بہار شریعت

مزدلفہ کی روانگی اور اس کا وقوف

مزدلفہ کی روانگی اور اس کا وقوف

اللہ عزوجل فرماتاہے :۔

فاذاافضتم من عرفاتٍ فاذکر وااللہ عند المشعر الحرام واذکروہ کما ھد کم وان کنتم من قبلہٖ لمن الضآ لین۔

متعلقہ مضامین

(جب عرفات سے تم واپس آؤ تو مشعر حرام (مزدلفہ ) کے نزد یک اللہ کا ذکرو اور اس کو یا د کرو جیسے اس نے تمھیں بتایا اور بے شک اس سے پہلے تم گمراہوں میں تھے)

حدیث۱: صحیح مسلم شریف مین جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی جمعۃ الوداع میں نبی ﷺ عرفات سے مزدلفہ میں تشریف لائے یہاں مغرب و عشأ کی نماز پڑھی پھر لیٹے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوئی جب صبح ہوئی اس وقت اذان و اقامت کے ساتھ نماز فجر پڑھی ، پھر قصوا پر سوار ہو کر مشعر حرام میں آئے اورقبلہ کی جانب منہ کرکے دعا و تکبیر و تہلیل و توحید میں مشغول رہے اور وقوف کیا یہاں تک کہ خوب اجالا ہو گیا اور طلوع آفتاب سے قبل یہاں سے روانہ ہوئے ۔

حدیث ۲: بیہقی محمد بن قیس بن مخزمہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ پڑھا اور فرمایا کہ اہل جاہلیت عرفات سے اس وقت روانہ ہوتے تھے جب آفتاب منہ کے سامنے ہوتا ، اور ہم عرفات سے نہ جائیں گے جب تک آفتاب ڈوب نہ جائے اور مزدلفہ سے طلوع کے قبل روانہ ہوں گے ہمارا طریقہ بت پرستوں اور مشرکوں کے طریقہ کے خلاف ہے۔

(۱) جب غروب آفتاب کا یقین ہو جائے فوراً مزدلفہ کو چلو اور امام کے ساتھ جانا افضل ہے مگر دیر کرے تو اس کا انتظار نہ کرو۔

(۲) راستے بھر ذکر کرو‘ درود و دعا و لبیک و زاری وبکا میں مصروف رہو۔ اس وقت کی بعض دعائیں یہ ہیں ۔

اللھم الیک افضت و فی رحمتک رغبت ومن سخطک رھبت ومن عذابک اشفقت فاقبل نسکی واعظم اجری و تقبل تو بتی و ارحم تضرعی و استجب دعائی واعطنی سؤالی اللھم لا تجعل ھذ ا اخرعھد نا من ھذ االموقف الشریف العظیم وا رزقنا العودالیہ مراتٍ کثیرۃٍ بلطفک العمیم

(اے اللہ میں تیری طرف واپس ہوا اور تیری رحمت میں رغبت کی اور تیری نا خوشی سے ڈر اورتیرے عذاب سے خوف کیا تو میری عبادت قبول کر اور میرا اجر عظیم کر اور میر ی توبہ قبول کر اور میری عاجزی قبول کر اور مجھے میرا سوال عطا کر اے اللہ اس شریف بزرگ جگہ میں میری یہ حاضری آخری حاضری نہ کر اور تو اپنی مہربانی سے یہاں بہت مرتبہ آنا نصیب کر)

(۳) راستے میں جہاں گنجائش پاؤاپنی یا دوسرے کی ایذا کا خیال نہ ہو اتنی دیر اتنی دور تیز چلو پیدل ہوخواہ سوار۔ (۴) جب مزدلفہ نظر آئے بشرط قدرت پیدل ہولینا بہتر ہے اور نہا کر داخل ہونا افضل۔مزدلفہ میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھو:۔

