بہار شریعت

مریض کی طلاق کے متعلق مسائل

مریض کی طلاق کے متعلق مسائل

امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ فرمایا اگر مریض طلاق دے تو عورت جب تک عدت میں ہے شوہر کی وارث ہے اور شوہر اس کا وارث نہیں ۔

فتح القدیر وغیرہ میں ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زوجہ کو مرض میں طلاق بائن دی اور عدت میں ان کی وفات ہوگئی تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کی زوجہ کو میراث دلائی اور یہ واقعہ مجمع صحابئہ کرام کے سامنے ہوا اور کسی نے انکار نہ کیا ۔ لہذا اس پر اجماع ہوگیا ۔

مسئلہ۱: مریض سے مراد وہ شخص ہے جس کی نسبت غالب گمان ہو کہ اس مرض سے ہلاک ہوجائے گا کہ مرض نے اسے اتنا لاغر کر دیا ہے کہ گھر سے باہر کام کے لئے نہیں جاسکتا ہو مثلاً نماز کیلئے مسجد کو نہ جا سکتا ہو یا تاجر اپنی دوکان تک نہ جاسکتا ہو ۔اور یہ اکثر کے لحاظ سے ہے ورنہ اصل حکم یہ ہے کہ اس مرض میں غالب گمان موت ہو اگر چہ ابتدائً جبکہ شدت نہ ہوئی ہو باہر جاسکتا ہو مثلاً ہیضہ وغیرہا امراض مہلکہ میں بعض لوگ گھر سے باہر کے بھی کام کر لیتے ہیں مگر ایسے امراض میں غالب گمان ہلاکت ہے ۔یونہی یہاں مریض کے لئے صاحب فراش ہونا بھی ضروری نہیں اور امراض مزمنہ مثلاً سل ۔ فالج اگر روزبروز زیادتی پر ہوں تو یہ بھی مرض الموت ہیں اور اگر ایک حالت پر قائم ہوگئے اور پرانے ہوگئے یعنی ایک سال کا زمانہ گزر گیا تو اب اس شخص کے تصرفات تندرست کی مثل نافذ ہونگے ۔( درمختار ردالمحتار)

مسئلہ ۲: مریض نے عورت کو طلاق دی تو اسے فاربالطلاق کہتے ہیں کہ وہ زوجہ کو ترکہ سے محروم کرنا چاہتا ہے اور اس کے احکام آگے آتے ہیں ۔

مسئلہ۳: جو شخص لڑائی میں دشمن سے لڑرہا ہو وہ بھی مریض کے حکم میں ہے اگر چہ مریض نہیں کہ غالب خوف ہلاک ہے۔ یونہی جو شخص قصاص میں قتل کے لئے یا پھانسی دینے کیلئے یا سنگسار کرنے کے لئے لایا گیا یا شیروغیرہ کسی درندہ نے اسے پچھاڑا یا کشتی میں سوار ہے اور کشتی موج کے طلاطم میں پڑگئی یا کشتی ٹوٹ گئی اور یہ اس کے کسی تختہ پر بہتا ہوا جارہا ہے تو یہ سب مریض کے حکم میں ہیں جبکہ اسی سبب سے مربھی جائیں اور اگر وہ سبب جاتا رہا پھر کسی اور وجہ سے مرگئے تو مریض نہیں ۔اور اگر شیر کے مونہہ سے چھوٹ گیا مگر زخم ایسا کا ری لگا ہے کہ غالب گمان یہی ہے کہ اس سے مر جائیگا تو اب بھی مریض ہے ۔(فتح۔ درمختار وغیرہ)

مسئلہ۴: مریض نے تبرع کیا مثلاً اپنی جائداد وقف کردی یا کسی اجنبی کو ہبہ کر دیا یا کسی عورت سے مہر مثل سے زیادہ پر نکاح کیا تو صرف تہائی مال میں اس کا تصرف نافذ ہوگا یہ افعال وصیت کے حکم میں ہیں ۔

مسئلہ۵: عورت کو طلاق رجعی دی اور عدت کے اندر مر گیا تو مطلقاً عورت وارث ہے صحت میں طلاق دی ہو یا مرض میں عورت کی رضامندی سے دی ہو یا بغیر رضا یونہی اگر عورت کتابیہ تھی یا باندی اور طلاق رجعی کی عدت میں مسلمان ہو گئی یا آزاد کردی گئی اور شوہر مر گیا تو مطلقاً وارث ہے اگر چہ شوہر کو اس کے مسلمان ہونے یا آزاد ہونے کی خبر نہ ہو ۔ (عالمگیری )

