بہار شریعت

نفقہ کے متعلق مسائل

نفقہ کے متعلق مسائل

اللہ عزوجل فرماتا ہے ۔

لینفق ذوسعۃٍ من سعتۃٖط ومن قدرعلیہ رزقہٗ فلینفق ممااتہ اللہ لایکلف اللہ نفساً الا ما اتھا سیجعل اللہ بعدعسرٍ یسرًاo

( مالدار شخص اپنی وسعت کے لائق خرچ کرے اورجس کی روزی تنگ ہے ہو اس میں سے خرچ کرے جو اسے خدا نے دیا ۔ اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنی اسے طاقت دی ہے قریب ہے کہ اللہ سختی کے بعد آسانی پیدا کردے )

اور فرماتا ہے:۔

وعلی المولود لہٗ رزقھن وکسوتھن بالمعروف ط لا تکلف نفسٌ الا وسعھا لا تضاروالدۃٌ م بولد ھاولا مو لودٌلہٗ بولدہٖ وعلی الوارث مثل ذلک ۔

(جس کا بچہ ہے اس پر عورتوں کو کھانا اور پہننا ہے دستور کے موافق۔ کسی جان پر تکلیف نہیں دی جاتی مگر اس کی گنجائش کے لائق۔ ماں کو اس بچہ کے سبب ضرر نہ دیا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کے سبب اورجو باپ کے قائم مقام ہے اس پر بھی ایسا ہی واجب ہے ۔)

اور فرماتا ہے:۔

اسکنو ھن من حیث سکنتم من وجد کم ولا تضاروھن لتضیقوعلیھن ۔

(عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہواپنی طاقت بھر اور انھیں ضررنہ دو کہ ان پر تنگی کرو)

حدیث۱: صحیح مسلم شریف میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حضور اقدس ﷺنے حجۃ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا عورتوں کے بارے میں خدا سے ڈرو کہ وہ تمھارے پاس قیدی کی مثل ہیں اللہ کی امانت کے ساتھ تم نے انکولیا اور اللہ کے کلمہ کے ساتھ ان کے فروج کو حلال کیا۔تمھاراان پر یہ حق ہے کہ تمھارے بچھونوں پر ( مکانوں میں )ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کو تم نا پسند رکھتے ہواور اگر ایسا کریں تو تم اس طرح مارسکتے ہو جس سے ہڈی نہ ٹوٹے اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ انھیں کھانے اور پہننے کو دستور کے موافق دو۔

حدیث۲: صحیحین میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی کہ ہند بنت عتبہ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺابوسفیان ( میرے شوہر ) بخیل ہیں وہ مجھے اتنا نفقہ نہیں دیتے جو مجھے او ر میری اولاد کو کافی ہو مگر اس صورت میں کہ ان کی بغیر اطلاع میں کچھ لے لوں ( تو آیا اس طرح لینا جائز ہے )فرمایا کہ اس کے مال میں سے اتنا تو لے سکتی ہے جو تجھے اور تیرے بچوں کو دستور کے موافق خرچ کے لئے کافی ہو۔

حدیث۳: صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا جب خدا کسی کو مال دے تو خود اپنے اور گھر والوں پرخرچ کرے ۔

حدیث۴: صحیح بخاری میں ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان جو کچھ اپنے اہل پر خرچ کرے اور نیت ثواب کی ہو تو یہ اس کے لئے صدقہ ہے ۔

حدیث۵: بخاری شریف میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ حضور ﷺ نے فرمایا جو کچھ تو خرچ کریگا وہ تیرے لئے صدقہ ہے یہاں تک کہ لقمہ جو بی بی کے منہہ میں اٹھا کر دیدے ۔

حدیث۶: صحیح مسلم شریف میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی کو گنہگار ہونے کے لیئے اتنا کافی ہے کہ جس کا کھانا اس کے ذمہ ہو اسے کھانے کو نہ دے ۔

حدیث۷: ابوداود و ابن ماجہ بروایت عمر و بن شعیب عن ابیہ عن جدہ راوی کہ ایک شخص نے حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میرے پاس مال ہے اور میرے والد کو میرے مال کی حاجت ہے فرمایا تو اور تیرا مال تیرے باپ کے لئے ہیں تمھاری اولاد تمھاری عمدہ کمائی سے ہیں اپنی اولاد کی کمائی کھاؤ۔

سائل فقہیہ

مسئلہ۱: نفقہ سے مراد کھاناکپڑا رہنے کا مکان ہے اور نفقہ واجب ہونے کے تین سبب ہیں زوجیت ۔ نسب۔ملک۔ (جوہرہ ‘ درمختار)

مسئلہ۲: جس عورت سے نکاح صحیح ہوا اس کا نفقہ شوہر پر واجب ہے عورت مسلمان ہو یا کافرہ‘ آزاد ہو یا مکاتبہ ‘محتاج ہو یا مالدار‘ دخول ہوا ہو یا نہیں ‘ بالغہ ہویا نا بالغہ مگر نابالغہ میں شرط یہ ہے کہ جماع کی طاقت رکھتی ہو یا مشتہاۃ ہو۔اور شوہرکی جانب کوئی شرط نہیں بلکہ کتنا ہی صغیرالسن ہواس پر کا نفقہ واجب ہے اس کے مال سے دیا جائے گا۔ اور اگر اس کی ملک میں مال نہ ہو تو اس کی عورت کا نفقہ اس کے باپ پر واجب نہیں ہاں اگر اس کے باپ نے نفقہ کی ضمانت کی ہو تو باپ پر واجب ہے شوہر عنین ہے یا اسکا عضوتناسل کٹا ہوا ہے یا مریض ہے کہ جماع کی طاقت نہیں رکھتا یا حج کو گیا ہے جب بھی نفقہ واجب ہے ۔ ( عالمگیری ‘ درمختار)

مسئلہ۳: نا بالغہ جو قابل جماع نہ ہو اس کا نفقہ شوہر پر واجب نہیں خواہ شوہر کے یہاں ہو یا اپنے باپ کے گھر جب تک قابل وطی نہ ہو جائے ہاں اگر اس قابل ہو کہ خدمت کر سکے یا اس سے انس حاصل ہو سکے اور شوہر نے اپنے مکان میں رکھا تو نفقہ واجب ہے اور نہیں رکھا تو نہیں ۔( عالمگیری درمختار)

مسئلہ۴: عورت کامقام بند ہے جس کے سبب سے وطی نہیں ہو سکتی یا دیوانی ہے یا بوہری تو نفقہ واجب ہے ۔( درمختار )

مسئلہ۵: زوجہ کنیزہے یا مدبرہ یا ام ولد تونفقہ واجب ہونے کے لئے تبویہ شرط ہے یعنی اگر مولی کے گھر رہتی ہے تو واجب نہیں ۔ ( جوہرہ)

مسئلہ۶: نکاح فاسد مثلاً بغیر گواہوں کے نکاح ہو تو اس میں یا اس کی عدت میں نفقہ واجب نہیں یونہی وطی بالشبہہ میں اور اگر بظاہر نکاح صحیح ہوااور قاضی شرع نے نفقہ مقرر کر دیا بعد کو معلوم ہوا کہ نکاح صحیح نہیں مثلاًوہ عورت اس کی رضاعی بہن ثابت ہوئی تو جوکچھ نفقہ میں دیا ہے واپس لے سکتا ہے اور اگر بطور خود بلا حکم قاضی دیا ہے تو نہیں لے سکتا ۔( جوہرہ ‘ ردالمحتار)

مسئلہ۷: انجانی میں عورت کی بہن یا پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا بعد کو معلوم ہوااور تفریق ہوئی تو جب تک اس کی عدت پوری نہ ہو گی عورت سے جماع نہیں کرسکتا مگر عورت کانفقہ واجب ہے اور اس کی بہن‘ پھوپی‘ خالہ کا نہیں اگر چہ ان عورتوں پر عدت واجب ہے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۸: بالغہ عورت جب اپنے نفقہ کا مطالبہ کرے اور ابھی رخصت نہیں ہوئی ہے تو اس کا مطالبہ درست ہے جبکہ شوہر نے اپنے مکان پر لے جانے کو اس سے نہ کہا ہو۔ اور اگر شوہر نے کہا تو میرے یہاں چل اور عورت نے انکار نہ کیا جب بھی نفقہ کی مستحق ہے اور اگر عورت نے انکار کیا تو اس کی دوصورتیں ہیں اگر کہتی ہے جب تک مہر معجل نہ دوگے نہیں جاؤنگی جب بھی نفقہ پائے گی کہ اس کا انکار نا حق نہیں ۔ا ور اگر انکار نا حق ہے مثلاً مہر معجل ادا کر چکا ہے یا مہر معجل تھا ہی نہیں یا عورت معاف کرچکی ہے تو اب نفقہ کی مستحق نہیں جب تک شوہر کے مکان پر نہ آئے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۹: دخول ہونے کے بعداگر عورت شوہر کے یہاں آنے سے انکار کرتی ہے تو اگر مہر معجل کا مطالبہ کرتی ہے کہ دے دو تو چلوں تو نفقہ کی مستحق ہے ورنہ نہیں ۔( درمختار)

