ARTICLESشرعی سوالات

منیٰ میں غسل کی صورت

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر حیض کا اختتام منیٰ میں ہو تو عام روٹین میں عورت کو اسی وقت نہانا ہوتا ہے وہاں غسل خانوں کی نوعیت کے پیش نظر عورت کیا کرے ؟

(السائل : خواتین از لبیک حج گروپ، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : منیٰ ، عرفات یا مزدلفہ میں ادا کئے جانے والے مناسکِ حج میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو حالتِ حیض میں یا حیض ختم ہونے کے بعد غسل نہ کرنے کی حالت میں ادا نہ ہو سکے اور نماز کی ادائیگی حالتِ حیض میں ویسے ہی ممنوع ہے اور حیض کے ختم ہونے کے بعد نماز ادا کرنے کے لئے عورت پر فرض ہے کہ وہ غسل کرے کیونکہ بغیر غسل کے نماز نہ ہو گی اور وہاں موجود غسل خانوں میں غسل کیا جا سکتا ہے صرف نماز کے اوقات میں رش ہوتا ہے دیگر اوقات میں بھیڑ نہیں ہوتی اور جہاں تک غسل خانوں میں بدن یا کپڑوں کے ناپاک ہونے کا احتمال ہے تو اس کے لئے غسل سے قبل غسل خانے کو پانی سے دھو لیا جائے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأحد، 4ذوالحجۃ 1427ھ، 24دیسمبر 2006 م (318-F)

حوالہ جات

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button