بہار شریعت

مصارف زکوۃ

مصارف زکوۃ

مال زکوۃ کن لوگوں پر صرف کیا جائے

اللہ عزوجل فرماتا ہے:۔

متعلقہ مضامین

انما الصدقات للفقرآئ والمسکین والعملین علیھا والمئولفۃ قلوبھم وفی الرقاب والغرمین وفی سبیل اللہ وابن السبیل فریضۃً من اللہ ط واللہ علیمٌ حکیمٌ۔

(صدقات فقراء و مساکین کے لئے ہیں اور انکے لئے جو اس کام پر مقرر ہیں اور وہ جن کے قلوب کی تالیف مقصود ہے اور گردن چھڑانے میں اور تاوان والے کے لئے اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کے لئے یہ اللہ کی طرف سے مقرر کرنا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

حدیث ۱: سنن ابودائود میں زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے صدقات کو نبی یا کسی اور کے حکم پر نہیں رکھا بلکہ اس نے خود اس کا حکم بیان فرمایا اور اس کے آٹھ حصے کئے۔

حدیث ۲: امام احمد و ابودائود و حاکم ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غنی کے لئے صدقہ حلال نہیں مگر پانچ شخص کے لئے (۱) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا یا (۲) صدقہ پر عامل یا (۳) تاوان والے کیلئے یا (۴) جس نے اپنے مال سے خرید لیا ہو یا (۵) مسکین کو صدقہ دیا گیا اور اس مسکین نے اپنے پڑوسی مالدار کو ہدیہ کیا اور احمد و بیہقی کی دوسری روایت میں مسافر کے لئے بھی جواز آیا ہے۔

حدیث ۳: بیہقی نے حضرت مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ فرمایا صدقہ مفروضہ میں اولاد اور والد کا حق نہیں ۔

حدیث ۴: طبرانی کبیر میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی کہ حضور نے فرمایا اے بنی ہاشم تم اپنے نفس پر صبر کرو کہ صدقات آدمیوں کے دھوون ہیں ۔

حدیث ۵تا۷: امام احمد و مسلم مطلب بن ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور نے فرمایا آل محمد ﷺ کے لئے صدقہ جائز نہیں کہ یہ تو آدمیوں کے میل ہیں اور ابن سعد کی روایت امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے کہ حضور نے فرمایا اللہ تعالی نے مجھ پر اور میری اہل بیت پر صدقہ حرام فرمایا اور ترمذی و نسائی و حاکم کی روایت ابو رافع رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے کہ حضور نے فرمایا ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں اور جس قوم کا آزاد کردہ غلام ہو وہ انہیں میں سے ہے۔

حدیث ۸: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے صدقہ کا خرما لے کر منہ میں رکھ لیا۔ اس پر حضور اقدس ﷺ نے فرمایا چھی چھی کہ اسے پھینک دیں پھر فرمایا کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے۔ طہمان وبہز بن حکیم و براء و زید بن ارقم و عمر بن خارجہ و سلمان وعبدالرحمن بن ابی لیلی و میمون و کسان و ہرمزو خارجہ بن عمر و مغیرہ و انس وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہم سے بھی روایتیں ہیں کہ اہل بیت کے لئے صدقات ناجائز ہیں ۔

مسئلہ ۱: زکوۃ کے مصارف سات ہیں :۔

(۱) فقیر (۲) مسکین (۳) عامل (۴) رقاب (۵) غارم (۶) فی سبیل اللہ (۷) ابن سبیل۔ (درمختار ج ۲ ص ۷۹،۴۸)

مسئلہ ۲: فقیر وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ ہو مگر نہ اتنا کہ نصاب کو پہنچ جائے یا نصاب کی قدر ہو تو اس کی حاجت اصلیہ میں مستغرق ہو مثلاً رہنے کا مکان پہننے کے کپڑے خدمت کے لئے لونڈی، غلام۔ علمی شغل رکھنے والے کو دینی کتابیں جو اس کی ضرورت سے زیادہ نہ ہوں جس کے متعلق مسائل گزرا یونہی اگر مدیون ہے اور دین نکالنے کے بعد نصاب باقی نہ رہے تو فقیر ہے اگرچہ اس کے پاس ایک تو کیا کئی نصابیں ہوں ۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۸۰)

