ARTICLES

مزدلفہ و عرفات حُدودِ حرم میں ہیں یا خارج

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ کیا مزدلفہ اور عرفات حُدودِ حرم میں داخل ہیں ؟

(السائل : عرفان ضیائی، کراچی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : مزدلفہ حُدودِ حرم میں داخل ہے جب کہ عرفات حُدودِ حرم سے خارج ہے کیونکہ عرفات کی طرف حرم کی حدّ بطنِ عُرَنَہ تک ہے ۔اِس لئے کہ منیٰ مکہ کے مشرق میں مائل بجنوب ہے اُس سے آگے مشرق کی جانب مزدلفہ ہے اور اس سے آگے عرفات ہے ۔ امام محمد بن اسحاق خوارزمی حنفی متوفی 867ھ لکھتے ہیں :

منٰی خارج مکۃ من جانب الشرقی تمیل إلی الجنوب قلیلاً، و مزدلفۃ فوق منٰی من الجانب الشرقی أیضاً، و عرفات فوق مزدلفۃ من الجانب الشرقی أیضاً تمیل إلی الجنوب (235)

یعنی، منیٰ مکہ مکرمہ سے خارج مشرق کی جانب مائل بجنوب ہے اور مزدلفہ منیٰ سے اوپر (کی طرف) ہے ، وہ بھی مشرق کی جانب ہے اور عرفات مزدلفہ سے اوپر (کی طرف) ہے وہ بھی مشرق کی جانب مائل بجنوب ہے ۔ اور اس جانب حرم کی حدّ بطنِ عُرَنَہ ہے جیسا کہ مخدوم محمد ہاشم بن عبدالغفور حارثی ٹھٹھوی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

و از طریق طائف حدِّ حرم بر عرفات است در بطن عُرنۃ (236)

یعنی، طائف کے راستے سے حدِّ حرم عرفات پر ہے بطنِ عُرَنَہ میں ۔ اور شیخ ابراہیم رفعت پاشا متوفی 1353 ھ نے ’’شفاء الغرام‘‘ کے حوالے سے نقل کیا ہے :

فحدّ الحرم من جہۃ الطائف علٰی طریق عرفۃ من بطن عُرنۃ (237)

یعنی، پس حرمِ مکہ کی حد طائف کی جانب عرفات کے راستے پر بطنِ عُرَنَہ ہے ۔ تو جب اس جانب حدِّ حرم بطنِ عُرَنَہ ہے جو کہ عرفات سے متصل ہے تو ظاہر ہے کہ مزدلفہ حُدودِ حرم میں ہے اور عرفات خارج اور علامہ محمد سلیمان اشرف لکھتے ہیں : تمام مکہ مکرمہ، منیٰ، مزدلفہ یہ سب حرم کی حدود کے اندر ہیں البتہ عرفات داخل حرم نہیں ۔ (238)

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأربعاء، 25شوال المکرم 1427 ھ، 17نوفمبر 2006م (250-F)

حوالہ جات

235۔ اثارۃ الترغیب والتشویق، القسم الأول، الفصل الخامس والخمسون فی ذکر ما جاء فی بناء المسجد الحرام الخ، ص302

236۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ القلوب، باب سیزدھم دربعضے مسائل متفرقہ، فصل دہم درمیان تقدیر حُدود حرم مکہ معظمہ، ص283

237۔ مرآۃ الحرمین، مواقیت وأعلام الحرم، 1/225

238۔ الحج، مصنّفہ محمد سلیمان اشرف، ص121

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button