دیدار باری تعالی

معراج اخروی معاملہ کیسے ہے؟

معراج دنیاوی معاملہ نہیں بلکہ اخروی معاملہ ہے تو پھر یہ کیوں کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دنیا میں اللہ رب العزت کا دیدار فرمایا؟

ایک مضمون میں ہے کہ معراج دنیاوی معاملہ نہیں بلکہ اخروی معاملہ ہے تو پھر یہ کیوں کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دنیا میں اللہ رب العزت کا دیدار فرمایا؟

جواب:

 اس سے مراد یہ ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  دنیاوی زندگی (یعنی اپنی ظاہری حیات) میں اللہ تعالی کے دیدار  سے مشرف ہوئے۔  علامہ محمد الامیر السنباوي المالکی (وفات: 1232ھ) رحمہ اللہ اتحاف المرید شرح جوھرۃ التوحید کے حاشیہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”ان قلت: انہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کان فوق السماء السابعۃ  ولیس من الدنیا ۔ قلت: المراد: انہ راہ زمن وجود الدنیا لا فی مکانھا“ ترجمہ: اگر تم پوچھو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تو  ساتوں آسمانوں سے بھی پرے تھے ، دنیا میں نہیں تھے۔ تو میں کہتا ہوں: اس سے مراد یہ ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے زمانہ دنیا میں اللہ عزوجل کا دیدار فرمایا نہ کہ مقام دنیا میں۔

(حاشیہ الامیر علی اتحاف المرید شرح   جوھرۃ التوحید، جلد2، صفحہ 174، دار التقوی، دمشق)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button