ARTICLES

مسافر حاجی پر ابن السبیل کا اطلاق

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جس مسافرکا کسی مصیبت کی وجہ سے مال ضائع ہو گیاہو تو کیا اس پر ابن السبیل کے احکام نافذ ہو سکیں گے ؟

(السائل : محمد اقبال ضیائی، مدینہ منورہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : جس مسافر کے پاس سفر میں مال نہ ہواسے ابن سبیل کہتے ہیں جیسا کہ ’’التعریفات الفقہیۃ‘‘ میں ہے :

ابن السبیل : ہو المسافر البعید عن منزلہ لہ مال ما معہ۔ (135)

یعنی، ابن السبیل وہ مسافر ہے جو اپنے گھر سے دور ہو مالدار ہو اس کے پاس مال نہ ہو۔ اور امام ابو جعفر احمد بن محمد طحاوی حنفی متوفی 321ھ لکھتے ہیں :

اما قولہ : ابن السبیل : فہم الغائبون عن اموالہم الذین لا یصلون الیہا لبعد المسافۃ بینہم و بینہا حتی تلحقہم الحاجۃ الی الصدقۃ، فالصدقۃ لہم حینئذ مباحۃ، و ہم فی حکم الفقراء الذین لا اموال لہم فی جمیع ما ذکرنا حتی یصلوا الی اموالہم (136)

یعنی، مگر اللہ تعالیٰ کا فرمان ’’ابن السبیل‘‘ : پس وہ اپنے اموال سے غائب ہیں جو ان کے اور ان کے ا موال کے مابین مسافت کی دوری کی وجہ سے (اموال تک) نہیں پہنچ سکتے یہاں تک کہ انہیں صدقے کی حاجت لاحق ہو جائے ، تو اس وقت ان کے لئے صدقہ (لینا) مباح ہے اور ان تمام امورمیں جن کا ہم نے ذکر کیا، یہ ان فقراء کے حکم میں ہیں کہ جن کے پاس اموال نہ ہو یہاں تک کہ اپنے اموال تک پہنچیں ۔ لہٰذا ابن السبیل کا اطلاق اسی مسافر پر ہو گا جو سفر میں محتاج ہو جائے ۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

ذو الحجۃ 1436ھـ، ستمبر 2015 م990-F

حوالہ جات

135۔ قواعد الفقہ الحنفیہ، التعریفات الفقہیۃ، ص157

136۔ احکام القران، کتاب الزکاۃ، تاویل قولہ تعالی : انما الصدقات للفقراء الایۃ، 1/371

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button