مسئلہ۱۰: شوہر کے مکان میں رہتی ہے مگر اس کے قابو میں نہیں آتی تو نفقہ ساقط نہیں ۔ اور اگر جس مکان میں رہتی وہ عورت کی ملک ہے اور شوہر کا آنا وہاں بند کر دیا تو نفقہ نہیں پائے گی ہاں اگر اس نے شوہر سے کہا کہ مجھے اپنے مکان میں لے چلو یا میرے لئے کرایہ پر کوئی مکان لے دو اور شوہر نہ لے گیا تو قصور شوہر کا ہے لہذا نفقہ کی مستحق ہے ۔ یوہیں اگر شوہر نے پر ایامکان غصب کر لیا ہے اس میں رہتا ہے عورت وہاں رہنے سے انکار کرتی ہے تو نفقہ کی مستحق ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۱: شوہر عورت کو سفر میں لے جانا چاہتا ہے اور عورت انکار کرتی ہے یا عورت مسافت سفر پر ہے شوہر نے کسی اجنبی شخص کو بھیجا کہ اسے یہاں اپنے ساتھ لے آ عورت اس کے ساتھ جانے سے انکار کرتی ہے تو نفقہ ساقط نہ ہوگا اور اگر عورت کے محرم کو بھیجا اور آنے سے انکار کرے تو نفقہ ساقط ہے ۔( درمختار)

مسئلہ۱۳: عورت شوہر کے گھر بیمار ہوئی یا بیمار ہو کر اس کے یہاں گئی یا اپنے ہی گھر رہی مگر شوہر کے یہاں جانے سے انکار نہ کیا تو نفقہ واجب ہے اور اگر شوہر کے یہاں بیمار ہوئی اور اپنے باپ کے یہاں چلی گئی اگر اتنی بیمار ہے کہ ڈولی وغیرہ پر بھی نہیں آسکتی تو نفقہ کی مستحق ہے اور اگر آسکتی ہے مگر نہیں آئی تو نہیں ۔(درمختار)

مسئلہ۱۴: عورت شوہر کے یہاں سے ناحق چلی گئی تو نفقہ نہیں پائے گی جب تک واپس نہ آئے اور اگر اس وقت واپس آئی کہ شوہرمکان پر نہیں بلکہ پردیس چلا گیا ہے جب بھی نفقہ کی مستحق ہے ۔اور اگر عورت یہ کہتی ہے کہ میں شوہر کی اجازت سے گئی تھی اور شوہر انکار کرتا ہے یا یہ ثابت ہوگیا کہ بلا اجازت چلی گئی تھی مگر عورت کہتی ہے کہ گئی تو تھی بغیر اجازت مگر کچھ دنوں شوہر نے وہاں رہنے کی اجازت دیدی تھی تو بظاہر عورت کا قول معتبر نہ ہوگا۔ ( درمختار ‘ ردالمحتار)

مسئلہ۱۵: چند مہینے کا نفقہ شوہر پر باقی تھا عورت اس کے مکان سے بغیر اجازت چلی گئی تو یہ نفقہ بھی ساقط ہوگیا اورلوٹ کر آئے جب بھی اس کی مستحق نہ ہوگی اور اگر باجازت اس نے قرض لے کر نفقہ میں صرف کیا تھا اور اب چلی گئی تو ساقط نہ ہوگا ۔( درمختار ‘ ردالمحتار)

مسئلہ۱۶: عورت اگر قید ہوگئی اگر چہ ظلماً تو شوہر پر نفقہ واجب نہیں ہاں اگر خود شوہر کا عورت پر دین تھا اسی نے قید کرایا تو ساقط نہ ہوگا۔یونہی اگرعورت کو کوئی اٹھالے گیا یا چھین لے گیا جب بھی شوہر پر نفقہ واجب نہیں ۔(جوہرہ)

مسئلہ۱۷: عورت حج کے لئے گئی اور شوہر ساتھ نہ ہوتو نفقہ واجب نہیں اگر چہ محرم کے ساتھ گئی ہو اگر چہ حج فرض ہو۔ اگر چہ شوہر کے مکان پر رہتی تھی ۔ اور اگر شوہر کے ہمراہ ہے تو نفقہ واجب ہے حج فرض ہو یا نفل مگر سفر کے مطابق نفقہ واجب نہیں بلکہ حضر کا نفقہ واجب ہے لہذا کرایہ وغیرہ مصارف سفر شوہر پر واجب نہیں ۔(جوہرہ ‘خانیہ)

مسئلہ۱۸: کسی عورت کو حمل ہے لوگوں کو شبہ ہے کہ فلاں شخص کا حمل ہے لہذا عورت کے باپ نے اسی سے نکاح کر دیا مگر وہ کہتا ہے کہ حمل مجھ سے نہیں تو نکاح ہو جائے گا مگر نفقہ شوہر پر واجب نہیں اور اگر حمل کا اقرار کرتا ہے تو نفقہ واجب ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۹: جس عورت کو طلاق دی گئی ہے بہر حال عدت کے اندر نفقہ پائے گی طلاق رجعی ہو یا بائن یا تین طلاقیں عورت کو حمل ہو یا نہیں ۔(خانیہ)

مسئلہ۲۰: جو عورت بے اجازت شوہر گھر سے چلی جایا کرتی ہے اس بنا پر اسے طلاق دیدی تو عدت کا نفقہ نہیں پائے گی ہاں اگر بعد طلاق شوہر کے گھر میں رہی اور باہر جانا چھوڑدیا تو پائے گی۔( عالمگیری)

مسئلہ۲۱: جب تک عورت سن ایاس کو نہ پہنچے اس کی عدت تین حیض ہے جیسا کہ پہلے معلوم ہو چکا اور اگر اس عمر سے پہلے کسی وجہ سے جوان عورت کو حیض نہیں آتا تو اس کی عدت کتنی ہی طویل ہو زمانۂ عدت کا نفقہ واجب ہے یہاں تک کہ اگر سن ایاس تک حیض نہ آیا تو بعد ایاس تین ماہ گزرنے پر عدت ختم ہوگی اور اس وقت تک نفقہ دینا ہوگا ۔ہاں اگر شوہر گواہوں سے ثابت کردے کہ عورت نے اقرار کیا ہے کہ تین حیض آئے اور عدت ختم ہوگئی تو نفقہ ساقط کہ عدت پوری ہوچکی۔ اور اگر عورت کو طلاق ہوئی اس نے اپنے کو حاملہ بتایا تو وقت طلاق سے دو برس تک وضع حمل کاانتظار کیا جائے وضع حمل تک نفقہ واجب ہے اور دو برس پر بھی بچہ نہ ہوااورعورت کہتی ہے کہ مجھے حیض نہیں آیا اور حمل کا گمان تھا تو نفقہ برابر لیتی رہے گی یہاں تک کہ تین حیض آئیں یا سن ایاس آکر تین مہینے گزرجائیں ۔( خانیہ)

مسئلہ۲ ۲: عدت کے نفقہ کا نہ دعوی کیا نہ قاضی نے مقرر کیا تو عدت گزرنے کے بعد نفقہ ساقط ہوگیا ۔

مسئلہ۲۳: مفقود کی عورت نے نکاح کرلیا اور اس دوسرے شوہر نے دخول بھی کرلیا ہے اب پہلا شوہر آیا تو عورت اور دوسرے شوہر میں تفریق کردی جائیگی اور عورت عدت گزارے گی مگر اس عدت کانفقہ نہ پہلے شوہر پر ہے نہ دوسرے پر ۔(خانیہ)

مسئلہ۲۴: اپنی مدخولہ عورت کو تین طلاقیں دیدیں عورت نے عدت میں دوسرے سے نکاح کر لیا اور دخول بھی ہوا تو تفریق کردی جائے اور پہلے شوہر پر نفقہ ہے ۔اور منکوحہ نے دوسرے سے نکاح کیا اور دخول کے بعد معلوم ہوااور تفریق کرائی گئی پھر شوہر کو معلوم ہوااس نے تین طلاقیں دیدیں تو عورت پر دونوں کی عدت واجب ہے اور نفقہ کسی پرنہیں ۔( خانیہ)

مسئلہ۲۵: عدت اگر مہینوں سے ہوتو کسی مقدار معین پر صلح ہوسکتی ہے اور حیض یا وضع حمل سے ہوتو نہیں کہ یہ معلوم نہیں کتنے دونوں میں عدت پوری ہوگی ۔(درمختار)

مسئلہ۲۶: وفات کی عدت میں نفقہ واجب نہیں خواہ عورت کو حمل ہو یا نہیں یونہی جو فرقت عورت کی جانب سے معصیت کے ساتھ ہواس میں بھی نہیں مثلاً عورت مرتدہ ہوگئی یا شہوت کے ساتھ شوہر کے بیٹے یا باپ کا بوسہ لیا یا شہوت کے ساتھ چھواہاں اگر مجبور کی گئی تو ساقط نہ ہوگا یونہی اگر عدت میں مرتدہ ہوگئی تونفقہ ساقط ہوگیا پھر اگر اسلام لائی تو نفقہ عود کر آئیگا ۔ اور اگر عدت میں شوہر کے بیٹے یا باپ کا بوسہ لیا تو نفقہ ساقط نہ ہوا ۔اور جو فرقت زوجہ کی جانب سے سبب مباح سے ہواس میں نفقہ ٔ عدت ساقط نہیں مثلاً خیار عتق خیار‘ بلوغ عورت کو حاصل ہوااس نے اپنے نفس کو اختیار کیا بشرطیکہ دخول کے بعد ہو ورنہ عدت ہی نہیں ۔ اور خلع میں نفقہ ہے ہاں اگر خلع اس شرط پر ہواکہ عورت نفقہ وسکنی معاف کرے تو نفقہ اب نہیں پائے گی مگر سکنے سے شوہر اب بھی بری نہیں کہ عورت اسکو معاف کرنے کا اختیار نہیں رکھتی ۔( جوہرہ)