مسئلہ ۳: فقیر اگر عالم ہو تو اسے دینا جاہل کو دینے سے افضل ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۷) مگر عالم کو دے تو اس کا لحاظ رکھے کہ اس کا اعزاز مدنظر ہو ادب کے ساتھ دے جیسے چھوٹے بڑوں کو نذر یتے ہیں اور معاذاللہ عالم دین کی حقارت اگر قلب میں آئی تو یہ ہلاکت اور بہت سخت ہلاکت ہے۔

مسئلہ ۴: مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو یہاں تک کہ کھانے اور بدن چھپانے کے لئے اس کا محتاج ہے کہ لوگوں سے سوال کرے اور اسے سوال حلال ہے فقیر کو سوال ناجائز کہ جس کے پاس کھانے اور بدن چھپانے کو ہو اسے بغیر ضرورت و مجبوری سوال حرام ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۸،۱۸۷)

مسئلہ ۵: عامل وہ ہے جسے بادشاہ اسلام نے زکوۃ اور عشر وصول کرنے کے لئے مقرر کیا اسے کام کے لحاظ سے اتنا دیا جائے کہ اس کو اور اس کے مددگاروں کا متوسط طور پر کافی ہو مگر اتنا نہ دیا جائے کہ جو وصول کر لایا ہے اس کے نصف سے زیادہ ہو جائے۔ (درمختار ج ۲ ص ۸۰،۸۱ وغیرہ)

مسئلہ ۶: عامل اگرچہ غنی ہو اپنے کام کی اجرت لے سکتا ہے اور ہاشمی ہو تو اس کو مال زکوہ میں سے دینا بھی ناجائز اور اسے لینا بھی ناجائز ہاں اگر کسی اور مد سے دیں تو لینے میں حرج بھی نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۸)

مسئلہ ۷: زکوۃ کا مال عامل کے پاس سے جاتا رہا تو اب اسے کچھ نہ ملے گا مگر دینے والوں کی زکوتیں ادا ہو گئیں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۸۰،۸۱)

مسئلہ ۸: کوئی شخص اپنے مال کی زکوۃ خود لے کر بیت المال میں دے آیا تو اس کا معاوضہ عامل نہیں پائے گا۔(عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۸)

مسئلہ ۹: وقت سے پہلے معاوضہ لے لیا یا قاضی نے دے دیا یہ جائز ہے مگر بہتر یہ ہے کہ پہلے نہ دیں اور اگرپہلے دیا اور وصول کیا ہوا مال ہلاک ہو گیا تو ظاہر ہے یہ واپس نہ لیں گے۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۸۱)

مسئلہ ۱۰: رقاب سے مراد مکاتب غلام کو دینا کہ اس مال زکوۃ سے بدل کتابت ادا کرے اور غلامی سے اپنی گردن رہا کرے۔ (عامہ کتب، عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۸)

مسئلہ ۱۱: غنی کے مکاتب کو بھی مال زکوۃ دے سکتے ہیں اگرچہ معلوم ہے کہ یہ غنی کا مکاتب ہے۔ مکاتب پورا بدل کتابت ادا کرنے سے عاجز ہو گیا اور پھر بدستور غلام ہو گیا تو جو کچھ اس نے مال زکوۃ لیا ہے اس کا مولی تصرف میں لا سکتا ہے اگرچہ غنی ہو ۔ (درمختار ج۲ ص ۸۲)

مسئلہ ۱۲: مکاتب کو جو زکوۃ دی گئی وہ غلامی سے رہائی کے لئے ہے مگر اسے اختیار ہے دیگر مصارف میں بھی خرچ کر سکتا ہے اگر مکاتب کے پاس بقدر نصاب مال ہے اور بدل کتابت سے بھی زیادہ ہے جب بھی زکوۃ دے سکتے ہیں مگر ہاشمی کے مکاتب کو زکوۃ نہیں دے سکتے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۸، ردالمحتار ج ۲ ص ۸۲)

مسئلہ ۱۳: غارم سے مراد مدیون ہے یعنی اس پر اتنا دین ہو کہ اسے نکالنے کے بعد نصاب باقی نہ رہے اگرچہ اس کا اوروں پر باقی ہو مگر لینے پر قادر نہ ہو مگر شرط یہ ہے کہ مدیون ہاشمی نہ ہو۔ (درمختار ج ۲ ص ۸۳ وغیرہ)

