بہار شریعت

نماز عید کا طریقہ

نماز عید کا طریقہ

نماز عید کا طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت واجب عیدالفطر یا عیدالضحی کی نیت کر کے کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لے پھر ثناء پڑھے، پھر کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور اللہ اکبر کہتا ہوا ہاتھ چھوڑ دے پھر ہاتھ اٹھائے اور اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ چھوڑ دے پھر ہاتھ اٹھائے اور اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لے یعنی پہلی تکبیر میں ہاتھ باندھ لے، اس کے بعد دو تکبیروں میں ہاتھ لٹکائے، پھر چوتھی تکبیر میں باندھ لے، اس کو یوں یاد رکھئے کہ جہاں تکبیر کے بعد کچھ پڑھنا ہے وہاں ہاتھ باندھ لئے جائیں اورجہاں پڑھنا نہیں وہاں ہاتھ چھوڑ دیئے جائیں پھر امام اعوذ اور بسم اللہ آہستہ پڑھ کر جہر کے ساتھ الحمد اور سورت پڑھے پھر رکوع کرے، دوسری رکعت میں پہلے الحمد و سورت پڑھے پھر تین بار کان تک ہاتھ لے جا کر اللہ اکبر کہے اور ہاتھ نہ باندھے اور چوتھی بار بغیر ہاتھ اٹھائے اللہ اکبر کہتا ہوا رکوع میں جائے، اس سے معلوم ہو گیا کہ عیدین میں زائد تکبیریں چھ ہوئیں ، تین پہلی قرأت سے پہلے اور تکبیر تحریمہ کے بعد اور تین دوسری میں قرأت کے بعد، اور تکبیر رکوع سے پہلے اور ان چھوئوں تکبیروں میں ہاتھ اٹھائے جائیں گے اور ہر دو تکبیروں کے درمیان تین تسبیح کی قدر سکتہ کرے اور عیدین میں مستحب یہ ہے کہ پہلی میں سورۂ جمعہ اور دوسری میں سورۂ منافقون پڑھے یا پہلی میں سبح اسم اور دوسری میں ھل اتک (درمختار ج ۱ ص ۷۷۹ وغیرہ)

مسئلہ ۹: امام نے چھ تکبیروں سے زیادہ کہیں تو مقتدی بھی امام کی پیروی کرے مگر تیرہ سے زیادہ میں امام کی پیروی نہیں ۔ (درمختار ج ۱ ص ۷۸۰)

مسئلہ ۱۰: پہلی رکعت میں امام کے تکبیر کہنے کے بعد مقتدی شامل ہوا تو اسی وقت تین تکبیریں کہہ لے اگرچہ امام نے قرأت شروع کر دی ہو اور تین ہی کہے اگرچہ امام نے تین سے زیادہ کہی ہوں اور اگراس نے تکبیریں نہ کہیں کہ امام رکوع میں چلا گیا تو کھڑے کھڑے تکبیریں نہ کہے بلکہ امام کے ساتھ رکوع میں جائے اور رکوع میں تکبیر کہہ لے اور اگر امام کو رکوع میں پایا اور غالب گمان ہے کہ تکبیریں کہہ کر امام کو رکوع میں پا لے گا تو کھڑے کھڑے تکبیریں کہے پھر رکوع میں جائے ورنہ اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں جائے اور رکوع میں تکبیریں کہے پھر اگر اس نے رکوع میں تکبیریں پوری نہ کی تھیں کہ امام نے سر اٹھا لیا تو باقی ساقط ہوگئیں اور اگر امام کے رکوع سے اٹھنے کے بعد شامل ہوا تو اب تکبیریں نہ کہے بلکہ جب اپنی پڑھے اس وقت کہے اور رکوع میں جہاں تکبیر کہنا بتایا گیا، اس میں ہاتھ نہ اٹھائے اور اگر دوسری رکعت میں شامل ہوا تو پہلی رکعت کی تکبیریں اب نہ کہے بلکہ جب اپنی فوت شدہ پڑھنے کھڑا ہو اس وقت کہے اور دوسری رکعت کی تکبیریں اگر امام کے ساتھ پا جائے فبہا ورنہ اس میں بھی وہی تفصیل ہے جو پہلی رکعت کے بارے میں مذکور ہوئی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۵۱، شامی ج ۱ ص ۷۸۲،۷۸۱ وغیرہما)

مسئلہ ۱۱: جو شخص امام کے ساتھ شامل ہو گیا پھر سو گیا یا اس کا وضو جاتا رہا اور اس نے بنا کی تو اب جو پڑھے تو تکبیریں اتنی کہے جتنی امام نے کہیں ۔ اگرچہ اس کے مذہب میں اتنی نہ تھیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۵۱)

مسئلہ ۱۲: امام تکبیر کہنا بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا تو قیام کی طرف نہ لوٹے نہ رکوع میں تکبیر کہے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۷۸۲)

