بہار شریعت

نماز کے مسائل

 نماز کے متعلق احکام و مسائل کا تفصیلی مطالعہ

نماز کے مسائل

مسئلہ ۱:               ہر مکلّف یعنی عاقل بالغ پر نما ز فرض عین ہے اس کی فرضیت کا منکر کافر اور جو قصداً چھوڑ دے اگرچہ ایک ہی وقت کی وہ فاسق ہے اور جو نماز نہ پڑھتا ہو قید کیا جائے یہاں تک کہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے بلکہ ائمہ ثلاثہ مالک و شافعی و احمد رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے نزدیک سلطانِ اسلام کو اس کے قتل کا حکم ہے۔ (درمختار ج ۱ ص ۳۲۶)۔

مسئلہ ۲:   بچّہ کی جب سات برس کی عمر ہو تو اسے نماز پڑھنا سکھایا جائے اور جب دس برس کا ہو جائے تو مار کر پڑھوانا چاہئے۔ (ابوداؤد و ترمذی، شامی ج ۱ ص ۳۲۶)۔

متعلقہ مضامین

مسئلہ ۳:  نماز خالص عبادتِ بدنی ہے اس میں نیابت جاری نہیں ہو سکتی یعنی ایک کی طرف سے دوسرا نہیں پڑھ سکتا نہ یہ ہو سکتا ہے کہ زندگی میں نماز کے بدلے کچھ مال بطورِ فدیہ ادا کر دے البتہ اگر کسی پر کچھ نمازیں رہ گئی ہیں اور انتقال کر گیا اور وصیت کر گیا کہ اس کی نمازوں کا فدیہ ادا کیا جائے تو امید ہے کہ انشاء اﷲ تعالیٰ قبول ہو اور بے وصیت بھی وارث اس کی طرف سے دے کہ امید قبول و عفو ہے۔ (درمختار، ردالمحتار و دیگر کتب، ج ۱ ص ۳۲۹)۔

مسئلہ ۴:              فرضیت نماز کا سبب حقیقی امر الہٰی ہے اور سبب ظاہری وقت ہے کہ اوّل وقت سے آخر وقت تک جب ادا کرے ادا ہو جائے گی اور فرض ذمّہ سے ساقط ہو جائے گا اور اگر ادا نہ کی یہاں تک کہ وقت کا ایک خفیف جز باقی ہے تو یہی جز و اخیر سبب ہے تو اگر کوئی مجنوں یا بے ہوش ہوش میں آیا یا حیض و نفاس والی پاک ہوئی یا صبی بالغ ہوا یا کافر مسلمان ہوا اور وقت صرف اتنا ہے کہ اﷲ اکبر کہہ لے تو ان سب پر اس وقت کی نماز فرض ہو گئی اور جنون و بے ہوشی پانچ وقت سے زائد کو مستغرق نہ ہوں تو اگرچہ تکبیر تحریمہ کا بھی وقت نہ ملے نماز فرض ہے قضا کرے۔ (درمختار و شامی ج ۱ ص ۳۳۰) حیض و نفاس والی میں تفصیل ہے جو باب الحیض میں مذکور ہوئی۔

مسئلہ ۵:              نابالغ نے وقت میں نماز پڑھی تھی اور اب آخر وقت میں بالغ ہوا تو اس پر فرض ہے کہ اب پھر پڑھے یونہی اگر معاذ اﷲ کوئی مرتد ہو گیا پھر آخر وقت میں اسلام لایا اس پر اس وقت کی نماز فرض ہے اگرچہ اوّل وقت میں قبل ار تداد نماز پڑھ چکا ہو۔ (درمختار و شامی ج ۱ ص ۳۳۰)۔

مسئلہ ۶:               نابالغ عشاء کی نماز پڑھ کر سویا تھا اس کو احتلام ہوا اور بیدار نہ ہوا یہاں تک کہ فجر طلوع ہونے کے بعد آنکھ کھلی تو عشاء کا اعادہ کرے اور اگر طلوع فجر سے پیشتر آنکھ کھلی تو اس پر عشاء کی نماز بالاجماع فرض ہے۔ (بحرالرائق)۔

مسئلہ ۷:  کسی نے اوّل وقت میں نماز پڑھی تھی اور آخرت وقت میں کوئی ایسا عذر ہو گیا کہ جس سے نماز ساقط ہو جاتی ہے مثلاً آخر وقت میں حیض و نفاس ہو گیا یا جنون یا بے ہوشی طاری ہو گئی تو اس وقت کی نماز معاف ہو گئی اس کی قضا بھی ان پر نہیں ہے مگر جنون و بے ہوشی میں فرض ہے کہ علی الاتصال پانچ نمازوں سے زائد کو گھیر لیں ورنہ قضا لازم ہو گی۔ (عالمگیری ، درمختار و شامی ج ۱ ص ۳۳۰)۔

مسئلہ ۸:              یہ گمان تھا کہ ابھی وقت نہیں ہوا نماز پڑھ لی بعد نماز معلوم ہوا کہ وقت ہو گیا تھا نماز نہ ہوئی۔ (درمختار و شامی ج ۱ ص ۳۴۳)۔

ماخوذ از:
بہار شریعت، جلد1مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button