخر ماہ تک ایک گھنٹہ ۴۸ منٹ پھر ہفتہ اول ستمبر میں ایک گھنٹہ ۴۶ منٹ دوسرے ہفتہ میں ایک گھنٹہ ۴۴ منٹ  تیسرے ہفتہ میں ایک گھنٹہ ۴۲ منٹ پھر ۲۳، ۲۴ ستمبر تحویل میزان میں ایک گھنٹہ ۴۱ منٹ پھر اس کے بعد آخر ماہ تک ایک گھنٹہ ۴۰ منٹ پھر ہفتہ اوّل (اکتوبر میں ) ایک گھنٹہ ۳۹ منٹ ہفتہ دوم میں ایک گھنٹہ ۳۸ منٹ ہفتہ سوم ۲۳ اکتوبر تک ایک گھنٹہ ۳۷ منٹ غروب آفتاب سے پیشتر وقت عصر شروع ہوتا ہے۔ (از افاداتِ رضویہ)

                        وقت مغرب: غروب آفتاب سے غروب شفق تک ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۱) (متون)۔

مسئلہ ۳:  شفق ہمارے مذہب میں اس سپیدی کا نام ہے جو جانب مغرب میں سُرخی ڈوبنے کے بعد جنوباً شمالاً صبح صادق کی طرح پھیلی ہوئی رہتی ہے (ہدایہ شرح وقایہ عالمگیری افادات رضویہ) اور یہ وقت ان شہروں میں کم سے کم ایک گھنٹہ اٹھارہ منٹ اور زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ ۳۵ منٹ ہوتا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ) فقیر نے بھی اس کا بکثرت تجربہ کیا۔

:فائدہ:                ہر روز کے صبح اور مغرب دونوں کے وقت برابر ہوتے ہیں۔

                        وقت عشاء اور وتر: غروب سپیدی مذکور سے طلوع فجر تک ہے اس جنوباً شمالاً پھیلی ہوئی سپیدی کے بعد جو سپیدی شرقاً غرباً باقی رہتی ہے اس کا کچھ اعتبار نہیں وہ جانب شرق میں صبح کاذب کی مثل ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۱)۔

مسئلہ ۴:              اگرچہ عشاء و وتر کا وقت ایک ہے مگر باہم ان میں ترتیب فرض ہے کہ عشاء سے پہلے وتر کی نماز پڑھ لی تو ہوگی ہی نہیں البتہ بھول کر اگر وتر پہلے پڑھ لئے یا بعد کو معلوم ہوا کہ عشاء کی نماز بے وضو پڑھی تھی اور وتر وضو کے ساتھ تو وتر ہو گئے۔ (درمختار و شامی ج ۱ ص ۳۳، عالمگیری ج ۱ ص ۵۱)۔

مسئلہ ۵:              جن شہروں میں عشاء کا وقت ہی نہ آئے کہ شفق ڈوبتے ہی یا ڈوبنے سے پہلے فجر طلوع کر آئے (جیسے بلغاریہ و لندن کہ ان جگہوں میں ہر سال چالیس راتیں ایسی ہوتی ہیں کہ عشاء کا وقت آتا ہی نہیں اور بعض دنوں میں سیکنڈوں اور منٹوں کے لئے ہوتا ہے) تو وہاں والوں کو چاہیے کہ ان دنوں کی عشاء و وتر کی قضا پڑھیں۔ ( درمختار ردالمحتار، درمختار و شامی ج ۱ ص ۳۳۵)۔

                        اوقات مستحبہ: فجر میں تاخیر مستحب ہے (یعنی اسفار میں جب خوب اُجالا ہو یعنی زمین روشن ہو جائے) شروع کرے مگر ایسا وقت ہونا مستحب ہے کہ چالیس سے ساٹھ آیت تک ترتیل کے ساتھ پڑھ سکے پھر سلام پھیرنے کے بعد اتنا وقت باقی رہے کہ اگر نماز میں فساد ظاہر ہو تو طہارت کرکے ترتیل کیساتھ چالیس سے ساٹھ آیت تک دوبارہ پڑھ سکے اور اتنی تاخیر مکروہ ہے کہ طلوع آفتاب کا شک ہو جائے۔ (درمختار و شامی ج ۱ ص ۳۳۹) ، (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری ج ۱ ص ۵۲)

