ARTICLES

مدینہ منورہ سے حج قران کا احرام باندھنے کے بعد توڑ دینے پر حکم

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میں نے پاکستان سے مکہ مکرمہ اکر عمرہ ادا کیا پھر شیڈول کے مطابق ہم لوگ مدینہ طیبہ چلے گئے وہاں سے واپسی پر حج کے دن قریب تھے اور میں نے ذو الحلیفہ سے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھ لیا عزیزیہ اگئے ہمارے گروپ میں منی روانگی سے دو روز قبل گروپ والوں نے ایک عالم دین کو حج تربیت کے لیے بلوایا تھا تربیت کے بعد میں نے یا میرے بارے میں کسی نے ان سے پوچھ لیا تو انہوں نے فرمایا کہ تمہارا قران نہیں ہوا جلدی سے جاکر احرام کھول دو اور میں نے ان کے کہنے پر حلق کروایا اور احرام کھول دیا مجھے ابھی دس گھنٹے نہیں گزرے تھے کہ ہمارے ایک ساتھی نے اپ سے مسئلہ دریافت کیاتو اپ نے احرام کھولنے سے منع فرمایاہے برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں جبکہ مجھے ابھی سلے ہوئے کپڑے پہنے ابھی صرف دس گھنٹے گزرے ہیں نہ سویا ہوں نہ سر ڈھکا ہے ؟

(السائل : محمد یاسر اوکاڑہ،حال : عزیزیہ،مکہ مکرمہ،کاروان حنفی)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ۔صورت مسؤلہ میں مذکور شخص پر دو دم لازم ائیں گے کیونکہ اس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھااس کے لیے قاعدہ یہ ہے کہ قارن جو جرم احرام پر کرے گااس میں اس پر دو جزائیں لازم اتی ہیں ۔ چنانچہ علامہ محمد بن عبد اللہ بن غزی تمرتاشی حنفی متوفی 1004ھ لکھتے ہیں :

کل ما علی المفرد بہ دم بسب جنایتہ علی احرامہ فعلی القارن دمان و کذا الحکم فی الصدقۃ۔ (51)

یعنی، جس قصور میں احرام پرجنایت کے سبب سے تنہا مفرد بالحج پر ایک دم واجب ہوتا ہے تو اس فعل میں قارن پر دو دم واجب ہوتے ہیں (ایک حج کا اور دوسرا عمرہ کا) ایسا ہی حکم ہے وجوب صدقہ میں ۔ اس کے تحت علامہ علاؤ الدین حصکفی حنفی متوفی 1088ھ لکھتے ہیں :

یعنی بفعل شیئٍ من محظوراتہ لا مطلقا، اذ لو ترک واجبا من واجبات الحج او قطع نبات الحرم لم یتعدد الجزاء، لانہ لیس جنایۃ علی الاحرام۔(52)

یعنی، جنایت احرام سے اس چیز کا کرنا مراد ہے جو احرام کے ممنوعات سے ہے نہ کہ مطلقا (ہر طرح کی جنایت سے ) کیونکہ اگر تنہا حج کرنے والا کوئی واجب فعل حج کے واجبات سے ترک کرے یا حرم کی گھاس کاٹے تو اس پر جزائیں متعدد نہ ہو ں گی اس لئے کہ جنایت احرام پر نہیں ۔ یاد رہے کہ دم سرزمین حرم کے ساتھ خاص ہے چاہے دم شکر ہو یادم جبر۔ چنانچہ شیخ الاسلام علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

ہر دمے کہ واجب شدہ ذبح ان در حج و عمرہ چنانکہ دم قران و تمتع وجنایت ودم مجاوزۃ ازمیقات ودم احصار، پس مکان او حرم است ہر جا کہ باشد از حرم و ہمیں است حکم دم تطوع۔ (53)