مسئلہ ۲۷: عورت سے ایلا یا ظہار یا لعان کیا یا شوہر نے عورت کی ماں سے جماع کیا یا عنین کی عورت نے فرقت اختیار کی تو ان سب صورتوں میں نفقہ پائے گی۔( عالمگیری)

مسئلہ۲۸: عورت نے کسی کے بچہ کو دودھ پلانے کی نوکری کی مگر دودھ پلانے جاتی نہیں بلکہ بچہ کو یہاں لاتے ہیں تو نفقہ ساقط نہیں البتہ شوہر کو اختیار ہے کہ اس سے روک دے بلکہ اگر اپنے بچہ کو جودوسرے شوہر سے ہے دودھ پلائے تو شوہر کو منع کردینے کا اختیار حاصل بلکہ ہر ایسے کام سے منع کرسکتا ہے جس سے اسے ایذا ہوتی ہے یہاں تک کہ سلائی وغیرہ ایسے کاموں سے بھی منع کرسکتا ہے بلکہ اگر شوہر کو مہندی کی بو نا پسند ہے تو مہندی لگانے سے بھی منع کرسکتا ہے۔ اور اگر دودھ پلانے وہاں جاتی ہے خواہ دن میں وہاں رہتی ہے یا رات میں تونفقہ ساقط ہے ۔یونہی اگر عورت مردہ نہلانے یا دائی کا کام کرتی ہے اور اپنے کام کے لئے باہر جاتی ہے مگر رات میں شوہر کے یہاں رہتی ہے اگر شوہر نے منع کیاا ور بغیر اجازت گئی تونفقہ ساقط ہے ۔( درمختار)

مسئلہ۲۹: اگر مرد عورت دونوں مالدار ہوں تو نفقہ مالداروں کاسا ہوگا اور دونوں محتاج ہوں تو محتاجوں کا سااور ایک مالدار ہے دوسرا محتاج تو متوسط درجہ کا یعنی محتاج جیسا کھاتے ہوں اس سے عمدہ اور اغنیا جیسا کھاتے ہوں اس سے کم اور شوہر مالدار ہواور عورت محتاج تو بہتر یہ ہے کہ جیسا آپ کھاتا ہو عورت کو بھی کھلائے مگر یہ واجب نہیں واجب متوسط ہے ۔(درمختار وغیرہ)

مسئلہ۳۰: نفقہ کا تعین روپوں سے نہیں کیا جاسکتا کہ ہمیشہ اتنے ہی روپے دیئے جائیں اس لئے کہ نرخ بدلتا رہتا ہے ارزانی و گرانی دونوں کے مصارف یکساں نہیں ہوسکتے بلکہ گرانی میں اس کے لحاظ سے تعداد بڑھائی جائے گی اور ارزانی میں کم کی جائے گی ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۱: عورت آٹا پیسنے روٹی پکانے سے انکار کرتی ہے اگر وہ ایسے گھرانے کی ہے کہ ان کے یہاں کی عورتیں اپنے آپ یہ کام نہیں کرتیں یا وہ بیمار یا کمزور ہے کہ کر نہیں سکتی تو پکا ہوا کھانا دینا ہوگا یا کوئی ایسا آدمی دے جو کھانا پکادے‘ پکانے پر مجبور نہیں کی جاسکتی اور اگر نہ ایسے گھرانے کی ہے نہ کوئی سبب ایسا ہے کہ کھانا نہ پکاسکے تو شوہر پر یہ واجب نہیں کہ پکا ہوااسے دے۔ اوراگر عورت خود پکاتی ہے مگر پکانے کی اجرت مانگتی ہے تو اجرت نہیں دی جائے گی ۔( عالمگیری درمختار)

مسئلہ۳۲: کھانا پکانے کے تمام برتن اور سامان شوہر پر واجب ہے مثلاًچکی ۔ ہانڈی ۔ توا۔ چمٹا ۔ رکابی ۔پیالہ۔ چمچہ وغیرہا جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے حسب حیثیت اعلی ۔ادنی متوسط یونہی حسب حیثیت اثاث البیت دینا واجب مثلاًچٹائی ۔ دری ۔ قالین ۔ چار پائی لحاف ۔ تو شک۔ تکیہ ۔ چادر وغیرہا ۔ یوہیں کنگھا ۔ تیل ۔سردھونے کے لئے کھلی وغیرہ اور صابن یا بیسن میل دور کرنے کے لئے ۔ اور سرمہ ۔ مسی ۔مہندی دینا شوہر پر واجب نہیں اگر لائے تو عورت کو استعمال ضروری ہے ۔ عطر وغیرہ خوشبو کی اتنی ضرورت ہے جس سے بغل اور پسینہ کی بو کو دفع کرسکے ۔( جوہرہ وغیرہا)

مسئلہ۳۳: غسل ووضو کا پانی شوہر کے ذمہ ہے عورت غنی ہو یافقر ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۴: عورت اگر چائے یا حقہ پیتی ہے تو ان کے مصارف شوہر پر واجب نہیں ۔ اگرچہ نہ پینے سے اس کو ضرر پہنچے گا۔( ردالمحتار) یوہیں پان چھالیا ۔ تمباکو شوہر پر واجب نہیں ۔

مسئلہ۳۵ : عورت بیمار ہوتو اس کی دوا کی قیمت اور طبیب کی فیس شوہر پر واجب نہیں ۔ فصد یا پچھنے کی ضرورت ہو تو یہ بھی شوہر پر نہیں ۔( جوہرہ)

مسئلہ۳۶: بچہ پیدا ہو تو جنائی کی اجرت شوہر پر ہے اگر شوہر نے بلایا۔ اور عورت پر ہے اگر عورت نے بلوایا۔ اور اگر وہ خود بغیراں دونوں میں کسی کے بلائے آجائے تو ظاہر یہ ہے کہ شوہر پر ہے ۔ ( بحر‘ ردالمحتار)

مسئلہ۳۷: سال میں دو(۲) جوڑے کپڑے دینا واجب ہے ہر ششماہی پر ایک جوڑا۔جب ایک جوڑا کپڑا دیدیا تو جب تک مدت پوری نہ ہو دینا واجب نہیں اور اگر مدت کے اندر پھاڑڈالا اور عادۃًجس طرح پہنا جاتا ہے اس طرح پہنتی تو نہیں پھٹتا تو دوسرے کپڑے اس ششماہی میں واجب نہیں ورنہ واجب ہیں اور اگر مدت پوری ہوگئی اور وہ جوڑا باقی ہے تو اگر پہنا ہی نہیں یا کبھی اس کو پہنتی تھی اور کبھی اور کپڑے اس وجہ سے باقی ہے تو اب دوسرا جوڑا دینا واجب ہے اور اگر یہ وجہ نہیں بلکہ کپڑا مضبوط تھا اس وجہ سے نہیں پھٹا تو دوسرا جوڑا واجب نہیں ۔ ( جوہرہ)

مسئلہ۳۸: جاڑوں میں جاڑے کے مناسب اور گرمیوں میں گرمی کے مناسب کپڑے دے مگر بہر حال اسکا لحاظ ضرور ی ہے کہ اگر دونوں مالدار ہوں تو مالداروں کے سے کپڑے ہوں اور محتاج ہوں تو غریبوں کے سے اور ایک مالدار ہواور ایک محتاج تو متوسط جیسے کھانے میں تینوں باتوں کا لحاظ ہے ۔اور لباس میں اس شہر کے رواج کااعتبار ہے جاڑے گرمی میں جیسے کپڑوں کا وہاں چلن ہے وہ دے چمڑے کے موزے عورت کے لئے شوہر پر واجب نہیں مگر عورت کی باندی کے موزے شوہر پر واجب ہیں ۔ اور سوتی ۔ اونی موزے جو جاڑوں میں سردی کی وجہ سے پہنے جاتے ہیں یہ دینے ہونگے ۔( درمختار ‘ ردالمحتار)

مسئلہ۳۹: عورت جب رخصت ہو کر آئی تو اسی وقت سے شوہر کے ذمے اس کا لباس ہے اس کاانتظار نہ کرے گا کہ چھ مہینے گزار لیں تو کپڑے بنائے اگر چہ عورت کے پاس کتنے ہی جوڑے ہوں نہ عورت پر یہ واجب کہ میکے سے جو کپڑے لائی ہے وہ پہنے بلکہ اب سب شوہر کے ذمہ ہے ۔ ( ردالمحتار)

مسئلہ۴۰: شوہر کو خود ہی چاہیے کہ عورت کے مصارف اپنے ذمہ لے یعنی جس چیز کی ضرورت ہو لا کر یا منگا کر دے۔ اور اگر لانے میں ڈھیل ڈالتا ہے تو قاضی کوئی مقدار وقت اور حال کے لحاظ سے مقرر کردے کہ شوہر وہ رقم دیدیا کرے اور عورت اپنے طور پر خرچ کرے ۔اور اگر اپنے او پر تکلیف اٹھا کر عورت اس میں سے کچھ بچالے تووہ عورت کا ہے واپس نہ کریگی نہ آئندہ کے نفقہ میں مجرا دیگی ۔اور اگر شوہر بقدر کفایت عورت کونہیں دیتا تو بغیر اجازت شوہر عورت اس کے مال سے لیکر صرف کرسکتی ہے ۔(بحر‘ ردالمحتار)