 مسئلہ ۶:               حاجیوں کے لئے مزدلفہ میں نہایت اوّل وقت میں فجر پڑھنا مستحب ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۲)۔

 مسئلہ ۷:  عورتوں کے لئے ہمیشہ فجر کی نماز غلس (یعنی اوّل وقت میں مستحب ہے اور باقی نمازوں میں بہتر یہ ہے کہ مردوں کی جماعت کا انتظار کریں جب جماعت ہو چکے تو پڑھیں۔ (درمختار ج ۱ ص ۳۴۰)۔

 مسئلہ ۸:  جاڑوں کی ظہر میں جلدی مستحب ہے گرمی کے دنوں میں تاخیر مستحب ہے خواہ تنہا پڑھے یا جماعت کے ساتھ گرمیوں میں ظہر کی جماعت اوّل وقت میں ہوتی ہو تو مستحب وقت کے لئے جماعت کا ترک جائز نہیں موسم ربیع جاڑوں کے حکم میں ہے اور خریف گرمیوں کے حکم میں (درمختار و شامی ج ۱ ص ۳۴۰)، (درمختار ردالمحتار ، عالمگیری ج ۱ ص ۵۲)۔

 مسئلہ ۹:               جمعہ کا وقت مستحب وہی ہے جو ظہر کے لئے ہے۔ (درمختار ج ۱ ص ۳۴۰ (بحر)۔

 مسئلہ ۱۰: عصر کی نماز میں ہمیشہ تاخیر مستحب ہے مگر نہ اتنی تاخیر کہ خود قرص آفتاب میں زردی آجائے کہ اس پر بے تکلّف بے غبار و بخار نگاہ قائم ہونے لگے دھوپ کی زردی کا اعتبار نہیں۔ (درمختار ج ۱ ص ۳۴۱، عالمگیری ج ۱ ص ۵۲، درمختار وغیرہما)۔

 مسئلہ ۱۱:  بہتر یہ ہے کہ ظہر مثل اوّل میں پڑھیں اور عصر مثل ثانی کے بعد (غنیہ)۔

 مسئلہ ۱۲: تجربہ سے ثابت ہوا کہ قرص آفتاب میں یہ زردی اس وقت آجاتی ہے جب غروب میں بیس منٹ باقی رہتے ہیں تو اسی قدر وقتِ کراہت ہے یونہی بعد طلوع بیس منٹ کے بعد جواز نماز کا وقت ہو جاتا ہے (فتاویٰ رضویہ)۔

 مسئلہ ۱۳: تاخیر سے مراد یہ ہے کہ وقت مستحب کے دو حصے کئے جائیں پچھلے حصہ میں ادا کریں (بحرالرائق)۔

 مسئلہ ۱۴: عصر کی نماز وقت مستحب میں شروع کی تھی مگر اتنا طول دیا کہ وقت مکروہ آگیا تو اس میں کراہت نہیں۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۲، درمختار ج ۱ ص ۳۴۲ بحر)۔

 مسئلہ ۱۵: روز ابر کے سوا مغرب میں ہمیشہ تعجیل مستحب ہے اور دو رکعت سے زائد کی تاخیر مکروہِ تنزیہی اور اگر بغیر عذر سفر و مرض وغیرہ اتنی تاخیر کہ ستارے گُتھ گئے تو وہ مکروہ ِتحریمی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۲، د رمختار ج ۱ ص ۳۴۲، فتاویٰ رضویہ)۔

 مسئلہ ۱۶: عشاء میں تہائی رات تک تاخیر مستحب ہے اور آدھی رات تک تاخیر مباح یعنی جب کہ آدھی رات ہونے سے پہلے فرض پڑھ چکے اور اتنی تاخیر کہ رات ڈھل گئی مکروہ ہے کہ باعثِ تقلیل جماعت ہے۔ (بحر درمختار)۔

 مسئلہ ۱۷: نماز عشاء سے پہلے سونا اور بعد نماز عشاء دنیا کی باتیں کرنا قصے کہانی کہنا سننا مکروہ، ضروری باتیں اور تلاوت قرآن مجید اور ذکر اور دینی مسائل اور صالحین کے قصے اور مہمان سے بات چیت کرنے میں حرج نہیں یونہی طلوع آفتاب تک ذکرِ الہٰی کے سوا ہر بات مکروہ ہے۔ (درمختار ردالمحتار ج ۱ ص ۳۵۴)۔

