ARTICLES

نفلی طواف نامکمل چھوڑنے پرحکم

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نفلی طواف کے اکثریااقل چکرچھوڑنے پرکیا لازم ہوگا؟

(سائل : صوفی اقبال ضیائی،مدینہ منورہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں نفلی طواف نامکمل چھوڑنے والے پرتوبہ لازم ہوگی اورکفارے کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگرکسی نے نفلی طواف کے اکثرچکریعنی چاریااس سے زائدپھیرے چھوڑے تواس پردم لازم ہوگااورچارسے کم پھیرے چھوڑے توہرپھیرے کے بدلے میں ایک صدقہ فطرلازم ہوگا،کیونکہ ہرنفلی طواف کاحکم طواف قدوم کی مثل ہے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ لکھتے ہیں :

حکم کل طواف تطوع کحکم طواف القدوم۔()

یعنی،ہرنفلی طواف کاحکم طواف قدوم کے حکم کی مثل ہے ۔ اورشیخ الاسلام مخدوم محمدہاشم ٹھٹوی حنفی متوفی1174ھ لکھتے ہیں :

طواف ہائ تطوع مثل طواف قدوم۔()

یعنی،نفلی طواف‘طواف قدوم کی مثل ہے ۔ اورطواف قدوم کے اکثرچکرچھوڑنے پردم لازم ہوتاہے جبکہ اقل چکر چھوڑنے پرصدقہ لازم ہوتاہے ۔ چنانچہ علامہ سیدمحمدامین ابن عابدین شامی حنفی متوفی1252ھ لکھتے ہیں :

اما القدوم…لو ترك اقله تجب فيه صدقة ولو ترك اكثره يجب فيه دم لانه الجابر لترك الواجب في الطواف كسجود السهو في ترك الواجب في النافلة۔ ()

یعنی،اگرکسی نے طواف قدوم کے اقل چکرچھوڑے تواس پرصدقہ لازم ہوگااوراگراس کے اکثرچکرچھوڑے تواس پردم لازم ہوگا،کیونکہ طواف میں واجب چھوڑنے کی وجہ سے دم اسی طرح ہے جیسے نفلی نمازمیں واجب کوترک کرنے میں سجدہ سہو۔ اورنفلی طواف شروع کرنے کے بعدحکم میں طواف صدرکی مثل ہے کیونکہ نفلی طواف شروع کرنے سے واجب ہوجاتاہے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

لو ترک بعضہ لم اجد فیہ تصریحا وینبغی ان یکون الحکم فیہ کالحکم فی طواف الصدر فانہ وجب بالشروع۔()

یعنی،اگرکسی نے طواف قدوم کے بعض چکرترک کئے ،اس بارے میں حکم کی تصریح میں نے نہیں پائی ہے ،اورچاہیے کہ اس میں ویساہی حکم ہوجیساطواف صدرمیں حکم ہے ۔ اورعلامہ سیدمحمدامین ابن عابدین شامی حنفی متوفی1252ھ لکھتے ہیں :

اما القدوم فلم يصرحوا بما يلزمه لو تركه بعد الشروع، وبحث السندي في منسكه الكبير انه كالصدر ونازعه في شرح اللباب بان الصدر واجب باصله فلا يقاس عليه ما يجب بشروعه فالظاهر انه لا يلزمه بتركه شيء سوى التوبة كصلاة النفل اهـ ملخصًا. وقد يقال وجوبه بالشروع بمعنى وجوب اكماله وقضائه باهماله ويلزم منه وجوب الاتيان بواجباته كصلاة النافلة، حتى لو ترك منها واجبًا وجب اعادتها او الاتيان بما يجبر ما تركه منها كالصلاة الواجبة ابتداءً، وهنا كذلك۔()

