ARTICLES

نماز طواف بھول کر مدینہ منورہ میں اداکرنے کاحکم

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی شخص نے طواف کیااور مکروہ وقت ہونے کی وجہ سے اس نے نمازطواف ادانہ کی پھروہ بھول گیایہاں تک کہ مدینہ منورہ پہنچ کراسے یادایا،تو اس نے نماز طواف اداکرلی تواب اس پر کچھ لازم ائے گایا نہیں ؟

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اس پرکچھ لازم نہیں ، کیونکہ نمازطواف حرم کے علاوہ میں پڑھناجائزہے ،لیکن مکروہ تنزیہی ہے ۔چنانچہ علامہ علاء الدین علی بن بلبان فارسی حنفی متوفی٧٣٩ھ لکھتے ہیں : ان صلی فی غیر المسجد جاز،ولا یختص بمکان۔ یعنی،اگر کسی نے مسجد حرام کے علاوہ میں نمازطواف اداکرلی تویہ جائز ہے ،اور نماز طواف کی ادائیگی کسی جگہ کے ساتھ خاص نہیں ہے ۔( ) امام ابوبکر بن علی حدادی حنفی متوفی٨٠٠ھ لکھتے ہیں : ان صلاھما فی غیر المسجد ، او فی غیر مکۃ جاز ؛ لانہ روی ان عمر رضی اللٰہ عنہ نسیہما وصلاھما بذی طوی ذکرہ فی الکرخی۔( ) یعنی،اگر کسی نے نمازطواف کومسجدحرام یامکہ مکرمہ کے علاوہ میں اداکیا، تو یہ جائز ہے کیونکہ روایت کیا گیا ہے : بے شک حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان نمازطواف کی دورکعتوں کوپڑھنا بھول گئے ،اور ان دورکعتوں کو’’ذی طوی‘‘میں ادا کیا،انہوں نے اسے ’’کرخی‘‘میں ذکر کیا ہے ۔ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی٩٩٣ھ لکھتے ہیں : لو صلاھا خارج الحرم ولو بعد الرجوع الی وطنہ : جاز ویکرہ۔( ) یعنی،اگرنمازطواف کو حدود حرم کے باہر اداکیا،اگر چہ اپنے وطن لوٹ کرتویہ کراہت کے ساتھ جائز ہے ۔ اوریہاں کراہت سے مرادکراہت تنزیہی ہے ۔چنانچہ ملاعلی قاری حنفی متوفی١٠١٤ھ اس کے تحت لکھتے ہیں : ای کراھۃ تنزیہ لترکہ الاستحباب کما سیاتی۔( ) یعنی،ترک مستحب کی وجہ سے کراہت تنزیہی ہے جیساکہ عنقریب ائے گا۔ واﷲتعالیٰ اعلم
٢٧ذوالقعدۃ١٤٤٠ھ۔٣٠جولائی٢٠١٩م

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button