مسئلہ۶: اگر مرض الموت میں عورت کو بائن طلاق دی ایک دی ہو یا زیادہ اور اسی مرض میں عدت کے اندر مر گیا خواہ اسی مرض سے مرا یا کسی اور سبب سے مثلاً قتل کر ڈالا گیا تو عورت وارث ہے جبکہ با ختیار خود اور عورت کی بغیر رضا مندی کے طلاق دی ہو بشرطیکہ بوقت طلاق عورت وارث ہونے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو اگر چہ شوہر کو اس کا علم نہ ہو مثلاً عورت کتابیہ تھی یا کنیز اور اس وقت مسلمان یا آزاد ہو چکی تھی۔ اور اگر عدت گزرنے کے بعد مرایا اس مرض سے اچھا ہو گیا پھر مرگیا خواہ اسی مرض میں پھر مبتلا ہو کر مرا یا کسی اور سبب سے یا طلاق دینے پر مجبور کیا گیا یعنی مار ڈالنے یا عضو کاٹنے کی صحیح دھمکی دی گئی ہو یا عورت کی رضا سے طلاق دی تو وارث نہ ہو گی اور اگر قید کی دھمکی دی گئی اور طلاق دیدی تو عورت وارث ہے اور اگر عورت طلاق پر راضی نہ تھی مگر مجبور کی گئی کہ طلاق طلب کرے اور عورت کی طلب پر طلاق دی تو وارث ہو گی ۔ ( درمختار وغیرہ)

مسئلہ۷: یہ حکم کہ مرض الموت میں عورت بائن کی گئی اور شوہر عدت کے اندر مر جائے تو بشرائط سابقہ عورت وارث ہوگی طلاق کے ساتھ خاص نہیں بلکہ جو فرقت جانب زوج سے ہو سب کا یہی حکم ہے مثلاً شوہر نے بخیار بلوغ عورت کو بائن کیا یا عورت کی ماں یا لڑکی کا شہوت سے بوسہ لیا یا معاذاللہ مرتد ہو گیا اور جو فرقت جانب زوجہ سے ہو اس میں وارث نہ ہوگی مثلاً عورت نے شوہر کے لڑکے کا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا یا مرتد ہوگئی یا خلع کرایا یونہی اگر غیر کی جانب سے ہو مثلاً شوہر کے لڑکے نے عورت کا بوسہ لیا اگر چہ عورت کو مجبور کیا ہو ہاں اگر اس کے باپ نے حکم دیا ہو تو وارث ہوگی۔ (ردالمحتار)

مسئلہ۸: مریض نے عورت کو تین طلاقیں دی تھیں اس کے بعد عورت مرتدہ ہوگئی پھر مسلمان ہوئی اب شوہر مرا تو وارث نہ ہوگی اگر چہ ابھی عدت پوری نہ ہوئی ہو۔ (عالمگیری)

مسئلہ۹: عورت نے طلاق رجعی یا طلاق کا سوال کیا تھا مرد مریض نے طلاق بائن یا تین طلاقیں دیدیں اور عدت میں مر گیا تو عورت وارث ہے یونہی عورت نے بطور خود اپنے کو تین طلاقیں دے لی تھیں اور شوہر مریض نے جائز کر دیں تو وارث ہوگی ۔اور اگر شوہر نے عورت کو اختیار دیا تھا عورت نے اپنے نفس کو اختیارکیا یا شوہر نے کہا تھا تو اپنے کو تین طلاقیں دیدے عورت نے دیدیں تو وارث نہ ہوگی۔(درمختار عالمگیری)

مسئلہ۱۰: مریض نے عورت کو طلاق بائن دی تھی اور عورت ہی اثنائے عد ت میں مر گئی تو یہ شوہر اس کا وارث نہ ہو گا اور اگر رجعی طلاق تھی تو وارث ہو گا ۔ (درمختار )

