ARTICLES

مکہ سے جعرانہ زیارت کے لئے جانے والوں کے احرام کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ زیارات کے لئے جانے والے حاجیوں نے دیگر زیارات سے فارغ ہو کر جعرانہ جانے کا پروگرام بنایا، اُن میں سے ایک حاجی چاہتا ہے کہ میں وہاں جاؤں اور عمرہ نہ کروں کیونکہ بڑھاپے اور بیماری کے سبب اس کے لئے عمرہ ادا کرنا مشکل ہے ، کیا شرعاًاُس شخص کو اجازت ہے کہ وہ ایسا کرے ۔

(السائل : محمد رضوان ہارون، لبیک حج گروپ، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : یاد رہے کہ جعرانہ حُدودِ حرم سے تو خارج ہے مگر میقات کے اندر ہے چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

و ہستند تنعیم و جعرانہ ہردو در ارضِ حِلّ و خارج از ارضِ حرم (265)

یعنی، تنعیم اور جعرانہ دونوں زمینِ حِل میں ہیں اور زمینِ حرم سے خارج ہیں ۔ حج یا عمرہ کے ارادے کے بغیر مکہ مکرمہ یا سر زمینِ حرم آنے والے پر حج یا عمرہ کا احرام اس وقت لازم ہوتا ہے جب وہ پانچوں میقاتوں میں سے کسی میقات کے باہر سے آئے ، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

اگر آفاقی عبور کند برین مواقیت مذکورہ وارادہ داشتہ باشد دخولِ مکہ یا دخولِ ارضِ حرم را واجب گردد بروی ادائے احد النسکین اعنی حج یا عمرہ، وواجب شود بروئے احرام برائے آن (266)

یعنی، آفاقی اگر مواقیت مذکورہ میں سے کسی میقات کو عبور کرے اور مکہ مکرمہ یا ارضِ حرم میں داخل ہونے کا قصد رکھتا ہو اس پر دو نُسک یعنی، حج یا عمرہ میں سے کوئی ایک واجب ہو گا اور اُس پر اُس نُسُک کا احرام باندھنا واجب ہو گا۔ صورت مسؤلہ میں حاجیوں کا پروگرام جعرانہ جانے کا ہے اور جعرانہ میقات کے اندر زمینِ حِلّ میں ہے لہٰذا اُس پر وہاں سے احرام باندھ کر آنا واجب نہیں ہے کیونکہ ارضِ حِلّ سے آنے والے کے لئے بلا احرام زمینِ حرم یا مکہ مکرمہ آنا جائز ہے جب کہ وہ حج یا عمرہ کا ارادہ نہ رکھتے ہوں چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی لکھتے ہیں :

و جائز ست مرایشان را دخول مکہ و دخول ارضِ حرم بغیر احرام چون ارادہ نداشتہ باشد حج و عمرہ را (267)

یعنی، ان کو مکہ مکرمہ یا زمینِ حرم میں بلا احرام داخلہ جائز ہے جبکہ وہ حج اور عمرہ کا ارادہ نہ رکھتے ہوں ۔ اور صدرُ الشریعہ محمد امجد علی حنفی متوفی 1367ھ لکھتے ہیں : مکہ والے اگر کسی کام سے بیرونِ حرم جائیں تو انہیں واپسی کے لئے احرام کی حاجت نہیں اور میقات سے باہر جائیں تو اب بغیر احرام کے واپس آنا انہیں جائز نہیں (عالمگیری (268))۔ (269) لہٰذا صورت مسؤلہ میں زائر کا نفلی عمرہ کی غرض سے احرام باندھنا جائز ہے بلکہ افضل ہے اور اگر کسی عذر کی بناء پر یا بلاعذر احرام نہیں باندھتا تو اُسے رُخصت ہے کیونکہ اُس پر احرام واجب نہیں جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں مذکور ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الخمیس، 23ذی القعدۃ1427ھ، 14دیسمبر 2006م (291-F)

حوالہ جات

265۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول در بیان احرام، فصل دویم دربیان مواقیت احرام حج وغیرہ، ص62

266۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول در بیان احرام، فصل دویم در بیان مواقیت احرام حج وغیرہ، ص58

267۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول در بیان احرام، فصل دویم در بیان مواقیت احرام حج وغیرہ، ص 60

268۔ الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب المناسک، الباب الثانی فی المواقیت، 1/221

اس میں صرف مکی کے حل کو نکل کر بغیر احرام واپس آنے کا ذکر ہے ۔

269۔ بہارِ شریعت ، حج کابیان،میقات کا بیان، 1/1068۔1069

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button