بہار شریعت

نماز پڑھنے کا طریقہ

 نماز پڑھنے کے متعلق احادیث و مسائل کا تفصیلی مطالعہ

نماز پڑھنے کا طریقہ

حدیث ۱: بخاری و مسلم ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ ایک شخص مسجد میں حاضر ہوئے اور رسول اﷲ ﷺ مسجد کی ایک جانب تشریف فرما تھے۔ انہوں نے نماز پڑھی پھر خدمت اقدس میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا فرمایا وعلیک السلام جائو نماز پڑھو کہ تمہاری نماز نہ ہوئی وہ گئے اور نماز پڑھی پھر حاضر ہو کر سلام عرض کیا فرمایا وعلیک السلام جائو نماز پڑھو کہ تمہاری نماز نہ ہوئی تیسری بار یا اس کے بعد عرض کی یا رسول اﷲ مجھے تعلیم فرمائیے ارشاد فرمایا جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو تو کامل وضو کرو پھر قبلہ کی طرف منہ کر کے اﷲ اکبر کہو پھر قرآ ن پڑھو جتنا میسر آئے پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع میں تمہیں اطمینان ہو پھر اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جائو پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ میں اطمینان ہو جائے پھر اٹھو یہاں تک کہ بیٹھنے میں اطمینان ہو پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ میں اطمینان ہو جائے پھر اٹھو اور سیدھے کھڑے ہو جائو پھر اسی طرح پوری نماز میں کرو۔

حدیث ۲:            صحیح مسلم شریف میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی کہ رسول اﷲ ﷺ اﷲ اکبر سے نماز شروع کرتے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلِمِیْنَ سے قراء ت اور جب رکوع کرتے سر کو نہ اٹھائے ہوتے نہ جھکائے  بلکہ متوسط حالت میں رکھتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سجدہ کو نہ جاتے تاوقتیکہ سیدھے کھڑے نہ ہو لیں اور سجدہ سے اٹھکر سجدہ نہ کرتے تاوقتیکہ سیدھے نہ بیٹھ لیں اور ہر دو رکعت پر التحیات پڑھتے اور بایاں پائوں بچھا تے اور داہنا کھڑا رکھتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے سے منع فرماتے اور درندوں کی طرح کلائیاں بچھانے سے منع فرماتے (یعنی سجدے میں مردوںکو) اور سلام کے ساتھ نماز ختم کرتے۔

متعلقہ مضامین

حدیث ۳:            صحیح بخاری شریف میں سہل بن سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ لوگوں کو حکم کیا جاتا کہ نماز میں مرد داہنا ہاتھ بائیں کلائی پر رکھے۔

حدیث ۴:            امام احمد ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور ﷺ نے ہم کو نماز پڑھائی اور پچھلی صف میںایک شخص تھا جس نے نماز میں کچھ کمی کی جب سلام پھیرا تو اسے پکارا اے فلاں تو اﷲ سے نہیں ڈرتا کیا تو نہیں دیکھتا کہ کیسے نماز پڑھتا ہے تم یہ گمان کرتے ہو گے کہ جو تم کرتے ہو اس میں سے کچھ مجھ پر پوشیدہ رہ جاتا ہو گا۔ خدا کی قسم پیچھے سے ویسا ہی دیکھتا ہوں جیسا سامنے سے۔

حدیث ۵۔۶:        ابودائود نے روایت کی ابّی بن کعب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا گیا سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے دو مقام پر رسول اﷲ ﷺ کا سکتہ فرمانا یاد کیا ایک اس وقت جب تکبیر تحریمہ کہتے۔ دوسرا جب غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَالضَّآلِّیْنَ پڑھ کر فارغ ہوتے ابّی بن کعب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کی تصدیق کی۔ ترمذی و ابن ماجہ و دارمی نے بھی اس کے مثل روایت کی۔ اس حدیث سے آمین کا آہستہ کہنا ثابت ہوتا ہے۔

حدیث ۷:            امام بخاری ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور اقدس ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ جب امام غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَالضَّآلِّیْنَ  کہے تو آمین کہو کہ جس کا قول ملائکہ کے قول کے موافق ہو اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

