ARTICLES

مدینہ منورہ سے براستہ طائف بغیر احرام مکہ آنا

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ ہم مدینہ منوّرہ میں رہتے ہیں یہاں کی حکومت حج کی اجازت نہیں دے رہی اور مدینہ منوّرہ سے ہم سیدھے مکہ مکرمہ بھی نہیں آ سکتے ، ہمارا ارادہ ہے کہ ہم میاں بیوی طائف جائیں گے وہاں ایک رات ٹھہرنے کے بعد مکہ مکرمہ آئیں گے اور حج ادا کریں گے ، کیا طائف سے بلا احرام مکہ مکرمہ آ سکتے ہیں یا نہیں ، اگر نہیں آ سکتے تو احرام پہن کر وہاں سے ہم مکہ کو آ نہیں سکتے ، ہم وہاں سے حج کی نیّت کر لیں اور اپنے سادہ کپڑوں میں ہی مکہ آ جائیں یہاں آکر احرام کے کپڑے پہن لیں تو ہم پر کیا لازم ہو گا؟

(السائل : ظفر حسین، مدینہ منورہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں پہلی بات تو یہ ہے کہ طائف میقات سے باہر ہے اور طائف کی جانب میقات ’’قرن المنازل‘‘ ہے اور طائف کے راستے سے آنے والوں کی یہی میقات ہے ، اگر کوئی یہاں سے مکہ مکرمہ بغیر احرام کے آجائے تو اس پر لازم ہو گا کہ وہ دوبارہ میقات جائے اور احرام باندھ کر آئے ، اگر نہیں جاتا اور مکہ مکرمہ سے ہی حج کا احرام باندھ لیتا ہے اور حج کرتا ہے تو اُس پر دم لازم آئے گا۔ اور اگر احرام تو میقات سے باندھتا ہے مگر سلے ہوئے کپڑے نہیں اُتارتا تو یاد رکھنا چاہئے احرام دو چادریں پہن لینے سے نہیں ہوتا بلکہ نیتِ احرام کے بعد تلبیہ کہہ لینے سے ہوتا ہے اور وہ انہوں نے کر لیا لہٰذا اِحرام کی نیت درست ہو گئی اور پھر اگر احرام کی نیت سے لے کر سلے ہوئے کپڑے اُتارنے تک اگر بارہ گھنٹے گزر جائیں تو دم لازم آ جاتا ہے او راگر اِس سے قبل اُتار دیتا ہے اور احرام کی بے سلی چادریں پہن لیتا ہے تو اس پر صدقہ لازم ہو گا۔ اور عورت کا حکم یہ ہے کہ اُسے سلے ہوئے کپڑے پہننے کی ممانعت نہیں ہے ، اُس کے لئے سِلے ہوئے کپڑے پہننا افضل بلکہ ضروری ہے :

لأن بناء حالہا علی السترِ لقولہ ﷺ : ’’الْمَرْأَۃُ عَوْرَۃٌ مَسْتُوْرَۃٌ‘‘(270)

یعنی، کیونکہ عورت کے حال کی بنا پردے پر ہے اِس لئے کہ نبی ا کا فرمان ہے : ’’عورت عورتِ مستورہ ہے ‘‘۔

لأن فی ترک ذلک ظُہور عورتہا، و المرأۃُ عورۃٌ مستورۃٌ بالنّص (271)

یعنی، کیونکہ اُس کے ترک میں اُس کی عورت کا ظاہر ہونا ہے حالانکہ عورت عورتِ مستورہ ہے ۔ اسے صرف چہرے کو چُھپانا ممنوع ہے ، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم بن عبدالغفور ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

جائز نیست مُحرم را پوشیدن تمام روی یا بعض آن اگرچہ مُحرم مرد باشد یا زن (272)

یعنی، مُحرِم کو تمام چہرہ یا اُس کے کچھ حصے کو چُھپانا جائز نہیں اگرچہ مُحرِم مرد ہو یا عورت۔ اور ہدایہ(273)، عنایہ(274) اور فتح القدیر (275)میں مذکور حدیث شریف میں ہے :

’’إِحْرَام الْمَرْأَۃِ فِیْ وَجْہِہَا‘‘

یعنی، عورت کا احرام اُس کے چہرے میں ہے ۔ لہٰذا اگر وہ چہرے کو ممنوع طریقے سے چُھپاتی ہے اور مکہ مکرمہ آ کر کھولتی ہے تو دیکھا جائے گا کہ چہرے کے چُھپانے کو بارہ گھنٹے گزرے ہیں یا اُس سے کم تو پہلی صورت میں دم اور دوسری صورت میں صدقہ دینا ہو گا اور اگر ممنوع طریقے پر نہیں چُھپاتی تو کچھ بھی لازم نہ ہو گا۔ چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی لکھتے ہیں :

امّا پوشیدن روئے بعد از احرام پس جائز نیست زن را چنانکہ جائز نیست مرد را پس اگر بپوشد زنی روئے خود را بہ برقع لازم آید بروی اثم و کفّارہ و لیکن اگر بپوشد زنے روئے خود را ببرقع و مانند آن و دُور دارد آن را از مساس روئے خود بچوبی یا بغیر آن جائز بود بلک مستحب باشد علی ما صرّح بہ فی ’’فتح القدیر‘‘ (276)

یعنی، مگراحرام کے بعد چہرے کو ڈھاپنا عورت کو جائز نہیں جیسا کہ مرد کو جائز نہیں ، پس اگر کوئی عورت اپنے چہرے کو برقع سے ڈھانپ لے تو اس پر گُناہ اور کفّارہ لازم آئے گا لیکن اگر کسی عورت نے اپنے چہرے کو برقع او راُس کی مثل کسی چیز سے ڈھانپا اور کپڑے کو کسی لکڑی یا کسی اور چیز کے ذریعے اپنے چہرے سے مَس ہونے سے دُور رکھا تو جائز ہے بلکہ مستحب ہے ، اُس بنا پر جس کی تصریح (صاحب فتح القدیر نے ) ’’فتح القدیر‘‘(277) میں کی ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم السبت، 3ذوالحجۃ 1427ھ، 23دیسمبر 2006 م (325-F)

حوالہ جات

270۔ المسالک فی المناسک، القسم الثانی : فی بیان نسک…إلخ، 1/326

271۔ المسالک فی المناسک، القسم الثانی : فی بیان نسک…إلخ، فصل فی إحرام المرأۃ الأفعال فیہ، 1/351

272۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اوّل، دربیان احرام، فصل ششم در بیان محرمات احرام إلخ، ص86

273۔ الھدایۃ، کتاب الحج، باب الإحرام، تحت قولہ : ولا یغطی وجھہ ولا راسہ، 1۔2/166

274۔ العنایۃ، کتاب الحج، باب للإحرام، تحت قولہ : وفائدۃ ما روی ، 2/23

275۔ فتح القدیر، کتاب الحج، باب الإحرام : 2/346، قال رواہ الدّارقطنی والبیھقی موقوفاً علی ابن عمر و قول الصحابی عندنا حجۃ إذا لم یخالف وخصوصاً فیما لم یدرک بالرَّأی

276۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول، در بیان احرام، فصل پنجم، دربیان کیفیت احرامِ زن، ص81

277۔ فتح القدیر، کتاب الحج، باب الإحرام، فصل : فان لم یدخل المحرم مکۃ….إلخ، تحت لقولہ : لقولہ علیہ السلام احرام المرأۃ فی وجھھا، 2/405

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button