ARTICLES

مدینہ منورہ اور جدّہ کے رہنے والوں کا اشہرِ حج میں عمرہ کرنا

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مدینہ شریف میں رہنے والے اور جدّہ کے رہنے والے اگر حج کے مہینوں میں عمرہ کریں تو کیسا ہے ؟(السائل : آصف مدنی، حسین آباد، کراچی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : مکی دو قسم کا ہوتا ہے ایک وہ جو حقیقۃً مکہ مکرمہ کا رہنے والا ہو ، دوسرا وہ جو حُدودِ میقات کے اندر کا رہنے والا ہو اگرچہ وہ حقیقت میں مکی نہیں مگر وہ مکی کے حکم میں ہے اور اسے حکماً مکی کہا جاتا ہے ۔ یہ دونوں قسم کے لوگ حج کے مہینوں کے علاوہ اگر عمرہ کریں تو کوئی ممانعت نہیں مگر حج کے مہینوں (یعنی شوال، ذو القعدہ اور ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں )میں دیکھا جائے گا کہ یہ لوگ اِسی سال حج کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں اگر ارادۂ حج رکھتے ہوں تو اِن کو حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا منع ہے اگر کریں گے تو مکروہ ہو گا اور اگر اسی سال حج کا ارادہ نہیں رکھتے تو ان کے لئے کوئی ممانعت نہیں ہے چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں : و امّا اگر معتمر مکیّ ست حقیقۃً یا حکماً، اما حقیقۃً پس ظاہر است واما حکماً پس آنکہ داخل مواقیت خمسہ است آن ہم در حکم مکی ست، پس جائز ست ہر ایشان را عمرہ کردن در غیر اشہر حج مطلقاً ،و مکروہ ست ایشان را عمرہ کردن در اشہر حج چوں قصد داشتہ باشد اداء حج را درین سال، امّا اگر قصد حج درین سال ندارند جائز باشد عمرہ درحق ایشان در اشہر حج، چنانکہ در حق غیر ایشان (56)یعنی، عمرہ کرنے والا اگر مکی ہے حقیقۃً یا حکماً، حقیقۃً مکی تو ظاہر ہے مگر حکماً تو وہ لوگ ہیں جو مواقیتِ خمسہ کے اندر رہنے والے ہیں ، وہ مکی کے حکم میں ہیں ، پس اُن کو غیر اَشْہُرِ حج میں مطلقاً عمرہ کرنا جائز ہے اور اگر یہ لوگ اُسی سال حج کرنے کا قصد رکھتے ہوں تو اُن کو اَشْہُرِحج میں عمرہ کرنا مکروہ ہے اور اگر اِسی سال حج کا قصد نہیں رکھتے تو اِن کے حق میں اَشْہُرِحج میں عمرہ کرنا جائز ہے جیسا کہ اِن کے غیر کے حق میں ۔ اور مدینہ منوّرہ میقات سے باہر ہے او رجدّہ میقات کے اندر ہے لہٰذا مدینہ شریف کے رہنے والے اگر اُسی سال حج کا ارادہ رکھتے ہوں یا نہ ، دونوں صورتوں میں اُشْہُرِحج میں عمرہ اُن کے حق میں جائز جب کہ جدّہ کے رہنے والے اگر اُسی سال حج کا ارادہ رکھتے ہوں تو اُشْہُرِحج میں عمرہ اُن کے حق میں مکروہ ہے اور اگر قصد ِحج نہیں تو اُشْہُرِحج میں عمرہ اُن کے حق میں مکروہ نہیں جیسا کہ مدینہ شریف والوں کے لئے ۔ اور مکی یا جو مکی کے حکم میں ہے اُس نے اگر اشہُرِ حج میں عمرہ کا احرام باندھا اور اُسی سال حج کا بھی ارادہ ہو تو اُس سال حج نہ کرے بلکہ عمرہ مکمل کر کے آئندہ سال حج کرے اور اگر اُسی سال حج کا احرام بھی باندھا لیا ہو اور عمرہ شروع کر چکا ہو تو حج کے احرام کو توڑ دے اور دَم دے دے ، اِس سال عمرہ کر لے اور دوسرے سال حج کرے اور اگر وہ عمرہ توڑ دیتا ہے اور حج کرتا ہے تو بھی عمرہ توڑنے کا دم دے گا اور عمرہ ساقط ہو جائے گا اور اگر دونوں ادا کرتا ہے تو گنہگار ہو گا اور دم بھی واجب ہے (57) کیونکہ اُس شخص کے حق میں جو مکی یا مکی کے حکم میں ہو ایسا کرنا جنایت ہے ، چنانچہ ملا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ نقل کرتے ہیں : ثُمَّ فی ’’النّہایۃ‘‘ إضافۃُ الإحرامِ إلی الإحرامِ فی حقِّ المکِّیِّ ومَن بمعناہُ أی دون الآفاقی جنایۃٌ (58) یعنی، پھر ’’نہایہ‘‘ میں ہے کہ مکی اور وہ جو مکی کے حکم ہے (سوائے آفاقی کے ) دونوں کے حق میں ایک احرام کو دوسرے احرام کی طرف ملانا جنایت ہے ۔ اور صدر الشریعہ محمد امجد علی اعظمی متوفی 1367ھ ’’در مختار‘‘(59) کے حوالے سے لکھتے ہیں : جو شخص میقات کے اندر رہتا ہے اس نے حج کے مہینوں میں عمرہ کا طواف ایک پھیرا بھی کر لیا اُس کے بعد حج کا احرام باندھا تو اُسے توڑ دے اور دَم واجب ہے اِس سال عمرہ کر لے ، سال آئندہ حج اور اگر عمرہ توڑ کر حج کیا تو عمرہ ساقط ہو گیااور دَم دے اور دونوں کر لئے تو ہو گئے مگر گنہگار ہوا اور دَم واجب۔ (60) اور جس صورت میں فقہاء کرام نے گنہگار ہونا ذکر کیا ہے اس میں توبہ بھی لازم ہو گی۔واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأربعاء 8شوال المکرم 1427 ھ، 1نوفمبر 2006 م (241-F)

حوالہ جات

54۔ المبسوط للسرخسی، کتاب المناسک، باب المواقیت، 2/4/154

55۔ البحرالرائق، کتاب الحج، باب التمتع، تحت قولہ : ولا تمتع ولا قران الخ، 2/641، ولفظہ لأنھم وغیرہم سواء فی رخصۃ الاعتمار فی أشھر الحج

56۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب أول : در بیان إحرام، فصل دویم دربیان مواقیت احرام حج و عمرہ ، نوع دویم واما زمان احرام عمرہ، ص64

57۔ یہ دم ، دمِ جبر ہوگا نہ کہ دمِ شکر ، اور دمِ جبر کا حکم یہ ہے کہ اُسے نہ خود کھاسکتا ہے اور نہ مالدارشخص کھاسکتاہے ۔

58۔ رَدّ المحتار، کتاب الحج، باب الجنایات ، مطلب : لا یجب الضمان بکسر آلان اللہو، تحت قولہ : مکی طاف لعمرتہ الخ، 3/713

59۔ الدّرالمختار، کتاب الحج، باب الجنایات، مع قولہ التنویر، طاف لعمرتہ ولو متوطا، ص171

المسلک المتقسط إلی المنسک المتوسط، باب الجمع بین النُّسکین المتحدین، تحت قولہ : مکروہ مطلقاً، ص415

60۔ بہارِشریعت، حج کا بیان، اِحرام ہوتے ہوئے دوسرااِحرام باندھنا،1/1193

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button