ARTICLESشرعی سوالات

مکہ سے طائف گھومنے کی غرض سے جانے والوں کے احرام کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہم کل بروز جمعہ گھومنے کی غرض سے طائف گئے وہاں سے ہم نے فون کے ذریعے آپ سے معلوم کیا تو آپ نے بتایا کہ طائف میقات سے باہر ہے اسی طرح حضرت مولانا محمد عرفان صاحب ضیائی سے وہاں سے احرام کا حکم معلوم کیا تو انہوں نے بھی فرمایا کہ عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ لوٹو کہ بلا احرام آنا جائز نہیں ہے ، ہمارے کسی ساتھی نے ایک اور پاکستان سے تشریف لائے ہوئے معروف حنفی عالم سے فون پر پوچھا تو انہوں نے فرمایا سیر و تفریح کی غرض سے گئے ہو اس لئے احرام لازم نہیں ، اس طرح ہم میں سے چند ساتھیوں نے احرام نہ باندھا بغیر احرام مکہ لوٹے ، اب آپ سے گزارش ہے کہ شریعت مطہرہ کی روشنی میں ہمیں بتائیے کہ کس کا قول درست ہے اور جو بلا احرام مکہ لوٹے اُن کے لئے کیا حکم ہے ؟

(السائل : احمد بن محمد فتانی، الفتانی حج اینڈ عمرہ، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : واضح رہے کہ طائف میقات سے باہر ہے اور اس جانب میقات ’’قرنُ المنازل‘ ہے کیونکہ رسول اللہ انے میقاتوں کا تعین خود فرمایا، اہلِ مدینہ کے لئے ’’ذوالحلیفہ‘‘، شام والوں کے لئے ’’جُحفہ‘‘، اہلِ نجد کے لئے ’’قرن المنازل‘‘ اور یمن والوں کے لئے ’’یلملم‘‘، اور یہ بھی ارشاد فرمایا یہ میقات مذکورہ مقامات کے لوگوں کے علاوہ اُن کے لئے بھی ہیں جو کسی میقات سے گزر کر حج یا عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ آئیں ، البتہ جو لوگ میقات کے اندر حِل میں رہتے ہیں ان کی میقات ان کے اپنے گھر ہیں ، جب کہ مکہ میں مقیم لوگ مکہ ہی سے (حج کا) احرام باندھیں گے ۔ (45) جب کہ اہلِ عراق کا میقات ’’ذاتِ عرق‘‘ ہے جس کا ذکر ’’صحیح مسلم‘‘ میں ہے ۔ اور قرن سے مراد وہ پہاڑی ہے جو کسی بڑے پہاڑ کا حصہ ہو لیکن اس سے علیحدہ نظر آتی ہو، یہ اس کے آس پاس خلیج کے رہنے والوں اور ریاض و طائف کے راستے سے آنے والوں کی میقات ہے ، یہاں سے مکہ معظمہ کے لئے دو بڑے راستے ہیں ، جن پر دو مسجدیں بنائی گئی ہیں جو ایک راستے پر ’’سیل کبیر‘‘ اور دوسرے پر ’’وادی مُحرّم‘‘ کے نام سے موسوم ہیں ۔ سیل کبیر : اس میقات پر ایک مسجد ’’سیل کبیر‘‘ کے نام سے موسوم ہے جو مسجد الحرام سے بجانب شمال مشرق اسّی (80) کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہاں سے طائف کا فاصلہ (40) کلومیٹر ہے ۔ وادی مُحرّم : یہ مسجد بھی ’’قرن المنازل‘‘ کی میقات ہی سے معروف ہے یہ مسجد سیل کبیر کے جنوبی سمت میں واقع ہے ان دونوں مسجدوں کے درمیان تینتیس (33) کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور مسجد الحرام سے مکہ طائف روڈ پر چھہتر (76) کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جب کہ طائف یہاں سے صرف دس (10) کلومیٹر رہ جاتاہے ، اسی طرح ’’تاریخ مکہ‘‘ (46) میں ہے ۔ جب کہ طلال بن العقیل نے ’’سیل کبیر‘‘ سے مکہ مکرمہ کا فاصلہ پچہتر (75) کلومیٹر ذکر کیا ہے چنانچہ لکھتے ہیں : قرن المنازل : یہ نجد والوں اور ان لوگوں کی میقات ہے جو اس راستے سے گزرتے ہیں اس کا موجودہ نام ’’سیل کبیر‘‘ ہے جو مکہ مکرمہ سے پچہتر (75) کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ (47) اور ابن باز نے صرف یہ لکھا کہ ’’قرن المنازل‘‘ جو اہلِ نجد کی میقات ہے جس کو آج کل ’’سیل‘‘ کہا جاتا ہے ۔ (48) اور سعودی حکومت کے سلسلۂ إرشادات للحاج و المعتمرین کے چوتھے رسالے میں ہے :

