بہار شریعت

نجاستوں کے مسائل

 نجاستوں کے متعلق احکام و مسائل کا تفصیلی مطالعہ

نجاستوں کا بیان

حدیث ۱ : صحیح بخاری و مسلم میں اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی کہ ایک عورت نے عرض کی یا رسول اللہ ہم میں جب کسی کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو کیا کرے۔ فرمایا ، جب تم میں سے کسی کا کپڑا حیض کے خون سے آلودہ ہو جائے  تو اسے کُھرچے پھر پانی سے دھوئے تب اس میں نماز پڑھے۔

حدیث ۲ :            صحیحین میں ہے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے کپڑ ے سے منی کو میں دھوتی پھر حضور نماز کو تشریف لے جاتے اور دھونے کا نشان اس میں ہوتا۔

متعلقہ مضامین

حدیث ۳ :            صحیح مسلم میں ہے فرماتی ہیں کہ میں رُسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی کو مل ڈالتی پھر حضور اس میں نماز پڑھتے۔

حدیث ۴ :            صحیح مسلم میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں چمڑا جب پکا لیا جائے، پاک ہو جائے گا۔

حدیث ۵ :            امام مالک ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ مردار کی کھالیں جب پکالی جائیں تو انہیں کام میں لایا جائے۔

حدیث ۶ :            امام احمد بن ابو داؤد و نسائی نے روایت کی رسول اللہ ﷺ نے درندوں کی کھال سے منع فرمایا۔

حدیث ۷ :            دوسری روایت میں ہے ان کو پہننے اور ان پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔

نجاستوں کے متعلق احکام

                        نجاست دو قسم ہے ایک کا حکم سخت ہے اس کو غلیظہ کہتے ہیں دوسری وہ جس کا حکم ہلکا ہے اس کو خفیفہ کہتے ہیں۔

مسئلہ ۱:               نجاست غلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم سے زیادہ لگ جائے تو اس کا پاک کرنا فرض ہے بے پاک کئے نماز پڑھ لی تو ہو گی ہی نہیں اور قصداً پڑھی تو گناہ بھی ہو اور اگر بہ نیت استخفاف ہے تو کفر ہے اور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے کہ بے پاک کئے نماز پڑھی تو مکروہ تحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کا اعادہ واجب ہے اور قصداً پڑھی تو گناہگار بھی ہو اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنت ہے کہ بے پاک کئے نماز ہو گئی مگر خلافِ سنت ہوئی اور اس کا اعادہ بہتر ہے۔

مسئلہ ۲:   اگر نجاست گاڑھی ہے جیسے پاخانہ، لید، گوبر ہو تو درہم کے برابر یا کم یا زیادہ کے معنی یہ ہیں کہ وزن میں اس کے برابر یا کم یا زیادہ ہو اور درہم کا وزن  شریعت میں اس جگہ ساڑھے چار ماشے اور زکوٰۃ میں تین ماشہ 1/5  1ارتی ہے اور اگر پتلی ہو جیسے آدمی کا پیشاب اور شراب تو درہم سے مراد اس کی لمبائی چوڑائی ہے اور شریعت نے اس کی مقدار ہتھیلی کی گہرائی کے برابر بتائی یعنی خوب پھیلا کر ہموار رکھیں اور اس پر آہستہ سے اتنا پانی ڈالیں کہ اس سے زیادہ پانی نہ رک سکے اب پانی کا جتنا پھیلاؤ ہے اتنا بڑا درہم سمجھا جائے اور اس کی مقدار یہاں کے روپے کے برابر ہے۔

مسئلہ ۳:  نجس تیل کپڑے پر گرا اور اسوقت درہم کے برابر نہ تھا پھر پھیل کر درہم کے برابر ہو گیا تو اس میںعلماء کو بہت اختلاف ہے اور راحج یہ ہے کہ اب پاک کرنا واجب ہو گیا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۷)۔

