شرعی سوالات

مشترکہ کاروبار میں تیسرے فریق کو شامل کرنے کا مسئلہ

سوال:

میں نے اپنے بھائی کے ساتھ ایک دکان میں بیڈ شیٹ کا کاروبار کیا اور یہ طے پایا کہ میں چند ماہ بعد مزید رقم اس کارو بار میں ملاؤں گا ۔ اس کام کا ہمیں تجربہ نہیں تھا ،رقم کم پڑی تو ہماری خالہ نے کچھ رقم ادھار دی،  جس سے کاروبار میں بہتری آئی ۔ پھر خالہ نے مزید رقم دیتے ہوئے کاروبار میں شرکت کی خواہش ظاہر کی ۔ اس نئی شرکت میں نفع و نقصان کا تعین تینوں کے درمیان برابر برابر طے پایا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ درست ہے اور کاروبار کے درمیان میں کسی دوسرے کو شریک کیا جا سکتا ہے؟

جواب:

آپ کی خالہ نے آپ کو جو رقم ادھار دی، وہ قرض ہے اور اس کی ادائیگی آپ پر لازم ہے ۔ ایک سے زائد افراد مشارکہ (Partnership) میں اپنے اپنے سرمائے کے ساتھ کاروبار میں شریک بن سکتے ہیں اور اسے شرکت العقد (Contractual Partnership) کہتے ہیں۔ جب آپ نے بھائی کے ساتھ کاروبار میں شرکت کی ،تو آپ دونوں پر لازم تھا کہ اپنے اپنے حصہ شراکت اور کاروبار میں نفع کے تناسب کا تعین کر دیتے ۔ کاروبار کے درمیان میں جب آپ دونوں نے اپنی خالہ کو شر یک کاروبار بنایا تو ضروری تھا کہ اس وقت آپ لوگ دکان میں موجود مال اور مارکیٹ میں واجب الوصول رقوم سب کو ملا کر کا رو بار کی کل مالیت طے کرتے اور اس میں اپنے اپنے حصے کا تعین کرتے اور پھر اس میں خالہ کا حصہ شامل کرتے تا کہ تینوں شرکاء کے حصوں (Shares) کا تعین ہو جا تا ۔ یہ اس لیے کہ خدا نخواستہ نقصان کی صورت میں تمام حصے دار کاروباری سرمائے میں اپنے اپنے حصے کے تناسب سے نقصان برداشت کرتے ہیں ،البتہ کاروبار میں نفع کا تناسب (Proportionate ) پہلے سے طے کرنا ضروری ہے ۔ اور نفع کی تقسیم کے لیے یہ ضروری نہیں کہ سرمائے کے تناسب سے ہو، اس میں کسی کا حصہ زیادہ رکھا جا سکتا ہے مگر نفع کا تناسب بہر حال پہلے سے طے ہونا ضروری ہے ، بعد میں کوئی شخص اپنی کسی خصوصیت کی بنا پر نفع میں زیادتی کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کسی شریک کا کاروبار میں حصہ کم ہو لیکن شرح منافع اسے زیادہ دیا جائے ، کیونکہ وہ کاروبار میں دوسرے شرکاء کے مقابلے میں زیادہ مہارت رکھتا ہے یا دوسرے شرکاء کی بہ نسبت زیادہ وقت دیتا ہے ، تو اس کے لیے شرح منافع زیادہ طے کی جا سکتی ہے ۔

آپ نے جو صورت بیان کی ہے کہ آپ نے اپنی خالہ سے قرض لیا ، اس قرض پر کوئی منافع جائز نہیں ہے ، البتہ ان سے لیے ہوئے قرض کی واپسی آپ پر لازم ہے ۔ جب سے آپ کی خالہ آپ کے ساتھ کاروبار میں شراکت دار بنی ہے تو آپ لوگ سر مائے کے تناسب سے بھی منافع کے حصے مقر ر کر سکتے ہیں اور جیسا کہ گزشتہ سطور میں بیان کیا جا چکا ہے ،آپ کسی حصے دار کا حصہ اس کی کسی خصوصی قابلیت یا مہارت کو پیش نظر رکھتے ہوئے زیادہ بھی مقر ر کر سکتے ہیں مگر یہ سب کچھ پہلے سے طے ہونا چاہیے ۔ جیسا کہ آپ نے لکھا ہے باہمی رضامندی سے نفع نقصان میں برابر کا حصہ بھی مقرر کر سکتے ہیں۔

(تفہیم المسائل، جلد8، صفحہ337،ضیا القران پبلی کیشنز، لاہور)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button