ARTICLES

مکی، آفاقی اور متمتع کے لئے عمرہ کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ جو شخص مکہ مکرمہ میں رہتا ہو یاحِل میں ، وہ مکہ مکرمہ جائے تو اُسے کثرت سے عمرے کرنا شرعاً کیسا ہے ؟اسی طرح وہ شخص جو آفاقی ہو اُس کا کیا حکم ہے ؟ اور پھر متمتع کے حق میں حج سے قبل عمرہ کا حکم کیا ہے ؟

(السائل : محمد عرفان ضیائی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : حج کے مہینوں کے علاوہ (یعنی شوال سے قبل اور دس ذوالحجہ کے بعد) مکہ مکرمہ میں مقیم شخص کو چاہئے کہ کثرت سے عمرے کرے چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں : باید مقیم مکہ(14) کہ بسیار بجا آورد عمرہ ہا را در غیر اَشْہُرِ حج۔

یعنی، مقیم مکہ کو چاہئے کہ غیر اَشْہُرِ حج میں کثرت سے عمرے بجا لائے ۔ اور اَشْہُرِ حج میں مکی یا مکہ مکرمہ میں آنے والا یا مواقیت کے اندر رہنے والا اور باہر سے آنے والا اگر اسی سال حج کا ارادہ نہیں رکھتا تو اُسے عمرہ کرنا رواہے چنانچہ لکھتے ہیں : امّا حکم اعتمار در اَشْہُرِحج درحق مکی و کسے کہ وارد شدہ است درمکہ و کسے کہ ساکن است در قُرب ِمکہ، داخل مواقیت پس آن است کہ عمرہ کردن در اَشْہُرِحج در حق اُو جائز است باتفاق علماء اگر دران سال حج نکند زیر انکہ این عمرہ مفرد است کذا أفادَ فی ’’شرحِ الکرخی ‘‘للإمام قدوری و’’ المبسوط‘‘ لشیخ الإسلام، ’’و النّہایۃ‘‘، ’’و العنایۃ‘‘، و’’ البحر الرّائق‘‘ (15)

یعنی، مگر مکی اور وہ شخص جو مکہ وارد ہوا اور وہ جو قربِ مکہ داخلِ مواقیت کا رہنے والا ہے ، اَشْہُرِحج میں عمرہ کرے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ اسی سال حج نہ کرے تو اُسے عمرہ ادا کرنا اس کے حق میں باتفاق علماء جائز ہے کیونکہ (ا س صورت میں اس کا) یہ عمرہ مفرد ہے ، اسی طرح ’’شرح کرخی ‘‘للإمام قدوری، ’’مبسوط‘‘ لشیخ الإسلام، ’’نہایہ‘‘، ’’عنایہ‘‘ اور ’’بحر الرائق(16)‘‘ میں افادہ کیا۔

وامّا ، اگر عمرہ کند و بعد ازان حج نیز کند دران سال پس آن بروو قسم است یا بروجہ تمتع است یا بروجہ قران و این ہر دو وجہ منہی است درحق مکی و من فی حکمہ نہ در حق آفاقی (17)یعنی، اگر (کوئی شخص) عمرہ کرے اور اس کے بعد اُسی سال حج کرے پس وہ دو قسم پر ہے یا تو بروجہ تمتع یا بروجہ قران اور یہ ہر دو وُجوہ اس کے حق میں ممنوع ہیں جو مکی ہے اور وہ جو مکی کے حکم میں ہے ،نہ کہ آفاقی کے حق میں ۔ اس سے ثابت ہوا کہ عمرہ کرنا آفاقی کے حق میں مکروہ نہیں ہے بلکہ اسے عمرہ کرنا روا ہے اور پھر متمتع غیرُ السَّائق للہدی (یعنی ایسا متمتع جو قربانی کا جانور ساتھ نہیں لایا) مکہ معظمہ پہنچ کر عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد احرامِ حج سے قبل مزید عمرے کر سکتا ہے یا نہیں ؟ اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے اور راجح قول یہی ہے کہ کر سکتا ہے اس لئے کہ عمرے کا کوئی وقت مقرر نہیں صرف پانچ دن یعنی 9؍ ذی الحجہ سے 13؍ ذی الحجہ تک ناجائز ہے ۔ اِن ایام کے علاوہ پورے سال جب چاہے کر سکتا ہے اور قارن کو اِن دنوں میں بھی عمرہ جائز ہے ۔ (18) امام حسنبن عمار منصور اُوزجندی حنفی المعروف بقاضیخان متوفی 592ھ (19) لکھتے ہیں اور ان سے علامہ نظام الدین حنفی (20) نقل کرتے ہیں : وقتُ ہا جمیعُ السَّنَۃِ إِلَّا خمسۃَ أَیَّامٍ تکرہُ فیہا العمرۃُ لغیرِ القارن وہی یومُ عرفۃَ، و یومُ النَّحر و أیَّامُ التَّشریقِ یعنی، عمرہ کا وقت پورا سال ہے سوائے پانچ ایام کے جن میں غیر قارن کو عمرہ کرنا مکروہ ہے اور وہ پانچ ایام یوم عرفہ (9 ذی الحجہ)، یوم نحر (10 ذو الحجہ) اور تین دن تشریق کے (یعنی 11، 12، 13 غروب آفتاب تک) ہیں ۔ اور علامہ علاؤ الدین حصکفی متوفی 1088ھ لکھتے ہیں : جازَتْ فی کلِّ السَّنَۃِ و نُدِبَتْ فی رمضانَ و کُرِہَتْ تحریماً یومَ عرفۃَ و أربعۃً بعدہا (21)یعنی، عمرہ پورا سال جائز ہے اور رمضان میں مندوب ہے اور یوم عرفہ (9 ذو الحجہ) اور اس کے بعد چار دنوں (10، 11،12، 13 ذو الحجہ کے غروب آفتاب تک) میں مکروہ تحریمی ہے ۔ اور علامہ سیّد محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ نے تصریح فرمائی کہ

