بہار شریعت

مسجد کے متعلق مسائل

مسجد کے متعلق مسائل

مسئلہ ۱: مسجد ہونے کے لئے یہ ضرور ہے کہ بنانے والا کوئی ایسا فعل کرے یا ایسی بات کہے جس سے مسجد ہونا ثابت ہوتا ہو محض مسجد کی سی عمارت بنا دینا مسجد ہونے کے لئے کام نہیں ۔

مسئلہ۲: مسجد بنائی اور جماعت سے نماز پڑھنے کی اجازت دیدی مسجد ہوگئی اگرچہ جماعت میں دوہی شخص ہوں مگر یہ جماعت علی الاعلان یعنی اذان واقامت کے ساتھ ہو ۔اور اگرتنہا ایک شخص نے اذان واقامت کے ساتھ نماز پڑھی اس طرح نماز پڑھنا جماعت کے قائم مقام ہے اور مسجد ہو جائے گی ۔اور اگر خود اس بانی نے تنہا اس طرح نماز پڑھی تو یہ مسجد یت کے لئے کافی نہیں کہ مسجدیت کے لئے نماز کی شرط اس لئے ہے تاکہ عامۂ مسلمین کا قبضہ ہو جائے اور اس کاقبضہ تو پہلے ہی سے ہے عامہ مسلمین کے قائم مقام یہ خود نہیں ہوسکتا ۔(خانیہ‘ فتح القدیر ‘ درمختار‘ ردالمحتار)

مسئلہ ۳: یہ کہا کہ میں نے اس کو مسجد کردیا تو اس کہنے سے بھی مسجد ہو جائے گی ۔(تنویر )

مسئلہ۴: مکان میں مسجد بنائی اور لوگوں کو اس میں آنے اور نماز پڑھنے کی اجازت دیدی اگر مسجد کا راستہ علیحدہ کردیا ہے تو مسجد ہوگئی ۔( عالمگیری)

مسئلہ ۵: مسجد کے لئے یہ ضرور ہے کہ اپنی املاک سے اسکو بالکل جدا کردے اسکی ملک ا س میں باقی نہ رہے لہذا نیچے اپنی دوکانیں ہیں یا رہنے کامکان اور اوپر مسجد بنوائی تو یہ مسجد نہیں ۔یا اوپر اپنی دوکانیں یا رہنے کا مکان اورنیچے مسجد بنوائی تو یہ مسجد نہیں بلکہ اسکی ملک ہے اور اسکے بعد اسکے ورثہ کی اور اگر نیچے کا مکان مسجد کے کام کیلئے ہو اپنے لئے نہ ہو تو مسجد ہو گئی ۔( ہدایہ ‘ تبیین وغیرھما) یونہی مسجد کے نیچے کرایہ کی دکانیں بنائی گئیں یا اوپر مکان بنا یا گیاجن کی آمدنی مسجد میں صرف ہوگی تو حرج نہیں یا مسجد کے نیچے ضرورت مسجد کے لئے تہہ خانہ بنایا کہ اس میں پانی وغیرہ رکھا جائے گا یا مسجد کاسامان اس میں رہے گا تو حرج نہیں ۔( عالمگیری) مگر یہ اس وقت ہے کہ قبل تمام مسجد دکانیں یامکان بنالیا ہو اور مسجد ہو جانے کے بعد اسکے نیچے دکان بنائی جا سکتی نہ اوپر مکان۔ ( درمختار)یعنی مثلاً ایک مسجد کو منہدم کرکے پھر سے اسکی تعمیر کرانا چاہیں اور پہلے اسکے نیچے دکانیں نہ تھیں اور اب اس جدید تعمیر میں دکان بنوانا چاہیں تو نہیں بناسکتے کہ یہ تو پہلے ہی سے مسجد ہے اب دکان بنانے کے یہ معنی ہونگے کہ مسجد کو دکان بنایا جائے ۔