مسئلہ۴۱: نفقہ کی مقدار معین کیجائے تو اس میں جو طریقہ آسان ہو وہ برتا جائے مثلاً مزدوری کرنے والے کے لئے یہ حکم دیا جائیگا کہ وہ عورت کو روزانہ شام کو اتنا دے دیا کرے کہ دوسرے دن کے لئے کافی ہو کہ مزدور ایک مہینے کے تمام مصارف ایک ساتھ نہیں دے سکتا اور تاجر اور نوکری پیشہ جو ماہوار تنخواہ پاتے ہیں مہینے کا نفقہ ایک ساتھ دے دیا کریں اور ہفتہ میں تنخواہ ملتی ہے تو ہفتہ وار اورکھیتی کرنے والے ہر سال یا ربیع وخریف دو فصلوں میں دیا کریں ۔( درمختار)

مسئلہ۴۲: اگر شوہر باہر چلا جاتا ہواور عورت کو خرچ کی ضرورت پڑتی ہو تو اسے یہ حق ہے کہ شوہر سے کہے کہ کسی کو ضامن بنادوکہ مہینے پر اس سے خرچ لے لوں پھر اگر عورت کو معلوم ہے کہ شوہر ایک مہینے تک باہررہے گا تو ایک مہینے کے لئے ضامن طلب کرے اور یہ معلوم ہے کہ زیادہ دنوں سفر میں رہے گا مثلاً حج کو جاتا ہے تو جتنے دنوں کے لیئے ضامن مانگے اور اس شخص نے اگر یہ کہ دیا کہ میں ہر مہینے میں دے دیا کرونگا تو ہمیشہ کے لئے ضامن ہو گیا ۔( درمختار‘ ردالمحتار)

مسئلہ۴۳: شوہر عورت کو جتنے روپے کھانے کے لئے دیتا ہے اپنے اوپر تکلیف اٹھا کر ان میں سے کچھ بچالیتی ہے اور خوف ہے کہ لاغر ہوجائے گی تو شوہر کو حق ہے کہ اسے تنگی کرنے سے روک دے نہ مانے تو قاضی کے یہاں اس کو دعوی کر کے رکواسکتا ہے کہ اس کی وجہ سے جمال میں فرق آئے گا اور یہ شوہر کا حق ہے ۔(د رمختار)

مسئلہ۴۴: اگر باہم رضا مندی سے کوئی مقدار معین ہوئی یا قاضی نے معین کردی اورچند ماہ تک وہ رقم نہ دی تو عورت وصول کرسکتی ہے اور معاف کرنا چاہے تو کرسکتی ہے بلکہ جو مہینہ آگیا ہے اس کا بھی نفقہ معاف کرسکتی ہے جبکہ ماہ بماہ نفقہ دینا ٹھہرا ہو اور سالانہ مقرر ہواتو اس سنہ اور سال گزشۃ کا معاف کرسکتی ہے ۔پہلی صورت میں بعد والے مہینے کا دوسری میں اس سال کا جوابھی نہیں آیا معاف نہیں کرسکتی ۔اور اگر نہ باہم کوئی مقدارمعین ہوئی نہ قاضی نے معین کی تو زمانۂ گزشۃ کا نفقہ نہ طلب کرسکتی ہے نہ معاف کرسکتی ہے کہ وہ شوہر کے ذمہ واجب ہی نہیں ہاں اگر اس شرط پر خلع ہوا کہ عورت عدت کانفقہ معاف کردے تو یہ معاف ہو جائیگا ۔( درمختار‘ ردالمحتار)

مسئلہ ۴۵: عورت کو مثلاً مہینے بھر کا نفقہ دیدیا اس نے فضول خرچی سے مہینہ پورا ہونے سے پہلے خرچ کرڈالا یا چوری جاتا رہا یا کسی اور وجہ سے ہلاک ہو گیا تو اس مہینے کانفقہ شوہر پر واجب نہیں ۔( درمختار)

مسئلہ۴۶: عورت کے لئے اگر کوئی خادم مملوک ہو یعنی لونڈی یا غلام تو اس کانفقہ بھی شوہر پر ہے بشرطیکہ شوہر تنگدست نہ ہو اور عورت آزاد ہو۔ اور اگر عورت کو چندخادموں کی ضرورت ہو کہ عورت صاحب اولاد ہے ایک سے کام نہیں چلتا تو دو تین جتنے کی ضرورت ہے ان کانفقہ شوہر کے ذمہ ہے ۔( عالمگیری درمختار)

مسئلہ۴۷: شوہر اگر ناداری کے سبب نفقہ دینے سے عاجز ہے تو اس کی وجہ سے تفریق نہ کی جائے یونہی اگر مالدار ہے مگر مال یہاں موجود نہیں جب بھی تفریق نہ کریں بلکہ اگرنفقہ مقرر ہوچکا ہے تو قاضی حکم دے کہ قرض لیکر یا کچھ کام کر کے صرف کرے اور وہ سب شوہر کے ذمہ ہے کہ اسے دینا ہوگا۔( درمختار)

مسئلہ۴۸: عورت نے قاضی کے پاس آکر بیان کیاکہ میرا شوہرکہیں گیا ہے اور مجھے نفقہ کے لئے کچھ دے کر نہ گیا تو اگر کچھ روپے یا غلہ چھوڑ گیا ہے اور قاضی کو معلوم ہے کہ یہ اس کی عورت ہے تو قاضی حکم دیگا کہ اس میں سے خرچ کرے مگرفضول خرچ نہ کرے مگر یہ قسم لے لے کہ اس سے نفقہ نہیں پایا ہے اور کوئی ایسی بات بھی نہیں ہوئی ہے جس سے نفقہ ساقط ہوجاتا ہے اور عورت سے کوئی ضامن بھی لے ۔( خانیہ)

مسئلہ۴۹: شوہر کہیں چلا گیا ہے اور نفقہ نہیں دے گیا مگر گھر میں اسباب وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جو نفقہ کی جنس سے نہیں تو عورت ان چیزوں کو بیچ کر کھانے وغیرہ میں نہیں صرف کرسکتی ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۵۰: جس مقدارپر رضا مندی ہوئی یا قاضی نے مقرر کی عورت کہتی ہے کہ یہ ناکافی ہے تو مقدار بڑھادی جائے یا شوہر کہتا ہے کہ یہ زیادہ ہے اس سے کم میں کام چل جائیگا کیونکہ اب ارزانی ہے یا مقرر ہی زیادہ مقدار ہوئی اور قاضی کو بھی معلوم ہوگیا کہ یہ رقم زائد ہے تو کم کردی جائے ۔(درمختار )

مسئلہ۵۱: چند مہینے کانفقہ باقی تھا او ردونوں میں سے کوئی مرگیا تونفقہ ساقط ہوگیا ہاں ا گر قاضی نے عورت کو حکم دیاتھا کہ قرض لیکر صرف کرے پھر کوئی مرگیا تو ساقط نہ ہوگا۔ طلاق سے بھی پیشتر کا نفقہ ساقط ہوجاتا ہے مگر جبکہ اس لئے طلاق دی ہو کہ نفقہ ساقط ہوجائے تو ساقط نہ ہوگا ۔ ( درمختار)

مسئلہ۵۲: عورت کو پیشگی نفقہ دے دیا تھا پھر ان میں سے کسی کا انتقال ہوگیا یا طلاق ہوگئی تو وہ دیا ہوا واپس نہیں ہوسکتا۔ یونہی اگر شوہر کے باپ نے اپنی بہو کو پیشگی نفقہ دے دیا تو موت یا طلاق کے بعد وہ بھی واپس نہیں لے سکتا ۔(درمختار)

مسئلہ۵۳: مرد نے عورت کے پاس کپڑے یا روپے بھیجے عورت کہتی ہے ہدیۃً بھیجے اور مرد کہتا ہے نفقہ میں بھیجے تو شوہر کا قول معتبر ہے ہاں اگر عورت گواہوں سے ثابت کردے کہ ہدیۃًبھیجے یا یہ کہ شوہر نے اس کا اقرار کیا تھا اور گواہوں نے اس کے اقرار کی شہادت دی تو گواہی مقبول ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۵۴: غلام نے مولی کی اجازت سے نکاح کیا ہے تو اگر غلام خالص ہے یعنی مدبر ومکاتب نہ ہو تو اسے بیچ کر اس کی عورت کا نفقہ ادا کریں پھر بھی باقی رہ جائے تو یکے بعد دیگربیچتے رہیں یہاں تک کہ نفقہ ادا ہوجائے بشرطیکہ خریدار کو معلوم ہو کہ نفقہ کی وجہ سے بیچا جارہا ہے اور اگر خریدتے وقت اسے معلوم نہ تھا بعد کو معلوم ہوا تو خریدار کو بیع ردکرنے کااختیار ہے اور اگر بیع کو قائم رکھا تو ثابت ہوا کہ راضی ہے لہذا اب اسے کوئی عذر نہیں اور اگر مولی بیچنے سے انکار کرتا ہے تو مولی کے سامنے قاضی بیع کردے گا مگر نفقہ میں بیچنے کے لئے یہ شرط ہے کہ نفقہ اتنا اس کے ذمہ باقی ہو کہ ادا کرنے سے عاجز ہو۔اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مولی اپنے پاس سے نفقہ دیکر اپنے غلام کو چھڑا لے اور اگر وہ غلام مدبر یا مکاتب ہو جو بدل کتا بت ادا کرنے سے عاجز نہیں تو بیچا نہ جائے بلکہ کما کر نفقہ کی مقدار پوری کرے ۔اور اگر جس عورت سے نکاح کیا ہے وہ اس کے مولی کی کنیز ہے تو اس پر نفقہ واجب ہی نہیں ۔(خانیہ درمختار)

مسئلہ ۵۵: بغیر اجازت مولی غلام نے نکاح کیا اور ابھی مولی نے رد نہ کیا تھا کہ آزاد کردیا تو نکاح صحیح ہوگیا اور آزاد ہونے کے بعد نفقہ واجب ہوگا۔