یعنی، ہر دم کہ جس کا ذبح کرنا حج و عمرہ میں واجب ہو جیسے دم قران و تمتع اور دم جنایت، اور میقات سے گزرنے کا دم اور دم احصار، پس اس (کے ذبح) کی جگہ حرم ہے ، حرم کی کوئی بھی جگہ ہو اور یہی حکم ہے نفلی دم کا۔ اور دس گھنٹوں تک سلے ہوئے کپڑے پہننے کی وجہ سے دوصدقے لازم ائے کیونکہ اس نے حج اورعمرے کاایک ساتھ احرام باندھا ہے ایک صدقہ حج کے احرام کی وجہ سے اور دوسرا عمرہ کے احرام کی وجہ سے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ لکھتے ہیں :

فاذا لبس مخیطا یوما کاملا ،او لیلۃً کاملۃً فعلیہ دم ،وفی اقل من یومٍ او لیلۃٍ صدقۃ ،وکذا لو لبس ساعۃ فصدقۃ ،وفی اقل من ساعۃ قبضۃ من بر۔(54)

یعنی،پس جس نے مکمل دن(صبح صادق تا غروب افتاب) یا مکمل رات (بعد غروب افتاب تا صبح صادق)سلا ہوا کپڑا پہنا تو اس پر دم لازم ہوگا اور دن یا رات سے کم پہننے میں صدقہ لازم ہوگا،اور اسی طرح حکم ہے اگر ایک گھڑی بھر پہنا ہواور ایک گھڑی سے کم پہننے میں مٹھی بھرگندم دینا لازم ہوگا۔ اورعلامہ نظام الدین حنفی متوفی1161ھ لکھتے ہیں :

اذا لبس المحرم المخیط علی الوجہ المعتاد یومًا الی اللیل فعلیہ دم، وان کان اقل من ذلک فصدقۃ۔ (55)

یعنی،جب محرم نے سلے ہوئے کپڑے عادۃً صورت(جس طرح عام طور پر پہنتے ہیں )پر دن(صبح صادق تا غروب افتاب) سے رات(بعدغروب افتاب تا صبح صادق)تک پہنے تو اس پر دم لازم ہے اور اگر اس سے کم پہنے تو تو صدقہ دینا لازم ہے ۔ اورصدر الشریعہ محمدامجد علی اعظمی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : محرم نے سلا کپڑا چار پہرکامل(یعنی پورے بارہ گھنٹے ) پہنا تو دم واجب ہے اور اس سے کم تو صدقہ اگرچہ تھوڑی دیر پہنا۔(56) بہار شریعت کی عبارت میں چار پہر کا ذکر ہوا اس سے مراد ایک دن (صبح صادق تا غروب افتاب)یاایک رات(بعدغروب افتاب تا صبح صادق)یادوپہر سے ادھی رات یاپھر ادھی رات سے دوپہرتک کی مقدار ہے ۔ چنانچہ ’’فتاوی رضویہ‘‘ کے حاشیہ میں ہے : چار پہر سے مراد ایک دن یا ایک رات کی مقدار ہے ،مثلا طلوع سے غروب یا غروب سے طلوع یا دوپہر سے ادھی رات یا ادھی رات سے دوپہر تک۔(57) باقی رہا مدینہ منورہ سے حج قران کااحرام تو وہ درست ہے اور اس پر’’ فتاوی حج و عمرہ ‘‘ میں ایک سے زائد فتاوی مذکور ہیں مزید یہ کہ علامہ طاہر سنبل حنفی نے ’’نزھۃ المشتاق فی حل عمرۃ المکی والملحق بہ من الافاق‘‘کے نام سے ایک مفصل رسالہ تحریر کیا جسے علامہ قاضی فقیہ حسین بن محمد سعید مکی حنفی متوفی1366ھ نے ’’المسلک المتقسط‘‘پر اپنے حاشیہ میں نقل کیا۔ چنانچہ علامہ طاہر سنبل حنفی لکھتے ہیں :