مسئلہ ۴:  نجاست خفیفہ کا یہ حکم ہے کہ کپڑے کے حصہ یا بدن کے جس عضو میں لگی ہے اگر اس کی چوتھائی سے کم ہے (مثلاً دامن میں لگی ہے تو دامن کی چوتھائی سے کم آستین میں اس کو چوتھائی سے کم یوں ہاتھ میں ہاتھ کی چوتھائی سے کم ہے تو معاف ہے کہ اس سے نماز ہو جائے گی اور پوری چوتھائی میں ہو تو بے دھوئے نماز نہ ہو گی) ۔(عالمگیری ج ۱ ص ۴۶)۔

مسئلہ ۵:  نجاست خفیفہ اور غلیظہ کے جو الگ الگ حکم بتائے گئے یہ اُسی وقت ہیں کہ بدن یا کپڑے میں لگے اور کسی پتلی چیز جیسے پانی یا سرکہ میں گرے تو چاہے غلیظہ ہو یا خفیفہ کُل ناپاک ہو جائے گی اگرچہ ایک قطرہ گرے جب تک وہ پتلی  چیز کثرت پر یعنی دہ در دہ نہ ہو۔

مسئلہ ۶:   انسان کے بدن سے جو ایسی چیز نکلے کہ اس سے غسل یا وضو واجب ہو تو نجاست غلیظہ ہے جیسے پاخانہ، پیشاب، بہتا خون، پیپ، منہ بھر قے، حیض و نفاس و استحاضہ کا خون، مذی ، ودی۔(عالمگیری ج ۱ ص ۴۶)۔

مسئلہ ۷:  شہیدِ فقہی کا خون جب تک اس کے بدن سے جدا نہ ہو پاک ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۶)۔

مسئلہ ۸:  دُھکتی آنکھ سے جو پانی نکلے نجاست غلیظہ ہے یونہی ناف، پستان سے درد کے ساتھ پانی نکلے نجاستِ غلیظہ ہے۔

مسئلہ ۹:   بلغمی رطوبت ناک یا منہ سے نکلے نجس نہیں اگرچہ پیٹ سے چڑھے اگرچہ بیماری کے سبب ہو۔

مسئلہ۱۰:  دودھ پیتے لڑکے یا لڑکی کا پیشاب نجاستِ غلیظہ ہے یہ جو اکثر عوام میں مشہور ہے کہ دودھ پیتے بچوں کا پیشاب پاک ہے محض غلط ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۶)۔

مسئلہ ۱۱:  شیر خوار بچے نے دودھ ڈال دیا مگر بھر منہ ہے نجاستِ غلیظہ ہے۔

مسئلہ ۱۲: خشکی کے ہر جانور کا بہتا خون مردار کا گوشت اور چربی (یعنی وہ جانور جس میں بہتا ہوا خون ہوتا ہے اگر بغیر ذبح شرعی کے مر جائے مردار ہے اگرچہ ذبح کیا گیا ہوجیسے مجوسی یابت پرست یا مرتد کا ذبیحہ اگرچہ اس نے حلال جانور مثلاً بکری وغیرہ کو ذبح کیا ہو اس کا گوشت پوشت سب ناپاک ہے اور اگر حرام جانور ذبح شرعی سے ذبح کر لیا گیا تو اس کا گوشت پاک ہو گیا اگرچہ کھانا حرام ہے سوا خنزیر کے وہ نجس العین ہے کسی طرح پاک نہیں ہو سکتا) حرام چوپائے جیسے کتا، شیر، لومڑی، بلّی، چوہا، گدھا، خچر، ہاتھی، سور کا پاخانہ، پیسشاب اور گھوڑے کی لید اور ہر حلال چوپایہ کا پاخانہ جیسے گائے، بھینس کا گوبر، بکری، اونٹ کی مینگنی اور جو پرند کہ اونچا نہ اُڑے اس کی بیٹ جیسے مرغی، بط چھوٹی ہو خواہ بڑی اور ہر قسم کی شراب اور نشہ لانے والی تاڑی اور سیندھی اور سانپ کا پاخانہ پیشاب اور اس جنگلی سانپ اور مینڈک کا  گوشت جن میں بہتا خون ہوتا ہے اگرچہ ذبح کئے گئے ہوں، یوں ہی ان کی کھال اگرچہ پکالی گئی ہو اور سُور کا گوشت اور ہڈی اور بال اگرچہ ذبح کیا گیا ہو یہ سب نجاستِ غلیظہ ہیں۔