مسئلہ ۶: مسجد کے لئے عمارت ضرور نہیں یعنی خالی زمین اگر کوئی شخص مسجد کردے تو مسجد ہے ۔ مثلاً مالک زمین نے لوگوں سے کہدیا کہ اس میں ہمیشہ نماز پڑھا کرو تو مسجد ہوگئی ۔ اور اگر ہمیشہ کا لفظ نہیں بولا مگر اس کی نیت یہی ہے جب بھی مسجد ہے ۔اور اگر نہ لفظ ہے اور نہ نیت مثلاً نماز پڑہنے کی اجازت دیدی اور نیت کچھ نہیں یا مہینہ بھر یا سال بھر ایک دن کیلئے نماز پڑھنے کو کہا تو وہ زمین مسجد نہیں بلکہ اسکی ملک ہے اسکے مرنے کے بعد اسکے ورثہ کی ملک ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۷: ایک مکان مسجد کے نام وقف تھا متولی نے اسے مسجد بنادیا اور لوگوں نے چند سال تک اس میں نماز بھی پڑھی پھر نماز پڑھنا چھوڑ دیا اب اسے کرایہ کا مکان کرنا چا ہتے ہیں تو کرسکتے ہیں ۔ کیونکہ متولی کے مسجد کرنے سے وہ مسجد نہیں ہوا۔( عالمگیری)

مسئلہ۸: مریض نے اپنے مکان کو مسجد کردیا اگر وہ مکان مریض کے تہائی مال کے اندر ہے تو مسجد ہے اور ورثہ نے اجازت نہیں دی تو کل کا کل میراث ہے ۔اورمسجد نہیں ہوسکتا کہ اس میں ورثہ بھی حقدار ہیں اور مسجد کو حقوق العباد سے جدا ہونا ضروری ہے ۔ یونہی ایک شخص نے زمین خرید کر مسجد بنائی بائع کے علاوہ کوئی دوسرا شخص بھی اس میں حقدار نکلا تو مسجد نہیں رہی اور اگر یہ وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد میرا تہائی مکان مسجد بنادیا جائے تو وصیت صحیح ہے مکان تقسیم کرکے ایک تہائی کو مسجد کردیں گے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۹: اہل محلہ یہ چاہتے ہیں کہ مسجد کو توڑ کر پہلے سے عمدہ و مستحکم بنائیں تو بنا سکتے ہیں بشرطیکہ اپنے مال سے بنائیں مسجد کے روپے سے تعمیر نہ کریں اور دوسرے لوگ ایسا کرنا چاہتے ہوں تو نہیں کرسکتے اور اہل محلہ کو یہ بھی اختیار ہے کہ مسجد کو وسیع کریں اس میں حوض اورکنواں اور ضرورت کی چیزیں بنائیں وضو اور پینے کیلئے مٹکوں میں پانی رکھوائیں جھاڑ ہانڈی فانوس وغیرہ لگائیں ۔ بانی مسجد کے ورثہ کو منع کرنے کا حق نہیں جب کہ وہ اپنے مال سے ایسا کرنا چاہتے ہوں ۔اور اگر بانی مسجد اپنے پاس سے کرنا چاہتا ہے اور اہل محلہ اپنی طرف سے تو بانی مسجد بہ نسبت اہل محلہ کے زیادہ حقدار ہے ۔ حوض اور کنواں بنوانے میں یہ شرط ہے کہ انکی وجہ سے مسجد کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے ۔( ردالمحتار)اور یہ بھی ضرورہے کہ پہلے جتنی مسجد تھی اسکے علاوہ دوسری زمین میں بنائے جائیں مسجد میں نہیں بنائے جاسکتے ۔

مسئلہ۱۰: امام و مؤذن مقرر کرنے میں بانی مسجد یا اسکی اولاد کا حق بہ نسبت اہل محلہ کے زیادہ ہے مگر جب کہ اہل محلہ نے جس کو مقرر کیا وہ بانی مسجد کے مقرر کردہ سے اولی ہے تو اہل محلہ ہی کا مقرر کردہ امام ہوگا۔(درمختار)

