ARTICLES

مرض کی وجہ سے سعی ترک کرنے کاحکم جبکہ تارک سعی مکہ میں حالت احرام میں ہو

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی عمرہ کی سعی طبیعت کے خراب ہونے کے سبب مکمل چھوڑدے تو کیا حکم ہوگا جبکہ تارک سعی مکہ مکرمہ میں ہواور اس نے احرام بھی نہ کھولاہو؟ـ

(السائل : ایک حاجی c/oاصف مدنی،مکہ مکرمہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ۔صورت مسؤلہ میں جاننا چاہیے کہ طواف اور سعی کو پے درپے کرناسنت ہے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ لکھتے ہیں :

الموالاۃ بینہ وبین الطواف۔(121)

یعنی،سعی اورطواف کے مابین پے درپے ہونا سنت ہے ۔ اور بغیر عذرسعی کو موخر کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ خلاف سنت ہے ۔ چنانچہ صدرالشریعہ محمد امجد علی اعظمی حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : بغیر عذر اس وقت سعی نہ کرنا مکروہ ہے کہ خلاف سنت ہے ۔(122) البتہ اگرکسی نے طواف اور سعی پے درپے نہ کیا تواس پر تاخیر کی وجہ سے کچھ لازم نہیں ہوگا،اگر چہ طویل زمانہ گزرجائے ۔ چنانچہ امام ابو منصور محمدبن مکرم بن شعبان کرمانی متوفی597ھ لکھتے ہیں :

فان عرض لہ عارض فی السعی فقطعہ وطال الزمان سعی مادام بمکۃ ، ولیس علیہ شیء ، لانہ اتی بالواجب۔(123)

یعنی،اگر کسی کوسعی میں رکاوٹ پیش اجائے جس کے سبب سعی کوچھوڑ دے اور اسی حالت میں اسے طویل زمانہ ہی کیوں نہ گزر جائے وہ سعی کرے جب تک کہ مکہ مکرمہ میں ہے اورجب وہ سعی کرلے گاتو اس پر کچھ لازم نہیں ہوگاکیونکہ اس نے واجب کو پوراکرلیا ہے ۔ لہٰذا تارک سعی جب تک مکہ مکرمہ میں ہوتواسے چاہیے کہ وہ سعی کرکے ایک واجب فعل سے بری الذمہ ہوجائے ،اور حلق یا تقصیر کے ذریعے احرام کھول دے ۔

واﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب

یوم الجمعۃ،19رمضان1440ھ۔24مئی 2019م FU-85

حوالہ جات

(121) لباب المناسک و عباب المسالک، باب السعی بین الصفا والمروۃ،فصل فی سننہ ، ص : 128

(122) بہارشریعت،حج کابیان،طواف وسعی صفاومروہ و عمرہ کا بیان،1/1106

(123) المسالک فی المناسک،القسم الثانی : فی بیان نسک الحج من فرائضہ وسننہ وادابہ وغیر ذلک،فصل فی الترتیب فیہ،1/471

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button