مسئلہ۵۶: لونڈی نے مولی کی اجازت سے نکاح کیا اور دن بھر مولی کی خدمت کرتی ہے اور رات میں اپنے شوہر کے پاس رہتی ہے تو دن کانفقہ مولی پر ہے اور رات کا شوہر پر ۔( عالمگیری)

مسئلہ۵۷ـ: غلام یا مدبر یا مکاتب نے نکاح کیا اور اولاد ہوئی تو اولاد کانفقہ ان پر نہیں بلکہ زوجہ اگر مکاتبہ ہے تو اس پرہے اور مدبرہ یا ام ولد ہے تو ان کے مولی پر اور آزاد ہے تو خود عورت پر اور اس کے پاس بھی کچھ نہ ہوتو بچہ کا جو سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہواس پر ہے اور اگر شوہر آزاد ہے اور عورت کنیز جب بھی یہی سب احکام ہیں جو مذکور ہوئے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۵۸: غلام نے مولی کی اجازت سے نکاح کیا تھا اور عورت کانفقہ واجب ہونے کے بعد مر گیا یا مار ڈالاگیا تو نفقہ ساقط ہوگیا ۔(درمختار)

مسئلہ۵۹: نفقہ کا تیسرا جز سکنے ہے یعنی رہنے کا مکان شوہر جو مکان عورت کو رہنے کے لئے دے وہ خالی ہو یعنی شوہر کے متعلقین وہاں نہ رہیں ہاں اگر شوہر اتنا چھوٹا بچہ ہو کہ جماع سے آگاہ نہیں تو وہ مانع نہیں یونہی شوہر کے کنیز یا ام ولد کا رہنا بھی کچھ مضر نہیں اور اگر اس مکان میں شوہر کے متعلقین رہتے ہوں اور عورت نے اسی کو اختیار کیا کہ سب کے ساتھ رہے تو متعلقین شوہر سے خالی ہونے کی شرط نہیں ۔اور عورت کا بچہ اگر چہ بہت چھوٹا ہواگر شوہر روکنا چاہے تو روک سکتا ہے عورت کو اس کا اختیار نہیں کہ خواہ مخواہ اسے وہاں رکھے ۔(عامہ کتب)

مسئلہ۶۰: عورت اگر تنہا مکان چاہتی ہے یعنی اپنی سوت یا شوہر کے متعلقین کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو اگر مکان میں کوئی ایسا دالان اس کو دے دے جس میں دروازہ ہواور بند کرسکتی ہو تو وہ دے سکتا ہے دوسرا مکان طلب کرنے کا اس کو اختیار نہیں بشرطیکہ شوہر کے رشتہ دار عورت کو تکلیف نہ پہنچاتے ہوں ۔رہا یہ امر کہ پاخانہ ۔ غسل خانہ باورچی خانہ بھی علیحدہ ہونا چاہیئے اس میں تفصیل ہے اگر شوہر مالدار ہو تو ایسا مکان دے جس میں یہ ضروریات ہوں اور غریبوں میں خالی ایک کمرہ دے دینا کافی ہے اگرچہ غسل خانہ وغیرہ مشترک ہو۔ ( عالمگیری ‘ ردالمحتار)

مسئلہ۶۱: یہ بات ضروری ہے کہ عورت کو ایسے مکان میں رکھے جس کے پڑوسی صالحین ہوں کہ فاسقوں میں خود بھی رہنا اچھا نہیں نہ کہ ایسے مقام پر عورت کا ہونا اور اگر مکان بہت بڑا ہو کہ عورت وہاں تنہا رہنے سے گھبراتی اور ڈرتی ہے تو وہاں کوئی ایسی نیک عورت رکھے جس سے دل بستگی ہویا عورت کو کوئی دوسرا مکان دے جو اتنا بڑا نہ ہو اور اس کے ہمسایہ نیک لوگ ہوں ۔( درمختار‘ ردالمحتار)

مسئلہ ۶۲: عورت کے والدین ہر ہفتہ میں ایک بار اپنی لڑکی کے یہاں آسکتے ہیں شوہر منع نہیں کرسکتا ہاں اگر رات میں وہاں رہنا چاہتے ہیں تو شوہر کومنع کرنے کا اختیار ہے اور والدین کے علاوہ اور محارم سال بھر میں ایک بار آسکتے ہیں یونہی عورت اپنے والدین کے یہاں ہر ہفتہ میں ایک بار اور دیگر محارم کے یہاں سا ل میں ایک بار جاسکتی ہے مگر رات میں بغیر اجازت شوہر وہاں نہیں رہ سکتی دن ہی دن میں واپس آئے ۔ اور والدین یا محارم اگر فقط دیکھنا چاہیں تو اس سے کسی وقت منع نہیں کرسکتا ۔ اور غیروں کے یہاں جانے یا ان کے عیادت کرنے یا شادی وغیرہ تقریبوں کی شرکت سے منع کرے بغیر اجازت جائے گی تو گنہگار ہوگی اور اجازت سے گئی تو دونوں گنہگار ہوئے ۔(درمختار‘ عالمگیری)

مسئلہ۶۳: عورت اگر کوئی ایساکام کرتی ہے جس سے شوہر کا حق فوت ہوتا ہے یااس میں نقصان آتا ہے یا اس کام کے لئے باہر جانا پڑتا ہے تو شوہر کو منع کردینے کااختیار ہے ۔( درمختار ) بلکہ نظر بحال زمانہ ایسے کام سے تو منع ہی کرنا چاہیے جس کے لیئے باہر جانا پڑے ۔

مسئلہ۶۴: جس کام میں شوہر کی حق تلفی نہ ہوتی ہو نہ نقصان ہواگر عورت گھر میں وہ کام کرلیا کرے جیسے کپڑا سینا یا اگلے زمانہ میں چرخہ کاتنے کا رواج تھا تو ایسے کام سے منع کرنے کی کچھ حاجت نہیں خصوصاً جبکہ شوہر گھر نہ ہو کہ ان کاموں سے جی بہلتا رہے گا اور بیکار بیٹھے گی تو وسوسے اور خطرے پیدا ہوتے رہیں گے اور لا یعنی باتوں میں مشغول ہوگی۔(ردالمحتار)

مسئلہ۶۵: نابالغ اولاد کانفقہ باپ پر واجب ہے جبکہ اولاد فقیر ہو یعنی خود اس کی ملک میں مال نہ ہو اور آزاد ہو۔ اور بالغ بیٹا اگر اپاہج یا مجنون یا نابینا ہو کمانے سے عاجز ہو اور اس کے پاس مال نہ ہو تو اس کا نفقہ بھی باپ پر ہے اور لڑکی جبکہ مال نہ رکھتی ہو تو اس کانفقہ بہر حال باپ پر ہے اگر چہ اس کے اعضا سلامت ہوں ۔اور اگر نا بالغ کی ملک میں مال ہے مگر یہاں مال موجود نہیں تو باپ کو حکم دیاجائے گا۔ کہ اپنے پاس سے خرچ کرے جب مال آئے تو جتنا خرچ کیا ہے اس میں سے لے لے اور اگر بطور خود خرچ کیا ہے اور چاہتا ہے کہ مال آنے کے بعد اس میں سے لے لے تو لوگوں کو گواہ بنا ئے کہ جب مال آئے گا میں لے لوں گا اور گواہ نہ کئے تو دیانۃًلے سکتا ہے قضائً نہیں ۔ ( جوہرہ)

مسئلہ۶۶: نابالغ کا باپ تنگ دست ہے اور ماں مالدار جب بھی نفقہ باپ ہی پر ہے مگر ماں کو حکم دیا جائیگا کہ اپنے پاس سے خرچ کرے اور جب شوہر کے پاس ہوتو وصول کرلے ۔( جوہرہ)

مسئلہ۶۷: اگر باپ مفلس ہے تو کمائے اور بچوں کو کھلائے اور کمانے سے بھی عاجز ہے مثلاًاپاہج ہے تو دادا کے ذمہ نفقہ ہے کہ خود باپ کانفقہ بھی اس صورت میں اسی کے ذمہ ہے ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۶۸: طالب علم کہ علم دین پڑھتا ہواور نیک چلن ہو اس کا نفقہ بھی اس کے والد کے ذمہ ہے وہ طلبہ مراد نہیں جو فضولیات ولغویات فلاسفہ میں مشتغل ہوں اگر یہ باتیں ہوں تو نفقہ باپ پر نہیں ۔( عالمگیری درمختار)

وہ طلبہ بھی اس سے مراد نہیں جو بظاہر علم دین پڑھتے اور حقیقہً دین ڈھانا چاہتے ہیں مثلاً وہابیوں سے پڑھتے ہیں ان کے پاس اٹھتے بیٹھتے ہیں کہ ایسوں سے عموماًیہی مشاہدہ ہورہا ہے کہ بدباطنی و خباثت اور اللہ و رسول کی جناب میں گستاخی کرنے میں اپنے اساتذہ سے بھی سبقت لے گئے ۔ایسوں کانفقہ درکنار انکو پاس بھی نہ آنے دینا چاہیئے ایسی تعلیم سے تو جاہل رہنا اچھا تھا کہ اس نے تو مذہب و دین سب کو برباد کیا اور نہ فقط اپنا بلکہ وہ تم کوبھی لے ڈوبے گا؎

