ARTICLES

مسافرقربانی کرکے مقیم ہوتوقربانی کاحکم

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کتب فقہ میں یہ مسئلہ لکھاہے کہ مسافرحاجی پربقرعید میں کی جانے والی قربانی واجب نہیں ہوتی ہے ،توپوچھنایہ ہے کہ اگرکوئی مسافریہ قربانی کرلے اورپھروہ ایام قربانی گزرنے سے پہلے ہی مقیم ہوجائے جبکہ وہ
مالدارہو،توکیااسے دوبارہ قربانی کرنی ہوگی؟ (سائل : مولانارضوان ضیائی،فاضل ومدرس جامعۃ النور،کراچی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اس پرقربانی کااعادہ واجب نہیں ہوگا۔کیونکہ مسافراور غریب شخص پر قربانی واجب نہیں ہوتی ہے ،پھربھی اگریہ دونوں قربانی کریں گے توان کی یہ قربانی نفل ہوگی۔چنانچہ علامہ نظام الدین حنفی متوفی 1161ھ اورعلمائے ہندکی ایک جماعت نے لکھاہے : التطوع : فاضحية المسافر والفقير الذي لم يوجد منه النذر بالتضحية ولا شراء الاضحية لانعدام سبب الوجوب وشرطه۔( ) یعنی،مسافر پر قربانی واجب نہیں اگر مسافر نے قربانی کی یہ تطوع (نفل)ہے اور فقیر نے اگر نہ منت مانی ہو نہ قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہو اوس کا قربانی کرنا بھی تطوع ہے ۔( ) اورمتاخرین فقہائے کرام کے نزدیک نفلی قربانی کرنے کے بعددوبارہ قربانی واجب نہیں ہوتی ہے ،اورہم یہ بیان کرچکے ہیں کہ اس معاملے میں مسافراورفقیرکاایک ہی حکم ہے مثلااگرکوئی غریب قربانی کرے پھر وہ ایام قربانی گزرنے سے پہلے غنی ہوجائے ،تواس پردوبارہ قربانی واجب نہیں ہوگی۔اوراس کی تفصیل یہ ہے کہ فقہائے احناف کے اس مسئلہ میں دوقول ملتے ہیں ایک یہ کہ اس پراعادہ واجب ہے دوسرایہ کہ اعادہ واجب نہیں ۔اورجن فقہائے کرام نے وجوب کاقول کیاہے تواس قول کی تصحیح بھی منقول ہے ۔چنانچہ علامہ علاءالدین ابی بکربن مسعودکاسانی حنفی متوفی587ھ لکھتے ہیں : ولو ضحى في اول الوقت وهو فقير، ثم ايسر في اخر الوقت فعليه ان يعيد الاضحية عندنا، وقال بعض مشايخنا : ليس عليه الاعادة. والصحيح هو الاول؛ لانه لما ايسر في اخر الوقت تعين اخر الوقت للوجوب عليه وتبين ان ما اداه وهو فقير كان تطوعًا فلا ينوب عن الواجب۔( ) یعنی،اگرکسی فقیرنے اول وقت میں قربانی کرلی پھروہ اخری وقت میں مالدار ہوگیاتوہمارے نزدیک اس پرقربانی کااعادہ لازم ہے اور بعض فقہائے کرام نے کہاکہ اس پراعادہ لازم نہیں ،اورپہلاقول صحیح ہے کیونکہ جب وہ اخری وقت میں مالدار ہوگیاتواخری وقت اس پروجوب کیلئے متعین ہوگیااورظاہرہواکہ جواس نے بحالت فقرقربانی کی،وہ نفل ہوئی لہٰذا یہ واجب کے قائم مقام نہیں ہوگی۔ اوراس کی صراحت بھی موجودہے کہ عدم وجوب کاقول متاخرین کاہے اورپھرعدم وجوب کے قول کے بارے میں متاخرین نے لکھاکہ ہم عدم وجوب کے قول کوہی لیتے ہیں ۔چنانچہ امام ابوالمعالی برہان الدین محمودبن احمدبخاری حنفی متوفی616ھ اورعلامہ محمد شہاب الدین بن بزارکردری حنفی متوفی 827ھ اوران کے حوالے سے علامہ سیدمحمدامین ابن عابدین شامی حنفی متوفی1252ھ لکھتے ہیں : اشتری الفقیر فی ایامھا شاۃ لھا وضحی بھا ثم ایسر فی ایامھا قال الخومینی علیہ اخری والمتاخرون قالوا لا وبہ ناخذ۔[واللفظ للکردری] ( ) یعنی ،فقیرنے ایام قربانی میں بکری خریدی اوراس کی قربانی کردی پھروہ ایام قربانی میں مالدارہوگیاتوامام خومینی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اس پردوسری قربانی واجب ہوگی جبکہ متاخرین فقہائے کرام نے فرمایاکہ اس پردوسری قربانی واجب نہیں ہوگی اورہم متاخرین کے قول کولیتے ہیں ۔ اوربعض نے صرف دونوں قول نقل کرنے پراکتفاءکیا۔چنانچہ صدرالشریعہ محمدامجدعلی اعظمی حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : ایک شخص فقیر تھا مگر اس نے قربانی کر ڈالی اس کے بعد ابھی وقت قربانی کا باقی تھا کہ غنی ہوگیا تو اوس کو پھر قربانی کرنی چاہیے کہ پہلے جو کی تھی وہ واجب نہ تھی اور اب واجب ہے بعض علماء نے فرمایا کہ وہ پہلی قربانی کافی ہے ۔ ( ) لہٰذانفلی قربانی کرنے کے بعددوبارہ قربانی واجب ہونے یاواجب نہ ہونے کے بارے میں فقہائے کرام کے اقوال مختلف ہیں ،ایک قول یہ ہے کہ اس پرقربانی کااعادہ واجب
ہوگااوردوسرے قول کے مطابق اعادہ واجب نہیں ہوگا، اور کتب فقہ میں دونوں کی تصحیح مذکورہے وہ اس طرح کہ وجوب والے قول کے ساتھ لفظ صحیح مذکورہے جبکہ عدم وجوب والے قول کے ساتھ بہ ناخذہے اورایسی صورت میں ترجیح دوسرے قول کودی جائے گی کیونکہ علم رسم الافتاءکی روسے بہ ناخذکے کلمات الفاظ فتویٰ کے برابرشمارہوتے ہیں ۔چنانچہ علامہ شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : فاذا صرحوا بلفظ الفتوى في قولٍ علم انه الماخوذ به ويظهر لي ان لفظ وبه ناخذ وعليه العمل مساوٍ للفظ الفتوى۔( ) یعنی،جب فقہائے کرام کسی قول میں لفظ فتویٰ کی تصریح فرمائیں تومعلوم ہوجائے گاکہ یہی ماخوذبہ ہے اورمیرے لئے ظاہرہے کہ ’’وبہٖ ناخذ‘‘اور’’علیہ العمل‘‘لفظ فتویٰ کے مساوی ہیں ۔ اوریہ بھی معلوم ہے کہ جب دومختلف اقوال میں سے کسی ایک قول کے ساتھ لفظ صحیح ہواوردوسرے پرالفاظ فتویٰ میں سے کوئی لفظ ہوتو اس قول کوترجیح دی جائے گی کہ جس کے ساتھ لفظ فتویٰ ہو۔چنانچہ علامہ شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : اذا اختلف اللفظ فان کان احدھما لفظ الفتویٰ فھو اولیٰ؛ لانہ لا یفتی الا بما ھو صحیح ولیس کل صحیحٍ یفتی بہ؛ لان الصحیح فی نفسہ قد لا یفتی بہ لکون غیرہ اوفق لتغیر الزمان وللضرورۃ ونحو ذلک، فما فیہ لفظ الفتویٰ یتضمن شیئین احدھما : الاذن بالفتویٰ بہ، والاخر صحتہ؛ لان الافتاء بہ تصحیح لہ بخلاف ما فیہ لفظ الصحیح او الاصح مثلا۔( ) یعنی،جب دواقوال کی تصحیح کے الفاظ مختلف ہوں ،پس ان میں سے ایک قول لفظ فتویٰ کے ساتھ ہو،تووہی اولیٰ ہوگاکیونکہ جوصحیح نہ ہو اس پرفتویٰ نہیں دیاجاسکتا ہے اور ہرصحیح پرفتویٰ نہیں دیاجاتاکیونکہ تغیرزمانہ اورضرورت وغیرہ کے زیادہ موافق ہونے کی وجہ سے بعض اوقات فی نفسہ ہرصحیح قول پرفتویٰ نہیں دیاجاتا،لہٰذالفظ فتویٰ دوچیزوں کوضمن میں لئے ہوئے ہے ان میں سے ایک چیزیہ ہے کہ اس پرفتویٰ دینے کی اجازت ہے اوردوسری چیزاس کاصحیح ہوناہے کیونکہ اس پرفتویٰ دینااس قول کوصحیح قراردیناہے برخلاف اس قول کے جس میں مثلًاصحیح یا اصح کے الفاظ موجودہوں ۔ لہٰذاثابت ہواکہ متاخرین کے نزدیک اس پردوسری قربانی واجب نہیں ہوگی بلکہ پہلی کافی ہوگی اوریہی راجح ومفتیٰ بہ قول ہے لیکن اگروہ اعادہ کرے توبہترہے تاکہ اختلاف سے نکل جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب یوم الاثنین،13/ذو
القعدۃ،1443ھ۔13/جون،2022م

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button