مسئلہ۱۱: قتل کے لئے لایا گیا تھا مگر پھر قید خانہ کو واپس کر دیا گیا یا دشمن سے میدان جنگ میں لڑرہا تھا پھر صف میں واپس گیا تو یہ اس مریض کے حکم میں ہے کہ اچھا ہو گیا لہذا اس حالت میں طلاق دی تھی اور عدت کے اند رمارا گیا تو عورت وارث نہ ہو گی ۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۲: مریض نے طلاق دی تھی اور خود عورت نے اسے عدت کے اندر قتل کر ڈالا تو وارث نہ ہوگی کہ قاتل مقتول کا وارث نہیں ۔( عالمگیری)

مسئلہ۱۳: عورت مریضہ تھی اور اس نے کوئی ایسا کام کیا جس کی وجہ سے شوہر سے فرقت ہوگئی مثلاً خیار بلوغ یا عتق یا شوہر کے لڑکے کا بوسہ لینا وغیرہا پھر مر گئی تو شوہر اس کا وارث ہو گا ۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۴: مریض نے عورت کو طلاق بائن دی تھی اور عورت نے ابن زوج کا بوسہ لیا یا مطاوعت کی یا مرض کی حالت میں لعان کیا یا مرض کی حالت میں ایلا کیا اور اس کی مدت گزر گئی تو عورت وارث ہوگی۔ اور اگر رجعی طلاق میں ابن زوج کا بوسہ عدت میں لیا تو وارث نہ ہوگی کہ اب فرقت جانب زوجہ سے ہے۔ یونہی اگر بلوغ یا عتق یا شوہر کے نامرد ہونے یا عضوتناسل کٹ جانے کی بناپر عورت کو اختیار دیا گیا اور عورت نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو وارث نہ ہوگی کہ اب فرقت جانب زوجہ سے ہے ۔اور اگر صحت میں ایلا کیا تھا اور مرض میں مدت پوری ہوئی تو وارث نہ ہوگی۔ اور اگر عورت مریضہ سے لعان کیا اور عدت کے اندر مر گئی تو شوہر وارث نہیں ۔(درمختار)

مسئلہ ۱۵: عورت مریضہ تھی اور شوہر نامرد عورت کو اختیار دیا گیا یعنی پہلے سال بھر کی شوہر کو میعاد دی گئی مگر اس مدت میں شوہر نے جماع نہ کیا پھر عورت کو اختیار دیا گیا اس نے اپنے نفس کو اختیار کیا اور عدت کے اندر مرگئی یا شوہر نے دخول کے بعد عورت کو طلاق بائن دی پھر شوہر کا عضو تناسل کٹ گیا اس کے بعد اسی عورت سے عدت کے اندر نکاح کیا اب عورت کو اس کا حال معلوم ہوااس نے اپنے نفس کو اختیار کیا اور مریضہ تھی عدت کے اندر مر گئی تو ان دونوں صورتوں میں شوہر اس کا وارث نہیں ۔( عالمگیری)

مسئلہ ۱۶: دشمنوں نے قید کرلیا ہے یا صف قتال میں ہے مگر لڑتا نہیں ہے یا بخار وغیرہ کسی بیماری میں مبتلا ہے جس میں غالب گمان ہلاکت نہ ہو یا وہاں طلاعون پھیلا ہوا ہے یا کشتی پر سوار ہے اور ڈوبنے کا خوف نہیں یا شیروں کے بن میں ہے یا ایسی جگہ ہے جہاں دشمنوں کاخوف ہے یا قصاص یا رجم کے لئے قید ہے تو ان صورتوں میں مریض کے حکم میں نہیں طلاق دینے کے بعد عدت میں مارا جائے یا مر جائے تو عورت وارث نہیں ۔ ( درمختار)