بے ادب تنہا نہ خود راداشت دا بد بلکہ آتش درہمہ آفاق زد

مسئلہ ۶۸: بچہ کی ملک میں کوئی جائداد منقولہ یا غیر منقولہ ہواور نفقہ کی حاجت ہو تو بیچ کر خرچ کی جائے اگرچہ سب رفتہ رفتہ کرکے خرچ ہوجائے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۶۹: لڑکی جب جوان ہوگئی اور اس کی شادی کردی تو اب شوہر پرنفقہ ہے باپ سبکدوش ہوگیا ۔( عالمگیری)

مسئلہ۷۰: بچہ جب تک ماں کی پرورش میں ہے اخراجات بچہ کی ماں کے حوالہ کرے یا ضرورت کی چیزیں مہیا کردے اور اگر کوئی مقدار معین کرلی گئی تو اس میں بھی حرج نہیں اور جو مقدار معین ہوئی اگر وہ اتنی زیادہ ہے کہ اندازہ سے باہرہے تو کم کردی جائے اور اگر اندازہ سے باہر نہیں تو معاف ہے اور کم ہے تو کمی پوری کی جائے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۷۱: کسی اور کی کنیز سے نکاح کیا اور بچہ پیدا ہواتو یہ اسی کی ملک ہے جس کی ملک میں اس کی ماں ہے اور اس کا نفقہ باپ پر نہیں بلکہ مولی پر ہے اس کا باپ آزاد ہو یا غلام‘ باپ پر نہیں اگرچہ مالدار ہو۔اور اگر غلام یا مدبر یا مکاتب نے مولی کی اجازت سے نکاح کیاا ور اولاد پیدا ہوئی تو ان پر نہیں بلکہ اگر ماں مدبرہ یا ام ولد یا کنیز ہے تو مولی پر ہے اور آزاد یا مکاتبہ ہے تا ماں پر اور اگر ماں کے پاس مال نہ ہو تو سب رشتہ داروں میں جو قریب تر ہے اس پر ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۷۲: ماں نے اگر بچہ کا نفقہ اس کے باپ سے لیا اور چوری ہو گیا یا اور کسی طریقہ سے ہلاک ہوگیا تو پھر دوبارہ نفقہ لے گی اور بچ رہاتو واپس کرے گی ۔ ( درمختار)

مسئلہ۷۳: باپ مرگیا اس نے نا بالغ بچے اور اموال چھوڑے تو بچوں کانفقہ ان کے حصوں میں سے دیا جائیگا ۔یونہی ہر وارث کانفقہ اس کے حصہ میں سے دیا جائیگا پھر اگر میت نے کسی کو وصی کیا ہے تو یہ کام وصی کاہے کہ ان کے حصوں سے نفقہ دے۔ اور وصی کسی کونہ کیا ہو تو قاضی کاکام ہے کہ نابالغوں کانفقہ ان کے حصوں سے دے یا قاضی کسی کو وصی بنادے کہ وہ خرچ کرے۔ اور اگر وہاں قاضی نہ ہواور میت کے بالغ لڑکوں نے نابالغوں پر ان کے حصوں سے خرچ کیا تو قضائً ان کو تاوان دینا ہوگا اور دیانۃًنہیں ۔یونہی اگر سفرمیں دوشخص ہیں ان میں سے ایک بیہوش ہوگیا دوسرے نے اس کا مال اس پر صرف کیا یا ایک مرگیا دوسرے نے اس کے مال سے تجہیز و تکفین کی تو دیانۃًتاوان لازم نہیں ۔(عالمگیری)

مسئلہ۷۴: بچہ کو دودھ پلانا ماں پر اسوقت واجب ہے کہ کوئی دوسری عورت دودھ پلانے والی نہ ملے یابچہ دوسری کادودھ نہ لے یا اس کا باپ تنگدست ہے کہ اجرت نہیں دے سکتا اور بچہ کی ملک میں بھی مال نہ ہو ان صورتوں میں دودھ پلانے پر ماں مجبور کی جائے گی اور یہ صورتیں نہ ہوں تو دیانۃًماں کے ذمہ دودھ پلانا ہے مجبور نہیں کی جاسکتی۔(درمختار)

مسئلہ۷۵: بچہ کو دائی نے دودھ پلایا کچھ دنوں کے بعد دودھ پلانے سے انکار کرتی ہے اور بچہ دوسری عورت کا دودھ نہیں لیتا یا کوئی اور پلانے والی نہیں ملتی یا ابتدا ہی میں کوئی عورت اس کو دودھ پلانے والی نہیں تویہی متعین ہے دودھ پلانے پر مجبور کی جائیگی ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۷۶: بچہ چونکہ ماں کی پرورش میں ہوتا ہے لہذا جو دائی مقرر کی جائے وہ ماں کے پاس دودھ پلایاکرے مگر نوکر رکھتے وقت یہ شرط نہ کرلی گئی ہو کہ تجھے یہاں رہکر دودھ پلانا ہوگا تو دائی پر یہ واجب نہ ہوگا کہ وہاں رہے بلکہ دودھ پلا کر چلی جا سکتی ہے یا کہہ سکتی ہے کہ میں وہاں نہیں پلاؤں گی یہاں پلادونگی یا گھر لیجا کر پلاؤں گی۔(خانیہ)

مسئلہ۷۷: اگر لونڈی سے بچہ پیدا ہوا تو وہ دودھ پلانے سے انکار نہیں کرسکتی ۔( عالمگیری)

مسئلہ۷۸: باپ کو اختیار ہے کہ دائی سے دودھ پلوائے اگرچہ ماں پلانے چاہتی ہو۔( عالمگیری)

مسئلہ۷۹: بچہ کی ماں نکاح میں ہو یا طلاق رجعی کی عدت میں اگر دودھ پلائے تو اس کی اجرت نہیں لے سکتی اور طلاق بائن کی عدت میں لے سکتی ہے اور اگر دوسری عورت کے بچہ کو جو اسی شوہر کا ہے دودھ پلائے تو مطلقاًاجرت لے سکتی ہے اگر چہ نکاح میں ہو ۔( درمختار وغیرہ)

مسئلہ۸۰: عدت گزرنے کے بعد مطلقاً اجرت لے سکتی ہے اور اگر شوہر نے دوسری عورت کو مقرر کیا اور ماں مفت پلانے کو کہتی ہے یا اتنی ہی اجرت مانگتی ہے جتنی دوسری عورت مانگتی ہے تو ماں کو زیادہ حق ہے اور اگر ماں اجرت مانگتی ہے اور دوسری عورت مفت پلانے کو کہتی ہے یا ماں سے کم اجرت مانگتی ہے تو وہ دوسری زیادہ مستحق ہے ۔( درمختار)

مسئلہ۸۱: عدت کے بعد عورت نے اجر ت پر اپنے بچہ کو دودھ پلایا اور ان دنوں کا نفقہ نہیں لیا تھاکہ شوہرکا یعنی بچہ کے باپ کا انتقال ہوگیا تو یہ نفقہ موت سے ساقط نہ ہوگا۔( درمختار)

مسئلہ۸۲: باپ ماں دادی نانا نانی اگر تنگدست ہوں تو ان کا نفقہ واجب ہے اگرچہ کمانے پر قادر ہوں جبکہ یہ مالدار ہو یعنی مالک نصاب ہواگر چہ وہ نصاب نامی نہ ہو۔ اور اگر یہ بھی محتاج ہے تو باپ کا نفقہ اس پر واجب نہیں البتہ اگر باپ اپاہج یا مفلوج ہے کہ کما نہیں سکتا تو بیٹے کے ساتھ نفقہ میں شریک ہے اگر چہ بیٹا فقیر ہو اور ماں کا نفقہ بھی بیٹے پر ہے اگر چہ اپاہج نہ ہواگر چہ بیٹا فقیر ہو ۔یعنی جبکہ بیوہ ہواور اگر نکاح کرلیا ہے تو اس کانفقہ شوہر پر ہے اور اگر اس کے باپ کے نکاح میں ہے اور باپ اور ماں دونوں محتاج ہوں تو دونوں کا نفقہ بیٹے پر ہے اور باپ محتاج نہ ہو تو باپ پر ہے اور باپ محتاج ہے اورماں مالدار تو ماں کانفقہ اب بھی بیٹے پر نہیں بلکہ اپنے پاس سے خرچ کرے اورشوہر سے وصول کرسکتی ہے ۔(جوہرہ‘ درمختار‘ ردالمحتار)

مسئلہ ۸۳: باپ وغیرہ کانفقہ جیسے بیٹے پر واجب ہے یوہیں بیٹی پر بھی ہے اگر بیٹا بیٹی دونوں ہوں تو دونوں پر برابر برابر واجب ہے اور اگر دوبیٹے ہوں ایک فقط مالک نصاب ہے اور دوسر ا بہت مالدار ہے تو باپ کانفقہ دونوں پر برابر برابر ہے ۔( درمختار ردالمحتار)