حدیث ۸:            صحیح مسلم میں ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ ارشاد فرماتے ہیں ﷺ جب تم نماز پڑھو تو صفیں سیدھی کر لو پھر تم میں سے جو کوئی امامت کرے وہ جب تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اور جب غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَالضَّآلِّیْنَ  کہے تو  آمین کہو اﷲ تعالیٰ تمہاری دُعا قبول فرمائے گا اور جب وہ اﷲ اکبر کہے اور رکوع کرے تم بھی تکبیر کہو اور رکوع کرو کہ امام تم سے پہلے رکوع کرے گا اور تم سے پہلے اٹھے گا رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تو یہ اس کا بدلہ ہو گیا اور جب وہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ‘ کہے تم اَللَّھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہو اﷲ تمہاری سُنے گا۔

حدیث ۹۔۱۰:       ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے اسی صحیح مسلم میں ہے جب امام قراء ت کرے تم چُپ رہو اس حدیث اور اس کے پہلے جو حدیث ہے دونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ آمین آہستہ کہی جائے کہ اگر زور سے کہنا ہوتا تو امام کے آمین کہنے کا پتہ اور موقع بتانے کی کیا حاجت ہوتی کہ جب وہ وَلَالضَّآلِّیْنَ کہے تو آمین کہو اور اس سے بہت صریح ترمذی کی روایت شعبہ سے ہے وہ علقمہ سے وہ ابی وائل سے روایت کرتے ہیں فَقَال اٰمِیْن وَخَفَضَ بِھَا صَوْتَہ‘ آمین کہی اور اس میں آواز پست کی نیز ابوہریرہ و قتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی روایت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی قراء ت نہ کرے بلکہ چُپ رہیں اور یہی قرآن عظیم کا بھی ارشاد ہے کہ وَ اِذَا قْرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہ‘ وَ اَنْصِتُوْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (جب قرآن پڑھا جائے تو سُنو اور چُپ رہو اس امید پر کہ رحم کئے جائو)

حدیث ۱۱:            ابو دائود ونسائی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ امام تو اس لئے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے جب تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اور جب قراء ت کرے تم چُپ ہو۔

حدیث ۱۲:           ابودائود ترمذی علقمہ سے راوی کہ عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، کیا تمہیں وہ نماز نہ پڑھائوں جو رسول اﷲ ﷺ کی نماز تھی پھر نماز پڑھی اور ہاتھ نہ اٹھائے مگر پہلی بار یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت اور ایک روایت میں یوں ہے کہ پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھاتے پھر نہیں۔ ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے۔

حدیث ۱۳:           دارقطنی و ابن عدی کی روایت انہیں سے ہے کہ عبداﷲ بن مسعو رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول اﷲ ﷺ اور ابوبکر و عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی تو ان حضرات نے ہاتھ نہ اٹھائے مگر نماز شروع کرتے وقت۔

حدیث ۱۴:           مسلم و احمد جابر بن سمرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ فرماتے ہیں ﷺ یہ کیا بات ہے کہ تمہیں ہاتھ اٹھائے دیکھتا ہوں جیسے چینچل گھوڑے کی دُمیں نماز میں سکون کے ساتھ رہو۔

حدیث ۱۵:           ابودائود اور امام احمد نے علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ سنت سے ہے کہ نماز میں ہاتھ ناف کے نیچے رکھے جائیں اور ان اُمور کے متعلق اور بکثرت احادیث و آثار موجود ہیں تبرکاً چند حدیثیں ذکر کیں کہ یہ مقصود نہیں کہ افعالِ نماز احادیث سے ثابت کئے جائیں کہ ہم نہ اس کے اہل نہ اس کی ضرورت کہ آئمہ کرام نے یہ مرحلے طے فرما دیئے ہمیں تو ان کے ارشادت بس ہیں کہ وہ ارکان شریعت ہیں وہ وہی فرماتے ہیں جو حضور اقدس ﷺ کے ارشاد سے ماخوذ ہے۔

                        نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ باوضو قبلہ رُو دونوں پائوں کے پنجوں میں چار انگلی کا فاصلہ کر کے کھڑا ہو اور دونوں ہاتھ کان تک لے جائے کہ انگوٹھے کان کی لَو سے چُھو جائیں اور انگلیاں نہ ملی ہوئی رکھے نہ خوب کھولے ہوئے بلکہ اپنی حالت پر ہوں اور ہتھیلیاں قبلہ کو ہوں نیت کر کے اﷲ اکبر کہتا ہوا ہاتھ نیچے لائے اور ناف کے نیچے باندھ لے یوں کہ داہنی ہتھیلی کی گدی بائیں کلائی کے سرے سے ہو اور بیچ کی تین انگلیاں بائیں کلائی کی پشت پر اور انگوٹھا اور چھنگلیا کلائی کے اغل بغل اور ثناء پڑھے۔