مسئلہ۱۷: حمل کی حالت میں جانب زوجہ سے تفریق واقع ہوئی اور بچہ پیدا ہونے میں مرگئی تو شوہر وارث نہ ہو گا ہاں اگر دردزہ میں ایسا ہوا تو وارث ہو گا کہ اب عورت فارہ ہے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۱۸: مریض نے طلاق بائن کسی غیر کے فعل پر معلق کی مثلاً اگر فلاں یہ کام کرے گا تو میری عورت کو طلاق ہے اگر چہ وہ غیر خود انھیں دونوں کی اولاد ہو۔ یا کسی وقت کے آنے پر تعلیق ہو مثلاًجب فلاں وقت آئے تو تجھ کو طلاق ہے اور تعلیق اور شرط کا پایا جانا دونوں حالت مرض میں ہیں یا اپنے کسی کام کرنے پر طلاق معلق کی مثلاً اگر میں یہ کام کروں تو میری عورت کو طلاق ہے اور تعلیق و شرط دونوں مرض میں ہیں یا تعلیق صحت میں ہو اور شرط کا پایا جانا مرض میں ۔ یا عورت کے کسی کام کرنے پر معلق کی اور وہ کام ایسا ہے جس کا کرنا شرعاً یا طبعاً ضروری ہے مثلاً اگر تو کھائے گی یا نماز پڑھے گی اور تعلیق و شرط دونوں مرض میں ہوں یا صرف شرط تو ان صورتوں میں عورت وارث ہوگی اور اگر فعل غیر یا کسی وقت کے آنے پر معلق کی اورتعلیق و شرط دونوں یا فقط تعلیق صحت میں ہو ۔یا عورت کے فعل پر معلق کیا اور وہ فعل ایسا نہیں جس کا کرنا عورت کے لئے ضروری ہو تو ان صورتوں میں وارث نہیں ۔(درمختار)

مسئلہ ۱۹: صحت کی حالت میں عورت سے کہا اگر میں اور فلاں شخص چاہیں تو تجھ کو تین طلاقیں ہیں پھر شوہر مریض ہو گیا اور دونوں نے ایک ساتھ طلاق چاہی یا پہلے شوہر نے چاہی پھر اس شخص نے تو عورت وارث نہ ہوگی اور اگر پہلے اس شخص نے چاہی پھر شوہر نے تو وارث ہوگی ۔(خانیہ) اور اگر مرض کی حالت میں کہا تھا تو بہر صورت وارث ہوگی ۔ ( ردالمحتار)

مسئلہ۲۰: مریض نے عورت مدخولہ کو طلاق بائن دی پھر اس سے کہا اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھ پر تین طلاقیں اور عدت کے اندر نکاح کرلیا تو طلاقیں پڑجائیں گی اور اب سے نئی عدت ہوگی اور عدت کے اندر شوہر مر جائے تو عورت وارث نہ ہوگی۔(خانیہ)

مسئلہ۲۱: مریض نے اپنی عورت سے جو کسی کی کنیز ہے یہ کہا کہ تجھ پر کل تین طلاقیں اور اس کے مولی نے کہا توکل آزاد ہے تو دوسرے دن کی صبح چمکتے ہی طلاق و آزادی دونوں ایک ساتھ ہونگی اور عورت وارث نہ ہوگی ۔اور اگر مولی نے پہلے کہا تھا پھر شوہر نے جب بھی یہی حکم ہے ہاں اگر شوہر نے یوں کہا کہ جب تو آزاد ہوتو تجھ کو تین طلاقیں تو اب وارث ہوگی۔ اور اگر مولی نے کہا توکل آزاد ہے اور شوہر نے کہا تجھے پر سوں طلاق ہے اگر شوہر کو مولی کا کہنا معلوم تھا تو فاربالطلاق ہے ورنہ نہیں ۔(عالمگیری)

مسئلہ۲۲: عورت سے کہا جب میں بیمار ہوں تو تجھ پر طلاق شوہر بیمار ہوا تو طلاق ہوگئی اور عدت میں مرگیا تو عورت وارث ہوگی ۔(خانیہ)

مسئلہ۲۳: مسلمان مریض نے اپنی عورت کتابیہ سے کہا جب تو مسلمان ہو جائے تو تجھ کو تین طلاقیں ہیں وہ مسلمان ہوگئی اور شوہر عدت کے اندر مر گیا تو وارث ہوگی اور اگر کہا کل تجھ کو تین طلاقیں ہیں وہ مسلمان ہوگئی اور شوہر عدت کے اندر مرگیا تو وارث نہ ہوگی اور اگر مسلمان ہونے کے بعد طلاق دی تووارث ہوگی اگر چہ شوہر کو علم نہ ہو ۔(عالمگیری)