مسئلہ ۱۴: فی سبیل اللہ یعنی راہ خدا میں خرچ کرنا اس کی چند صورتیں ہیں مثلاً کوئی شخص محتاج ہے کہ جہاد میں جانا چاہتا ہے سواری اور زاد راہ اس کے پاس نہیں تو اسے مال زکوۃ دے سکتے ہیں کہ یہ راہ خدا میں دینا ہے اگرچہ وہ کمانے پر قادر ہو یا کوئی حج کو جانا چاہتا ہو اور اس کے پاس مال نہیں اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں مگر اس کو حج کے لئے سوال کرنا جائز نہیں ۔ یا طالب علم کہ علم دین پڑھتا یا پڑھنا چاہتا ہے اسے دے سکتے ہیں کہ یہ بھی راہ خدا میں دینا ہے بلکہ طالبعلم سوال کر کے بھی زکوۃ لے سکتا ہے جب کہ اس نے اپنے آپ کو اسی کام کے لئے فارغ کر رکھا ہو اگرچہ کسب پر قادر ہو یونہی ہر نیک بات میں زکوۃ صرف کرنا فی سبیل اللہ ہے جب کہ بطور تملیک ہو کہ بغیر تملیک زکوۃ ادا نہیں ہو سکتی۔ (درمختار ج ۲ ص ۸۳ وغیرہ)

مسئلہ ۱۵: بہت سے لوگ اپنی زکوۃ اسلامی مدارس میں بھیج دیتے ہیں ان کو چاہیے کہ متولی مدرسہ کو اطلاع دیں کہ یہ مال زکوۃ ہے تاکہ متولی اس مال کو جدا رکھے اور مال میں نہ ملائے اور غریب طلباء پر صرف کرے کسی کام کی اجرت میں نہ دے ورنہ زکوۃ ادا نہ ہو گی۔

مسئلہ ۱۶: ابن السبیل یعنی مسافر جس کے پاس مال نہ رہا زکوۃ لے سکتا ہے اگرچہ اس کے گھر مال موجود ہو مگر اسی قدر جس سے حاجت پوری ہو جائے زیادہ کی اجازت نہیں یونہی اگر مالک نصاب کا مال کسی میعاد تک کے لئے دوسری پر دین ہے۔ اور ہنوز میعاد پوری نہ ہوئی اور اب اسے ضرورت ہے یا جس پر اس کا آتا ہے وہ یہاں موجود نہیں یا موجود ہے مگر نادار ہے یا دین سے منکر ہے اگرچہ یہ ثبوت رکھتا ہوتو ان سب صورتوں میں بقدر ضرورت زکوۃ لے سکتا ہے مگر بہتر یہ ہے کہ قرض ملے تو قرض لے کر کام چلائے۔ (عالمگیری، درمختار) اور دین معجل ہے یا میعاد پوری ہو گئی اور مدیون غنی حاضر ہے اقرار بھی کرتا ہے تو زکوۃ نہیں لے سکتاکہ اس سے لے کر اپنی ضرورت میں صرف کر سکتا ہے لہذا حاجت مند نہ ہوا۔ اور یاد رکھنا چاہیئے کہ قرض جسے عرف میں لوگ دستگردان کہتے ہیں شرعاً ہمیشہ معجل ہوتا ہے کہ جب چاہے اس کا مطالبہ کر سکتا ہے اگرچہ ہزار عہد و پیمان و وثیقہ و تمسک کے ذریعہ سے اس میں میعاد مقرر کی کہ اتنی مدت کے بعد دیا جائے گا اگرچہ یہ لکھ دیا ہو کہ اس میعاد میں پہلے مطالبہ کا اختیار نہ ہو گا اگر مطالبہ کرے تو باطل و نامسموع ہو گا کہ سب شرطیں باطل ہیں اور قرض دینے والے کو ہر وقت مطالبہ کا اختیار ہے۔ (درمختار ج ۲ ص ۸۴ وغیرہ()

مسئلہ ۱۷: مسافر یا اس مالک نصاب نے جس کا اپنا مال دوسرے پر دین ہے بوقت ضرورت مال زکوۃ بقدر ضرورت لیا پھر اپنا مال مل گیا مثلاً مسافر گھر پہنچ گیا یا مالک نصاب کا دین وصول ہو گیا تو جو کچھ زکوۃ کاباقی ہے اب بھی اپنے صرف میں لا سکتا ہے۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۸۴)

