بہار شریعت

نماز استسقا کے متعلق مسائل

نماز استسقا کے متعلق مسائل

اللہ عزوجل فرماتا ہے:۔

وما اصابکم من مصیبۃٍ فبما کسبت ایدیکم و یعفوعن کثیرٍ

(تمہیں جو پہنچتی(مصیبت ) وہ تمہارے ہاتھوں کے کرتوت سے ہے اور بہت سی معاف فرما دیتا ہے)

یہ قحط بھی ہمارے ہی معاصی کے سبب ہے لہذا ایسی حالت میں کثرت استغفار کی بہت ضرورت ہے اور یہ بھی اس کا مفصل ہے کہ بہت سے معاف فرما دیتا ہے ورنہ اگر سب باتوں پر موأخذہ کرے تو کہاں ٹھکانہ۔ فرماتا ہے:۔

لو یؤاخذاللہ الناس بما کسبوا ما ترک علی ظھرٍھا من دآبۃٍ

(اگر لوگوں کو ان کے فعلوں پر پکڑتا تو زمین پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑتا)

اور فرماتا ہے:۔

استغفروا ربکم انہ‘ کان غفارًا ہ یرسل السمآئ علیکم مدرارً و یمددکم باموالٍ و بنین ویجعل لکم جنتٍ و یجعل لکم انھارًا ہ

(اپنے رب سے استغفار کرو بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے موسلادھار پانی تم پر بھیجے گا اور مالوں اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں باغ دے گا اور تمہیں نہریں دے گا)

حدیث ۱: ابن ماجہ کی روایت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے کہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ جو لوگ ناپ اور تول میں کمی کرتے ہیں وہ قحط اور شدت موت میں اور ظلم بادشاہ میں گرفتار ہوتے ہیں اگر چوپائے نہ ہوتے توان پر بارش نہ ہوتی۔

حدیث ۲: صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں قحط اسی کا نام نہیں کہ بارش نہ ہو بڑا قحط تو یہ ہے کہ بارش ہو اور زمین پر کچھ نہ اگائے۔

حدیث ۳: صحیحین میں ہے انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں حضور اقدس ﷺ کسی دعا میں اس قدر ہاتھ نہ اٹھاتے جتنا استسقا میں اٹھاتے یہاں تک بلند فرماتے کہ بغلوں کی سپیدی ظاہر ہوتی۔

حدیث ۴: صحیح مسلم شریف میں آیس سے مروی کہ حضور ﷺ نے بارش کے لئے دعا کی اور پشت دست سے آسمان کی طرف اشارہ کیا (یعنی اور دعائوں میں تو قاعدہ یہ ہے ہتھیلی کی آسمان کی طرف ہو اس میں ہاتھ لوٹ دیں کہ حال بدلنے کی فال ہو)۔

حدیث ۵: سنن اربعہ میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ پرانے کپڑے پہن کر استسقا کے لئے تشریف لے گئے تواضع و خشوع و تضرع کے ساتھ۔

حدیث ۶: ابودائود نے ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی کہتی ہیں لوگوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں قحط باراں کی شکایت پیش کی حضور ﷺ نے منبر کے لئے حکم فرمایا، عیدگاہ میں رکھا گیا اور لوگوں سے ایک دن کا وعدہ فرمایا کہ اس روز سب چلیں ، جب آفتاب کا کنارہ چمکا اس وقت حضور ﷺ تشریف لے گئے اور منبر پر بیٹھے، تکبیر کہی اور حمد الہی بجا لائے پھر فرمایا تم لوگوں نے اپنے ملک کے قحط کی شکایت کی اور یہ کہ مینہ اپنے وقت سے مؤخر ہو گیا اور اللہ عزوجل نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اس سے دعا کرو اور اس نے وعدہ کر دیا ہے کہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا اس کے بعد فرمایا:۔

الحمدللہ رب العلمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین لا الہ الا اللہ یفعل ما یرید اللھم انت اللہ لا الہ الا انت الغنی ونحن الفقرأ انزل علینا الغیث واجعل ما انزلت قوۃً و بلاغًا الی حینٍ ہ

(حمد ہے اللہ کیلئے جو رب ہے سارے جہان کا رحمن و رحیم ہے قیامت کے دن کا مالک ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو چاہتا ہے کرتا ہے یا اللہ تو ہی معبود ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو غنی ہے اور ہم محتاج ہیں ہم پر مینہ اتار اور جو کچھ اتارے اسے ہمارے لئے قوت اور ایک وقت تک پہنچنے کا سبب کر دے)

پھر ہاتھ بلند فرمایا یہاں تک کہ بغل کی سپیدی ظاہر ہوئی پھر لوگوں کی طرف پشت کی اور ردائے مبارک لوٹ دی پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور منبر سے اتر کر دو (۲) رکعت نماز پڑھی اللہ تعالی نے اسی وقت ابر پیدا کیا وہ گرجا اور چمکا اور برسا۔ اور حضور ﷺ ابھی مسجد سے تشریف بھی نہ لائے تھے کہ نالے بہہ گئے۔

حدیث ۷: امام مالک و ابودائود بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ راوی کہ حضور استسقا کی دعا میں یہ کہتے:۔

اللھم اسق عبادک و بھیمتک وانشر رحمتک واحی بلدک المیت

(اے اللہ تو اپنے بندوں اور چوپایوں کو سیراب کر اور اپنی رحمت کو پھیلا اور اپنے شہرمردہ کو زندہ کر)

حدیث ۸: سنن ابودائود میں جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی:۔