قرن المنازل : و یسمی ’’السیل الکبیر‘‘ وہو میقات أہل نجد و أہل الطّائف ومن مرّبہ من غیرہم و یبعد عن مکۃ المکرمۃ (78کم) تقریباًو یحاذیہ ’’وادی محرم‘‘ وہو أعلی قرن المنازل من جہۃ طریق الہدا۔ الطائف و یبعد عن مکۃ المکرمۃ (75کم) تقریباً (49)

یعنی، قرنُ المنازل : اور اس کا نام ’’سیل کبیر‘‘ رکھا گیا ہے اور یہ اہلِ نجد اور اہلِ طائف کی اور جو ان کے سوا یہاں سے ہو کر گزرے (سب) کی میقات ہے اور مکہ مکرمہ سے تقریباً 78 کلومیٹر دُور ہے اور اس کے محاذی ’’وادی محرم‘‘ ہے اور وہ ’’قرن المنازل‘‘ سے بلندی پر طائف کے طریقِ ہُدا کی طرف سے ہے اور مکہ مکرمہ سے تقریباً 75کلومیٹر دُور ہے ۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ طائف میقات سے باہر آفاق میں ہے نہ کہ میقات ہے یا میقات کے اندر ہے اور حرم مکہ کے ارادے سے طائف سے آنے والے اور طائف سے ہو کر گزرنے والے اگر ’’سیل کبیر‘‘ کے راستے سے آئیں تو ’’سیل کبیر‘‘ پر اور اگر ’’طریقِ ہُدا‘‘ سے آئیں تو ’’وادی محرم‘‘ پر اُسے احرام باندھنا لازم ہو گا چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی 990/ 994/996ھ لکھتے ہیں :

حکمہا وجوب الإحرام منہا لأحد النُّسکین و تحریم تأخیرہا عنہا لمن أراد دخول مکۃ أو الحرم و إن کان لقصد التّجارۃ أو غیرہا و لم یرد نسکاً (50)

یعنی، میقات کا حکم یہ ہے کہ ان سے حج یا عمرہ کا احرام باندھنا واجب اور احرام کو ان سے مؤخر کرنا حرام ہے ہر اس شخص کو جو مکہ معظمہ یا حرم میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتا ہو اگرچہ تجارت وغیرہ کی غرض سے (حدودِ حرم میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتا ہو) اور اس نے حج کا ارادہ نہ کیا ہو۔ اور مکہ یا حرم آنے کے ارادے سے میقات سے گزرنے والے پر احرام کے وجوب پر اجماع ہے چنانچہ مُلّا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

أی بالإجماع (51)

یعنی، میقات سے احرام باندھنا بالاجماع واجب ہے ۔ کوئی شخص آفاق سے حرم چاہے کسی ارادہ سے آئے جیسے تجارت کی غرض سے ، یا اس کا گھر ہی حُدودِ حرم یا مکہ شہر میں ہو اور وہ اپنے گھر آ رہا ہو یا مکہ مکرمہ سیر و تفریح کی غرض سے آئے ، بہر صورت اس پر واجب ہو گا کہ میقات سے احرام باندھ کر آئے ، چنانچہ مُلّا علی قاری حنفی لکھتے ہیں :

