ARTICLES

منیٰ کی راتیں مکہ میں گزارنے والے کا حکم

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کچھ لوگ جب مزدلفہ سے اتے ہیں رمی کے بعد یاقربانی کے بعد یا قربانی کا انتظار کئے بغیر مکہ مکرمہ چلے جاتے ہیں اور وہیں رہتے ہیں ، صرف رمی کے لئے منیٰ اتے ہیں پھر چلے جاتے ہیں اور اس طرح کرنے والوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جو بظاہر بڑے دیندار نظر اتے ہیں اور بعض علم والے کہلاتے ہیں ۔ اب شرع مطہرہ میں ایسے لوگوں کے لئے کیا حکم ہے ؟

(السائل : عبد اللہ، کراچی)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں ایسے لوگ سنت موکدہ کا خلاف کر کے اسائت کے مرتکب ہوتے ہیں چنانچہ امام شمس الدین ابو بکر محمد بن احمد سرخسی حنفی متوفی 490ھ لکھتے ہیں :

قال : و ان الذی اتی مکۃ لطواف الزیارۃ بات بہا فنام متعمدا او فی الطریق فقد اسائ، و لیس علیہ شی الا الاساء ۃ، لما روی ان عمر رضی اللہ عنہ کان یودب الناس علی ترک المقام بمنًی فی لیالی الرمی، و لٰکن لیس علیہ شی عندنا (53)

یعنی، بے شک وہ جو مکہ مکرمہ طواف زیارت کے لئے ائے وہیں رات گزارے ، وہیں یاراستے میں جان بوجھ کر سو جائے تو اس نے اسائت کی اور اس پر کچھ نہیں ہے سوائے اسائت کے ، اس لئے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپ لوگوں کو رمی کی راتیں منیٰ میں قیام ترک کرنے (یعنی قیام نہ کرنے ) پر تادیب کرتے ہیں ، لیکن ہمارے نزدیک اس شخص پر کچھ (دم یا صدقہ) لازم نہیں ہے (سوائے اسائت کے )۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الخمیس، 14 شوال المکرم 1434ھ، 22 اغسطس 2013 م 857-F

حوالہ جات

53۔ المبسوط للسرخسی، کتاب المناسک قبل باب القران، 2/4/22

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button