ARTICLESشرعی سوالات

مطاف میں نمازی کے آگے سے گزرنا

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مطاف میں نمازی نماز پڑھ رہے ہوں اُن کے آگے سے طواف کی تو اجازت ہے مگر ویسے گزرنے کا حکم کیا ہے ؟

(السائل : محمدعرفان وقاری، کراچی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : فقہاء کرام نے مطاف میں نماز پڑھنے والے کے آگے سے گزرنے کے جواز کی تصریح فرمائی ہے ، چنانچہ سید محمد ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

وقال ثم رأیت فی ’’البحر العمیق‘‘ حکی عز الدین بن جماعۃ عن ’’مشکلات الآثار للطحاوی‘‘ : أن المرور بین یدی المصلی بحضرۃ الکعبۃ یجوز، قلت : و ہذا فرع غریب فلیحفظ (178)

یعنی، میں نے ’’بحر العمیق‘‘ میں دیکھا ، ’’مشکلات الآثار للطحاوی ‘‘ سے عز الدین بن جماعہ سے روایت ہے : کعبہ میں نمازی کے آگے سے گزرنا جائز ہے ، میں کہتا ہوں : یہ فرع غریب ہے چاہئے کہ اسے یاد رکھے ۔ اورعلامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی کے فرزند علامہ سید علاؤ الدین ابن عابدین شامی لکھتے ہیں :

و لا یمنع المارّ، من الطائفین بین یدی المصلّی، و کذا لا یمنع مطلق مارٍّ بین یدی المصلی بحضرۃ الکعبۃ، و یجوز المرور بین یدی المصلی بحضرۃ الکعبۃ (179)

یعنی، طواف کرنے والوں میں سے نمازی کے سامنے سے گزرنے سے نہ روکا جائے اور اسی طرح کعبہ کے سامنے نماز پڑھنے کے آگے سے مطلق گزرنے والے کو نہ روکا جائے اور کعبہ کے سامنے نماز پڑھنے والے کے آگے سے گزرنا جائز ہے ۔ اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضرت علامہ محمد سلیمان اشرف لکھتے ہیں : یہ مسئلہ کہ نمازیوں کے آگے سے گزرنا گناہ نہیں بلکہ جائز ہے صرف حرم بیت اللہ کے ساتھ مخصوص ہے ۔ (180) اور دوسرے مقام پر ’’رد المحتار‘‘ کی یہ عبارت نقل فرمائی ہے :

إن المرور بین یدی المصلّٰی بحضرۃ الکعبۃ یجوز (181)

یعنی، کعبہ میں نمازی کے آگے سے گزرنا جائز ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الإثنین، 22شوال المکرم 1427ھ، 14نوفمبر 2006 م (243-F)

حوالہ جات

178۔ رد المحتار،کتاب الح، مطلب : عدم منع المارّ بین یدی المصلّی عند الکعبۃ، 3/589

179۔ الہدیۃ العلائیۃ، أحکام الحج، ص201

180۔ الحج، مصنفہ محمد سلیمان اشرف، طواف میں نمازی کے سامنے سے گزرنا، ص92

181۔ الحج، مصنّفہ محمد سلیمان اشرف، بعد طواف مقامِ ابراہیم پر دو رکعت واجب، ص95

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button