مسئلہ۱۱: اہل محلہ کو یہ بھی اختیار ہے کہ مسجد کا دروازہ دوسری جانب منتقل کردیں اور اگر اس باب میں رائیں مختلف ہوں تو جس طرف کثرت ہواور اچھے لوگ ہوں انکی بات پر عمل کیا جائے ۔( ردالمحتار‘ عالمگیری)

مسئلہ ۱۲: مسجد کی چھت پر امام کے لئے بالا خانہ بنانا چاہتا ہے اگر قبل تمام مسجد یت ہو تو بناسکتا ہے ۔ اور مسجد ہو جانے کے بعد نہیں بناسکتا اگرچہ کہتا ہو کہ مسجد ہونے کے پہلے سے میری نیت بنانے کی تھی بلکہ اگر دیوار مسجد پر حجرہ بنانا چاہتا ہو تو اسکی بھی اجازت نہیں یہ حکم خود واقف اور بانی مسجد کا ہے لہذا جب اسے اجازت نہیں تو دوسرے بدرجۂ اولی نہیں بناسکتے اگر اس قسم کی کوئی ناجائز عمارت چھت یا دیوار پر بنادی گئی ہو تو اسے گرا دینا واجب ہے ۔( درمختار)

مسئلہ۱۳: مسجد کا کوئی حصہ کرایہ پر دینا کہ اسکی آمدنی مسجد پر صرف ہوگی حرام ہے اگرچہ مسجد کو ضرورت بھی ہو۔ یونہی مسجد کو مسکن بنانا بھی ناجائز ہے ۔یونہی مسجد کے کسی جزکو حجرہ میں شامل کرلینا بھی ناجائز ہے ۔( درمختار ‘ فتح القدیر)

مسئلہ۱۴: مصلیوں کی کثرت کی وجہ سے مسجد تنگ ہوگئی اور مسجد کے پہلو میں کسی شخص کی زمین ہے تو اسے خرید کر مسجد میں اضافہ کریں اور اگر وہ نہ دیتا ہو تو واجبی قیمت دیکر جبراًاس سے لے سکتے ہیں ۔ یونہی اگر پہلو ئے مسجد میں کوئی زمین یا مکان ہے جواس مسجد کے نام وقف ہے یا کسی دوسرے کام کے لئے وقف ہے تو اسکو مسجد میں شامل کرکے اضافہ کرنا جائز ہے البتہ اسکی ضرورت ہے کہ قاضی سے اجازت حاصل کر لیں ۔ یونہی اگر مسجد کی برابر وسیع راستہ ہو اس میں سے اگر کچھ جز مسجد میں شامل کرلیا جائے جائز ہے ۔ جبکہ راستہ تنگ نہ ہو جائے اور اس کی وجہ سے لوگوں کا حرج نہ ہو۔( عالمگیری‘ ردالمحتار)

مسئلہ ۱۵: مسجد تنگ ہوگئی ایک شخص کہتا ہے مسجد مجھے دیدو اسے میں اپنے مکان میں شامل کرلوں اور اسکے عوض میں وسیع اور بہتر زمین تمہیں دیتا ہوں تو مسجد کو بدلنا جائز نہیں ۔( عالمگیری)

مسئلہ۱۶: مسجد بنائی اور شرط کردی کہ مجھے اختیارہے کہ اسے مسجدرکھوں یا نہ رکھوں تو شرط باطل ہے اور وہ مسجد ہوگئی یعنی مسجدیت کے ابطال کا اسے حق نہیں ۔ یونہی مسجد کو اپنے یا اہل محلہ کے لئے خاص کردے تو خاص نہ ہوگی دوسرے محلہ والے بھی اس میں نماز پڑھ سکتے ہیں اسے روکنے کا کچھ اخیتار نہیں ۔( عالمگیری)