اللھم ھذاجمعٌ اسئالک ان ترزقنی جوامع الخیرکلہ‘اللہ م رب المشعرالحرام ورب الرکن والمقام ورب البلدالحرام اسئالک بنوروجھک الکریم ان تغفرلی ذنوبی و ترحمنی وتجمع علی الھدی امری وتجعل التقوی زادی وذخری والاخرۃ مابی وھب لی رضاک عنی فی الدنیا ولاخرۃ یامن م بیدھ الخیرکلـہٗ اعطنی الخیرکلہٗ واصرف عنی الشر کلہٗ اللہ م حرم لحم وعظمی وشحمی و شعری وسائرجوارحی علی الناریاارحم الـرحمیـن ط

(اے اللہ یہ جمع (مزدلفہ ہے) میں تجھ سے تمام خیر کے مجموعہ کا سوال کرتا ہوں اے اللہ اے مشعر حرام کے رب اور رکن و مقام کے رب اور عزت والے شہر اور عزت والی مسجد کے رب میں تجھ سے بو سیلہ تیرے وجہ کریم کے نور کے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے گناہ بخش دے اور مجھ پر رحم کر اور ہدایت پر میرے کام کو جمع کردے اور تقوی کو میرا توشہ اور ذخیرہ کر اور آخرت میر امرجع کر اور دنیا اور آخرت میں تو مجھ سے راضی رہ‘ اے وہ ذات جس کے ہاتھ میں بھلائی ہے مجھ کو ہر قسم کی خیر عطا کر اور ہر قسم کی برائی سے بچا اے اللہ میرے گوشت اور ہڈی اور چربی اور بال اور تمام اعضاء کو جہنم پر حرام کردے ،اے سب مہر بانوں سے زیادہ مہربان)

مزدلفہ میں نماز مغرب و عشا

(۵) وہاں پہنچ کر حتی الامکان جبل قزح کے پاس راسۃ سے بچ کر اترے ورنہ جہاں جگہ ملے۔

(۶) غالباً وہاں پہنچتے پہنچتے شفق ڈوب جائے گی ‘مغرب کا وقت نکل جائے گا سواری سے اسباب اتار نے سے پہلے امام کے ساتھ مغرب و عشاء پڑھو اور اگر وقت مغرب باقی بھی رہے جب بھی ابھی مغرب نہ پڑھو ‘ نہ عرفات میں پڑھو کہ نہ راہ میں کہ اس دن یہاں نماز مغرب میں پڑھنا گناہ ہے اگر پڑھ لو گے عشاء کے وقت پھر پڑھنی ہوگی غرض یہاں پہنچ کر مغرب وقت عشاء میں بہ نیت ادانہ بہ نیت قضا حتی الامکان امام کے ساتھ پڑھو ۔مغر ب کا سلام پھیرتے ہی معاً عشأ کی جماعت ہوگی عشأ کے فرض پڑھ لو اس کے بعد مغرب و عشاء کی سنتیں اور وتر پڑھو ‘ اور اگر امام کے ساتھ جماعت نہ مل سکے تو اپنی جماعت کرلو اور نہ ہوسکے تو تنہا پڑھو۔

مسئلہ ا : یہ مغرب وقت عشا میں پڑھنی اسی کے لئے خاص ہے جو مزدلفہ کو آئے اور اگر عرفات ہی میں رات کو رہ گیا یا مزدلفہ کے سوادوسرے راسۃ سے واپس ہو ا تو اسے مغرب کی نماز اپنے وقت میں پڑھنی ضروری ہے۔ (ردالمحتار ص ۲۴۲ج۲)

مئسلہ۲: اگر مزدلفہ کے آنے والے نے مغرب کی نماز راسۃ میں پڑھی یا مزدلفہ پہنچ کر عشا کا وقت آنے سے پہلے پڑھ لی تو اسے حکم یہ ہے کہ اعادہ کرے مگر نہ کیا اور فجر طلوع ہوگئی تو وہ نماز اب صحیح ہوگئی۔(درمختار و ردالمحتار ص ۲۴۲ج۲‘ جوہرہ ص ۲۰۳‘ تبیین ص ۲۸ ج۲ ‘ عالمگیر ی ص ۲۳۰ج۱‘ بحر ص ۳۴۱ج۲)