فعندنا یجب الإحرام مطلقاً (52)

یعنی، پس ہمارے نزدیک احرام مطلقاً واجب ہے (چاہے کسی بھی ارادے سے آئے )۔ اسی لئے ہمارے فقہاء نے لکھا کہ میقات وہ جگہیں ہیں جن سے مکہ یا حرم کا ارادہ رکھنے والا بلا احرام نہیں گزر سکتا، چنانچہ علامہ علاؤ الدین حصکفی متوفی 1088ھ لکھتے ہیں :

و المواقیت أی المواضع التی لا یجاوزہا مرید مکۃ إلا محرماً (53)

یعنی، میقاتیں وہ جگہیں ہیں جن سے مکہ کو جانے والا بلا احرام نہیں گزر سکتا۔ سوال میں ذکر کردہ افراد جب مکہ میں تھے مکی کے حکم میں تھے کہ مکی کی طرح ان کے لئے عمرہ کے حِل اور حج کے لئے مکہ یا حرم میقات تھی یعنی جہاں وہ تھے وہاں کے اہل کے حکم میں تھے اور جب آفاق کی جانب نکلے تو آفاقی کے حکم میں ہو گئے جس طرح مکی حقیقی بھی اگر آفاق نکلے چاہے کسی بھی غرض سے گیا ہو تجارت کی غرض سے گیا ہو یا سیر و تفریح کی غرض سے ، بہر حال وہ آفاقی کے حکم میں ہو گیا چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

و الضابطۃ فیہ أن من وصل إلی مکان صار حکمہ حکم أہلہ (54)

یعنی، اس میں ضابطہ (یعنی قاعدہ کلیہ اس حکم میں ، شرح اللباب للقاری) یہ ہے کہ جو شخص جس جگہ پہنچ گیا تو اس کا حکم وہی ہو گیا جو وہاں کے رہنے والوں کا ہے ۔ اور لکھتے ہیں :

فلو خرج المکی إلی الآفاق أو الحلّ لحاجۃ فہو وقتہ للحج أو العمرۃ (55)

یعنی، پس اگر مکی آفاق یا حل کو کسی کام سے نکلا تو وہی اس کے حج یا عمرہ کی میقات ہے ۔ لہٰذا جب یہ وہاں کے اہل کے حکم میں ہو گئے تو جس طرح وہاں والوں کو بغیر احرام کے میقات سے گزرنا جائز نہیں اسی طرح ان کو بھی مکہ مکرمہ آنے کے لئے میقات سے بغیر احرام کے گزرنا جائز نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ لوگ طائف کس غرض سے گئے تھے اور مکہ کسی غرض سے آئے جیسا کہ مندرجہ بالا عباراتِ فقہاء سے ظاہر ہے ۔ او رجو لوگ بغیر احرام کے آئے ہیں وہ سب کے سب گنہگار ہوئے اور ان پر لازم ہے کہ وہ میقات کو لوٹ جائیں اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر آئیں اور توبہ بھی کریں ورنہ ان پر عمرہ اور دَم دونوں لازم ہو ں گے اور ساتھ توبہ بھی، چنانچہ علامہ رحمت اللہ بن عبداللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

من جاوز وقتہ غیر محرم ثم أحرم أو لا فعلیہ العود (أی فیجب علیہ الرجوع) إلی وقت (56)

یعنی، جو شخص اپنی میقات سے بلا احرام گزر گیا پھر احرام باندھا یا نہ باندھا (دونوں صورتوں میں ) اس پر میقات کو لوٹنا واجب ہے ۔ مُلّا علی قاری حنفی لکھتے ہیں :

من جاوز وقتہ أی میقاتہ الذی وصل إلیہ (57)