مسئلہ ۱۳: چھپکلی یا گرگٹ کا خون نجاستِ غلیظہ ہیں۔

مسئلہ ۱۴: انگور کا شیرہ کپڑے پر پڑا تو اگرچہ کئی دن گذر جائیں کپڑا پاک ہے۔

مسئلہ ۱۵: ہاتھی کی سونڈ کی رطوبت اور شیر، کتے، چیتے اور دوسرے درندے چوپایوں کا لعاب نجاستِ غلیظہ ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۸)۔

مسئلہ ۱۶: جن جانوروں کا گوشت حلال ہے (جیسے گائے، بیل، بھینس، بکری، اونٹ وغیرہا) ان کی پیشاب نیز گھوڑے کا پیشاب اور جس پرند کا گوشت حرام ہے خواہ شکاری ہو یا نہیں (جیسے کوّا، چیل، شکرا، باز، بہری) اس کی بیٹ نجاستِ خفیفہ ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۶)۔

مسئلہ ۱۷: چمگادڑ کی بیٹ اور پیشاب دونوں پاک ہیں۔

مسئلہ ۱۸: جو پرند حلال اونچے اُڑتے ہیں جیسے کبوتر، مینا، مرغابی، قاز ان کی بیٹ پاک ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۶)۔

مسئلہ ۱۹:  ہر چوپائے کی جوگالی  کا وہی حکم ہے جو اس کے پاخانہ کا۔

مسئلہ ۲۰: ہر جانور کے پتّے کا وہی حکم ہے جو اس کے پیشاب کا۔ حرام جانوروں کا پتّا نجاستِ غلیظہ اور حلال جانوروں کا نجاستِ خفیفہ ہے۔

مسئلہ ۲۱: نجاستِ غلیظہ، خفیفہ میں مِل جائے تو کُل غلیظہ ہے۔

مسئلہ ۲۲: مچھلی اور پانی کی دیگر جانوروں اورکھٹمل اور مچھر کا خون اور خچر اور گدھے کا لعاب اور پسینہ پاک ہے۔

مسئلہ ۲۳:            پیشاب کی نہایت باریک چھینٹیںسوئی کی نوک برابر کی بدن یا کپڑے پر پڑ جائیں تو کپڑا اور بدن پاک رہے گا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۶)۔

مسئلہ ۲۴:            جس کپڑے پر پیشاب کی ایسی ہی باریک چھینٹیں پڑ گئیں اگر وہ کپڑا پانی میں پڑ گیا تو پانی بھی ناپاک نہ ہو گا۔

مسئلہ ۲۵:            جو خون زخم سے بہا نہ ہو پاک ہے۔

مسئلہ ۲۶: گوشت، تلی، کلیجی میں جو خون باقی رہ گیا پاک ہے اور اگر یہ چیزیں بہتے خون میں سَن جائیں تو ناپاک ہیں بغیر دھوئے پاک نہ ہوں گی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۶)۔

مسئلہ ۲۷:            جو بچہ مُردا پیدا ہوا اس کو گود میں لے کر نماز پڑھی اگرچہ اس کو غسل دے لیا ہو نماز نہ ہو گی اور اگر زندہ پیدا ہو کر مر گیا اور بے نہلائے گود میں لے کر نماز پڑھی جب بھی نہ ہو گی ہاں غسل دے کر گود میں لے لیا تھا تو ہو جائے گی مگر خلاف مستحب ہے یہ احکام اس وقت ہیں کہ مسلمان کا بچہ ہو اور کافر کا مُر دہ بچہ ہے تو کسی حال میں نماز نہ ہو گی غسل دیا ہو یا نہیں۔

مسئلہ ۲۸:            اگر نماز پڑھی اور جیب وغیرہ میں شیشی ہے اور اس میں پیشاب یا خون یا شراب ہے تو نماز نہ ہو گی اور جیب میں انڈا ہے اور اس کی زردی خون ہو چکی ہے تو نماز ہو جائے گی۔

مسئلہ ۲۹: روئی کا کپڑا اُدھیڑا گیا اور اس کے اندر چوہا سوکھا ہوا ملا تو اس میں سوراخ ہے تو تین دن راتوں کی نمازوں کا اعادہ کرلے اور سوراخ نہ ہو تو جتنی نمازیں اس سے پڑھی ہیں سب کا اعادہ کرے۔