وکذا المکی ومن فی معناہ اذا وصل الی الطائف مثلا فانہ یصیر حکمہ فی حال الاحرام کحکمہم، فلہ ان یدخل الی مکۃ فی الاشھر بعمرۃ ، ولہ ان یقرن ، کما صرح بہ کثیر من اھل المعتبرات ، ففی ’’المبسوط‘‘ فی باب المواقیت بعد ان ذکر انہ لا یتمتع المکی ومن وراء المیقات ولا یقرن قال : الا ان المکی اذا کان بالکوفۃ ، فلما انتھی الی المیقات قرن بین الحج والعمرۃ واحرم بھما، صح ویلزمہ دم القران ، لان صفۃ القران : من یکون حجتہ وعمرتہ متقارنتین یحرم بھما جمیعا معا ، وجدت ھنا فی حق المکی فقولہ : ’’اذا کان بالکوفۃ ‘‘فیہ اشارۃ الی انہ لم یخرج من مکۃ لاجل القران۔ وقولہ : ’’ ویلزمہ دم القران ‘‘صریح فی ان قرانہ یکون مسنونا ، ولا یکون منھیا عنہ ، وذلک لما مر ان من وصل الی موضع علی وجہ مشروع ،کان حکمہ حکم اھلہ۔وقولہ : من یکون حجتہ وعمرتہ متقارنتین ای علی وجہ مشروع ، وذلک لا یکون الا للافاقی ومن الحق بہ، کالمکی الواصل الی الافاق لا لاجل القران۔(58)

یعنی،اسی طرح مکی اور جواس کے معنی میں ہے مثلا جب وہ طائف پہنچاتو احرام کے لیے اس کا حکم ا ن کے حکم کی مثل ہے ،تو اسے اشہر حج میں عمرہ کے احرام کے ساتھ مکہ میں داخل ہونا جائز ہے اور اسے قران کا احرام جائز ہے جیسا کہ کثیر اہل معتبرات نے اس کی تصریح کی ہے پس ’’مبسوط‘‘کے ’’باب المواقیت‘‘میں یہ ذکر کرنے کے بعد’’کہ مکی اور جومواقیت کے اندرہے نہ تمتع کرے گا اورنہ قران‘‘فرمایا مگر مکی جب کوفہ میں ہوپس جب وہ میقات پر پہنچا تو اس نے حج اور عمرہ کے مابین قران کیااور ان دونوں کا احرام باندھ لیا تواس کا احرام درست ہوگیا اوراسے قران کا دم لازم ہوگیاکیونکہ قران یہ ہے کہ جس کا حج اور عمرہ دونوں میقاتی ہوں وہ ان دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھے جو یہاں مکی کے حق میں پایا جاتاہے ، پس ’’مبسوط‘‘ کا قول کہ جب کوفہ میں ہو‘‘اس میں اشارہ ہے کہ وہ مکہ سے قران کے لیے نہ نکلاہواوران کاقول کہ’’تو اسے قران کا دم لازم ہے ‘‘یہ اس بات میں صریح ہے کہ اس کا قران مسنون ہوگااوریہ ممنوع نہ ہوگا،اور وہ اس لیے کہ جو گزرا کہ جو شخص ایسی جگہ مشروع وجہ پر پہنچ گیاتو اس کا حکم وہاں کے لوگوں کی مثل ہوگااور ان کا قول کہ’’جس کا حج اور عمرہ دونوں میقاتی ہوں ‘‘یعنی مشروع وجہ پر،اور یہ نہیں ہوسکتامگرافاقی کے لیے اور جو افاقی کے حکم میں ہیں جیسے مکی کہ جو افاق (کسی کام سے )پہنچاہونہ کہ حج قران کے لیے ۔ اس سے معلوم ہواکہ ایسے پاکستانی کا حج قران درست اور مسنون ہوگاجواشہرحج میں مکہ مکرمہ ایااور عمرہ کے بعد شیڈول کے مطابق مدینہ طیبہ گیاوہاں سے واپسی پر اس نے میقات سے قران کااحرام باندھا۔ جواز اور عدم جواز کی روایات میں تطبیق دیتے ہوئے علامہ طاہر سنبل مکی حنفی لکھتے ہیں :