وقد ذکر فی ’’اللُّباب‘‘ أن المُتمتِّعَ لا یعتمرُ قبل الحجِّ، قال شارحہ : ہذا بناء علی أَنَّ المکیَّ ممنوعٌ من العمرۃِ المفردۃِ أیضاً، و قد سبق أَنَّہ غیرُ صحیحٍ بل أَنَّہ ممنوعٌ من التَّمتُّعِ و القِرانِ و ہذا المتمتِّعُ آفاقیٌّ غیرُ ممنوعٍ مِن العُمرۃِ فجازَ لہ تکرارُہا لأَنَّہا عبادۃٌ مستقلَّۃٌ أیضاً کالطَّوافِ اھ وفی ’’حاشیۃ المدنی‘‘ : أنَّ ما فی ’’اللباب‘‘ مسلّمٌ فی حقِّ المتمتّع السّائق الھدی، أمّا غیرُ السایق الھدی فلا، لأنّہ خلاف مذھب أصحابنا جمیعاً إلخ(22)یعنی، ’’اللباب‘‘ (23)میں مذکور ہے کہ مُتمُتّع سے قبل (حج تمتع کے عمرہ کے سوا) عمرہ نہیں کرے گا اس کے شارح نے فرمایا ہے (24)۔یہ اس بنا پر ہے کہ مکی کو عمرہ مفردہ سے بھی (شرعاً) روکا گیا ہے اور پہلے گزر چکا ہے کہ یہ قول صحیح نہیں ہے بلکہ اسے (یعنی مکی کو) تمتع اور قران سے روکا گیا ہے او ریہ متمتع (مکی نہیں ہے ) آفاقی ہے جسے عمرہ سے نہیں روکا گیا تو اس کے لئے عمرہ کا تکرار جائز ہے کیونکہ عمرہ بھی طواف کی طرح ایک مستقل عبادت ہے اور’’حاشیہ المدنی‘‘ میں ہے جو ’’لباب‘‘ میں ہے وہ ہدی لانے والے متمتع کے حق میں تو تسلیم ہے مگر ہدی نہ ہونے والا متمتع تواُس کے حق میں تسلیم نہیں ، کیونکہ یہ ہمارے تمام اصحاب کے خلاف ہے ۔ اور علّامہ سیّد محمد امین ابن عابدین نے ’’در مختار‘‘ کی عبارت ’’و أقام مکَّۃَ حلالاً‘‘ کے تحت ’’تنبیہ‘‘ کے نام سے عنوان قائم کر کے لکھا : أفادَ أَنَّہ یفعلُ ما یفعلُہُ الحلالُ، فیطوفُ بالبیتِ ما بدَا لہ و یعتمرُ قبلَ الحجِّ (25)یعنی، مصنّف کے اِس قول نے اِفادہ کیا کہ وہ (یعنی متمتع آفاقی) وہ سب کچھ کرے گا جو غیر احرام والا کرتا ہے پس حج سے قبل جب اُس کے لئے ظاہر ہو (یعنی جب چاہے ) طواف کرے اور عمرہ کرے ۔ لہٰذا متمتع (آفاقی) کے لئے حج سے قبل عمرے کرنا جائز ہے ، بہر حال اِس سے انکار نہیں ہے یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے اور امام اہلسنّت نے بھی اِس مسئلہ میں اختلاف کو ذکر فرمایا ہے چنانچہ مفتی جلال الدین امجدی لکھتے ہیں : چونکہ یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی اللہ عنہ نے بھی’’ فتاویٰ رضویہ‘‘ جلد چہارم، ص670 پر اِس مسئلہ پر اختلاف کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے : لاختلافِ العُلمائِ فی نفسِ جوازِ العُمرۃِ فی أشہُرِ الحجِّ(26) اور پھر کوئی اس بنا پر شبہ میں نہ پڑے کہ صدر الشریعہ محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے اس مسئلہ سے سکوت فرمایا ہے اس لئے متمتع کو حج سے قبل عمرہ نہیں کرنا چاہیے (27)۔ کیونکہ مندرجہ بالا سطور میں بیان کر دیا گیا کہ اس مسئلہ میں اختلاف ضرور ہے مگر راجح یہی ہے عمرہ بلکہ عمروں کا تکرار جائز ہے (28)، چنانچہ صدر الشریعہ کے سکوت کے بارے میں مفتی جلال الدین امجدی لکھتے ہیں : اور اہلِ حرم کے عمل سے عدم جواز ظاہر ہے غالباً اس لئے صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے اس مسئلہ کے بیان سے سکوت فرمایا۔ (29)