 مسئلہ ۱۸: جو شخص جاگنے پر اعتماد رکھتا ہو اس کو آخر رات میں وتر پڑھنا مستحب ہے ورنہ سونے سے قبل پڑھ لے پھر اگر پچھلے کو آنکھ کھلی تو تہجد پڑھے وتر کا اعادہ جائز نہیں۔ (درمختار ردالمحتار ج ۱ ص ۳۴۲)۔

 مسئلہ ۱۹:  ابر کے دن عشاء و عصر میں تعجیل مستحب ہے باقی نمازوں میں تاخیر۔ (درمختار ج ۱ ص ۳۴۲) (متون)۔

 مسئلہ ۲۰: سفر وغیرہ کسی عذر کی وجہ سے دو نمازوں کا ایک ہی وقت میں جمع کرنا حرام ہے خواہ یوں ہو کہ دوسری کو پہلی ہی کے وقت میں پڑھے یا یوں کہ پہلی کو اس قدر موخر کرے کہ اس کا وقت جاتا رہے اور دوسری کے وقت میں پڑھے مگر اس دوسری صورت میں پہلی نماز ذمہ سے ساقط ہو گئی کہ بصورت قضا پڑھ لی اگرچہ نماز کے قضا کرنے کا گناہِ کبیرہ سر پر ہوا اور پہلی صورت میں تو دوسری نماز ہو گی ہی نہیں اور فرض ذمہ پر باقی ہے ۔ ہاں اگر عذر سفر و مرض وغیرہ سے صورتاً جمع کرے کہ پہلی کو اس کے آخر وقت میں اور دوسری کو اس کے اوّل وقت میں پڑھے کہ حقیقتاً دونوں اپنے اپنے وقت میں واقع ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۲ مع زیادۃ التفضیل)۔

 مسئلہ ۲۱: عرفہ و مزدلفہ اس حکم سے مستشنیٰ ہیں کہ عرفہ میں ظہر و عصر وقت ظہر میں پڑھی جائیں اور مزدلفہ میں مغرب و عشاء میں۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۲)

 اوقاتِ مکروہہ:

طلوع و غروب و نصف النہار ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں نہ فرض نہ واجب نہ نفل نہ ادا نہ قضا یونہی سجدہ تلاوت و سجدہ سہوہ بھی ناجائز البتہ اس روز اگر عصر کی نماز نہیں پڑھی تو اگرچہ آفتاب ڈوبتا ہو پڑھ لے مگر اتنی تاخیر کرنا حرام ہے ۔ حدیث میں اس کو منافق کی نماز فرمایا طلوع سے مراد آفتاب کا کنارہ ظاہر ہونے سے اس وقت تک ہے کہ اس پر نگاہ خیرہ ہونے لگے جس کی مقدار کنارہ چمکنے سے ۲۰ منٹ تک ہے اور اس وقت سے آفتاب پر نگاہ ٹھہرنے لگے ڈوبنے تک غروب ہے یہ وقت بھی ۲۰ منٹ ہے نصف النہار سے مراد نصف النہار شرعی سے نصف النہار حقیقی یعنی آفتاب  ڈھلنے تک ہے جس کو ضحوہ کبریٰ کہتے ہیں یعنی طلوع فجر سے غروب آفتاب تک آج جو وقت ہے اس کے برابر دو حصے کریں پہلے حصے کے ختم پر ابتدائے نصف النہار شرعی ہے اور اس وقت سے آفتاب ڈھلنے تک وقت استواء ممانعت ہر نماز ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۲، درمختار و شامی ج ۱ ص ۳۴۴، فتاویٰ رضویہ)

 مسئلہ ۲۲: عوام اگر صبح کی نماز آفتاب نکلنے کے وقت پڑھیں تو منع نہ کیا جائے۔ (درمختار ج ۱ ص ۳۴۴)۔

 مسئلہ ۲۳:            جنازہ اگر اوقاتِ ممنوعہ میں لایا گیا تو اسی وقت پڑھیں کوئی کراہت نہیں کراہت اس صورت میں ہے کہ پیشتر سے تیار موجود ہے اور تاخیر کی یہاں تک کہ وقتِ کراہت آگیا۔ (عالمگیری ردمختار و شامی ج ۱ ص ۳۴۷)۔