مسئلہ۱۷: مسجد کے آس پاس جگہ ویران ہوگئی وہاں لوگ رہے نہیں کہ مسجد میں نماز پڑہیں یعنی مسجد بالکل بیکار ہوگئی جب بھی وہ بدستورمسجد ہے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اسے توڑپھوڑ کر اسکے اینٹ پتھر وغیرہ اپنے کام میں لائے یا اسے مکان بنالے ۔یعنی وہ قیامت تک مسجد ہے ۔ ( درمختار وغیرہ )

مسئلہ۱۸: مسجد کی چٹائی جانماز وغیرہ اگر بیکار ہوں اور اس مسجد کے لئے کار آمد نہ ہوں تو جس نے دیاہے وہ جو چاہے کرے اسے اختیار ہے اور مسجد ویران ہوگئی کہ وہاں لوگ رہے نہیں تو اس کاسامان دوسری مسجد کو منتقل کردیا جائے بلکہ ایسی منہدم ہوجائے اور اندیشہ ہو کہ اس کا عملہ لوگ اوٹھا لے جائیں گے اور اپنے صرف میں لائیں گے تو اسے بھی دوسری مسجد کی طرف منتقل کردینا جائز ہے ۔(درمختار ‘ ردالمحتار)

مسئلہ۱۹: جاڑے کے موسم میں مسجد میں پیال ڈلوایا تھا جاڑے نکل جانے کے بعد بیکار ہوگئے تو جس نے دلوایا اسے اختیار ہے جو چاہے کرے اور اس نے مسجد سے نکلواکر باہر ڈلوادیئے تو جو چاہے لے جاسکتا ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۲۰: بعض لوگ مسجد میں جو پیال بچھاہے اسے سقایہ کی آگ جلانے کے کام میں لاتے ہیں یہ ناجائز ہے یوہیں سقایہ کی آگ گھر لیجانا یا اس سے چلم بھرنا یا سقایہ کا پانی گھر لیجانا یہ سب ناجائز ہے ہاں جس نے پانی بھر وایا اور گرم کرایا ہے اگر وہ اسکی اجازت دیدے تو لیجاسکتے ہیں جبکہ اس نے اپنے پاس سے صرف کیا ہے اور مسجد کا پیسہ صرف کیا ہو تو اسکی اجازت بھی نہیں دے سکتا ۔

مسئلہ ۲۱: مسجد کی اشیاء مثلاً لوٹا چٹائی وغیرہ کو کسی دوسری غرض میں استعمال نہیں کرسکتے مثلاً لوٹے میں پانی بھر کر اپنے گھر نہیں لیجاسکتے اگرچہ یہ ارادہ ہو کہ پھر واپس کر جاؤں گا اسکی چٹائی اپنے گھر یا کسی دوسری جگہ بچھانا نا جائز ہے۔ یونہی مسجد کے ڈول رسی سے اپنے گھر کے لئے پانی بھر نا یا کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بے موقع اور بے محل استعمال کرنا نا جائز ہے ۔

مسئلہ۲۲: تیل یا موم بتی مسجد میں جلانے کے لئے دی اور بچ رہی تو دوسرے دن کام میں لائیں اور اگر خاص دن کے لئے دی ہے مثلاً رمضان یا شب قدر کے لئے تو بچی ہوئی مالک کو واپس دی جائے امام مؤذن کو بغیر اجازت لینا جائز نہیں ہاں اگر وہاں کاعرف ہو کہ بچی ہوئی امام و مؤ ذن کی ہے تو اجازت کی ضرورت نہیں ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۲۳: ایک شخص نے اپنے تہائی مال کی وصیت کی کہ نیک کاموں میں صرف کیا جائے تو اس مال سے مسجد میں چراغ جلایا جاسکتا ہے مگر اتنے ہی چراغ اس مال سے جلائے جاسکتے ہیں جتنے کی ضرورت ہے ضرورت سے زیادہ محض تزین کے لئے ا س رقم سے نہیں جلائے جاسکتے ۔( خانیہ)

