شرعی سوالات

مسجد کی رقم بینک میں رقم رکھوا کر اس پر اضافی رقم لینا جائز ہے جبکہ بینک کفار کا ہو۔

سوال:

            تعمیر مسجد کے بعد کچھ رقم بچ گئی۔ اس بچی ہوئی رقم کو مسجد کے عہدیداران اور اراکین مسجد کے نام سے بینک میں فکس ڈپازٹ کے طور پر رکھ دئیے ہیں۔ اب اس بینک سے جو فائدہ مل رہا ہے اس فائدے والی رقم کو امام کی تنخواہ میں استعمال کر سکتے ہیں ؟ یا مسجد کی کسی ضروریاتی کام میں لا سکتے ہیں؟

جواب:

            جس بینک کے سب مالکان سب غیر مسلم ہوں اس میں جمع کی ہوئی رقم پر جو زائد پیسے ملے ہوں اس کو سود سمجھ کر نہیں بلکہ ایک مباح رقم سمجھ کر لینا اور تمام  جائز ضروریات میں صرف کرنا جائز ہے۔ اور جس بینک کے مالکان مسلم و غیر مسلم ہوں اس دائرے میں یہ سرکاری بینک بھی آتے ہیں اس سے ملی ہوئی رقم مسجد کے کسی صرفے میں نہیں آ سکتی نہ امام کی تنخواہ اس سے دے سکتے ہیں، وہ رقم وصول کر کے محتاج مسلمانوں پر صرف کی جائے یعنی مسلم فقراء  و مساکین کو دی جائے۔

(فتاوی بحر العلوم، جلد4، صفحہ67، شبیر برادرز، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button