مسئلہ ۳۰:            کسی کپڑے یا بدن پر چند جگہ نجاستِ غلیظہ لگی اور کسی جگہ درہم کے برابر نہیں مگر مجموعہ درہم کے برابر ہے تو درہم کے برابر سمجھی جائے گی اور زائد ہے تو زائد نجاست خفیفہ میں بھی مجموعہ ہی پر حکم دیا جائے گا۔

مسئلہ ۳۱: حرام جانوروں کا دودھ نجس ہے البتہ گھوڑی کا دودھ پاک ہے مگر کھانا جائز نہیں۔

مسئلہ ۳۲:            چُوہے کی مینگنی گیہوں میں مل کر پِس گئی یا تیل میں پڑ گئی تو آٹا اور تیل پاک ہے ہاں اگر مزے میں فرق آجائے تو نجس ہے اور اگر روئی کے اندر ملی تو اس کے آس پاس سے تھوڑی سی الگ کردیں باقی میں کچھ حرج نہیں ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۶)۔

مسئلہ ۳۳:            ریشم کے کیڑے کی بیٹ اور اس کا پانی پاک ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۶)۔

مسئلہ ۳۴:            ناپاک کپڑے میں پاک کپڑا یا پاک کپڑے میں ناپاک کپڑا لپٹا اور اس ناپاک کپڑے سے یہ پاک کپڑا نم ہو گیا تو ناپاک نہ ہو گا بشرطیکہ نجاست کا رنگ یا بو اس کپڑے میں ظاہر نہ ہو ورنہ نم ہو جانے سے بھی ناپاک ہو جائے گا ہاں اگر بھیگ جائے تو ناپاک ہو جائے گا اور یہی صورت اس میں ہے کہ وہ ناپاک کپڑا پانی سے تر ہوا ہو اور اگر پیشاب یا شراب کی تری اس میں ہے تو وہ پاک کپڑا نم ہو جانے سے بھی نجس ہو جائے گا اور اگر ناپاک کپڑا سوکھا تھا اورپاک تر تھا اور اس کی تری سے وہ ناپاک تر ہو گیا اور اس ناپاک کو اتنی تری پہنچی کہ اس سے چُھوٹ کر اس پاک کو لگی تو یہ ناپاک ہو گیا ورنہ نہیں۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۷)۔

مسئلہ ۳۵:            بھیگے ہوئے پاؤں نجس زمین یا بچھونے پر رکھے تو ناپاک نہ ہوں گے اگرچہ پاؤں کی تری کا  اس پر دھبہ محسوس ہو۔ ہاں اگر اس زمین یا بچھونے کو اتنی تری پہنچی کہ اس کی تری پاؤں کو لگی تو پاؤں نجس ہو جائیں گے۔

مسئلہ ۳۶:            بھیگی ہوئی ناپاک زمین یا نجس بچھونے پر سوکھے ہوئے پاؤں رکھے اور پاؤں میں تری آگئی تو نجس ہو گئے اور سیل ہے تو نہیں۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۷)۔

مسئلہ ۳۷:            جس جگہ کو گوبر سے لیسا اور وہ سوکھ گئی بھیگا ہوا کپڑا اس پر رکھنے سے نجس نہ وہ گا جب تک کپڑے کی تری اسے اتنی نہ پہنچے کہ اس سے چھوٹ کر کپڑے کو لگے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۷)۔

مسئلہ ۳۸:            نجس کپڑا پہن کر یا نجس بچھونے پر سویا اور پسینہ آگیا اگر پسینہ سے وہ ناپاک جگہ بھیگ گئی پھر اُس سے بدن تر ہو گیا تو ناپاک ہو گیا ورنہ نہیں۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۷)۔

مسئلہ ۳۹: ناپاک چیز پر ہوا ہو کر گزری اور بدن یا کپڑے کو لگی تو ناپاک نہ ہو گا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۷)۔

مسئلہ ۴۰:            میانی تر تھی اور ہوا نکلی تو کپڑا نجس نہ ہو گا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۷)۔