اللھم اسقنا غیثًا مغیثًا مریٔاً مریعانًا غیر مدرارٍعاجلاً اجل

(اے اللہ ہم کو سیراب کر پوری بارش سے جو خوشگوار تازگی لانے والی ہو نافع ہو ضرر نہ کرے جلد میں ہو دیر میں نہ ہو)

حضور ﷺ نے دعا پڑھی تھی کہ آسمان گھر آیا۔

حدیث ۹: صحیح بخاری شریف میں انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہتے ہیں جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے توسل سے طلب باراں کرتے، عرض کرتے اے اللہ تیری طرف ہم اپنے نبی کا وسیلہ کیا کرتے تھے اور تو برساتا تھا اب ہم تیری طرف نبی ﷺ کے عم مکرم کو وسیلہ کرتے ہیں تو بارش بھیج، انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں جب یوں کرتے تو بارش ہوئی یعنی حضور اقدس ﷺ کی حیات ظاہری میں حضور ﷺ آگے ہوتے اور ہم حضور ﷺ کے پیچھے صفیں باندھ کر دعا کرتے۔ اب کہ یہ میسر نہیں حضور ﷺ کے چچا کو آگے کر کے دعا کرتے ہیں یہ بھی تو سل حضور ﷺ سے ہیں صورۃ میسر نہیں تو معنیً۔

مسائل فقہیہ

مسئلہ ۱: استسقاء دعا و استغفار کا نام ہے، استسقا کی نماز جماعت سے جائز ہے مگر جماعت اس کیلئے سنت نہیں چاہیں جماعت سے پڑھیں یا تنہا تنہا دونوں اختیار ہے۔ (درمختار ج ۱ ص ۷۹۰، ۷۹۱ وغیرہ)

مسئلہ ۲: استسقا کے لئے پرانے یا پیوند لگے کپڑے پہن کر تذلل و خشوع و خضوع و تواضع کے ساتھ سر برہنہ پیدل جائیں اور پا برہنہ ہوں تو بہتر اور جانے سے پیشتر خیرات کریں ۔ کفار کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں کہ جاتے ہیں رحمت کے لئے اور کافر پر لعنت اترتی ہے۔ تین دن پیشتر سے روزے رکھیں اور توبہ و استغفار کریں پھر میدان میں جائیں اور وہاں توبہ کریں اور زبانی توبہ کافی نہیں بلکہ دل سے کریں اور جن کے حقوق اس کے ذمہ ہیں سب ادا کرے یا معاف کرائے، کمزوروں بوڑھوں بچوں کے توسل سے دعا کرے اور سب آمین کہیں کہ صحیح بخاری شریف میں ہے حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہیں روزی اور مدد کمزوروں کے ذریعہ سے ملتی ہے اور ایک روایت میں ہے اگر جوان خشوع کرنیوالے اور چوپائے چرنے والے اور بوڑھے رکوع کرنیوالے اور بچے دودھ پینے والا نہ ہوتے تو تم پر شدت سے عذاب کی بارش ہوتی اس وقت بچے اپنی مائوں سے جدا رکھے جائیں اور مویشی بھی ساتھ لے جائیں ۔ غرض یہ کہ توجہ کے تمام اسباب مہیا کریں اور تین دن متواتر جنگل کو جائیں اور دعا کریں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امام دو (۲) رکعت کے ساتھ نماز پڑھائے اور بہتر یہ ہے کہ پہلی میں سبح اسم اور دوسری میں ھل اتک پڑھے اور نماز کے بعد زمین پر کھڑا ہو کر خطبہ پڑھے اور دونوں خطبوں کے درمیان جلسہ کرے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ہی خطبہ پڑھے اور خطبہ میں دعا و تسبیح و استغفار کرے اور اثنائے خطبہ میں چادر لوٹ دے یعنی اوپر کا کنارہ نیچے اور نیچے کا اوپر کر دے کہ حال بدلنے کی فال ہو خطبہ سے فارغ ہو کر لوگوں کیطرف پیٹھ اور قبلہ کو منہ کر کے دعا کرے۔ بہتر وہ دعائیں جو احادیث میں وارد ہیں اور دعا میں ہاتھوں کو خوب بلند کرے اور پشت دست جانب آسمان رکھے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۵۴،۱۵۳، غنیہ، درمختار شامی ج ۱ ص ۷۹۱،۷۹۲ جوہرہ وغیرہا)

مسئلہ ۳: اگر جانے سے پیشتر بارش ہو گئی جب بھی جائیں اور شکر الہی بجالائیں اور مینہ کے وقت حدیث میں جو دعا ارشاد ہوئی پڑھے اور بادل گرجے تو اس کی دعا پڑھے اور بارش میں کچھ دیر ٹھہرے کہ بدن پر پانی پہنچے۔ (درمختار،ر دالمحتار ج ۱ ص ۷۹۲)

مسئلہ ۴: کثرت سے بارش ہو کہ نقصان کرنے والی معلوم ہو تو اس کے روکنے کی دعا کر سکتے ہیں اور اس کی دعا حدیث میں یہ ہے:۔

اللھم حوالینا ولا علینا اللھم علی الاکام والطواب وبطون الاودیۃ ومنابت الشجر

(اے اللہ ہمارے آس پاس برسا۔ ہمارے اوپر نہ برسا۔ اے اللہ بارش کو برسا)ٹیلوں اور پہاڑوں اور نالوں میں اور جہاں درخت اگتے ہیں )

اس حدیث کو بخاری و مسلم نے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button