یعنی، مصنّف کا قول جو اپنی میقات سے (بلا احرام) گزرا کا معنی ہے اس میقات سے گزرا جس پر وہ پہنچا۔ جیسے یہ لوگ طائف سے آتے ہوئے ’’سیل کبیر‘‘ سے گزرے ہوں گے یا ’’وادی محرم‘‘ سے تو ان پر احرام باندھنے کے لئے میقات کو لوٹنا واجب تھا نہ لوٹنے کی صورت میں بلا احرام میقات سے گزرنے کا دَم لازم ہو گا اور ضروری نہیں کہ احرام باندھنے کے لئے اسی میقات کو لوٹیں کہ جس سے بلا احرام گزر کر آئے دوسری میقات کو بھی جا سکتے ہیں ، چنانچہ علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

فعلیہ العَوْدُ إلی میقاتٍ منہا و إنْ لم یکن میقاتَہُ لیُحرِمَ منہ، و إلاّ فعلیہ دمٌ کما سیأتی بیانُہُ فی باب الجنایات (58)

یعنی، پس اس پر مواقیت میں سے کسی میقات کو پر لوٹنا لازم ہے اگر اس کی (وہ) میقات نہ ہو (کہ جس سے بلا احرام گزر آیا) تاکہ میقات سے وہ احرام باندھے ورنہ اس پر (بلا احرام میقات سے گزرنے کا) دَم لازم ہو گا جس کا بیان عنقریب ’’باب الجنایات‘‘ (59) میں آئے گا۔ بلا احرام میقات سے گزرنے کی وجہ سے وہ گنہگار ہو گئے چاہے دوبارہ میقات کو گئے یا نہ گئے اور دَم دے دیا چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

اگر آفاقی عبور کند برین مواقیت مذکورہ و ارادہ داشتہ باشد دخولِ مکہ یا دخول ارضِ حرم را واجب گردد بروے ادائے احدُ النسکین اعنی حج یا عمرہ وواجب شود بروے احرام برائے آن پس اگر تجاوز کرد از انجا بغیر احرام آثم گردد بسبب آنکہ ترک کرد واجب را و ارتکاب کرد فعل حرام را، وواجب باشد بروے کہ عود کند بسوئی یکے از مواقیت مذکورہ تا احرام بہ بندد از انجا و لازم نیست کہ عود کند بسوئی خصوص میقاتے کہ تجاوز کردہ است آنرا، پس اگر عود نہ کرد بسوئی ہیچ یکے از مواقیت مذکورہ واجب گردد دم بروے برابر است کہ عبور او بقصد حج یا عمرہ باشد یا بقصد غیر آن چنانکہ بیع و شراء یا حاجتی دیگر ۔و این مذہب ما است الخ (60)

یعنی، اگر کوئی آفاقی بغیر احرام کے میقات سے گزر جائے اور اس کا ارادہ مکہ معظمہ یا ارضِ حرم میں داخل ہونے کا ہو تو اس پر دو عبادتوں حج و عمرہ میں سے ایک عبادت واجب ہو گئی اور اس پر اس کا احرام باندھنا واجب ہو گیا، اب اگر یہاں سے آگے بڑھے گا تو گنہگار ہو گا اس سبب سے کہ اس نے واجب کو ترک اور فعل حرام کا ارتکاب کیا، اس پر واجب ہے کہ یہاں سے مواقیت مذکورہ میں سے کسی میقات کو جائے تاکہ احرام باندھ لے ، ا س کے لئے یہ ضروری نہیں کہ جس میقات سے گزر آیا خاص اسی میقات پر جائے ، اگر وہ کسی میقات پر واپس نہیں گیا تو اس پر دَم واجب ہو گا، بغیر احرام کے میقات سے گزرنا حج و عمرہ کی نیت سے ہو یا کسی اور غرض سے جیسے تجارت یا کسی اور ضرورت کے لئے سب کا حکم یکساں ہے یہ ہم احناف کا مذہب ہے ۔ لہٰذا بغیر احرام کے حرم آنے والوں پر لازم ہے کہ وہ کسی بھی میقات پر جائیں اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر آئیں اور عمرہ کریں او رتوبہ بھی کریں ، اور اگر میقات پر احرام باندھنے کے لئے نہیں جاتے تو ان پر دَم لازم ہو گا اور عمرہ یا حج بھی لازم ہو گا اور دونوں صورتوں میں سچی توبہ بھی لازم ہے ، حضرت علامہ مولانا محمد عرفان ضیائی حنفی مدظلہ نے جب آپ لوگوں سے کہا تھا کہ احرام باندھ کر آنا لازم ہے تو ان کی بات پر عمل کرنا چاہئے تھا کہ آپ مناسکِ حج و عمرہ کے اچھے عالم ہیں اس لائق ہیں کہ مسائل دینیہ میں اُن کی بات پر اعتماد کیا جائے خصوصاً مسائل حج و عمرہ اور دوسرے کسی کی بات کو لینے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم السبت، 21ذی الحجۃ 1428ھ، 30دیسمبر 2007 م (New 34-F)