مسئلہ۸۴: باپ اور اولاد کے نفقہ میں قرابت وجزئیت کا اعتبار ہے وراثت کانہیں مثلاًبیٹا ہے او رپوتا تو نفقہ بیٹے پر واجب ہے پوتے پر نہیں یوہیں بیٹی ہے اور پوتا تو بیٹی پر ہے پوتے پر نہیں ۔اور پوتا ہے اور نواسی یا نواسہ تو دونوں پر برابر اور بیٹی ہے اور بہن یا بھائی تو بیٹی پر ہے ۔اور نواسہ نواسی ہیں اور بھائی تو ان پر ہے اس پر نہیں ۔اور باپ یا ماں ہے اور بیٹا تو بیٹے پر ہے ان پر نہیں ۔اور دادا ہے اور پوتا تو ایک ثلث دادا پر اور باقی پوتے پر۔ اور باپ ہے اور نواسی نواسہ تو باپ پر ہے ان پر نہیں ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۸۵: باپ اگر تنگ دست ہواور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں اور یہ بچے محتاج ہوں اور بڑا بیٹا مالدار ہے تو باپ اور اس کی سب اولاد کانفقہ اس پر واجب ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۸۶: بیٹا اگر ماں باپ دونوں کانفقہ نہیں دے سکتا مگر ایک کادے سکتا ہے توماں زیادہ مستحق ہے۔ اور اگر باپ محتاج ہے اور چھوٹا بچہ بھی ہے اور دونوں کانفقہ نہ دے سکتا ہو مگر ایک کا دے سکتا ہے ۔ تو بیٹا زیادہ حقدار ہے۔ اور اگر والدین میں کسی کاپورا نفقہ نہ دے سکتا ہوتو دونوں کو اپنے ساتھ کھلائے جو خود کھاتا ہو اسی میں سے انھیں بھی کھلائے ۔اور اگر باپ کو نکاح کرنے کی ضرورت ہے اور بیٹا مالدار ہے تو بیٹے پر باپ کی شادی کرادینا واجب ہے یا اس کے لیئے کوئی کنیز خرید دے اور اگر باپ کی دوبی بیاں ہیں تو بیٹے پر فقط ایک کا نفقہ واجب ہے مگر باپ کو دیدے کہ وہ دونوں کو تقسیم کرکے دے ۔( جوہرہ)

مسئلہ۸۷: باپ بیٹے دونوں نادار ہیں مگر بیٹا کمانے والا ہے تو بیٹے پر دیانۃًحکم کیا جائیگا کہ باپ کو بھی ساتھ لے لے یہ جبکہ بیٹا تنہا ہواور اگر بال بچوں والا ہے تو مجبور کیاجائے گا کہ باپ کوبھی ہمراہ لے لے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۸۸: جو رشتہ دار محارم ہوں ان کا بھی نفقہ واجب ہے جبکہ محتاج ہوں اور نابالغ یا عورت ہو۔اوررشتہ دار بالغ مرد ہوں تو یہ بھی شرط ہے کہ کمانے سے عاجز ہو مثلاًدیوانہ ہے یا اس پر فالج گرا ہے یا اپاہج ہے یا اندھا۔ اور اگر عاجز نہ ہو تو واجب نہیں اگرچہ محتاج ہو اور عورت میں بالغہ نا بالغہ کی قید نہیں اور ان کے نفقات بقدر میراث واجب ہیں یعنی اس کے ترکہ سے جتنی مقدار کا وارث ہوگا اسی کے موافق اس پر نفقہ واجب مثلاًکوئی شخص محتاج ہے اور اس کی تین بہنیں ہیں ایک حقیقی ایک سوتیلی ایک اخیافی تو نفقہ کے پانچ حصے تصور کریں تین حقیقی بہن پر اور ایک ایک ان دونوں پراور اگر اسی طرح کے تین بھائی ہیں تو چھ حصے تصور کریں ایک اخیافی بھائی پر اور باقی حقیقی پر سوتیلے پر کچھ نہیں کہ وہ وارث نہیں ۔اور اگر ماں اور دادا ہیں تو ایک حصہ ماں پر اور دو دادا پر۔ اور اگر ماں اور بھائی یا ماں او ر چچا ہے جب بھی یہی صورت ہے اور اگر ان کے ساتھ بیٹا بھی ہے مگر نا بالغ نادار ہے یابالغ ہے مگر عاجز تو اسکا ہونا نہ ہونا دونوں برابر کہ جب اس پر نفقہ واجب نہیں تو کالعدم ہے۔ اور حقیقی چچا اور حقیقی پھوپی یا حقیقی ماموں ہے تو نفقہ چچا پر ہے پھوپی یاماموں پر نہیں ۔اور وراثت سے مراد محض اہل وراثت ہے کہ حقیقۃً وارثت تو مرنے کے بعد ہوگی نہ اب ۔( جوہرہ‘ عالمگیری‘ درمختار)

مسئلہ ۸۹: یہ تو معلوم ہوچکا ہے کہ رشۃ دار عورت میں نابالغہ کی قید نہیں بلکہ اگر کمانے پر قادر ہے جب بھی اس کانفقہ واجب ہے ہاں اگر کوئی کام کرتی ہے جس سے اس کاخرچ چلتا ہے تو اب اس کانفقہ رشتہ دار پر فرض نہیں یونہی اندھا وغیرہ بھی کماتا ہوتو اب کسی اور پر نفقہ فرض نہیں ۔(ردالمحتار)

مسئلہ۹۰: طالب علم دین اگرچہ تندرست ہے کام کرنے پر قادر ہے مگر اپنے کو طلب علم دین میں مشغول رکھتا ہے تو اس کانفقہ بھی رشتہ والوں پر فرض ہے ۔( درمختار)

مسئلہ۹۱ : قریبی رشتہ دار غائب ہے اور دوروالا موجود ہے تو نفقہ اسی دور کے رشتہ دار پر ہے ۔( درمختار)

مسئلہ۹۲: عورت کاشوہر تنگ دست ہے اور بھائی مالدار ہے تو بھائی کو خرچ کرنے کا حکم دیا جائے گا ۔ پھر جب شوہر کے پاس مال ہوجائے تو واپس لے سکتا ہے ۔( درمختار )

مسئلہ۹۳: اگر رشتہ دار محرم نہ ہو جیسے چچا زاد بھائی یا محرم ہو مگر رشتہ دارنہ ہو جیسے رضاعی بھائی یا رشتہ دار محرم ہو مگر حرمت قرابت کی نہ ہو جیسے چچا زاد بھائی اور وہ رضاعی بھائی بھی ہے کہ حرمت رضاعت کی وجہ سے ہے نہ رشتہ کی وجہ سے تو ان صورتوں میں نفقہ واجب نہیں ۔( عالمگیری)

مسئلہ۹۴: محارم کانفقہ دے دیا اور اس کے پاس سے ضائع ہوگیا تو پھر دیناہوگا اور کچھ بچ رہا تو اتنا کم کردیا جائے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۹۵: باپ محتاج ہے نفقہ کی ضرورت ہے اور بیٹا جوان مالدارہے جوموجود نہیں تو باپ کو اختیار ہے کہ اس کے اسباب کو بیچ کر اپنے نفقہ میں صرف کرے مگر جائداد وغیرمنقولہ کے بیچنے کی اجازت نہیں اور ماں اور رشتہ داروں کوکسی چیز کے بیچنے کی اجازت نہیں اور بیٹا موجود ہے تو باپ بھی کسی چیز کونہیں بیچ سکتا ۔یونہی اگر بیٹا مجنون ہوگیا اس کے اور اس کے بال بچوں کے خرچ کے لئے اس کی چیزیں باپ فروخت کرسکتا ہے اگر چہ جائداد غیر منقولہ ہو ۔اور اگر باپ کا بیٹے پر دین ہواور بیٹا غائب ہوتو دین وصول کرنے کیلئے اس کے سامان کو بیچنے کی اجازت نہیں ۔ ( درمختار)

مسئلہ۹۶: کسی کے پاس امانت رکھی ہے اور مالک غائب ہے اس نے بیچ کر اس کے بال بچوں یا ماں باپ پر صرف کردیا اگر مالک کی اجازت سے یا قاضی شرعی کے حکم سے نہیں تو دیانۃًتاوان دینا پڑے گا اور امین نے جن پر خرچ کیا ہے ان سے واپس نہیں لے سکتا اور اگر وہاں قاضی نہیں یا ہے مگر شرعی نہیں یا مالک کی اجازت سے صرف کیا تو تاوان نہیں ۔یونہی اگر وہ مالک غائب مرگیا اور امین نے جس پر خرچ کیا ہے وہی اس کا وارث ہے تو اب وارث تاوان نہیں لے سکتا کہ اس نے اپنا حق پالیا۔ یونہی اگردو شخص سفر میں ہوں ایک مرگیا دوسرے نے اس کے مال سے تجہیز و تکفین کی یا مسجد کے متعلق جائداد وقف ہے اور کوئی متولی نہیں کہ خرچ کرے اہل محلہ نے وقف کی آمدنی مسجد میں صرف کی یا میت کے ذمہ دین تھا وصی کو معلوم ہوااس نے ادا کر دیا یا مال امانت تھا اور مالک مر گیا اور مالک پر دین تھا امین نے اس امانت سے ادا کردیا یا قرض خواہ مر گیا اور اس پر دین تھا قرض دار نے ادا کردیا تو ان سب صورتوں میں دیا نتہً تاوان نہیں ۔( درمختار ‘ردالمحتار)

مسئلہ۹۷: کوئی شخص غائب ہے اور اس کے والدین یا اولاد یا زوجہ کے پاس اسکی اشیا از قسم نفقہ موجود ہیں انھوں نے خرچ کر لیں تو تاوان نہیں ۔اور اگر وہ شخص موجود ہے اور اپنے والدین حاجت مند کو نہیں دیتا اور وہاں کوئی قاضی بھی نہیں جس کے پاس دعوی کریں تو انھیں اختیار ہے اس کا مال چھپا کر لے سکتے ہیں یونہی اگروہ دیتا ہے مگر بقدر کفایت نہیں دیتا جب بھی بقدر کفایت خفیۃً اس کا مال لے سکتے ہیں اور کفایت سے زیادہ لینا یا بغیر حاجت لینا جائز نہیں ۔(درمختار‘ عالمگیری)