مسئلہ ۱۸: زکوۃ دینے والے کو اختیار ہے کہ ان ساتوں قسموں کو دے یا ان میں کسی ایک کو دے دے خواہ ایک قسم کے چند اشخاص کو یا ایک کو اور مال زکوۃ اگر بقدر نصاب نہ ہو تو ایک کو دینا افضل ہے اور ایک شخص کو بقدر نصاب دے دینامکروہ ہے مگر دے دیا تو ادا ہو گئی۔ ایک شخص کو بقدر نصاب دینا مکروہ اس وقت ہے کہ وہ فقیر مدیون نہ ہو اور مدیون ہو تو اتنا دے دینا کہ دین نکال کر کچھ نہ بچے یا نصاب سے کم بچے مکروہ نہیں ۔ یونہی اگر وہ فقیر بال بچوں والا ہے کہ اگرچہ نصاب یا زیادہ ہے مگر اہل و عیال پر تقسیم کریں تو سب کو نصاب سے کم ملتا ہے تو اس صورت میں بھی حرج نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۸)

مسئلہ ۱۹: زکوۃ ادا کرنے میں یہ ضرور ہے کہ جسے دیں مالک بنا دیں ، اباحت کافی نہیں لہذا مال زکوۃ مسجد میں صرف کرنا یا اس سے میت کو کفن دینا یا میت کا دین ادا کرنا یا غلام آزاد کرنا، پل، سرا، سقایہ، سڑک بنوا دینا، نہر یا کنواں کھدوانا ان افعال میں خرچ کرنا یا کتاب وغیرہ کوئی چیز خرید کر وقف کر دینا ناکافی ہے ۔(جوہرہ، عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۸، تنویر ج ۲ ص ۸۵)

مسئلہ ۲۰: فقیر پر دین ہے اس کے کہنے سے مال زکوۃ سے ادا کیا گیا زکوۃ ادا ہو گئی اور اگر اس کے حکم سے نہ ہو تو زکوۃ ادا نہ ہوئی اور اگر فقیر نے اجازت دی مگر ادا سے پہلے مر گیا تو یہ دین اگر مال زکوۃ سے ادا کریں زکوۃ ادا نہ ہو گی۔ (درمختار ج ۲ ص ۸۵) ان چیزوں میں مال زکوۃ صرف کرنے کا حیلہ ہم بیان کر چکے ہیں اگر حیلہ کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ۔

مسئلہ ۲۱: اپنی اصل یعنی ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی وغیرہم جن کی اولاد میں یہ ہے اور اپنی اولاد بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسا، نواسی وغیرہم کو زکوۃ نہیں دے سکتا۔ یونہی صدقۂ فطر و نذر و کفارہ بھی انہیں نہیں دے سکتا۔ رہا صدقۂ نفل وہ دے سکتا ہے بلکہ بہتر ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۸،ر دالمحتار ج ۲ ص ۸۶ وغیرہما)

مسئلہ ۲۲: زنا کا بچہ جو اس کے نطفہ سے ہو یا وہ بچہ کہ اس کی منکوحہ سے زمانہ ٔ نکاح میں پیدا ہوا مگر یہ کہہ چکا کہ میرا نہیں نہیں دے سکتا۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۸۶)

مسئلہ ۲۳: بہو اور داماد اور سوتیلی ماں یا سوتیلے باپ یا زوجہ کی اولاد یا شوہر کی اولاد کو دے سکتا ہے اور رشتہ داروں میں جس کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے اسے زکوۃ دے سکتا ہے جب کہ نفقہ میں محسوب نہ کرے۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۸۶)

مسئلہ ۲۴: ماں باپ محتاج ہوں اورحیلہ کر کے زکوۃ دینا چاہتا ہے کہ یہ فقیر کو دے دے پھر فقیر انہیں دے یہ مکروہ ہے۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۸۷) یونہی حیلہ کر کے اپنی اولاد کو دینا بھی مکروہ ہے۔

مسئلہ ۲۵: اپنے یا اپنی اصل یا فرع یا اپنے زوج یا اپنی زوجہ کے غلام یا مکاتب یا مدبر یا ام ولد یا اس غلام کو جس کے کسی جز کایہ مالک ہو اگرچہ بعض حصہ آزاد ہو چکا ہو زکوۃ نہیں دے سکتا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۹)