 مسئلہ ۲۴:            ان اوقات میں آیت سجدہ پڑھی تو بہتر یہ ہے کہ سجدہ میں تاخیر کرے یہاں تک کہ وقتِ کراہت جاتا رہے اور اگر وقت مکروہ ہی میں کر لیا تو بھی جائز ہے اور اگر وقتِ غیر مکروہ میں پڑھی تھی تو وقتِ مکروہ میں سجدہ کرنا  مکروہ تحریمی ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۲)۔

 مسئلہ ۲۵:            ان اوقات میں قضا نماز ناجائز ہے اور اگر قضا شروع کر لی تو واجب کہ توڑ دے اور وقتِ غیر مکروہ میں پڑھے اور توڑی نہیں اور پڑھ لی تو فرض ساقط ہو جائے گا اور گناہگار ہو گا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۲، درمختار ص ۵۲)۔

 مسئلہ ۲۶: کسی نے خاص ان اوقات میں نماز پڑھنے کی نذر مانی یا مطلقاً نماز پڑھنے کی منت مانی دونوں صورتوں میں ان اوقات میں اس نذر کا پورا کرنا جائز نہیں بلکہ وقت کامل میں اپنی منت پوری کرے۔ (درمختار ج ۱ ص ۳۴۷، عالمگیری ص ۵۲)۔

 مسئلہ ۲۷:            ان وقتوں میں نفل شروع کی تو وہ نما زواجب ہو گئی مگر اس وقت پڑھنا جائز نہیں لہٰذا واجب ہے کہ توڑ دے اور وقت کامل میں قضا کرے اور اگر پوری کر لی تو گنہگار ہوا اور اب قضا واجب نہیں۔ (درمختار و شامی ج ۱ ص ۳۴۷، غنیہ درمختار)۔

 مسئلہ ۲۸:            جو نماز وقت مباح یا مکروہ میں شروع کرکے فاسد کر دی تھی اس کو بھی ان اوقات میں پڑھنا ناجائز ہے۔ (درمختار)

 مسئلہ ۲۹: ان اوقات میں تلاوتِ قرآن مجید بہتر نہیں بہتر یہ ہے کہ ذکر و درود شریف میں مشغول رہے۔ (درمختار ج ۱ ص ۳۴۷)۔

 مسئلہ ۳۰:            بارہ(۱۲) وقتوں میں نوافل پڑھنا منع ہے اور ان کے بعض یعنی ۶، ۱۲ میں فرائض و واجبات و نمازِ جنازہ و سجدہ تلاوت کی بھی ممانعت ہے۔

(۱)                   طلوع فجر سے طلوع آفتا ب تک کہ اس درمیان میں سوا دو رکعت سنت فجر کے کوئی نفل نماز جائز نہیں۔

 مسئلہ ۳۱: اگر کوئی شخص طلوع فجر سے پیشتر نماز نفل پڑھ رہا تھا ایک رکعت پڑھ چکا تھا کہ فجر طلوع کر آئی تو دوسری بھی پڑھ کر پوری کرلے اور یہ دونوں رکعتیں سنت فجر کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں اور اگر چار رکعت کی نیت کی تھی اور ایک رکعت کے بعد طلوع فجر ہوا اور چاروں رکعتیں پوری کر لیں تو پچھلی رکعتیں سنت فجر کے قائم مقام ہو جائیں گی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۲)۔

 مسئلہ ۳۲:            نمازِ فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک اگرچہ وقت وسیع باقی ہو اگرچہ سنت فجر فرض سے پہلے نہ پڑھی تھی اور اب پڑھنا چاہتا ہو جائز نہیں۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۳، ردالمحتار)۔

 مسئلہ ۳۳:            فرض سے پیشتر سنت فجر شروع کرکے فاسد کر دی تھی اور اب فرض کے بعد اس کی قضا پڑھنا چاہتا ہے یہ بھی جائز نہیں۔ (عالمگیری ص ۵۲) ۔