مسئلہ۲۴: مریض نے اپنی دو عورتوں سے کہا تم دونوں اپنے کو طلاق دے لو ہر ایک نے اپنے کو اور سوت کو آگے پیچھے طلاق دی تو پہلی ہی کے طلاق دینے سے دونوں مطلقہ ہوگئیں اور اس کے بعد دوسری کا طلاق دینا بیکار ہے اور دوسری وارث ہوگی پہلی نہیں اور اگر پہلی نے صرف سوت کو طلاق دی اپنے کو نہیں یا ہر ایک نے دوسری کو طلاق دی اپنے کو نہ دی تو دونوں وارث ہونگی ۔اور اگر ہر ایک نے اپنے کو اور سوت کو معاًطلاق دی تو دونوں مطلقہ ہوگیئں اور وارث نہ ہوں گی اور اگر ایک نے اپنے کو طلاق دی اور دوسری نے بھی اسی کو طلاق دی تو یہی مطلقہ ہوگی۔ اور یہ وارث نہ ہوگی۔ اور اگر ایک نے سوت کو طلاق دی پھر اس کے بعد دوسری نے خود اپنے ہی کو طلاق دی تو وارث ہوگی ۔ یہ سب صورتیں اس وقت ہیں کہ اسی مجلس میں ایسا ہوااور اگر مجلس بدلنے کے بعد ہر ایک نے اپنے کو اور سوت کو معاًطلاق دی یا آگے پیچھے یا ہر ایک نے دوسری کو طلاق دی بہر حال دونوں وارث ہیں اور ہر ایک نے اپنے کو طلاق دی تو طلاق ہی نہ ہوئی خلاصہ یہ کہ جس صورت میں عورت خود اپنے طلاق دینے سے مطلقہ ہوئی ہو تو وارث نہ ہوگی ورنہ ہوگی۔( عالمگیری)

مسئلہ۲۵: دو عورتیں مدخولہ ہیں شوہر نے صحت میں کہا تم دونوں میں سے ایک کو تین طلاقیں اور یہ بیان نہ کیا کہ کس کو پھر جب مریض ہوا تو بیان کیا کہ وہ مطلقہ فلاں عورت ہے تو یہ عورت میراث سے محروم نہ ہوگی اور اگر اس شخص کی ان دوکے علاوہ کوئی اور عورت بھی ہے تواس کے لئے نصف میراث ہے اور وہ عورت جس کا مطلقہ ہونا بیان کیا اگر شوہر سے پہلے مر گئی تو شوہر کے متعلق مسائل صحیح مانا جائیگا اور دوسری جو باقی ہے میراث لے گی لہذا اگر کوئی تیسری عورت بھی ہے تو دونوں حق زوجیت میں برابر کی حقدار ہیں ۔اورا گر جس کا مطلقہ ہونا بیان کیا زندہ ہے اور دوسری شوہر کے پہلے مرگئی تو یہ نصف ہی کی حقدار ہے لہذا اگر کوئی اور عورت بھی ہے تو اسے تین ربع ملیں گے اور اسے ایک ربع ۔اوراگر شوہر کے بیان کرنے اور مرنے سے پہلے ان میں کی ایک مرگئی تو اب جو باقی ہے وہی مطلقہ سمجھی جائے گی اور میراث نہ پائے گی اور اگر ایک کے مرنے کے بعد شوہر یہ کہتا ہے کہ میں نے اسی کو طلاق دی تھی تو شوہر اس کا وارث نہ ہوگا مگر جو موجود ہے وہ مطلقہ سمجھی جائے گی اور اگر دونوں آگے پیچھے مریں اب یہ کہتا ہے کہ پہلے جو مری ہے اسے طلاق دی تھی تو کسی کا وارث نہیں ۔اور اگر دونوں ایک ساتھ مریں مثلاً ان پر دیوار ڈھ پڑی یا دونوں ایک ساتھ ڈوب گئیں یا آگے پیچھے مریں مگر یہ نہیں معلوم کہ کون پہلے مری کون پیچھے تو ہر ایک کے مال میں جتنا شوہر کا حصہ ہوتا ہے اس کا نصف نصف اسے ملے گا اور اس صورت میں کہ ایک ساتھ مریں یا معلوم نہیں کہ پہلے کون مری اس نے ایک کا مطلقہ ہونا معین کیا تو اس کے مال میں سے شوہر کو کچھ نہ ملے گا اور دوسری کے ترکہ میں سے نصف حق پائیگا ( عالمگیری)

مسئلہ۲۶: صحت میں کسی کو طلاق کی تفویض کی اس نے مرض کی حالت میں طلاق دی تو اگر اسے طلاق کا مالک کردیا تھا تو عورت وارث نہ ہوگی اور اگر وکیل کیا تھا اور معزول کرنے پر قادر تھا تو وارث ہو گی۔(عالمگیری‘ درمختار)

