ARTICLES

نجس کپڑوں میں طواف زیارت کا حکم

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک حاجی نے طواف زیارت کیا اور اس کے کپڑے ناپاک تھے بعد میں اس نے دیکھا جب کہ ایام منی گزر چکے تھے تو اس صورت میں اس کا طواف درست ہوگیا یا نہیں یا اس پر دم لازم ہوگا؟

(السائل : ایک حاجی، مکہ مکرمہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں نجس کپڑ وں میں طواف کی دو صورتیں ہیں اکثر کپڑے نجس تھے یا کم، اتنے پاک تھے جس سے ستر عورت ہو سکے ۔ پہلی صورت میں اگر پورے کپڑے نجس تھے تو یہ ایسے تھا جیسے کسی نے ننگے طواف کیا۔ چنانچہ علامہ نظام حنفی متوفی 1161ھ اور علمائ ہند کی ایک جماعت نے لکھا کہ :

واذا طاف طواف الزیارۃ فی ثوبٍ کلہ نجس، فھذاوما لوطاف عریانا سوائ (67)

یعنی ، اور جب پورے نجس کپڑوں میں طواف زیارت کیا تو یہ ایسے ہے جیسے ننگے طواف کیا۔ اور ملا علی قاری حنفی متوفی1014 ھ لکھتے ہیں :

وفی "النخبۃ” : اذا طاف فی ثوبٍ کلہ نجسً فھذا والذی طاف عریانا سوائً (68)

یعنی "نخبہ” میں ہے جب ایسے کپڑے میں طواف کیا جس کا کل نجس تھا تو یہ اس کی مثل ہے جس نے ننگے طواف کیا۔ اور طواف میں ستر عورت واجبات طواف سے ہے چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی 993ھ لکھتے ہیں :

منھا ستر العورۃ (69)

یعنی، واجبات میں سے ہے ستر عورت۔ اور اگر اتنا کپڑاپاک تھا کہ جس سے ستر عورت ہو سکے تو طواف جائز ہوگیا اور اس پر کچھ لازم بھی نہیں ائے گا۔ چنانچہ علامہ نظام حنفی لکھتے ہیں :

فاذا کان من الثوب قدرمایواری عورتہ طاھرا و الباقی نجسا، جاز طوافہ، ولا شی علیہ کذا فی "الظہیریۃ” (70)

یعنی پس جب اتنا کپڑا پاک ہے کہ جس سے ستر عورت ہو سکے اور باقی نجس ہے تو اس کا طواف جائز ہے اور اس پر کچھ نہیں ۔ اسی طرح "فتاوی ظہیریہ” میں ہے ۔ ملا علی قاری حنفی متوفی 1014 ھ لکھتے ہیں :

ولا یلزمہ شی ء الا انہ یکرہ لہ ذلک (71)

یعنی، اس پر کچھ لازم نہیں ہے مگر یہ ہے کہ یہ اس کے لیے مکروہ ہے ۔ اور اس کراہت سے مراد کراہت تنزیہی ہے کیونکہ اگر تحریمی ہوتی تو اس پر کچھ لازم اتا جبکہ یہاں فقہاء کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ اس پر کچھ لازم نہیں ۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الاربعاء، 14 ذوالحجۃ 1437ھـ۔ 15 سبتمبر 2016م 980-F

حوالہ جات

67۔ الفتاوی الھندیۃ، کتاب المناسک، الباب الخامس فی کیفیۃ اداء الحج، ولوطاف طواف الزیارۃ ، 1 / 296

68۔ المسلک المتقط فی المنسلک المتوسط، باب انواع الا طوفۃ، فصل فی واجبات الطواف، ص : 214

69۔ جمع المناسک و نفع الناسک : باب انواع الاطوفۃ، فضل فی واجبات الطواف، ص189

70۔ الفتاوی الھندیۃ، کتاب المناسک، الباب الخامس فی کیفیۃ اداء الحج، ولوطاف طواف الزیارۃ، 1/296

71۔ المسلک المقسط فی المنسک المتوسط : باب انواع الاطوفۃ، فصل فی واجبات الطواف ص : 214

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button