مسئلہ۲۴: ایک شخص نے اپنی جائداد اس طرح وقف کی ہے کہ اس کی آمدنی مسجد کی عمارت و مرمت میں لگائی جائے اور جو بچ رہے فقرا پر صرف کی جائے ۔ اور وقف کی آمدنی بچی ہوئی موجود ہے اور مسجد کو اس وقت تعمیر کی حاجت بھی نہیں ہے اگر یہ گمان ہو کہ جب مسجد میں تعمیر و مرمت کی ضرورت ہوگی اس وقت تک ضرورت کے لائق اسکی آمدنی جمع ہو جائے گی تو اس وقت جو کچھ جمع ہے فقرا پر صرف کردیاجائے۔( خانیہ)

مسئلہ۲۵: مسجد منہدم ہوگئی اور اسکے اوقاف کی آمدنی اتنی موجود ہے کہ اس سے پھر مسجد بنائی جاسکتی ہے تو اس آمدنی کو تعمیر میں صرف کرنا جائز ہے ۔( خانیہ )

مسئلہ۲۶: مسجد کے اوقاف کی آمدنی سے متولی نے کوئی مکان خریدااور یہ مکان مؤذن یا امام کو رہنے کے لئے دیدیا اگر ان کومعلوم ہے تو اس میں رہنا مکروہ و ممنوع ہے ۔ یونہی مسجد پر جو مکان اس لئے وقف ہیں کہ ان کا کرایہ مسجد میں صرف ہوگایہ مکان بھی امام و مؤذن کو رہنے کے لئے نہیں دے سکتا اور دے دیا تو ان کو رہنا منع ہے ۔( خانیہ)

مسئلہ۲۷: متولی نے اگر مسجد کے لئے چٹائی جانماز تیل وغیرہ خریدا اگر واقف نے متولی کو یہ سب اختیار ات دیئے ہوں یا کہہ دیا ہو کہ مسجد کی مصلحت کے لئے جو چاہو خریدو یا معلوم نہ ہو کہ متولی کو ایسی اجازت دی ہے مگر اس سے پہلا متولی یہ چیزیں خریدتا تھا تو اسکا خریدنا جائز ہے اور اگر معلوم ہے کہ صرف عمارت کے متعلق اختیار دیا ہے تو خریدنا ناجائز ہے ۔( خانیہ )

مسئلہ۲۸: مسجد بنائی اور کچھ سامان لکڑیاں اینٹیں وغیرہ بچ گئیں تو یہ چیزیں عمارت ہی میں صرف کی جائیں انکو فروخت کرکے تیل چٹائی میں صرف نہیں کرسکتے ۔( خانیہ )

مسئلہ۲۹: مسجد کے لئے چندہ کیا اور اس میں سے کچھ رقم اپنے صرف میں لایا اگرچہ یہی خیال ہے کہ اس کامعاوضہ اپنے پاس سے دے گاجب بھی خرچ کرنا نا جائز ہے ۔ پھر اگر معلوم ہے کہ کس نے وہ روپیہ دیا تھا تو اسے تاوان دے یا اس سے اجازت لے کر مسجد میں تاوان صرف کرے اور معلوم نہ ہو کہ کس نے دیا تھا تو قاضی کے حکم سے مسجد میں تاوان صرف کرے اور خود بغیر اذن قاضی مسجد میں اس تاوان کو صرف کر دیا تو امید ہے کہ اس کے وبال سے بچ جائے ۔( خانیہ)

مسئلہ ۳۰: مسجد یا مدرسہ پر کوئی جائداد وقف کی اور ہنوزوہ مسجد یا مدرسہ موجود بھی نہیں مگر اس کے لئے جگہ تجویز کرلی ہے تو وقف صحیح ہے اور جب تک اس کی تعمیر نہ ہو وقف کی آمدنی فقرأ پر صرف کی جائے اور جب بن جائے توپھر اس پر صرف ہو ۔( فتح القدیر)

