شرعی سوالات

مساجد و مدارس وغیرہ کے اجیروں کی چھٹیوں کی تنخواہ اور بونس وغیرہ کے متعلق مختلف سوالات

سوال:

مساجد یا وہ ادارے ، جہاں ملازمین کو مشاہرے عطیات کی رقوم اور مال وقف سے دئیے جاتے ہیں ۔ ایسے اداروں کے ملازمین سے متعلق چند سوالات کاحل مطلوب ہے:

 1 ۔امام ،مؤذن یا خادم کو ماہانہ کتنے دن کی چھٹی کر نے کی عرف و عادت کے اعتبار سے اجازت ہے اور ان چھٹیوں کا مشاہرہ دیا جائے گا یا نہیں؟

 2۔ اگر عرف کی چھٹیوں سے زائد کریں تو کیا مشاہرے میں کٹوتی کی جا سکتی ہے؟   اگر کوئی اجیر سخت بیمار ہو جائے یا اس کے ہاں کوئی انتقال کر جائے ، تو ان صورتوں میں ہونے والی چھٹیوں میں مشاہرہ ادا کیا جائے گا یا نہیں؟

 3 ۔ بیرون شہر کے ائمہ حضرات کو سال یا چھ ماہ میں کتنے دن یک مشت چھٹی کرنے کا اختیار ہے۔ بہار شریعت میں ہے : ’’امام و مؤذن سالانہ کم و بیش ایک ہفتے کے لیے اپنے عزیز و اقربا سے ملنے بیرون شہر جا سکتے ہیں ، ان دنوں کی تنخواہ کے حقدار رہیں گے۔ کیا اسی کے مطابق عمل کیا جائے گا یا فی زمانہ عرف تبدیل ہو گیا ہے؟

4۔کیا متولیان مسجد کی رضا مندی کی صورت میں امام و مؤذن عرف سے زائد چھٹیوں میں اپنا نائب دے کر جائیں تو تنخواہ کاٹی جائے گی یا نہیں؟ 5۔ایسی مساجد جہاں عملے کو مشاہرہ ایک ہی شخص اپنے ذاتی مال سے دیتا ہو، ایسی مسجد میں بھی امام و مؤذن کی طرف سے زائد چھٹیوں پر کٹوتی کی جائے گی یا نہیں؟

 6۔ عطیات سے چلنے والے دینی مدارس و جامعات میں بطور مدارس یا ناظم یا مہتمم کسی بھی منصب پر اجیر مقرر ہوں ، انہیں عرف و عادت کے اعتبار سے مہینے میں کتنے دن کی چھٹی کرنے کی اجازت ہے؟

 7۔ مذکورہ بالا اداروں میں وقف کے اجیروں میں سے اگر کوئی حج یا عمرے پر جائیں تو کیا  ان کا مشاہرہ ادا کیا جائے گا یا نہیں؟

8۔ یہی تمام مسائل اگر کسی فلاحی تنظیم/ ادارے کے تحت مساجد یا دینی مدارس و جامعات کے اجیروں کے ساتھ در پیش ہوں تو کیا حکم ہو گا؟

 9۔ دیگر اداروں کی طرح دینی مدارس و جامعات میں بھی ششماہی یا سالانہ بونس وقف کی رقم سے ادا کی جا سکتی ہے؟

جوابات:

آج کل مدارس و مساجد کے لیے عوام سے جو عمومی چندہ یا عطیات لیے جاتے ہیں ، ان میں یہ امر معروف ہے کہ مسجد کے مصارف جار یہ جن میں مساجد کے یوٹیلیٹی بلز ، ضرورت کے وقت رنگ روغن ، دریاں ، قالین ، ٹیوب لائٹس ، پنکھے ، پانی و سیوریج کا انتظام اور مسجد کے عملے کی تنخواہیں اور مصارف سب ہی شامل ہوتے ہیں ،لہذا انتظامیہ مسجد فنڈ سے امام یا دیگر عملے کو علاج کے لیے بھی اعانت کر سکتی ہے ۔ البتہ جو رقم تعمیر یا کسی خاص مصرف کے لیے دی جائے یا لی جائے اسے صرف اسی معین مصرف پر خرچ کرنا ضروری ہے ۔ فقہائے کرام نے ائمہ اور مدرسین کے لیے چھٹی کے زمانے کی تنخواہ لینا جائز لکھا ہے ۔سرکاری و نجی اداروں میں بھی عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ سال میں ایک مہینے کی چھٹی مع تنخواہ دی جاتی ہے۔

