شرعی سوالات

مرتد کو قرض دے کر نفع لیناناجائزہے

سوال:

 روافض ، وہابی، دیوبندی سے قرض پر نفع لینا کیسا؟

جواب:

 مرتد سے کوئی معاملت جائز نہیں، مرتد کے لئے شرعا نہیں مگر اسلام ورنہ سیف، اس کا نہیں اس کا وہ مال جو حالت اسلام کا ہے وہ اس کے مسلم ورثہ کا ہے اور زمانہ ردت کا مکسوب بیت المال کا ہے، فئی للمسلمین ہے۔ جس مرتد کے ورثہ مسلم ہوں اس میں یہ دیکھنا ہو گا کہ اس کے پاس زمانہ اسلام کا مال ہے یا نہیں ، اگر نہیں تو اس سے اگر اس حیلہ سے اخذ کیا جاسکے تو سود نہ ہونا چاہئے۔ اور اگر ہو تو احتراز چاہئے مگر جبکہ معلوم ہو  جو زیادہ ہے وہ زمانہ ردت کے کسب سے ہے۔

وہ مال جو حالت اسلام کا ہے وہ بالاتفاق اس کے مسلم ورثہ کا ہے، ہمارے نزدیک مال غنیمت نہ ہو گا اور وہ مال جو اس کے زمانہ ردت کا ہے مسلمانوں کے لئے مال غنیمت ہے، بیت المال میں جمع کر دیا جائے گا، یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیک ہے۔ زمانہ ردت کا دین حالت ارتداد کے مکسوب سے ادا کیا جائے گا، حالت اسلام کا مکسوب ورثہ کا حق ہے، بر خلاف حالت ردت کا مکسوب کہ ارتداد کی وجہ سے مرتد کی عصمت نفس زائل ہو جاتی ہے، اسی طرح عصمت مال بھی نہ رہے گی کہ یہ نفس کے تابع ہے۔(فتاوی مفتی اعظم، جلد 5 ، صفحہ 68، شبیر برادرز لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button