مسئلہ۹۸: باپ کے پاس رہنے کا مکان اور سواری کو جانور ہے تو اسے یہ حکم نہیں دیا جائیگا کہ ان چیزوں کو بیچ کر نفقہ صرف کرے بلکہ اس کانفقہ اس کے بیٹے پر فرض ہے ہاں اگر مکان حاجت سے زائد ہے کہ تھوڑے سے حصہ میں رہتا ہے تو جتنا حاجت سے رائد ہے اسے بیچ کر نفقہ میں صرف کرے اور جب وہی حصہ باقی رہ گیا جس میں رہتا ہے تو اب نفقہ اس کے بیٹے پر ہے ۔ یونہی اگر اس کے پاس اعلی درجہ کی سواری ہے تو یہ حکم دیا جائے گا کہ بیچ کر کم درجہ کی سواری خریدے اور جو بچے نفقہ میں صرف کرے پھر اس کے بعد دوسرے پر نفقہ واجب ہوگا یہی احکام اولاد و دیگر محارم کے بھی ہیں ۔( عالمگیری)

مسئلہ۹۹: زوجہ کے سوا کسی اور کے نفقہ کا قاضی نے حکم دیا اور ایک مہینہ یا زیادہ زمانہ گزرا تو اس مدت کا نفقہ ساقط ہوگیا اور ایک مہینے سے کم زمانہ گزرا ہے تو وصول کرسکتے ہیں اور زوجہ بہر حال بعد حکم قاضی وصول کرسکتی ہے ۔ اور اگر نفقہ نہ دینے کی صورت میں ان لوگوں نے بھیک مانگ کر گزر کی جب بھی ساقط ہو جائے گا کہ جو کچھ مانگ لائے وہ ان کی ملک ہوگیا تو اب جب تک وہ خرچ نہ ہولے حاجت نہ رہی ۔(درمختار‘ ردالمحتار)

مسئلہ۱۰۰: غیر زوجہ جس کے نفقہ کا قاضی نے حکم دیا تھا اس نے قاضی کے حکم سے قرض لے کر کام چلایا تو نفقہ ساقط نہ ہوگا یہاں تک کہ اگر قرض لینے کے بعد اس شخص کا انتقال ہوگیا جس پر نفقہ فرض ہواتو وہ قرض ترکہ سے ادا کیا جائے گا۔( درمختار)

مسئلہ۱۰۱: لونڈی غلام کا نفقہ ان کے آقاپر ہے وہ مدبرہوں یا خالص غلام چھوٹے ہوں یا بڑے اپاہج ہوں یا تندرست اندھے ہوں یا انکھیارے اور اگر آقا نفقہ دینے سے انکار کرے تو مزدوری وغیرہ کر کے اپنے نفقہ میں صرف

کریں اور کمی پڑے تو مولی سے لیں بچ رہے تو مولی کو دیں اور کما بھی نہ سکتے ہوں تو غیر مدبروام ولد میں مولی کو حکم دیا جائے گا کہ ان کو نفقہ دے یا بیچ ڈالے اور مدبر وام ولدمیں نفقہ پر مجبور کیا جائے گا اور اگر لونڈی خوبصورت ہے کہ مزدوری کو جائے گی تو اندیشہ فتنہ ہے تو مولی کو حکم دیا جائے گا کہ نفقہ دے یا بیچ ڈالے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۱۰۲: غلام کو اس کا آقا خرچ نہیں دیتا اور کمانے پر بھی قادر نہیں یا مولی کمانے کی اجازت نہیں دیتا تو مولی کے مال سے بقدر کفایت بلا اجازت لے سکتا ہے ۔ورنہ بلا اجازت لینا جائز نہیں اور اگر مولی کھانے کو دیتا ہے مگر بقدر کفایت نہیں دیتا تو بلا اجازت مولی کا مال نہیں لے سکتا ممکن ہو تو مزدوری کرکے وہ کمی پوری کر لے ۔(درمختار)

مسئلہ۱۰۳: لونڈی غلام کانفقہ روٹی سالن وغیرہ اور لباس اس شہر کی عام خوراک و پوشاک کے موافق ہونا چاہیے اور لونڈی کو صرف اتنا ہی کپڑا دینا جو ستر عورت کے لائق ہے جائز نہیں ۔اور اگر مولی اچھے کھانے کھاتا ہے اچھے لباس پہنتا ہے تو یہ واجب نہیں کہ غلام کو بھی ویسا ہی کھلائے پہنائے مگر مستحب ہے کہ ویسا ہی دے۔ اور اگر مولی بخل یا ریاضت کے سبب وہاں کی عادت سے کم درجہ کا کھاتا پہنتا ہے تو یہ ضرور ہے کہ غلام کو وہاں کے عام چلن کے موافق دے۔ اور اگر غلام نے کھانا پکایا ہے تو مولی کو چاہیے کہ اسے اپنے ساتھ بٹھاکر کھلائے اور اگر غلام ادب کی وجہ سے انکار کرتا ہے تو اس میں سے اسے کچھ دیدے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۱۰۴: چند غلام ہوں تو سب کو یکساں کھانا کپڑا دے لونڈی کا بھی یہی حکم ہے اور جس لونڈی سے وطی کرتا ہے اس کا لباس اور وں سے اچھا ہو۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۰۵: غلام کے وضو غسل وغیرہ کے لیئے پانی خریدنے کی ضرورت ہو تو مولی پر خریدنا واجب ہے۔( جوہرہ)

مسئلہ۱۰۶: جس غلام کے کچھ حصہ کو آزاد کردیا ہے اس کا اور مکاتب کانفقہ مولی کے ذمہ نہیں ۔( عالمگیری)

مسئلہ۱۰۷: جس غلام کو بیچ ڈالا ہے اس کا نفقہ بائع پر ہے جب تک بائع کے قبضہ میں ہے اور اگر بیع میں کسی جانب خیار ہوتو نفقہ اس کے ذمہ ہے جس کی ملک بالآخر قرار پائے۔ اور کسی کے پاس غلام کو امانت یا رہن رکھا تو مالک پر ہے او ر عاریۃً دیا تو کھلانا عاریت لینے والے پر ہے اور کپڑا مالک کے ذمہ ۔ اور اگر امین یا مرتہن نے قاضی سے اجازت چاہی کو جو کچھ خرچ ہو وہ غلام کے ذمہ ڈالا جائے تو قاضی اس کا حکم نہ دے بلکہ یہ کہے کہ غلام مزدوری کرے اور جو کمائے اس کے نفقہ میں صرف کیا جائے یا قاضی غلام کوبیچ ڈالے اور ثمن مولی کے لئے محفوظ رکھے اور اگر قاضی کے نزدیک یہی مصلحت ہے کہ نفقہ اس پر ڈالا جائے تو یہ حکم بھی دے سکتا ۔یہی احکام اس وقت بھی ہیں کہ بھاگے ہوئے غلام کو کوئی پکڑلایا اور قاضی سے نفقہ کے بارے میں اجازت چاہی یا دوشریک تھے ایک حاضر ہے ایک غا ئب اور حاضر نے اجازت مانگی ۔( عالمگیری ‘ درمختار )

مسئلہ۱۰۸: کسی نے غلام غصب کر لیا تو نفقہ غاصب پر ہے جب تک واپس نہ کرے اور اگر غاصب نے قاضی سے نفقہ یا بیع کی اجازت مانگی تو اجازت نہ دے ہاں اگر یہ اندیشہ ہو کہ غلام کوضائع کردے گا تو قاضی بیچ ڈالے اور

ثمن محفوظ رکھے ۔(درمختار)

مسئلہ۱۰۹: غلام مشترک کانفقہ ہر شریک پر بقدر حصہ لازم ہے اور اگر ایک شریک نفقہ دینے سے انکار کرے تو بحکم قاضی جو اس کی طرف سے خرچ کرے گا اس سے وصول کرسکتا ہے ۔( درمختار)

مسئلہ۱۱۰: اگر غلام کو آزاد کر دیا تو اب مولی پر نفقہ واجب نہیں اگرچہ وہ کمانے کے لائق نہ ہو مثلاً بہت چھوٹا بچہ یا بہت بوڑھا یا اپاہج یا مریض ہو بلکہ ان کا نفقہ بیت المال سے دیا جائے گا اگر کوئی ایسا نہ ہو جس پر نفقہ واجب ہو ۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۱۱: جانور پالے اور انھیں چارہ نہیں دیتا تو دیا نۃًحکم دیا جائے گا کہ چارہ وغیرہ دے یا بیچ ڈالے اور اگر مشترک ہے اور ایک شریک اسے چارہ وغیرہ دینے سے انکار کرتا ہے تو قضائً بھی حکم دیا جائے گا کہ یا چارہ دے یا بیچ ڈالے ۔ ( درمختار)

مسئلہ۱۱۲: اگر جانور کو چارہ کم دیتا ہے اور پورادودھ دوہ لینا مضر ہو تو پورا دودھ دوہنا مکروہ ہے یونہی بالکل نہ دوہے یہ بھی مکروہ ہے اور دوہنے میں یہ بھی خیال رکھے کہ بچہ کے لئے بھی چھوڑنا چاہیئے اور ناخن بڑے ہو تو ترشوادے کہ اسے تکلیف نہ ہو ۔( عالمگیری)

مسئلہ ۱۱۳: جانور پر بوجھ لادنے اور سواری لینے میں خیال کرنا چاہیے کہ اس کی طاقت سے زیادہ نہ ہو ۔( جوہرہ)

مسئلہ ۱۱۴: باغ اور زراعت و مکان میں اگر خرچ کرنے کی ضرورت ہو تو خرچ کرے اور خرچ نہ کرکے ضائع نہ کرے کہ مال ضائع کرنا ممنوع ہے ۔( درمختار ) واللہ تعالی اعلم۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button