یعنی،فقہائے کرام نے اس کی تصریح نہیں کی ہے کہ طواف قدوم شروع کرنے کے بعداسے چھوڑنے پرکیالازم ہوگااور علامہ سندھی علیہ الرحمہ نے اپنی ’’منسک کبیر‘‘میں بحث کرتے ہوئے کہا : یہ طواف صدرکی طرح ہے اورملاعلی قاری نے ’’شرح لباب‘‘میں ان سے منازعت کی کہ طواف صدراپنی اصل کے اعتبارسے واجب ہے تواس پراسے قیاس نہیں کیا جاسکتاہے جوشروع کرنے کے سبب واجب ہو،لہٰذاظاہربات یہ ہے کہ اس کے ترک سے سوائے توبہ کے کوئی شے لازم نہیں ہوگی جس طرح نفلی نمازہے ‘ملاعلی قاری کی عبارت ختم ہوئی’’ملخصا‘‘،بعض اوقات یہ کہاجاتاہے : اس کے شروع کرنے سے واجب ہونے کامطلب یہ ہے کہ اسے مکمل کرنااوراسے مہمل چھوڑنے کی صورت میں اس کی قضاکرناواجب ہے ، اوراس سے یہ لازم اتاہے کہ اس کے واجبات کے ساتھ اسے بجالاناواجب ہوگاجس طرح نفلی نمازہے ،یہاں تک کہ اگرکوئی نمازکے واجب کوترک کرتاہے تواس کا اعادہ کرنااوراسے بجالاناواجب ہوگاکہ جس کے ذریعے وہ نقصان پوراہوجائے جس طرح اس نمازکامعاملہ ہوتاہے جوا بتداءہی سے واجب ہواوریہاں صورتحال اسی طرح ہے ۔ اوراگے لکھتے ہیں :

لم يصرحوا بحكم طواف القدوم لو شرع فيه وترك اكثره او اقله. والظاهر انه كالصدر لوجوبه بالشروع۔()

یعنی،فقہائے کرام نے اس بارے میں تصریح نہیں کی کہ اگرکسی نے طواف قدوم شروع کیااوراس کے اکثریااقل پھیرے چھوڑدئے توکیاحکم ہے ؟ اور ظاہریہ ہے کہ یہ طواف صدرکی مثل ہے ،طواف شروع کرنے کے سبب واجب ہونے کی وجہ سے ۔ اورطواف صدرکے اکثرچکرچھوڑنے پردم اورچارپھیروں سے کم چھوڑنے کی صورت میں ہرپھیرے کے عوض ایک صدقہ فطرلازم ہوتاہے ۔ چنانچہ علامہ ابوالحسن علاءالدین علی بن بلبان فارسی حنفی متوفی739ھ لکھتے ہیں

: لو ترک طواف الصدر او اکثرہ تجب شاۃ ، ویؤمر باعادتہ ما دام بمکۃ ، ولو ترک ثلاثۃ اشواط من طواف الصدر علیہ ان یطعم ثلاثۃ مساکین ، کل مسکین نصف صاع۔()

یعنی،اگرکسی نے طواف صدرکل یااکثرترک کیاتودم واجب ہوگا،اورجب تک وہ مکہ میں ہے اسے اعادہ کاحکم دیاجائے گا، اوراگرطواف صدرکے تین پھیرے ترک کئے تواس پرلازم ہوگاکہ وہ تین مساکین کوکھاناکھلائے ،ہرایک مسکین کو نصف صاع۔ اورعلامہ رحمت اللہ سندھی حنفی اورملاعلی قاری حنفی متوفی1014ھ لکھتے ہیں :

(من ترک طواف الصدر کلہ او اکثرہ ، فعلیہ شاۃ)ای لترک الواجب (وما دام فی مکۃ یؤمر بان یطوفہ، وان ترک ثلاثۃ اشواط منہ، فعلیہ لکل شوطٍ صدقۃ) ای فیطعم ثلاثۃ مساکین ، کل مسکین نصف صاع من بر۔()

یعنی،جومکمل یااکثرطواف صدرچھوڑدے تواس پردم لازم ہوگایعنی ترک واجب کی وجہ سے ،اورجب تک وہ مکہ میں ہے اسے طواف کرنے کاحکم دیا جائے
گا،اوراگرطواف صدرکے تین پھیرے چھوڑے توہرپھیرے کے عوض اس پرایک صدقہ لازم ہوگایعنی وہ تین مساکین کوکھاناکھلائے ،ہرایک مسکین کونصف صاع گندم۔ اورصدرالشریعہ محمدامجدعلی اعظمی حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : طواف رخصت کل یا اکثر ترک کیا تو دم لازم اور چارپھیروں سے کم چھوڑا تو ہر پھیرے کے بدلے میں ایک صدقہ۔() اورنفلی طواف شروع کرنے کے بعداسے مکمل کرناواجب ہوتاہے ۔چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

لو شرع فیہ او فی طواف التطوع یجب علیہ اتمامہ۔()

یعنی،اگرکوئی طواف قدوم یانفلی طواف شروع کرلے تواس پرطواف کو مکمل کرناواجب ہوگا۔ لہٰذانفلی طواف کونامکمل چھوڑنے والاگنہگارہوگاجس کے سبب اس پرتوبہ لازم ہوگی۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب جمعہ،27رجب1442ھ۔12مارچ2021م

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button