مسئلہ ۲۶: عورت شوہر کو شوہر وعورت کو زکوۃ نہیں دے سکتا اگرچہ طلاق بائن بلکہ تین طلاقیں دے چکا ہو جب تک عدت میں ہے اور عدت پوری ہو گئی تو اب دے سکتا ہے ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۸۷)

مسئلہ ۲۷: جو شخص مالک نصاب ہو (جبکہ وہ چیز حاجت اصلیہ سے فارغ ہو یعنی مکان سامان خانہ داری پہننے کے کپڑے، خادم ، سواری کا جانور، ہتھیار،اہل علم کے لئے کتابیں جو اس کے کام میں ہوں کہ یہ سب حاجت اصلیہ سے ہیں اور وہ چیز ان کے علاوہ ہو اگرچہ اس پر سال نہ گزرا ہو اگرچہ وہ مال نامی نہ ہو) ایسے کو زکوۃ دینا جائز نہیں اور نصاب سے مرادیہاں یہ ہے کہ اس کی قیمت دو سو درہم ہو اگرچہ وہ خود اتنی نہ ہو کہ اس پر زکوۃ واجب ہو مثلاً چھ تولے سونا جب د و سو درہم قیمت کا ہو تو جس کے پاس ہے اگرچہ اس پر زکوۃ واجب نہیں کہ سونے کی نصاب۲/۱ ۷ تولے ہے مگر اس شخص کو زکوۃ نہیں دے سکتے یا اس کے پاس تیس بکریاں یا بیس گائیں ہوں جن کی قیمت دو سو درہم ہے تو اسے زکوۃ نہیں دے سکتے اگرچہ اس پر زکوۃواجب نہیں یا اس کے پاس ضرورت کے سوا اسباب ہیں جو تجارت کے لئے بھی نہیں اور دو سو درہم کے ہیں تو اسے زکوۃ نہیں دے سکتے۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۸۸)

مسئلہ ۲۸: صحیح تندرست کو زکوۃ دے سکتے ہے اگرچہ کمانے پر قدرت رکھتا ہو مگر سوال کرنا اسے جائز نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۹ وغیرہ)

مسئلہ ۲۹: جو شخص مالک نصاب ہے اس کے غلام کو بھی زکوۃ نہیں دے سکتے اگرچہ غلام اپاہج ہو اور اس کا مولی کھانے کو بھی نہیں دیتا یا اس کا مالک غائب ہو گیا مگر مالک نصاب کے مکاتب کو اور اس ماذون کودے سکتے ہیں جو خود اور اس کا مال دین میں مستغرق ہو یونہی غنی مرد کے نابالغ بچے کو بھی نہیں دے سکتے اور غنی کی بالغ اولاد کو دے سکتے ہیں جب کہ مالک نصاب نہ ہو یونہی غنی کے باپ کو دے سکتے ہیں جب کہ فقیر ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۹،درمختار ج ۲ ص ۸۹،۹۰)

مسئلہ ۳۰: غنی کی بی بی کو دے سکتے ہیں جب کہ مالک نصاب نہ ہو یونہی غنی کے باپ کو دے سکتے ہیں جبکہ فقیر ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۹)

مسئلہ ۳۱: جس عورت کا دین مہر اس کے شوہر پر باقی ہے اگرچہ وہ بقدر نصاب ہو اگرچہ شوہر مالدار ہو ادا کرنے پر قادر ہو اسے زکوۃ دے سکتے ہیں ۔ (جوہرہ نیرہ)

مسئلہ ۳۲: جس بچہ کی ماں مالک نصاب ہے اگرچہ اس کا باپ زندہ نہ ہو اسے زکوۃ دے سکتے ہیں ۔ (درمختار ج ۲ ص ۹۰)

مسئلہ ۳۳: جس کے پاس مکان یا دکان ہے جسے کرایہ پر اٹھاتا ہے اور اس کی قیمت مثلاً تین ہزار ہو مگر کرایہ اتنا نہیں جو اس کی اور بال بچوں کی خورش کو کافی ہو سکے تو اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں یونہی اس کی ملک میں کھیت ہیں جن کی کاشت کرتا ہے مگر پیداوار اتنی نہیں جو سال بھر کی خورش کافی ہو سکے تو اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں اگرچہ کھیت کی قیمت دوسو درہم یازائد ہو۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۹، ردالمحتار ج ۲ ص ۸۸)