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأربعاء ،8شوال المکرم 1427ھ، 1نوفمبر 2006م ( 225-F)

حوالہ جات

14۔ البحر الرائق، کتاب الحج، باب التّمتّع، تحت قولہ : لا تمتّع ولا قران لمکی إلخ، 2/241

15۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب سیزدہم در ذکر بعضے مسائل متفرفات واین باب مبتنی است إلخ ، فصل اول در بیان اداب اتامۃ نمودن در مکہ معظمہ، ص234

16۔

17۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب سیزدھم در ذکر بعضے مسائل متفرقات إلخ، فصل اول، دربیان : آداب اقامت نمودن درمکہ معظمہ، ص234

18۔ فتاویٰ فیض الرسول، کتاب الحجّ، 1/541

19۔ فتاویٰ قاضیخان علی ہامش الفتاویٰ الہندیۃ،کتاب الحجّ، فصل فی العمرۃ،1/301

20۔ الفتاوی الہندیۃ،کتاب المناسک، الباب السّادس فی العمرۃ ، 1/237

21۔ الدر المختار، کتاب الحجّ، مع قول التنویر : وجازت فی کل السنۃ، ص157

22۔ منحۃ الخالق علی البحر الرائق، کتاب الحج، باب التَّمتُّع، تحت قولہ علی البحر، وما فی البدائع إلخ، 2/642

23۔ لباب المناسک مع شرحہ للقاری، باب التّمتّع، فصل فی أنواع المتمتع، ص184

24۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب التّمتّع، فصل : المتمتع علی نوعین، ص408

25۔ رد المحتار،کتاب الحج، باب المتَّمتُّع،3/642

26۔ فتاویٰ فیض الرسول، کتاب الحجّ، کیا تمتع کرنے والا احرام حج سے پہلے کرسکتا ہے ،1/541۔542

27۔ یعنی، یہ شبہ نہ ہوناچاہیے کہ متمتع حج سے قبل عمرے نہ کرے بلکہ اس کے لئے عمروں کاتکرار جائز ہے ، یہی راجح ہے ۔

28۔ قاضی حسین بن محمد سعید مکی حنفی متوفی 1366ھ تولکھتے ہیں ’’میں کہتاہوں کہ جو جاہل معلم کرتے ہیں کہ وہ متمتع کو جو ہدیٰ نہیں لایا اُسے عمرہ ادا کرنے سے روکتے یہ یہ مذہبِ حنفیہ کے خلاف ہے ۔ یہ منع مسافروں کو اُس عبادت سے کہ جس میں ثوابِ عظیم ہے اور جو عبادت انہیں اُن کے شہروں میں میسر نہیں ہے ،محروم کرنا ہے ۔(إرشاد السّاری إلی مناسک الملا علی القاری ، باب التّمتع ، فصل : التمتع علی نوعین، تحت قولہ : مجاز لہ تکرارھا، ص319۔320)

29۔ فتاویٰ فیض الرسول، کتاب الحجّ، کیا تمتع کرنے والا احرام حج سے پہلے کرسکتا ہے ،1/542

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button