مسئلہ۲۷: عورت سے مرض میں کہا میں نے صحت میں تجھے طلاق دیدی تھی اور تیری عدت بھی پوری ہوچکی عورت نے اس کی تصدیق کی پھر شوہر نے اقرار کیا کہ عورت کا مجھ پر اتنا دین ہے یا اس کی فلاں شے مجھ پر ہے یا اس کے لئے کچھ مال کی وصیت کی تو اس اقرار و میراث یا وصیت و میراث میں جو کم ہے عورت وہ پائیگی اور اس بارے میں عدت وقت اقرار سے شروع ہوگی یعنی اب سے عدت پوری ہونے تک کے درمیان میں شوہر مرا تو یہی اقل پائے گی اور اگر عدت گزرنے پر مرا تو جو کچھ اقرار کیا یا وصیت کی کل پائے گی۔ اور اگر صحت میں ایسا کہا تھا اور عورت نے تصدیق کرلی یا وہ مرض الموت میں نہ تھا یعنی وہ بیماری جاتی رہی تو اقرار وغیرہ صحیح ہے اگر چہ عدت میں مر گیا ۔اور اگر عورت نے تکذیب کی اور شوہر اسی مرض میں وقت اقرار سے عدت میں مرگیا تو اقرار ووصیت صحیح نہیں اور اگر بعد عدت مرا یا اس مرض سے اچھا ہو گیا تھا اور عدت میں مرا تو عورت وارث نہ ہوگی اور اقرار ووصیت صحیح ہیں ۔اور اگر مرض میں عورت کے کہنے سے طلاق دی پھر اقرار یا وصیت کی جب بھی وہی حکم ہے کہ دونوں میں جو کم ہے وہ پائے گی ۔ ( درمختار‘ ردالمختار)

مسئلہ۲۸: عورت نے شوہر مریض پر دعوی کیا کہ اس نے اسے طلاق بائن دی اور شوہر انکار کرتا ہے قاضی نے شوہر کو حلف دیا اس نے قسم کھالی پھر عورت نے بھی شوہر کے مرنے سے پہلے اس کی تصدیق کی تو وارث ہوگی اور مرنے کے بعد تصدیق کی تو نہیں جبکہ یہ دعوی ہو کہ صحت میں طلاق بائن دی تھی۔( درمختار ‘ردالمحتار)

مسئلہ۲۹: شوہر کے مرنے کے بعد عورت کہتی ہے کہ اس نے مجھے مرض الموت میں بائن طلاق دی تھی اور میں عدت میں تھی کہ مرگیا لہذا مجھے میراث ملنی چاہیئے اور ورثہ کہتے ہیں کہ صحت میں طلاق دی تھی لہذا نہ ملنی چاہیے تو قول عورت کا معتبر ہے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۳۰: عورت کو مرض الموت میں تین طلاقیں دیں اور مر گیا عورت کہتی ہے میری عدت پوری نہیں ہوئی تو قسم کے ساتھ اس کا قول معتبر ہے اگر چہ زمانہ دراز ہوگیا ہو اگر قسم کھالے گی وارث ہوگی قسم سے انکار کرے گی تو نہیں ۔اور اگر عورت نے ابھی کچھ نہیں کہا مگر اتنے زمانے کے بعد جس میں عدت پوری ہوسکتی ہے اس نے دوسرے سے نکاح کیا اب کہتی ہے کہ عدت پوری نہیں ہوئی تو وارث نہ ہوگی اور وہ دوسرے ہی کی عورت ہے۔ اور اگر ابھی نکاح نہیں کیا ہے مگر کہتی ہے میں آئسہ ہوں تین مہینے کی عدت پوری کی اور شوہرمرگیا اب دوسرے سے نکاح کیا اور عورت کے بچہ ہوا یا حیض آیا تو وارث ہوگی اور دوسرے سے جونکاح کیا ہے یہ نکاح نہیں ہوا۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۱: کسی نے کہا پچھلی عورت جس سے نکاح کروں تو اسے طلاق ہے اور ایک سے نکاح کرنے کے بعد دوسری سے مرض میں نکاح کیا اور شوہر مر گیا تو اس عورت کو نکاح کرتے ہی طلاق ہوگئی اور وارث نہ ہو گی۔ ( درمختار)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button