مسئلہ ۳۴: جس کے پاس کھانے کے لئے غلہ ہو جس کی قیمت دو سو درہم اور وہ غلہ سال بھر کو کافی ہے جب بھی اس کو زکوۃ دینا حلال ہے۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۸۸)

مسئلہ ۳۵: جاڑے کے کپڑے جن کی گرمیوں میں حاجت نہیں پڑتی حاجت اصلیہ میں ہیں وہ کپڑے اگرچہ بیش قیمت ہوں زکوۃ لے سکتا ہے۔ جس کے پاس رہنے کا مکان حاجت سے زیادہ ہو یعنی پورے مکان میں اس کی سکونت نہیں یہ شخص زکوۃ لے سکتا ہے۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۸۸)

مسئلہ ۳۶: عورت کو ماں باپ کے یہاں سے جو جہیز ملتا ہے اس کی مالک عورت ہی ہے اس میں دو طرح کی چیزیں ہوتی ہیں ایک حاجت کی جیسے خانہ داری کے سامان پہننے کے کپڑے استعمال کے برتن اس قسم کی چیزیں کتنی ہی قیمت کی ہوں ان کی وجہ سے عورت غنی نہیں دوسری وہ چیزیں جو حاجت اصلیہ سے زائد ہیں زینت کے لئے دی جاتی ہیں جیسے زیور اور حاجت کے علاوہ اسباب اور برتن اور آنے جانے کے بیش قیمت بھاری جوڑے ان چیزوں کی قیمت اگر بقدر نصاب ہے عورت غنی ہے زکوۃ نہیں لے سکتی۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۸۹)

مسئلہ ۳۷: موتی وغیرہ جواہر جس کے پاس ہوں اور تجارت کے لئے نہ ہوں تو ان کی زکوۃ واجب نہیں مگر جب نصاب کی قیمت کے ہوں تو زکوۃ نہیں لے سکتا۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۸۹ وغیرہ)

مسئلہ ۳۸: جس کے مکان میں نصاب کی قیمت کا باغ ہو اور باغ کے اندر ضروریات مکان باورچی خانہ غسل خانہ وغیرہ نہیں تو اسے زکوۃلینا جائز نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۹)

مسئلہ ۳۹: بنی ہاشم کوزکوۃ نہیں دے سکتے۔ نہ غیر انہیں دے سکے نہ ایک ہاشمی دوسرے ہاشمی کو۔ بنی ہاشم حضرت علی و جعفر و عقیل اور حضرت عباس و حارث بن عبدالمطلب کی اولادیں ہیں ۔ ان کے علاوہ جنہوں نے نبی ﷺ کی اعانت نہ کی مثلاً ابو لہب کہ اگرچہ یہ کافر بھی حضرت عبدالمطلب کا بیٹا تھا مگر اس کی اولادیں بنی ہاشم میں شمار نہ ہوں گی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۹)

مسئلہ ۴۰: بنی ہاشم کے آزاد کئے ہوئے غلاموں کو بھی نہیں دے سکتے تو جو غلام ان کی ملک میں ہیں انہیں دینا بطریق اولی ناجانز۔ (درمختار ج ۲ ص ۹۱ وغیرہ، عامہ کتب، عالمگیری ج ۱ ص ۱۸۹)

مسئلہ ۴۱: ماں ہاشمی بلکہ سیدانی ہو اور باپ ہاشمی نہ ہو تو وہ ہاشمی نہیں کہ شرع میں نسب باپ سے ہے۔ لہذا ایسے شخص کو زکوۃ دے سکتے ہیں اگر کوئی دوسرا مانع نہ ہو۔

مسئلہ ۴۲: صدقۂ نفل اور اوقاف کی آمدنی بنی ہاشم کو دے سکتے ہیں خواہ وقف کرنے والے نے ان کی تعیین کی ہو یا نہیں ۔ (درمختار ج ۲ ص ۹۱)