(۲)                   اپنے مذہب کی جماعت کے لئے اقامت ہوئی تو اقامت سے ختم جماعت تک نفل و سنت پڑھنا مکروہ تحریمی ہے البتہ اگر نماز فجر قائم ہو چکی اور جانتا ہے کہ سنت پڑھے گا جب بھی جماعت مل جائے گی اگرچہ قعدہ میں شرکت ہو گی تو حکم ہے کہ جماعت سے الگ اور دور سنت فجر پڑھ کر شریک جماعت ہو اور جو جانتا ہے کہ سنت میں مشغول ہو گا تو جماعت جاتی رہے گی اور سنت کے خیال سے جماعت ترک کی یہ ناجائز و گناہ ہے اور باقی نمازوں میں اگرچہ جماعت ملنا معلوم ہو سننتیں پڑھنا جائز نہیں۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۲، درمختار)۔

(۳)                  نمازِ عصر سے آفتاب زرد ہونے تک نفل منع ہے نفل نما زشروع کرکے توڑ دی تھی اس کی قضا بھی اس وقت منع ہے اور پڑھ لی تو ناکافی ہے قضا اس کے ذمہ سے ساقط نہ ہوئی۔ (درمختار عالمگیری ص ۵۳)۔

 (۴)                  غروب آفتاب سے فرض مغرب تک۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۳، درمختار)مگر امام ابن الہام نے دو رکعت خفیف کا استثناء فرمایا۔

 (۵)                  جس وقت امام اپنی جگہ خطبہ جمعہ کے لئے کھڑا ہو اس وقت سے فرض جمعہ ختم ہونے تک نماز نفل مکروہ ہے یہاں تک کہ جمعہ کی سنتیں بھی۔ (درمختار)۔

 (۶)                   عین خطبہ کے وقت اگرچہ پہلا ہو یا دوسرا اور جمعہ کا ہو یا خطبہ عیدین یا کسوف و استسقا و حج و نکاح کا ہو ہر نماز حتیٰ کہ قضا بھی ناجائز ہے مگر صاحب ترتیب کے لئے خطبہ جمعہ کے وقت قضا کی اجازت ہے۔ (درمختار)

 مسئلہ ۳۴:            جمعہ کی سنتیں شروع کی تھیں کہ امام خطبہ کے لئے اپنی جگہ سے اٹھا چاروں رکعتیں پوری کر لے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۳)۔

 (۷)                  نماز عیدین سے پیشتر نفل مکروہ ہے جب کہ عید گاہ یا مسجد میں۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۳، درمختار)۔

 (۸)                  نما زعیدین کے بعدنفل مکروہ ہے جب کہ عید گاہ یا مسجد میں پڑھے۔ گھرمیں پڑھنا مکروہ نہیں۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۳، درمختار)۔

 (۹)                   عرفات میںجو ظہر و عصر ملا کر پڑھتے ہیں ان کے درمیان میں اور بعد میں بھی نفل و سنت مکروہ ہے۔

 (۱۰)                 مزدلفہ میں جو مغرب و عشاء جمع کئے جاتے ہیں فقط ان کے درمیان نفل و سنت پڑھنا مکروہ ہے بعدمیں مکروہ نہیں۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۵۳، درمختار)۔

 (۱۱)                  فرض کا وقت تنگ ہو تو ہر نماز یہاں تک کہ سنت فجر و ظہر مکروہ ہے

 (۱۲)                 جس بات سے دل بٹے اور دفع کر سکتا ہو اسے بے دفع کئے ہر نماز مکروہ ہے مثلاً پاخانے یا پیشاب یا ریاح کا غلبہ ہو مگر جب وقت جاتا ہو تو پڑھ لے پھر پھیرے۔ (عالمگیری ص ۵۳ وغیرہ) یونہی کھانا سامنے آگیا اور اس کی خواہش ہو (غرض کوئی ایسا امر درپیش ہو جس سے دل ہٹے خشوع میں فرق آئے) ان وقتوں میں بھی نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ (درمختار ج ۱ ص ۳۵۱ وغیرہ)۔

مسئلہ ۳۵:            فجر اور ظہر کے پورے وقت اوّل سے آخر تک بلا کراہت ہیں (بحرالرائق) یعنی یہ نمازیں اپنے وقت کے جس حصے میں پڑھی جائیں اصلاً مکروہ نہیں۔

ماخوذ از:
بہار شریعت، جلد1مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button