مسئلہ ۴۱: ناپاک چیز کا دھواں کپڑے یا بدن کو لگے تو ناپاک نہیں یونہی ناپاک چیز کے جلانے سے جو بخارات اٹھیں ان سے بھی نجس نہ ہو گا اگرچہ ان سے پورا کپڑا ہی بھیگ جائے ہاں اگر نجاست کا اثر اس میں ظاہر ہو تو نجس ہو جائے گا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۷)۔

مسئلہ ۴۲:            اُپلے کا دُھواں روٹی میں لگا تو روٹی ناپاک نہ ہوئی۔

مسئلہ ۴۳:            کوئی نجس چیز دَہ ددر دَہ پانی میں پھینکی اور اس کے پھینکنے کی وجہ سے پانی کی  چھینٹیں  کپڑے پر پڑیں تو نجس نہ ہو گا ہاں اگر معلوم ہو کہ یہ چھینٹیں اس نجس شے کی ہیں تو اس صورت میں نجس ہو جائے گا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۷)۔

مسئلہ ۴۴:            پاخانہ پر سے مکھیاں اُڑ کر کپڑے پر بیٹھیں کپڑا نجس نہ ہو گا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۷)۔

مسئلہ ۴۵:            راستہ کی کیچڑ پاک ہے جب تک اس کا نجس ہونا معلوم نہ ہو تو  اگر پاؤں یا کپڑے میں لگی اور بے دھوئے نماز پڑھ لی ہو گئی مگر دھو لینا بہتر ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۷)۔

مسئلہ ۴۶:            سڑک پر پانی چھڑکا جارہا تھا زمین سے چھینٹیں اُڑ کر کپڑے پر پڑیں تو کپڑا نجس نہ ہوا مگر دھولینا بہتر ہے۔

مسئلہ ۴۷:            آدمی کی کھال اگرچہ ناخن برابر تھوڑے پانی (یعنی دَہ در دَہ سے کم) میں پڑ جائے تو وہ پانی ناپاک ہو گیا اور خود ناخن گر جائے تو ناپاک نہیں۔

مسئلہ ۴۸:            بعد پاخانہ پیشاب کے ڈھیلوں سے استنجا کر لیا پھر اس جگہ سے پسینہ نکل کر کپڑے یا بدن میں لگا تو بدن اور کپڑے ناپاک نہ ہوں گے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۷)۔

مسئلہ ۴۹: پاک مٹی میں ناپاک پانی ملا تو نجس ہو گیا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۷)۔

مسئلہ ۵۰:            مٹی میں ناپاک بھس ملایا اگر تھوڑا ہو تو مطلقاً پاک ہے اور جو زیادہ ہو تو جب تک خشک نہ ہونا پاک ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۷)۔

مسئلہ ۵۱: کتّا بدن یا کپڑے سے چھو جائے تو اگرچہ اس کا جسم تر ہو بدن اور کپڑٓ پاک ہے ہاں اگر اس کے بدن پر نجاست لگی ہو تو اور بات ہے یا اس کا لعاب لگے تو ناپاک کر دے گا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۴۸)۔

مسئلہ ۵۲:            کتّے وغیرہ کسی ایسے جانور نے جس کا لُعاب ناپاک ہے آٹے  میں منہ ڈالا اور اگر گندھا ہوا تھا تو جہاں اس کا منہ پْڑا اس کو علیحدہ کردے باقی پاک ہے اور سُوکھا تھا تو جتنا تر ہو گیا وہ پھینک دے۔

مسئلہ ۵۳:            آب مستعمل پاک ہے نوسا در پاک ہے۔

مسئلہ ۵۴:            سوا سؤر کے تمام جانوروں کی وہ ہڈی جس پر مردار کی چکنائی نہ لگی ہو اور بال اور دانت پاک ہیں۔

مسئلہ ۵۵:            عورت کے پیشاب کے مقام سے جو رطوبت نکلے پاک ہے کپڑے یا بدن میں لگے تو دھونا کچھ ضروری نہیں ہاں دھولینا بہتر ہے۔

مسئلہ ۵۶:            جو گوشت سڑ گیا یا بدبُو لے آیا اس کا کھانا حرام ہے اگرچہ نجس نہیں۔

ماخوذ از:
بہار شریعت، جلد1مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button