ARTICLES

مدینہ طیبہ سے حج قران کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک گروپ کے حاجی پاکستان سے عمرہ کا احرام باندھ کر ائے عمرہ ادا کیا کچھ روز مکہ مکرمہ میں ٹھہرنے کے بعد اس گروپ کی مدینہ طیبہ روانگی ہو گئی، اب ان کی مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ واپسی ہے اور حج کے ایام بھی قریب ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ہم حج قران کا احرام باندھیں تو انہوں نے ایک مفتی صاحب سے اس کے بارے میں جب پوچھا تو انہوں نے منع کر دیا کہ حج قران کا احرام نہیں باندھ سکتے ، اور اس کے بارے میں اپ کیا فرماتے ہیں ؟

(السائل : ایک حاجی، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : یہ لوگ مدینہ طیبہ سے حج قران کا احرام باندھ سکتے ہیں کیونکہ حج قران کی تعریف یہ ہے کہ حاجی میقات سے عمرہ اور حج کا ایک ساتھ احرام باندھے جیسا کہ ’’مختصر القدوری‘‘ (234)، ’’کنز الدقائق‘‘ (235)، ’’وقایۃ الروایۃ‘‘ (236)، ’’مجمع البحرین‘‘ (237) اور ’’المختار الفتوی‘‘ (238) وغیرہا متون میں مذکور ہے ۔ اور اس سے صاف ظاہر ہے کہ حج قران کے لئے میقات سے عمرہ و حج دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھنا شرط ہے ، اس لئے جب یہ لوگ مدینہ طیبہ سے عمرہ و حج کا احرام باندھیں گے تو قارن ہو جائیں گے ، ہم نے اس سے قبل بھی ’’فتاویٰ حج و عمرہ‘‘ میں قران کے جواز کا ذکر کیا ہے اب شمس الائمہ امام ابو بکر محمد بن احمد سرخسی حنفی متوفی 483ھ کی ’’مبسوط‘‘ کے حوالے سے ذکر کرتا ہوں چنانچہ لکھتے ہیں کہ

ان دخل بعمرۃٍ فاسدۃٍ فی اشہر الحج فقضاہا، ثم خرج حتی جاوز المیقات، ثم قرن عمرۃً و حجۃً کان قارنا، لان اکثر ما فیہ ان حالہ کحال المکی متی حصل بمکۃ بالعمرۃ الفاسدۃ و قد بینا ان المکی اذا خرج من المیقات ثم قرن حجۃً و عمرۃً کان قارنا، فہذا مثلہ (239)

یعنی، اگر وہ شخص حج کے مہینوں میں عمرہ فاسدہ کے ذریعے داخل ہوا، پھر عمرہ کی قضا کی، پھر وہ نکلا یہاں تک کہ میقات سے تجاوز کر گیا، پھر (میقات سے ) عمرہ اور حج کا قران کیا تو وہ قارن ہے ، اس لئے کہ زیادہ سے زیادہ اس کا حال مکی کے حال کی طرح ہے جب مکہ میں عمرہ فاسدہ کے ذریعے وارد ہوا، اور بے شک ہم نے بیان کر دیا ہے کہ مکی نے جب میقات سے خروج کیا پھر حج اور عمرہ کا قران کیا تووہ قارن ہے ، تو یہ شخص بھی اس کی مثل ہے ۔ شمس الائمہ علیہ الرحمہ کے فرمان کہ ’’مکی (حقیقی) جب میقات سے نکلا، پھر اس نے (میقات سے ) حج و عمرہ کا قران کیا تو وہ قارن ہے اور یہ (افاقی) شخص (جو مکی کے حکم میں ہے ) اس کی مثل ہے ‘‘ سے صاف ظاہر ہے حقیقی مکی جب میقات سے حج قران کا احرام باندھ لے تو وہ قارن ہو جاتا ہے تو وہ شخص مکی کے حکم میں ہے وہ بھی میقات سے حج قران کا احرام باندھنے سے قارن ہو جائے گا۔ اور دوسرے مقام پر لکھتے ہیں :

الا ان المکی اذا بالکوفۃ، فلما انتھی الی المیقات قرن بین الحج و العمرۃ، فاحرم لھما صح، و یلزمہٗ دم القران، لان صفۃ القارن ان تکون حجتہ و عمرتہٗ متقارنتین یحرم جمیعا معًا، قد وجد ھذا فی حق المکی (240)

یعنی، مگر مکی جب کوفہ میں ہو، پس جب میقات پر پہنچا اور اس نے حج اور عمرہ میں درمیان قران کیا، پس اس نے دونوں کا احرام باندھا تو درست ہوا، اور اسے دم قران لازم ہو گا، کیونکہ صفت قارن یہ ہے کہ اس کا حج اور عمرہ دونوں مقارن ہوں ، دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھے اور یہ صفت مکی کے حق میں پائی گئی۔ اس عبارت سے بھی صاف ظاہر ہے کہ مکی جب کوفہ گیا اور وہاں سے واپسی پر اس نے میقات سے حج قران کا احرام باندھا تو اس پر احرام درست ہو گیا تو وہ شخص جو حکما مکی ہے وہ جب اس طرح کرے گا تو اس کا بھی قران درست ہو جائے گا کیونکہ جب وہ مکہ میں تھا تو حکما مکی تھا اور جب مدینہ طیبہ گیا حکما مدنی ہو گیا اور اس کے لئے وہ جائز ہے جو وہاں کے رہنے کے لئے جائز ہے ، اس کے لئے قران جائز تھا تو اس کے لئے بھی قران جائز ہے ، چنانچہ قاضی حسین بن محمد سعید بن عبد الغنی مکی حنفی متوفی 1366ھ نقل کرتے ہیں کہ

و اما اذا خرج المکی و من فی معناہ الی الافاق لحاجۃٍ، و لو فی الاشھر، فانہ یصیر حکمہ حکم اھل الافاق فی الاحرام لانہ صار ملحقا بھم، فلا تکرہ العمرۃ کما لا یکرہ لہ القران (241)

یعنی، مگر مکی اور وہ جو مکی کے معنی میں ہے جب کسی کام سے افاق کی جانب نکلا اگرچہ حج کے مہینوں میں ، تو احرام کے بارے میں اس کا حکم وہی ہو گیا جو اہل افاق کا ہے کیونکہ وہ ان کے ساتھ ملحق ہو گیا پس اس کے لئے عمرہ مکروہ نہیں ہے جیسا کہ اس کے لئے حج قران مکروہ نہیں ہے ۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الجمعۃ ، 6 ذوالحجۃ 1431ھ، 12نوفمبر 2010 م 696-F

حوالہ جات

234۔ مختصر القدوری، کتاب الحج، باب القران، ص70

235۔ کنز الدقائق، کتاب الحج باب القران، ص233

236۔ وقایۃ الروایۃ مع شرحہ اختصار الروایۃ، کتاب الحج، فصل : فی القران، 1/315

237۔ مجمع البحرین، کتاب الحج، فصل : فی القران، ص235، 236

238۔ المختار الفتوی، کتاب الحج باب القران، ص89

239۔ المبسوط للسرخسی، کتاب المناسک، باب الجمع بین الاحرامین، 2/3/170

240۔ المبسوط للسرخسی، کتاب المناسک، باب المواقیت، 2/4/154

241۔ ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری، باب التمتع، فصل : فی تمتع المکی، تحت قول اللباب : فمن تمتع منھم کان عامیا….الخ، ص388

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button