مسئلہ ۴۳: ذمی کافر کو نہ زکوۃ دے سکتے ہیں نہ کوئی صدقۂ واجبہ جیسے نذر و کفارہ و صدقۂ فطر اور حربی کو کسی قسم کا صدقہ دینا جائز نہیں نہ واجبہ نہ نفل اگرچہ وہ دارالاسلام میں بادشاہ اسلام سے امان لے کر آیا ہو۔ (درمختار ج ۲ ص ۹۲) ہندوستان اگرچہ دارالاسلام ہے مگریہاں کے کفار ذمی نہیں انہیں صدقات نفل مثلاً ہدیہ وغیرہ دینا بھی ناجائز ہے۔

فائدہ: جن لوگوں کو زکوۃ دینا ناجائز ہے انہیں اور بھی کوئی صدقۂ واجبہ نذر و کفارہ و فطرہ دینا جائز نہیں سوا دفینہ اورمعدن کے کہ ان کا خمس اپنے والدین و اولاد کو بھی دے سکتے ہیں بلکہ بعض صورت میں خود بھی صرف کر سکتا ہے جس کے متعلق مسائل گزرا۔ (جوہرہ)

مسئلہ ۴۴: جن لوگوں کی نسبت بیان کیا گیا کہ انہیں زکوۃ دے سکتے ہیں ان سب کا فقیر ہونا شرط ہے سوا عامل کے کہ اس کے لئے فقیر ہونا شرط نہیں اور ابن السبیل اگرچہ غنی ہو اس وقت حکم فقیر میں ہے باقی کسی کو جو فقیر نہ ہو زکوۃ نہیں دے سکتے۔ (درمختار ج ۲ ص ۸۸ وغیرہ)

مسئلہ ۴۵: جو شخص مرض الموت میں ہے اس نے زکوۃ اپنے بھائی کو دی اور یہ بھائی اس کا وارث ہے تو زکوۃ عنداللہ ادا ہو گئی مگر باقی وارثوں کو اختیار ہے کہ اس سے اس زکوۃ کو واپس لیں کہ یہ منت کے حکم میں ہے اور وارث کے لئے بغیر اجازت دیگر ورثہ منت صحیح نہیں ۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۸۶)

مسئلہ ۴۶: جو شخص اس کی خدمت کرتا اور اس کے یہاں کے کام کرتا ہے اسے زکوۃ دی یا اس کو دی جس نے خوشخبری سنائی یا اسے دی جس نے اس کے پاس ہدیہ بھیجا یہ سب جائز ہے ہاں اگر عوض کہہ کر دی تو ادا نہ ہوئی۔ بقرعید میں خدام مرد وعورت کو عیدی کہہ کر دی تو ادا ہوگئی۔ (جوہرہ، عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۰)

مسئلہ ۴۷: جس نے تحری کی یعنی سوچا اور دل میں یہ بات جمی کہ اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں اورزکوۃ دے دی بعد میں ظاہر ہوا کہ وہ مصرف زکوۃ ہے یا کچھ حال نہ کھلا تو ادا ہو گئی اور اگر بعد میں یہ معلوم ہوا کہ وہ غنی تھا یا اس کے والدین میں کوئی تھا یا اپنی اولاد تھی یا شوہر تھا یا زوجہ تھی یا ہاشمی یا ہاشمی کا غلام تھا یا ذمی تھا جب بھی ادا ہو گئی اور اگر یہ معلوم ہوا کہ اس کا غلام تھا یا حربی تھا تو ادا نہ ہوئی۔ اب پھر دے اور یہ بھی تحری ہی کے حکم میں ہے کہ اس نے سوال کیا اس نے اسے غنی نہ جان کر دے دیا یا وہ فقیروں کی جماعت میں انہیں کی وضع میں تھا اسے دے دیا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۰، درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۹۲)

مسئلہ ۴۸: اگر بے سوچے سمجھے دے دی یعنی یہ خیال بھی نہ آیا کہ اسے دے سکتے ہیں یا نہیں اور بعد میں معلوم ہوا کہ اسے نہیں دے سکتے تھے تو ادا نہ ہوئی ورنہ ہو گئی اور اگر دیتے وقت شک تھا او تحری نہ کی یا کی مگر کسی طرف دل نہ جما یا تحری کی اور غالب گمان یہ ہوا کہ زکوۃ کا مصرف نہیں اور دے دیا تو ان سب صورتوں میں ادا نہ ہوئی مگر جبکہ دینے کے بعد یہ ظاہر ہوا کہ واقع وہ مصرف زکوۃ تھا تو ہو گئی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۰ وغیرہ)