یقول العبد الضعیف : ویمکن الجمع بین الروایتین بانہ ان خرج الی الکوفۃ مثلا فی الاشھر قاصدا القران لا یجوز قرانہ ، لخروجہ للاحرام علی وجہ غیر مشروع ، وان خرج لحاجۃ ثم رجع فلما انتھی الی المیقات اراد القران ، فانہ یصح قرانہ ، لانہ لماوصل الی الافاق لا لاجل الاحرام فقد وصل الیھا علی وجہ مشروع ، فانہ لا مانع من خروجہ لحاجتہ ، فجاز لہ القران لانہ صار ملحقا بھم ،بخلاف ما اذا خرج علی وجہ غیر مشروع بان خرج لاجل الاحرام قاصدا ترک میقاتہ ، فانہ لا یلحق بھم کمامر۔(59)

یعنی،بندہ ضعیف کہتا ہے : دو روایتوں میں اس طرح تطبیق ممکن ہے کہ مثلا جب کوئی اشھر حج میں حج قران کا ارادہ کرتے ہوئے کوفہ جائے تو اس کا قران احرام کے لیے غیر مشروع وجہ پر نکلنے کی وجہ سے درست نہ ہوگااور اگر وہ حاجت کی وجہ سے نکلا پھر وہ میقات پرپہنچاتو اس نے قران کاارادہ کیاتو اس کا قران صحیح ہوگیاکیونکہ جب وہ افاق کی طرف پہنچا نہ کہ احرام کے لیے تو تحقیق وہ اس کی طرف مشروع وجہ پر پہنچا ہے تو اس کا کسی حاجت کے لیے نکلنامنع نہیں ہے پس اس کے لیے قران جائز ہوگاکیونکہ وہ وہاں کے لوگوں کے ساتھ(حکم میں ) ملحق ہے بخلاف اس کے کہ جب وہ کسی غیر مشروع وجہ پر نکلے بایں طور کہ احرام کے لیے نکلے اور اپنی میقات کو چھوڑنے کا قصد رکھتا ہو تو(اس صورت میں ) وہ وہاں کے لوگوں کے ساتھ(حکم میں ) ملحق نہ ہوگا جیسا کہ گزرا۔

واللٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب

یوم السبت،7،ذو الحجۃ1439ھ۔18اغسطس 2018م FU-25

حوالہ جات

(51)تنویر الابصار مع شرحہ للحصکفی، کتاب الحج، باب الجنایات،ص170

(52) الدر المختار، کتاب الحج، باب الجنایات،ص170

(53)حیات القلوب فی زیارت المحبوب، باب ہشتم، دربیان انچہ متعلق است از مناسک منی، فصل چہارم در بیان مسائل متعلقہ بمکان ذبح ہدایا و زمان ان، ص204

(54)لباب المناسک و عباب المسالک،باب الجنایات، النوع الاول : فی حکم اللبس،ص193

(55)الفتاوی الھندیۃ،کتاب المناسک ، الفصل الثانی فی اللبس ،1/242

(56)بہارشریعت،حج کابیان،جرم اور ان کے کفارے ،سلے کپڑے پہننا،1/1167

(57)حاشیہ فتاوی رضویہ،کتاب الحج،باب الجنایات فی الحج ،رسالہ انوار البشارہ فی مسائل الحج والزیارۃ،10/757،مطبوعۃ : رضافاونڈیشن،لاہور،اشاعت : 1417ھ۔1996م

(58) نزھۃ المشتاق فی حل عمرۃالمکی والملحق بہ من الافاق، فی ضمن ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری،باب التمتع ،فصل فی تمتع المکی تحت قولہ : فمن تمتع منہم کان عاصیا ۔۔۔۔۔الخ، ص391۔392

(59)نزھۃ المشتاق فی حل عمرۃالمکی والملحق بہ من الافاق، فی ضمن ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری،باب التمتع ،فصل فی تمتع المکی تحت قولہ : فمن تمتع منہم کان عاصیا ۔۔۔۔۔الخ، ص393۔394

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button