مسئلہ۳۱: مسجد کے لئے مکان یا کوئی چیز ہبہ کی تو ہبہ صحیح ہے اور متولی کو قبضہ دلادینے سے ہبہ تمام ہو جائے گا اور اگرکہا یہ سو روپے مسجد کے لئے وقف کئے تو یہ بھی ہبہ ہے بغیر قبضہ ہبہ تمام نہیں ہوگا۔ یو نہی درخت مسجد کو دیا تو اس میں بھی قبضہ ضروری ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۲: مؤذن و جاروب کش وغیرہ کو متولی اسی تنخواہ پر نوکر رکھ سکتا ہے جو واجبی طور پر ہونی چائیے اور اگر اتنی زیادہ تنخواہ مقرر کی جودوسرے لوگ نہ دیتے تو مال وقف سے اس تنخواہ کا ادا کرنا جائز نہیں اور دیگا تو تاوان دینا پڑیگابلکہ اگر مؤذن وغیرہ کو معلوم ہے کہ مال وقف سے یہ تنخواہ دیتا ہے تو لینا بھی جائز نہیں ۔( فتح القدیر)

مسئلہ۳۳: متولی مسجد بے پڑھا شخص ہے ا س نے حساب کتاب کے لئے ایک شخص کو نوکر رکھا تو مال وقف سے اس کو تنخواہ دینا جائز نہیں ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۴: مسجد کی آمدنی سے دکان یا مکان خریدنا کہ اس کی آمدنی مسجد میں صرف ہوگی اور ضرورت ہوگی تو بیع کردیا جائے گایہ جائز ہے جبکہ متولی کے لئے اس کی اجازت ہو۔(عالمگیری)

مسئلہ۳۵: مسجد کے لئے اوقاف ہیں مگر کوئی متولی نہیں اہل محلہ میں سے ایک شخص اس کی دیکھ بھال اور کام کرنے کے لئے کھڑا ہوگیا اور اس وقف کی آمدنی کو ضروریات مسجد میں صرف کیا تو دیانتہً اس پر تاوان نہیں ۔( عالمگیری) اور ایسی صورت کا حکم یہ ہے کہ قاضی کے پاس درخواست دیں وہ متولی مقرر کردیگامگر چونکہ آجکل یہاں اسلامی سلطنت نہیں اور نہ قاضی ہے اس مجبوری کی وجہ سے اگر خود اہل محلہ کسی کو منتخب کرلیں کہ وہ ضروریات مسجد کو انجام دے تو جائز ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے میں وقف کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے ۔

مسئلہ ۳۶: مسجد کا متولی موجود ہو تو اہل محلہ کو اوقاف مسجد میں تصرف کرنا مثلاًدکانات وغیرہ کو کرایہ پر دینا جائز نہیں مگر انھوں نے ایسا کرلیا اور مسجد کے مصالح کے لحاظ سے یہی بہترتھا تو حاکم ان کے تصرف کو نافذکر دے گا۔(عالمگیری)

مسئلہ۳۷: مسجد کے اوقاف بیچ کر اسکی عمارت پر صرف کردینا جائز ہے اور وقف کی آمدنی سے کوئی مکان خریدا تھا تو اسے بیچ سکتے ہیں ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۸: مسجد کے نام ایک زمین وقف تھی اور وہ اب کاشت کے قابل نہ رہی یعنی اس سے آمدنی نہیں ہو تی کسی نے ا س میں تالاب کھودوالیا کہ عامہ مسلمین اس سے فائدہ اٹھائیں اس کا یہ فعل ناجائز ہے اور اس تالاب میں نہانا اور دھونا اور اس کے پانی سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۹: مسلمانوں پر کوئی حادثہ آپڑا جس میں روپیہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے اور اس وقت روپیہ کی کوئی سبیل نہیں ہے مگر اوقاف مسجد کی آمدنی جمع ہے او ر مسجد کو اس وقت حاجت بھی نہیں تو بطور قرض مسجد سے رقم لی جاسکتی ہے ۔ (عالمگیری)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button