ARTICLES

معذور شرعی طواف زیارت کیسے کرے ؟

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی کا انتوں کے مرض کے باعث وضو نہ رہتا ہواور ایساشخص وضووغسل کرنے کے بعدگھر سے طواف زیارت کے لئے نکلے اوراس کا وضو راستے ہی میں ٹوٹ جائے تو کیا مسجدحرام جانے سے پہلے کیاجانے والا وضو ’’طواف زیارت‘‘ کی ادائیگی کے لئے کفایت کرے گا؟اور اگر نہیں تو ایسے ادا کئے ہوئے طواف کا کیا حکم ہے ؟

(السائل : حافظ بلال قادری)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ۔صورت مسؤلہ میں سب سے پہلے معذور شرعی کی تعریف سمجھنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی کو ایسی بیماری لاحق ہوکہ پورا ایک وقت گزر جائے لیکن وہ وضو کرکے فرض نماز ادانہ کر سکے ۔ چنانچہ صدر الشریعہ محمدامجدعلی اعظمی حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں :

ہروہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری ہے کہ ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وضو کے ساتھ نماز فرض ادا نہ کرسکا وہ معذور ہے ۔(14)

لہٰذا اگر سوال میں مذکور مریض پرمعذور کی تعریف صادق اتی ہے تو شرعا معذور ہے اور معذور افراد استحاضہ والی عورت کے حکم میں ہیں ۔ چنانچہ علامہ ابو الاخلاص حسن بن عمارشرنبلالی حنفی متوفی1069ھ لکھتے ہیں :

عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی فسائر ذوی الاعذار فی حکم المستحاضۃ۔(15)

یعنی،امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تمام عذر والے مستحاضہ کے حکم میں ہیں ۔ اور استحاضہ والی عورت کے لئے حکم یہ ہے کہ اسے ہر فرض نماز کاوقت نکلنے پر وضوکرناہوتاہے ۔ چنانچہ امام ابی الحسین احمد بن محمد قدوری حنفی متوفی428ھ لکھتے ہیں :

والمستحاضۃ ومن بہ سلس البول، والرعاف الدائم والجرح الذی لا یرقا یتوضؤن لوقت کل صلاۃ فیصلون بذٰلک الوضوء فی الوقت ما شائ وا من الفرائض والنوافل۔(16)

یعنی،مستحاضہ اورجسے پیشاب کا قطرہ اتا ہو اوردائمی نکسیر اور ایسا زخم ہو کہ جو نہ ٹھہرتاہو(بلکہ بہتا رہتا ہو) وہ ہر نماز کے وقت کے لیے وضو کریں گے پس وہ اسی وضو سے وقت میں فرائض و نوافل سے جوچاہیں نماز پڑھیں گے ۔ واضح رہے کہ اگر کوئی شخص معذور شرعی ہو تو اس کا وضو اس سبب سے نہ جائے گاکہ جس سبب سے معذور ہے لہٰذا اگراس عذر کے علاوہ نواقض وضو میں کوئی ناقض پایا تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ چنانچہ صدر الشریعہ
محمدامجدعلی اعظمی حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : معذورکا وضو اس چیز سے نہیں جاتا جس کے سبب معذور ہے ،ہاں اگر کوئی دوسری چیزوضو توڑنے والی پائی گئی تو وضو جاتا رہا۔ مثلا جس کو قطرے کا مرض ہے ، ہوا نکلنے سے اس کا وضو جاتا رہے گا اور جس کو ہوا نکلنے کا مرض ہے ، قطرے سے وضو جاتا رہے گا۔(17) لہٰذا سوال میں ذکر کردہ شخص اگر شرعا معذور ہے تو پہلا وضو کفایت کرے گااور اگر وہ شرعا معذور نہ ہو تواس پر دم لازم ہوگاالبتہ اسے طواف کا اعادہ کرنا اس وقت تک مستحب ہے جب تک کہ وہ مکہ مکرمہ میں ہے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی 993 ھ اورملا علی بن سلطان قاری حنفی متوفی1014ھ لکھتے ہیں :

(ولو طاف للزیارۃ کلہ او اکثرہ محدثا، فعلیہ شاۃ،وعلیہ الاعادۃ استحبابا)ای ما دام مکۃ(وقیل : حتما)ای بناء علی مافی بعض
نسخ’’المبسوط‘‘من ان علیہ ان یعیدہ،والاول اصح۔(18)

یعنی،اگر کسی نے مکمل یا اکثرطواف زیارت بے وضو کیاتو اس پر بکری قربان کرنا لازم ہے اور اس پر اعادہ کرنا مستحب ہے یعنی جب تک کہ وہ مکہ مکرمہ میں ہے اور کہا گیاکہ اعادہ کرنا لازمی ہے بناء کرتے ہوئے اس پر جو ’’مبسوط‘‘کے بعض نسخوں میں ہے کہ بے شک اس پر اعادہ کرنا لازم ہے اوراول زیادہ صحیح ہے ۔ اور اگر ایسا شخص ایام نحر یا ایام نحر کے بعداس کا اعادہ کرلیتا ہے توبھی اس سے دم ساقط ہوجائے گا۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی 993 ھ اورملا علی بن سلطان قاری حنفی متوفی1014ھ لکھتے ہیں :

(فان اعادہ سقط عنہ الدم،سواء اعادہ فی ایام النحر او بعدھا،ولا شیء علیہ للتاخیر)،لان النقصان فیہ یسیر،بخلاف الجنب حیث یجب فیہ علیہ الدم للتاخیر،ولاشیء علیہ ھھناللتاخیر۔(19)

یعنی، پس اگر وہ اس کا اعادہ کرلے گا تو اس سے دم ساقط ہوجائے گابرابر ہے کہ اس کا اعادہ ایام نحر میں کیا ہویاایام نحرکے بعد ،اور اس پر تاخیر کی وجہ سے کچھ لازم نہ ہوگاکیونکہ بے وضو کرنے میں نقص کم ہے بخلاف جنبی علیہ الصلوۃ و السلام کے اس حیثیت سے کہ جنابت کی حالت میں کرنے کی بناء پر تاخیر کی وجہ سے دم لازم اتا ہے اور یہاں بے وضو کرنے والے پر تاخیر کی وجہ سے کچھ لازم نہ ہوگا۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

یوم الاحد،8ربیع الاخر1440ھ۔15دسمبر2018م FU-65

حوالہ جات

(14) بہارشریعت،کتاب الطہارۃ،وضوکابیان،استحاضہ کا احکام،1/385

(15)مراقی الفلاح،کتاب الطھارۃ،باب الحیض والنفاس والاستحاضۃ،تحت قولہ : لوقت کل فرض،ص : 61،مطبوعۃ : دار الکتب العلمیۃ، بیروت،الطبعۃ الاولیٰ : 1415۔1995م

(16)مختصر القدوری،کتاب الطھارۃ،طھارۃ المستحاضۃ،ص57

(17)بہارشریعت،کتاب الطہارۃ،وضوکابیان،استحاضہ کا احکام،1/386۔387

(18) لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط،باب الجنایات وانواعھا،النوع الخامس : الجنایات فی افعال الحج،فصل فی حکم الجنایات فی طواف الزیارۃ، ص490

(19) لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط،باب الجنایات وانواعھا،النوع الخامس : الجنایات فی افعال الحج،فصل فی حکم الجنایات فی طواف الزیارۃ، ص490۔491

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button