                         سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ وَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا اِلَہَ غَیْرُکَ

                        (پاک ہے تو اے اﷲ اور میں تیری حمد کرتا ہوں تیرا نام برکت والا ہے اور تیری عظمت بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں)

                        پھر تعوذ یعنی

                        اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ 

                        پڑھے پھر تسمیہ یعنی بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ کہے پھر الحمد پڑھے اور ختم پر آمین آہستہ کہے اس کے بعد کوئی سورت یا تین آیتیں پڑھے یا ایک آیت کہ تین کے برابر ہو اور اب ﷲ اکبر کہتا ہوا رکوع میں جائے اور گھٹنوں کو ہاتھ سے پکڑے اس طرح کہ ہتھیلیاں گھٹنے پر ہوں اور انگلیاں خوب پھیلی ہوں نہ یوں کہ سب انگلیاں ایک طرف ہوں اور نہ یوں کہ چار انگلیاں ایک طرف، ایک طرف فقط انگوٹھا اور پیٹھ بچھی ہو اور سر پیٹھ کے برابر ہو اور اونچا نیچا نہ ہو اور کم سے کم تین بار

                        سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کہے پھر

                        سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ‘ کہتا ہوا سیدھا کھڑا ہو جائے اور منفرد ہو تو اس کے بعد

                         اَللَّھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہے پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا سجدے میں جائے یوں کہ پہلے گھٹنیں زمین پر رکھے پھر ہاتھ پھر دونوں ہاتھوںکے بیچ میں سر رکھے نہ یُوں کہ صرف پیشانی چُھو جائے اور ناک کی نوک لگ جائے بلکہ پیشانی اور ناک کی ہڈی جمائے اور بازوئوں کو کروٹوں اور پیٹ کو رانوں اور رانوں کو پنڈلیوں سے جُدا رکھے اور دونوں پائوں کی سب انگلیوں کے پیٹ قبلہ رُو جمے ہوں اور ہتھیلیاں بچھی ہوں اور انگلیاں قبلہ کو ہوں اور کم از کم تین بار سْبَحَانَ رَبیِّ الَاعْلٰی کہے پھر سر اٹھائے پھر ہاتھ اور داہنا قدم کھڑا کر کے اس کی انگلیاں قبلہ رُخ کرے اور بایاں قدم بچھا کر اس پر خوب سیدھا بیٹھ جائے اور ہتھیلیاں بچھا کر رانوں پر گھٹنوں کے پاس رکھے اور دونوں ہاتھ کی انگلیاں قبلہ کو ہوں پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا سجدے کو جائے اور اسی طرح سجدہ کرے پھر سر اٹھائے پھر ہاتھ کو گھٹنے پر رکھ کر پنجوں کے بل کھڑا ہو جائے اب صرف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ  پڑھ کر قراء ت شروع کر دے پھر اسی طرح رکوع اور سجدہ کر کے داہنا قدم کھڑا کر کے بایاں قدم بچھا کر بیٹھ جائے اور اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰاتُ وَالطَّیِبَاتُ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرکَاتُہ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ‘ وَ رُسُوْلُہ‘

                        (تمام تحیتیں اور نمازیں اور پاکیزگیاں ﷲ کے لئے ہیں سلام حضور پر اے نبی ﷲ کی رحمتیں اور برکتیں ہم پر اور اﷲ کے نیک بندوں پر سلام میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندہ اور رسول ہیں)

پڑھے اور اس میں کوئی حرف کم و بیش نہ کرے اور اس کو تشہد کہتے ہیں اور جب کلمہ لَا کے قریب پہنچے داہنے ہاتھ کی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے کا حلقہ بنائے اور چھنگلیا اور اس کے پاس والی کو ہتھیلی سے ملا دے اور لفظ لَا پر کلمہ کی انگلی اٹھائے مگر اس کو جنبش نہ دے اور کلمہ اِلَّا پر گرا دے اور سب انگلیاں فوراً سیدھی کر لے اور اگر دو سے زیادہ رکعتیں پڑھنی ہیں تو اٹھ کھڑا ہو اور اسی طرح پڑھے مگر فرضوں کی ان رکعتوں میں الحمد کے ساتھ سورہ ملانا ضرور نہیں اب پچھلا قعدہ جس کے بعد نماز ختم کرے گا اس میں تشہد کے بعد درود شریف