مسئلہ۳: اگر مزدلفہ میں مغرب سے پہلے عشاء پڑھی تو مغرب پڑھ کر عشاء کا اعادہ کرے اور اگر طلوع فجر نہ کیا تو اب صحیح ہوگئی خواہ وہ شخص صاحب ترتیب ہو یا نہ ہو(در مختار ص ۲۴۳ج۲‘ تبیین ص ۲۸ ‘ عالمگیری ص۲۳۰ج۱‘ بحر ص۳۴۱ج۲‘ جوہرہ ص ۲۰۳ )

مسئلہ ۴: اگر راسۃ میں اتنی دیر ہوگئی کہ طلوع فجر کا اندیشہ ہے تو اب راسۃ ہی میں دونو ں نمازیں پڑھ لے ، مزدلفہ پہنچنے کا انتظار نہ کرے (درمختار ص ۲۴۳ج۲، تبیین ص ۲۸ ج۲‘ عالمگیری ص ۲۳۰ج۱‘ بحر ص ۳۴۱ج۲‘ جوہرہ ص ۲۰۳)

مسئلہ۵: عرفات میں ظہر و عصر کے لئے ایک اذان اور دواقامتیں ہیں اور مزدلفہ میں مغرب و عشاء کے لئے ایک اذان اور ایک اقامت (درمختار و ردالمحتار ص ۲۳۷۔۲۴۲ج ۲‘ تبیین ص ۲۳۔۲۷ج۲ ‘ عالمگیری ص ۲۲۸، ۲۳۰ج ا‘ بحر ص ۳۳۶۔ ۳۴۰ج۲)

مسئلہ۶: دونوں نمازوں کے درمیان میں سنتیں و نوافل نہ پڑھے۔ مغرب کی سنتیں بھی بعد عشاء پڑھے اگر درمیان میں سنتیں پڑھیں یا کوئی اور کام کیا تو ایک اقامت اور کہی جائے یعنی عشاء کے لئے(درمختار و ردالمحتار ص ۲۳۷۔۲۴۲ج۲‘ عالمگیر ص ۲۲۸۔۲۳۰ ج ۱ ‘ تبیین ص ۲۸ ج۲‘ بحر ص۳۳۶۔۳۴۰ج۲)

مسئلہ۷: طلوع فجر کے بعد مزدلفہ میں آیا تو ترک سنت ہوئی مگر دم وغیرہ ان پر واجب نہیں ۔(عالمگیر ی ص ۲۳۱ج۱‘ درمختار ردالمحتار ص ۲۴۴ج۲‘بحر ص ۳۴۲ج۲)

(۷) نمازوں کے بعد باقی رات ذکر و لبیک و درود و دعاو زاری میں گزارو کہ یہ بہت افضل جگہ اور بہت افضل رات ہے۔بعض علمأ نے اس رات کو شب قدر سے افضل کہا ۔ زندگی ہے تو سونے کو اور بہت راتیں ملیں گی اور یہاں یہ رات خدا جانے دوبارہ کسے ملے اور نہ ہوسکے تو با طہارت سورہو کہ فضول باتوں سے سونا بہتر ۔ اور اتنے پہلے اٹھ بیٹھوکہ صبح چمکنے سے پہلے ضروریات و طہارت سے فارغ ہو لو آج نماز صبح بہت اندھیرے سے پڑھی جائے گی کوشش کرو کہ با جماعت ہو بلکہ پہلی تکبیر فوت نہ ہو کہ عشا و صبح جماعت سے پڑھنے والا بھی پوری شب بیداری کا ثواب پاتا ہے۔

(۸)اب دربار اعظم کی دوسری حاضری کا وقت آیا ہاں ہاں کرم کے دروازے کھولے گئے ہیں کل عرفات میں حقوق اللہ معاف ہوئے تھے یہاں حقوق العباد معاف فرمانے کا وعدہ ہے۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button