بہار شریعت

مفقو د الخبر کے متعلق مسائل

مفقو د الخبر کے متعلق مسائل

حدیث ۱: دارقطنی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا مفقود کی عورت جبتک بیان نہ آجائے ( یعنی اسکی موت یا طلاق نہ معلوم ہو)اسی کی عورت ہے ۔

حدیث۲: عبدالرزاق نے اپنے مصنف میں روایت کی کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے مفقود کی عورت کے متعلق فرمایا کہ وہ ایک عورت ہے جو مصیبت میں مبتلا کی گئی اس کو صبر کرنا چاہیے جب تک موت یا طلاق کی خبر نہ آئے۔اور

حدیث۳: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی ایسا ہی مروی ہے کہ اس کو ہمیشہ انتظار کرنا چاہئے ۔ اور ابوقلابہ وجابر بن یزیدو شعبی و ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالی عنہم کا بھی یہی مذہب ہے ۔

مسائل فقہیہ

مفقود اسے کہتے ہیں جس کا کوئی پتا نہ ہو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ زندہ ہے یا مرگیا۔

مسئلہ۱: مفقود خود اپنے حق میں زندہ قرار پائیگا لہذا اس کا مال تقسیم نہ کیا جائے اور اسکی عورت نکاح نہیں کرسکتی اور اس کا اجارہ فسخ نہ ہوگااور قاضی کسی شخص کو وکیل مقرر کردیگا کہ اسے کے اموال کی حفاظت کرے اور اسکی جائداد کی آمدنی وصول کرے اور جن دیون کا قرضداروں نے خود اقرار کیا ہے انھیں وصول کرے اور اگروہ شخص اپنی موجود گی میں کسی شخص کو ان امور کے لئے وکیل مقرر کرگیا ہے تو یہی وکیل سب کچھ کرے گا قاضی کو بلا ضرورت دوسر ا وکیل مقرر کرنے کی حاجت نہیں ۔( درمختار)

مسئلہ۲: قاضی نے جسے وکیل کیا ہے اسکا صرف اتنا ہی کام ہے کہ قبض کرے اور حفاظت میں رکھے مقدمات کی پیروی نہیں کرسکتا یعنی اگر مقفود پر کسی نے دین ودیعت کا دعوی کیا یااسکی کسی چیز میں شرکت کا دعوی کرتا ہے تو یہ وکیل جوابدہی نہیں کرسکتا اور نہ خود کسی پر دعوی کرسکتا ہے ہاں اگر ایسا دین ہو جو اسکے عقد سے لازم ہواہو تو اس کا دعوی کرسکتا ہے ۔( ہدایہ‘ درمختار)

مسئلہ۳: مفقود کامال جسکے پاس امانت ہے یا جس پر دین ہے یہ دونوں خود بغیر حکم قاضی ادا نہیں کرسکتے اگر امین نے خود دیدیا تو تاوان دینا پڑیگا اور مدیوں نے دیا تو دین سے بری نہ ہوا بلکہ پھر دینا پڑیگا ۔( بحرالرائق)

مسئلہ۴: مفقود پر جن لوگوں کا نفقہ واجب ہے یعنی اسکی زوجہ اور اصول و فروع ان کو نفقہ اسکے مال سے دیا جائیگا یعنی روپیہ اور اشرفی یا سونا چاندی جو کچھ گھر میں ہے یا کسی کے پاس امانت یا دین ہے ان سے نفقہ دیا جائے اور نفقہ لے لئے جائداد منقولہ یا غیر منقولہ بیچی نہ جائے ہاں اگر کوئی ایسی چیز ہے جس کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے تو قاضی اسے بیچ کر ثمن محفوظ رکھے گا اور اب اس میں سے نفقہ بھی دیا جاسکتا ہے ۔( عالمگیری ‘درمختار‘ ردالمحتار)

مسئلہ۵: مفقود اور اسکی زوجہ میں تفریق ا س وقت کی جائیگی کہ جب ظن غالب یہ ہو جائے کہ وہ مرگیا ہوگا اور اسکی مقدار یہ ہے کہ اسکی عمر سے ستر ۷۰ برس گزرجائیں اب قاضی اسکی موت کا حکم دیگا اور عورت عدت وفات گزار کر نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے اور جو کچھ املاک ہیں ان لوگوں پر تقسیم ہونگے جو اس وقت موجود ہیں ۔ ( فتح القدیر)

مسئلہ۶: دوسروں کے حق میں مفقود مردہ ہے یعنی اس زمانہ میں کسی کا وارث نہیں ہوگا مثلاً ایک شخص کی دو لڑکیا ہیں اور ایک لڑکا اور اسکے بھی بیٹے اور بیٹیا ں ہیں لڑکا مفقود ہو گیا اسکے بعد وہ شخص مرا تو آدھامال لڑکیوں کو دیا جائے اور آدھا محفوظ رکھا جائے اگر مفقود آجائے تو یہ نصف اسکا ہے ورنہ حکم موت کے بعد اس نصف کی ایک تہائی مفقود کی بہنوں کو دیں اور دوتہائیاں مفقود کی اولاد پر تقسیم کریں ۔( فتح القدیر)

یعنی دوسروں کے اموال لینے کے لئے مفقود مردہ تصور کیا جائے مورث کے موت کے وقت جو لوگ زندہ تھے وہی وارث ہونگے مفقود کو وارث قرار دیکر اسکے ورثہ کو وہ اموال نہیں ملیں گے ۔( درمختار) یہ اسوقت ہے کہ جب سے گم ہوا ہے اسکا اب تک کوئی پتہ نہ چلا ہو اور اگر درمیان میں کبھی اسکی زندگی کاعلم ہوا ہے تو اس وقت سے پہلے جو لوگ مرے ہیں ان کا وارث ہے بعد میں جو مریں گے ان کا وارث نہیں ہوگا۔( بحرالرائق)

مسئلہ۷: مفقود کے لئے کوئی شخص وصیت کرکے مرگیا تو مال وصیت محفوظ رکھا جائے اگر آگیا تو اسے دیں دے ورنہ موصی کے ورثہ کو دینگے اسکے وارث کو نہیں ملے گا ۔( درمختار)

مسئلہ۸: مفقود اگر کسی وارث کا حاجب ہو تو اس محجوب کو کچھ نہ دینگے بلکہ محفوظ رکھیں گے مثلاًمفقود کا باپ مرا تو مفقود کے بیٹے محجوب ہیں اور اگر مفقود کی وجہ سے کسی کے حصہ میں کمی ہوتی ہے تو مفقود کو زندہ فرض کرکے سہام نکالیں پھر مردہ فرض کرکے نکالیں دونوں میں جو کم ہو وہ موجود کو دیا جائے اور باقی محفوظ رکھا جائے ۔ ( درمختار)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button