مسئلہ ۱۳: پہلی رکعت میں امام تکبیریں بھول گیا اور قرأت شروع کر دی تو قرأت کے بعد کہہ لے اور قرأت کا اعادہ نہ کرے۔ (غنیہ، عالمگیری ج ۱ ص ۱۵۱)

مسئلہ ۱۴: امام نے تکبیرات زوائد میں ہاتھ نہ اٹھائے تو مقتدی اس کی پیروی نہ کرے بلکہ ہاتھ اٹھائے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۵۱)

مسئلہ ۱۵: نماز کے بعد امام دو خطبے پڑھے اور خطبۂ جمعہ میں جو چیزیں سنت ہیں اس میں بھی سنت ہیں اور جو وہاں مکروہ یہاں بھی مکروہ صرف دو باتوں میں فرق ہے ایک یہ کہ جمعہ کے پہلے خطبہ سے پیشتر خطیب کا بیٹھنا سنت ہے اور اس میں نہ بیٹھنا سنت ہے دوسرے یہ کہ اس میں پہلے خطبہ سے پیشتر نو (۹) بار اور دوسرے کے پہلے سات (۷) بار اور منبر سے اترنے کے پہلے چودہ (۱۴) بار اللہ اکبر کہنا سنت اور جمعہ میں نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۷۸۳،۷۸۲ وغیرہما)

مسئلہ ۱۶: عیدالفطر کے خطبہ میں صدقۂ فطر کے احکام کی تعلیم کرے وہ پانچ ہیں :۔

(۱) کس پر واجب ہے (۲) اور کس کے لئے (۳) اور کب (۴) اور کتنا (۵) اور کس چیز سے۔

بلکہ مناسب یہ ہے کہ عید سے پہلے جو جمعہ پڑھے اس میں بھی یہ احکام بتا دئیے جائیں کہ پیشتر سے لوگ واقف ہو جائیں اور عیدالضحی کے خطبہ میں قربانی کے احکام اور تکبیرات تشریق کی تعلیم کی جائے۔ (درمختار ج ۱ ص ۷۸۳،۷۸۴ عالمگیری ج ۱ ص ۱۵۰)

مسئلہ ۱۷: امام نے نماز پڑھ لی اور کوئی شخص باقی رہ گیا خواہ وہ شامل ہی نہ ہوا تھا یا شامل تو ہوا مگر اس کی نماز فاسد ہو گئی تو اگر دوسری جگہ مل جائے پڑھ لے ورنہ نہیں پڑھ سکتا ہاں بہتر یہ ہے کہ یہ شخص چار رکعت چاشت کی نماز پڑھے۔ (درمختار ج۱ ص ۷۸۶)

مسئلہ ۱۸: کسی عذر کے سبب عید کے دن نماز نہ ہو سکی (مثلاً سخت بارش ہوئی یا ابر کے سبب چاند نہیں دیکھا گیا اور گواہی ایسے وقت گزری کہ نماز نہ ہو سکی یا ابر تھا ور نماز ایسے وقت ختم ہوئی کہ زوال ہو چکا تھا تو دوسرے دن پڑھی جائے اور دوسرے دن بھی نہ ہوئی تو عیدالفطر کی نماز تیسرے دن نہیں ہو سکتی اور دوسرے دن بھی نماز کا وہی وقت ہے جو پہلے دن تھا یعنی ایک نیزہ آفتاب بلند ہونے سے نصف النہار شرعی تک اور بلاعذر عیدالفطر کی نماز پہلے دن نہ پڑھی تو دوسرے دن نہیں پڑھ سکتے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۵۱،۱۵۲، درمختار ج ۱ ص ۷۸۳ وغیرہما)

مسئلہ ۱۹: عیدالضحی تمام احکام میں عیدالفطر کی طرح ہے صرف بعض باتوں میں فرق ہے اس میں مستحب یہ ہے کہ نماز سے پہلے کچھ نہ کھائے اگرچہ قربانی نہ کرے اور کھا لیا تو کراہت نہیں اور راستہ میں بلند آواز سے تکبیر کہتا جائے اور عید الضحی کی نماز عذر کی وجہ سے بارہویں تک بلا کراہت مؤخر کر سکتے ہیں بارہویں کے بعد پھر نہیں ہو سکتی اور بلاعذر دسویں کے بعد مکروہ ہے۔ (عالمگیری ج ۱ص ۱۵۲)

مسئلہ ۲۰: قربانی کرنی ہو تو مستحب یہ ہے کہ پہلی سے دسویں ذی الحجہ تک حجامت نہ بنوائے نہ ناخن ترشوائے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۷۸۷)

مسئلہ ۲۱: عرفہ کے دن یعنی نویں ذی الحجہ کا لوگوں کا کسی جگہ جمع ہو کر حاجیوں کی طرح وقوف کرنا اور ذکر و دعا میں مشغول رہنا صحیح ہے کہ کچھ مضائقہ نہیں جبکہ لازم و واجب نہ جانے اور اگر کسی دوسری غرض سے جمع ہوئے مثلاً نماز استسقا پڑھنی ہے جب تو بلا اختلاف جائز ہے اصلاً حرج نہیں ۔ (درمختار، شامی ج ۱ ص ۷۸۴ وغیرہ)