امام کو متبادل انتظام کر کے یا انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دے کر جانا چاہیے تا کہ وہ انتظام کر سکیں ۔ عرف و عادت سے زائد چھٹیوں کی صورت میں امام مؤذن ، خادم وغیر ہ  تنخواہ  کا مستحق نہیں ہو گا ۔آپ کے ابتدائی 1 تا 6 سوالات کے جوابات یہاں تک مکمل ہوتے ہیں ۔

 7 ۔ بہتر تو یہ ہے کہ دوران ملازمت اپنی چھٹیوں کو محفوظ رکھا جائے تا کہ کسی اتفاقی ، حادثاتی صورت یا حج و عمرہ وغیرہ کی ادائیگی کے لیے بچا رکھا جائے ۔

 8-9 مسجد کی جمع شدہ رقم مال وقف کہلاتی ہے، جو مصارف مسجد کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جیسے مسجد کے عملے کا مشاہرہ اور دیگر ضروریات مسجد وغیرہ ، جو ضروریات مسجد اور مصالح مسجد میں ہو تو ضرورت اور کفایت کے مطابق اس پر وقف کا مال خرچ کیا جا سکتا ہے ۔

 مسجد کے عطیات صدقات نافلہ ہوتے ہیں ، اس لیے ان کا مصرف بننے کے لیے امام کا نادار ہونا شرط نہیں ہے ۔زکوۃ ، فطرہ ،فدیہ ، کفارات اور صدقات واجبہ کا مصرف بنے کے لیے نادار ہونا شرط ہے ۔ اگر مسجد کی انتظامیہ کے افراد یا اہل محلہ اس امام ، مؤذن یا خادم کے عمر رسیدہ ہونے کا خیال کرتے ہوئے یا عقیدت کے سبب اس کی مالی مدد کے لیے علیحد ہ فنڈ قائم کریں،  خود بھی حصہ ڈالیں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں تو یہ ا جر کی بات ہے ۔ مسجد کے عطیات یا فنڈ اس مقصد کے لیے استعمال نہ کریں لیکن اگر مسجد انتظامیہ نے اپنے عملے کے لیے شرائط ملازمت طے کر رکھی ہوں، جن میں ہفتہ وار یا سالانہ تعطیلات مع تنخواہ اورایام ضعیفی کا گزارہ الاؤنس اور علاج معالجہ وغیرہ شامل ہیں ، اور چندہ و عطیات دینے والوں پر بھی یہ مقاصد واضح ہوں اور مسجد فنڈ میں گنجائش ہو تو ایسا کرنا نہ صرف جائز بلکہ مستحسن امر ہے ۔

آج کل وقف حکومت کے نظام میں با قاعدہ رجسٹر ڈ ہوتے ہیں اور ان کے قواعد و ضوابط پہلے سے طے ہوتے ہیں ۔ بہت سے خیراتی ہسپتال بھی Endorsement یا وقف کے تحت کام کرتے ہیں ۔ان کے ملازمین کو بالعموم عصر حاضر کے عرف و عادت کے مطابق مشاہرے اور سہولتیں دی جاتی ہیں ۔ بہتر ہے کہ مساجد کے وقف نامے (Trust Deed) میں ایسے تمام امور کی تصریح کر دی جائے۔

امامت اپنی نوعیت اور ذمہ داریوں کے اعتبار سے کل وقتی( Full Time) منصب ہے اور ائمہ و خطباء بھی اسی معاشرے کے افراد ہیں اور ان کی بھی وہی انسانی حاجات اور ضروریات ہوتی ہیں ، اپنے اپنے خاندانوں کی ساری تقریبات ( شادی/وفات ) میں حصہ لینا ہوتا ہے، لہذا ان تمام امور کو عادلانہ بنیادوں پر طے کر لینا چاہیے تا کہ یہ تاثر نہ ہو کہ امام کے ساتھ یومیہ مزدور (Daily Weges Labour) کی طرح برتاؤ کیا جا رہا ہے ۔

(تفہیم المسائل، جلد8، صفحہ349،ضیا القران پبلی کیشنز، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button