                        اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی سَیِّدِنَا اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی سَیِّدِنَا اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ 

                        (اے اﷲ درود بھیج ہمارے سردار محمد پر اور ان کی آل پر جس طرح تو نے درود بھیجی سیدنا ابراہیم اور انکی آل پر بیشک تو سراہا ہوا بزرگ ہے اے اﷲ برکت نازل کر ہمارے سردار محمد پر اور انکی آل پر جس طرح تو نے برکت نازل کی سیدنا ابراہیم پر اور انکی آل پر بیشک تو سراہا ہوا بزرگ ہے)پھر

                         اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ تَوَالَدَوَلِجَمِیْعِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُومِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ الْاَحْیَائِ مِنْھُمْ وَالْاَمْوَاْتِ اِنَّکَ مُجِیْبُ الدَّعْوَاتِ بِرَحْمَتِکَ یٰا اَرْحَمَ الرَّحِمِیْنَ

                        (اے اﷲ تو بخش دے مجھ کو اور میرے والدین کو اور اس کو جو پیدا ہوا اور تمام مومنین و مومنات اور مسلمین و مسلمات کو بیشک تو دعائوں کا قبول کرنے والا ہے اپنی رحمت سے اے سب مہربان سے زیادہ مہربان)

                         یا اور کوئی دُعا ماثورہ پڑھے

                        اَللّٰھُمَّ اِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیرًا وَّ اِنَّہ‘ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ فَاغْفِرْلِی مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ اِنَّک اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ 

                        (اے اﷲ میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اوربیشک تیرے سوا گناہوں کا بخشنے والا کوئی نہیں ہے تو اپنی طرف سے میری مغفرت فرمااور مجھ پر رحم کر بیشک تو ہی بخشنے والا مہربان ہے)

                        یا یہ دُعا پڑھے

                        اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہِ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ اَعْلَمُ وَاَعُوْذِبِکَ مِنَ الشِّرِ کُلِّہِ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ اَعْلَمْ

                        (اے اﷲ میں تجھ سے ہر قسم کی خیر کا سوال کرتا ہوں جس کو میں جانتا ہوں اور جس کو نہیں جانتا اور ہر قسم کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کو میں نے جانا اور جس کو نہیں جانا)

                        یا یہ پڑھے

                        اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذِبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ اَعُوْذِبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَ اَعُوْذِبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَائِ وَ فِتْنَۃِ الْمَمَاتِ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذِبِکَ مِنَ الْمَاْثَمِ وَمِنَ الْمَغْرَمِ وَ اَعُوْذِبِکَ مِنْ غَلْبَۃِ الدَّیْنِ وَ قَھْرَ الرِّجَال

                        (اے اﷲ تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجّال کے فتنہسے اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے اے اﷲ تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور تاوان سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں دین کے غلبہ اور مَردوں کے قہر سے)

                         یا یہ پڑھے

                        اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ

                        (اے اﷲ ہمارے پروردگار تو ہم کو دنیا میں نیکی دے اور آخرتمیں نیکی دے اور ہم کو جہنم کے عذاب سے بچا)

                        اور اس کو بغیر اَللّٰھُمَّ کے نہ پڑھے پھر داہنے شانے کی طرف منہ کر کے اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ   کہے پھر بائیں طرف یہ طریقہ کہ مذکور ہوا، امام یا تنہا مرد کے پڑھنے کا ہے مقتدی کے لئے اس میں کی بعض بات جائز نہیں مثلاً امام کے پیچھے فاتحہ یا اور کوئی سورت پڑھنا۔ عورت بھی بعض اُمور میں مستثنیٰ مثلاً ہاتھ باندھنے اور سجدہ کی حالت اور قعدہ کی صورت میں فرق ہے جس کو ہم بیان کریں گئے ان مذکورات میں بعض چیزیں فرض ہیں کہ اس کے بغیر نماز ہو گی ہی نہیں اور بعض واجب کہ اس کا ترک قصداً گناہ اور نماز واجب الاعادہ اور سہوًا ہو تو سجدہ سہو واجب۔ بعض سنت مؤکدہ کہ اس کے ترک کرنے کی عادت گناہ اور بعض مستحب کہ کریں تو ثواب نہ کریں تو گناہ نہیں۔

ماخوذ از:
بہار شریعت، جلد1مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button