مسئلہ ۴۹: زکوۃ وغیرہ صدقات میں افضل یہ ہے کہ اولاً اپنے بھائیوں بہنوں کو دے پھر ان کی اولاد کو پھر چچا اور پھوپھیوں کو پھر ان کی اولاد کو پھر ماموں اور خالہ کو پھر ان کی اولاد کو پھر ذوی الارحام یعنی رشتہ والوں کو پھر پڑوسیوں کو پھر اپنے پیشہ والوں کو پھر اپنے شہر یا گائوں کے رہنے والوں کو۔ (جوہرہ، عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۰) حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اے امت محمد قسم ہے اس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا اللہ تعالی اس شخص کے صدقہ کو قبول نہیں فرماتا جس کے رشتہ دار اس کے سلوک کرنے کے محتاج ہوں اور یہ غیروں کو دے قسم ہے اس کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اللہ تعالی اس کی طرف قیامت کے دن نظر نہ فرمائے گا۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۹۳، ۹۴)

مسئلہ ۵۰: دوسرے شہر کو زکوۃ بھیجنا مکروہ ہے مگر جب کہ وہاں اس کے رشتہ والے ہوں تو ان کے لئے بھیج سکتا ہے یا وہاں کے لوگوں کو زیادہ حاجت ہے یا زیادہ پرہیزگار ہیں یا مسلمانوں کے حق میں وہاں بھیجنا زیادہ نافع ہے یا طالب علم کے لئے بھیجے یا زاہدوں کے لئے یا دارالحرب میں ہے اور زکوۃ دارالاسلام میں بھیجے یا سال تمام سے پہلے ہی بھیج دے ان سب صورتوں میں دوسرے شہر کو بھیجنا بلاکراہت جائز ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۰، درمختار ج ۲ ص ۹۳،۹۴)

مسئلہ ۵۱: شہرسے مراد وہ شہر ہے جہاں مال ہو اگرخود ایک شہر میں ہے اور مال دوسرے شہر میں تو جہاں مال ہو وہاں کے فقراء کو زکوۃ دی جائے اور صدقۂ فطر میں وہ شہر مراد ہے جہاں خود ہے اگر خود ایک شہر میں ہے اس کے چھوٹے بچے اور غلام دوسرے شہر میں تو جہاں خود ہے وہاں کے فقراء پر صدقہ فطر تقسیم کرے ۔(جوہرہ، عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۰)

مسئلہ ۵۲: بدمذہب کو زکوۃ دینا جائز نہیں ۔ (درمختار ج ۲ ص ۹۶) جب بدمذہب کا یہ حکم ہے تو وہابیہ زمانہ کہ توہین خدا و تنقیص شان رسالت کرتے اور شائع کرتے ہیں جن کو اکابر علمائے حرمین طیبین نے بالاتفاق کافر و مرتد فرمایا اگرچہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہیں انہیں زکوۃ دینا حرام و سخت حرام ہے اور دی تو ہرگز ادا نہ ہو گی۔

مسئلہ ۵۳: جس کے پاس آج کھانے کو ہے یا تندرست ہے کہ کما سکتا ہے اسے کھانے کے لئے سوال حلال نہیں اور بے مانگے کوئی خود دے تو لینا جائز اور کھانے کو اس کے پاس ہے مگر کپڑا نہیں تو کپڑے کے لئے سوال کر سکتا ہے یونہی اگر جہاد یا طلب علم دین میں مشغول ہے تو اگرچہ صحیح تندرست کمانے پر قادر ہو اسے سوال کی اجازت ہے جسے سوال جائز نہیں اس کے سوال پر دینا بھی ناجائز دینے والا بھی گناہگار ہو گا۔ (درمختار ج ۲ ص ۹۵،۹۶)

مسئلہ ۵۴: مستحب یہ ہے کہ ایک شخص کو اتنا دیں کہ اس دن اسے سوال کی حاجت نہ پڑے اور یہ اس فقیر کی حالت کے اعتبار سے مختلف ہے اس کے کھانے بال بچوں کی کثرت اور دیگر امور کا لحاظ کرکے دے۔ (درمختار ج ۲ ص ۹۳)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button