بہار شریعت

نفاس کا بیان

 نفاس کے متعلق مسائل کا تفصیلی مطالعہ

نفاس کا بیان

نفاس کس کو کہتے ہیں یہ ہم پہلے بیان کر آئے اب اس کے متعلق مسائل بیان کرتے ہیں:

مسئلہ ۱ :   نفاس میںکمی کی جانب کوئی مدت مقرر نہیں نصف سے زیادہ بچہ نکلنے کے بعد ایک آن بھی خون آیا تو وہ نفاس ہے اور زیادہ سے زیادہ اس کا زمانہ چالیس دن رات ہے  اور نفاس کی مدت کا شمار اس مدت سے ہو گا کے آدھے سے زیادہ بچہ نکل آیا اور اس بیان میں جہاں بچہ پیدا ہونے کا لفظ آئے گا اس کا مطلب آدھے سے زیادہ بچہ باہر آجانا ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۷)۔

متعلقہ مضامین

مسئلہ ۲:   کسی کو چالیس دن سے زیادہ خون آیا تو اگر اس کے پہلی بار پیدا ہوا ہے یا یہ یاد نہیں کہ اس سے پہلے بچہ پیدا ہونے میں کتنے دن خون آیا تھا تو چالیس دن رات نفاس ہے باقی استحاضہ اور جو پہلی عادت معلوم ہو تو عادت کے دنوں تک نفاس ہے اور جتنا زیادہ ہے وہ استحاضہ جیسے عادت تیس دن کی تھی اور اس بار پینتالیس (۴۵)  دن آیا تو تیس دن نفاس کے ہیں اور پندرہ دن استحاضہ کے ۔(عالمگیری ج۱ ص ۳۷)۔

مسئلہ ۳ :  بچہ پیدا ہونے سے پیشتر جو خون آیا نفاس نہیں بلکہ استحاضہ ہے اگرچہ آدھا باہر آگیا ہو۔

مسئلہ۴ :  حمل ساقط ہو گیا اور اس کا کوئی عضو بن چکا ہے جیسے ہاتھ پاؤں یا انگلیاں تو یہ خون نفاس ہے ورنہ اگر تین دن رات تک رہا اور اس سے پہلے پندرہ دن پاک رہنے کا زمانہ گذر چکا ہے تو حیض ہے اور جو تین دن سے پہلے ہی بند ہو گیا یا ابھی پندرہ دن پورے طہارت کے نہیں گذرے ہیں تو استحاضہ ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۷)۔

مسئلہ ۵ :  پیٹ سے بچہ کاٹ کر نکالا گیا تو اس کے آدھے سے زیادہ نکالنے کے بعد نفاس ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۷)۔

مسئلہ ۶ :   حمل ساقط ہونے سے پہلے کچھ خون آیا کچھ بعد کو تو پہلے والا استحاضہ ہے بعد والا نفاس یہ اس صورت میں ہے جب کوئی عضو بن چکا ہو ورنہ پہلے والا اگر حیض ہو سکتا ہے تو حیض ہے نہیں تو استحاضہ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۷)۔

مسئلہ ۷ :  حمل ساقط ہوا اور یہ معلوم نہیں کہ کوئی عضو بنا تھا یا نہیں نہ یہ یاد کہ حمل کتنے دن کا تھا کہ اسی سے عضو کا بننا نہ بننا معلوم ہو جاتا یعنی ایک سو بیس دن ہو گئے ہیں تو عضو بن جانا قرار دیا جائے گا اور بعد اسقاط کے خون ہمیشہ کو جاری ہو گیا تو اسے حیض کے حکم میں سمجھے کہ حیض کی جو عادت تھی اس کے گزرنے کے بعد نہا کر نماز شروع کردے اور عادت نہ تھی تو دس کے بعد اور باقی وہی احکام ہیں جو حیض کے بیان میں مذکور ہوئے۔

مسئلہ ۸ :  جس عورت کے دو بچے جوڑواں پیدا ہوئے یعنی دونوں کے درمیان چھ مہینے سے کم زمانہ ہے تو پہلا ہی بچہ پیدا ہونے کے بعد سے نفاس سمجھا جائے گا پھر اگر دوسرا چالیس دن کے اندر پیدا ہوا اور خون آیا تو پہلے سے چالیس دن تک نفاس ہے پھر استحاضہ اور اگر چالیس دن کے بعد پیدا ہوا تو اس پچھلے کے بعد جو خون آیا استحاضہ ہے نفاس نہیں مگر دوسرے کے پیدا ہونے کے بعد بھی نہانے کا حکم دیا جائے گا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۷)۔

مسئلہ ۹ :   جس عورت کے تین بچے پیدا ہوئے کہ پہلے اور دوسرے میں چھ مہینے سے کم فاصلہ ہے یونہی دوسرے اور تیسرے میں اگرچہ تیسرے اور پہلے میں چھ مہینے کا فاصلہ ہو جب بھی نفاس پہلے ہی سے ہے پھر اگر چالیس دن کے اندر یہ دونوں بھی پیدا ہو گئے تو پہلے کے بعد سے زیادہ سے زیادہ چالیس دن تک نفاس ہے اور اگر چالیس دن کے  بعد ہیں تو ان کے بعد جو خون آئے گا استحاضہ ہے مگر ان کے بعد بھی غسل کا حکم ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۷)۔

مسئلہ ۱۰: اگر دونوں میں چھ مہینے یا زیادہ کا فاصلہ ہے تو دوسرے کے بعد بھی نفاس ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۷)۔

مسئلہ ۱۱:  چالیس دن کے اندر کبھی خون آیا کبھی نہیں تو سب نفاس ہی ہے اگرچہ پندرہ دن کا فاصلہ ہو جائے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۷)۔

مسئلہ ۱۲: اس کے رنگ کے متعلق وہی احکام ہیں جو حیض میں بیان ہوئے۔

ماخوذ از:
بہار شریعت، جلد1مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button