مسئلہ ۲۲: بعد نماز عید مصافحہ و معانقہ کرنا جیسا عموماً مسلمانوں میں رائج ہے بہتر ہے کہ اس میں اظہار مسرت ہے۔ (وشاح الجید)

مسئلہ ۲۳: نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک ہر نماز فرض پنجگانہ کے بعد جو جماعت مستحبہ کے ساتھ ادا کی گئی ایک بار تکبیر بلند آواز سے کہنا واجب ہے اور تین بار افضل اسے تکبیر تشریق کہتے ہیں وہ یہ ہیں :۔

اللہ اکبراللہ اکبر لآ الہ الا اللہ واللہ اکبراللہ اکبر وللہ الحمد ط

(تنویر الابصار ج ۱ ص ۷۸۴ تا ۷۸۷ وغیرہ )

مسئلہ ۲۴: تکبیر تشریق سلام پھیرنے کے فوراً بعد واجب ہے یعنی جب تک کوئی ایسا فعل نہ کیا ہو کہ اس نماز پر بنا نہ کر سکے، اگر مسجد سے باہر ہو گیا یا قصداً وضو توڑ دیا یا کلام کیا اگرچہ سہواً تو تکبیر ساقط ہو گئی اور بلا قصد وضو ٹوٹ گیا تو کہہ لے۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۷۸۶)

مسئلہ ۲۵: تکبیر تشریق اس پر واجب ہے جو شہر میں مقیم ہو یا جس نے اس کی اقتدا کی اگرچہ عورت یا مسافر یا گائوں میں رہنے والا ہو اور اگر اس کی اقتدا نہ کریں تو ان پر واجب نہیں ۔ (درمختار، شامی ج ۱ ص ۷۸۶)

مسئلہ ۲۶: نفل پڑھنے والے نے فرض والے کی اقتدا کی تو امام کی پیروی اس مقتدی پر بھی واجب ہے اگرچہ امام کے ساتھ اس نے فرض نہ پڑھے اور مقیم نے مسافر کی اقتدا کی تو مقیم پر واجب ہے اگرچہ امام پر واجب نہیں ۔ (درمختار،ردالمحتار ج۱ ص ۷۸۶)

مسئلہ ۲۷: غلام پر تکبیر تشریق واجب ہے اور عورتوں پر واجب نہیں اگرچہ جماعت سے نماز پڑھی ہاں اگر مرد کے پیچھے عورت نے پڑھی اور امام نے اس کے امام ہونے کی نیت کی تو عورت پر بھی واجب ہے مگر آہستہ کہے، یونہی جن لوگوں نے برہنہ نماز پڑھی ان پر بھی واجب نہیں ، اگرچہ جماعت کریں ان کی جماعت جماعت مستحبہ نہیں ۔ (درمختار ج ۱ ص ۷۸۶، جوہرہ وغیرہما)

مسئلہ ۲۸: نفل و سنت و وتر کے بعد تکبیر واجب نہیں اور جمعہ کے بعد واجب ہے اور نماز عید کے بعد بھی کہہ لے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۷۸۶)

مسئلہ ۲۹: مسبوق و لاحق پر تکبیر واجب ہے مگر جب خود سلام پھیریں اس وقت کہیں اور امام کے ساتھ کہہ لی تو نماز فاسد نہ ہوئی اور نماز ختم کرنے کے بعد تکبیر کا اعادہ بھی نہیں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۱ ص ۷۸۷)

مسئلہ ۳۰: اور دنوں میں نماز قضا ہو گئی تھی ایام تشریق میں اس کی قضا پڑھی تو تکبیر واجب نہیں یونہی ان دنوں کی نمازیں اور دنوں میں پڑھیں جب بھی واجب نہیں یونہی سال گذشتہ کے ایام تشریق کی قضا نمازیں اس سال کے ایام تشریق میں پڑھے جب بھی واجب نہیں ہاں اگر اسی سال کے ایام تشریق کی قضا نمازیں اسی سال کے انہیں دنوں میں جماعت سے پڑھے تو واجب ہے۔ (ردالمحتار ج ۱ ص ۷۸۶)

مسئلہ ۳۱: منفرد پر تکبیر واجب نہیں ۔ (جوہرہ نیرہ) مگر منفرد بھی کہہ لے کہ صاحبین کے نزدیک اس پر بھی واجب ہے۔

مسئلہ ۳۲: امام نے تکبیر نہ کہی جب بھی مقتدی پر کہنا واجب ہے اگرچہ مقتدی مسافر یا دیہاتی یا عورت ہو۔ (درمختار،ردالمحتار ج۱ ص ۷۸۷)

مسئلہ ۳۳: ان تاریخوں میں اگر عام لوگ بازاروں میں بالاعلان تکبیریں کہے تو انہیں منع نہ کیا جائے۔ (درمختار ج ۱ ص ۷۸۷)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button