حوالہ جات

45۔ صحیح البخاری، کتاب الحج، باب مھل أھل مکۃ للحج والعمرۃ، برقم : 1524، 1/376

46۔ تاریخ مکہ، مصنفہ ڈاکٹر الیاس عبدالغنی، ص25، 27، 28

47۔ رہنمائے حج و عمرہ، احرام باندھنے کی جگہیں ، ص12

48۔ حج و عمرہ اور زیارات الخ، میقات کا بیان، ص27

49۔ صفۃ الحج و العمرۃ مع أدعیۃ مختارۃ، المواقیت، ص12۔13

50۔ لُباب المناسک، باب المواقیت، فصل فی مواقیت الخ، ص77

51۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب المواقیت، فصل : فی مواقیت أھل الآفاق، تحت قولہ : وحکمھا وجوبا الاحرام منھا…الخ، ص113

52۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب المواقیت أھل الآفاق، تحت قولہ : ولم یرد نسطاً، ص113

53۔ الدر المختار،کتاب الحج، مع قول التنویر : المواقیت، ص157

54۔ لُباب المناسک ، باب المواقیت، فصل فی تغییر المیقات، ص85

55۔ لُباب المناسک، باب المواقیت، فصل : فی یتغیر المیقات، ص85

56۔ لُباب المناسک، باب المواقیت، فصل فی مجاوزۃ المیقات بغیر إحرام، ص81

57۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب المواقیت، فصل فی مجاوزۃ المیقات بغیر إحرام، ص118

58۔ رد المحتار، کتاب الحج، مطلب : فی المواقیت، تحت قول التنویر : وحرم الخ، 3/551۔552

59۔ باب الجنایات میں ہے کہ

أیَّ میقاتٍ کان سوائٌ کان میقاتَہُ الذسی جاوَزَہُ غیرَ مُحرِمٍ أو غَیْرَہُ، أَقربَ أو أبعدَ، لأنّہا کلَّہا فی حقِّ المحرم سوائٌ، و الأولٰی أن یُحرِم من وقتہ (ردّ المحتار، کتاب الحجّ، باب الجنایات، مطلب : لا یجب الضمان الخ، تحت قولہ : الی میقاتٍ ما، 3/706)

یعنی، کوئی بھی میقا ت ہو چاہے وہی میقات ہو کہ جس سے بلا احرام گزرا تھا یا اس کے علاوہ میقات ہو اس سے قریب ہو یا بعید ہو کیونکہ مُحرِم کے حق میں سب برابر ہیں ، اور اَولیٰ یہ ہے کہ اپنی میقات سے احرام باندھے (کہ جس سے بلا احرام گزرا تھا)

اسی طرح ’’بحر الرائق‘‘ کے کتاب الحج، باب مجاوزۃ المیقات بغیر احرام، تحت قولہ : من جاوز المیقات….الخ،3/85 میں ہے ۔

60۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول در بیان احرام، فصل دویم در بیان مواقیت احرام حج و عمرہ ، نوع اول، ص58

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button