ARTICLES

نمازِعصر کے بعد نمازِ طواف کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ جس نے نماز عصر پڑھنے کے بعد اگر نفلی طواف کیا تو وہ نمازِ طواف کب پڑھے اگر نماز مغرب کے بعد پڑھے تو سنّتوں کے بعد پڑھے یا پہلے پڑھے ؟

(السائل : محمد صابر ، صابر گارمنٹس، میٹھادر، کراچی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : نمازِ طواف میں اصل تو یہ ہے کہ طواف کے بعد نمازِ طواف کو مؤخّر نہ کرے اور اگر مؤخّر کرے گا تو کراہت لازم ہو گی، ہاں اگر طواف سے ایسے وقت میں فارغ ہوا کہ مکروہ وقت تھا تو اُس وقت نمازِ طواف نہیں پڑھے گا بلکہ مکروہ وقت کے بعد پڑھے گا او رصورت مسؤلہ میں چونکہ اُس شخص نے عصر نماز پڑھنے کے بعد طواف کیا اور عصر نماز کے بعد غروب آفتاب تک نفل پڑھنا مکروہ ہے اِس لئے وہ نمازِ طواف کو غروب آفتاب تک مؤخّر کرے گا۔ اور غروبِ آفتاب کے بعد پہلے مغرب کے فرض پڑھے گا فرائض کے بعد نمازِ طواف پڑھے کہ واجب ہے نیز اُن کا ذمے کے ساتھ تعلق سنّتِ مغرب سے قبل ہوا ہے ، پھر سنتیں پڑھے ، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

سنّت است موالاۃ بین فراغ از طواف و بین الرکعتین پس تاخیر کردن آنہا را از طواف مکروہ باشد مگر آنکہ وقت کراہۃ نماز باشد، آنگاہ باید کہ تاخیر کند مثلاً اگر طواف کرد بعد صلاۃ العصر تاخیر کند رکعتین را تا مغرب پس اوّلاً فرض مغرب ادا کردہ دو رکعت بجا آرد بعد ازان بسنّت مغرب اشتغال نماید زیرانکہ دو رکعت طواف واجب اند و نیز سابق گزشتہ است تعلق آنہا بذمہ قبل از سنّت پس تقدیم کردہ شود آنہار بر سنّت(344)

یعنی، طواف سے فراغت او ردو رکعت (نمازِ طواف) کے مابین موالات (یعنی پے در پے کرنا) سنّت ہے ، پس ان کی ادائیگی میں تاخیر کرنا مکروہ ہے مگر یہ کہ کراہت نماز کا وقت ہو، اس وقت چاہئے کہ (نمازِ طواف کی ادائیگی میں ) تاخیر کر دے مثلاً اگر نماز عصر کے بعد طواف کرے تو دو رکعت نمازِ طواف کی ادائیگی میں مغرب تک تاخیر کرے پھر پہلے مغرب کے فرض ادا کر ے پھر دو رکعت (نمازِ طواف) ادا کرے اُس کے بعد سنّتِ مغرب میں مشغول ہو، کیونکہ دو رکعت نماز طواف واجب ہے ، اور نیز اُن دو رکعت کا تعلق ذمے میں سنّتِ مغرب سے پہلے ہوا ہے پس اُن کو مقدم کیا جائے گا۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الثلاثاء، 5 جمادی الأولٰی1428ھ، 22مایو2007 م (380-F)

حوالہ جات

344۔ حیاۃالقلوب فی زیارۃ المحبوب، باب سیوم در بیان طواف،فصل سیوم، در کیفیت ادائے طواف إلخ، ص135

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button