بہار شریعت

مختلف کاموں کی وصیت کرنے کے متعلق مسائل

مختلف کاموں کی وصیت کرنے کے متعلق مسائل

مکان میں رہنے اور خدمت کرنے، درختوں کے پھلوں ، باغ کی آمدنی اور زمین کی آمدنی اور پیداوار کی وصیت کے متعلق مسائل

مسئلہ ۱: گھر کے کرایہ کی آمدنی کی وصیت کی تو موصی لہ کو اس میں رہنے کا حق نہیں اور اگر زید کے لئے ایک سال تک اپنے دار (گھر)میں سکونت کی وصیت کی اور دار کے موصی کا اور کچھ مال نہیں ہے تو زید اس میں سے تہائی دار میں رہے گا اور ورثہ دو تہائی دار میں ، ورثہ کو اختیار نہیں کہ وہ اپنا مقبوضہ فروخت کر دیں (بدائع ازعالمگیری ج ۶ ص ۱۲۲)

مسئلہ ۲ : یہ کہا یہ بھوسا فلاں کے جانوروں کے لئے ہے، تو یہ وصیت باطل ہے اور اگر یہ وصیت کی کہ فلاں کے جانوروں کو کھلایا جائے تو وصیت جائز ہے (فتاوی قاضی خاں از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۲)

مسئلہ ۳ : کسی شخص کے لئے اپنے گھر رہنے کی وصیت کی اور مدت اور وقت مقرر نہیں کیا تو یہ وصیت تاحیات موصی لہ ہے (المنتقی از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۲)

مسئلہ ۴ : کسی شخص کے لئے اپنے گھر میں رہنے کی وصیت کی تو اسے اس گھر کو کرایہ پر دینے کا حق نہیں (محیط السرخسی از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۲)

مسئلہ ۵ : کسی نے اپنے باغ کے محاصل و پیداوار کی وصیت کی تو موصی لہ کے لئے اس کے موجودہ محاصل و پیداوار ہیں اور جو کچھ آئندہ ہوں (کافی از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۲) ملحوظ رہے کہ عربی زبان میں بستان اس باغ کو کہتے ہیں جس کی چہار دیواری بنی ہو، اس چہار دیواری کے اندر جو درخت یا زراعت ہو وہ سب بستان میں شامل ہے اور باغ سے ان مسائل میں مراد ایسا ہی باغ ہے (مولف)

مسئلہ ۶ : کسی کے لئے اپنے باغ کے پھلوں کی وصیت کی تو اس کی دو صورتیں ہیں یا یہ کہا کہ ہمیشہ کے لئے یا ہمیشہ کا لفظ نہیں کہا۔ اگر ہمیشہ کا لفظ نہیں کہا تو اس کی بھی دو صورتیں ہیں اگر اس کے باغ میں اس کی موت کے دن پھل لگے ہیں تو موصی لہ کے لئے اس کے ثلث مال میں سے صرف ان ہی پھلوں سے دیا جائے گا اور اس کے بعد جو پھل آئیں گے موصی لہ کا ان میں کوئی حصہ نہ ہوگا ۔اور اگر موصی کی موت کے دن باغ میں پھل نہیں لگے تھے تو قیاس یہ ہے کہ یہ وصیت باطل مگر استحسان میں وصیت باطل نہیں بلکہ موصی لہ کو اس کی تاحیات اس باغ کے پھل ملتے رہیں گے بشرط یہ کہ وہ بستان اس کے ثلث مال سے زائد نہ ہو، یہ تمام صورتیں اس وقت ہیں جب موصی نے وضاحت نہیں کیا ور اگر اس نے وضاحت کر دی اور یوں کہا کہ میں نے تیرے لئے ہمیشہ کے واسطے اپنے باغ کے پھلوں کی وصیت کی تو اسے موجودہ پھل بھی ملیں گے اور جو بعد میں پیدا ہوتے رہیں وہ بھی۔(عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۲)

مسئلہ ۷ : اپنے باغ کے پھلوں و پیداوار کی ہمیشہ کے لئے کسی کے لئے وصیت کی پھر اس کے کھجور کے درختوں کی جڑوں سے اور درخت پیدا ہوگئے تو ان کی پیداوار اور محاصل بھی وصیت میں داخل ہوں گے (المنفقی از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۲)

مسئلہ ۸: اپنے باغ کے پھلوں کے ثلث کی وصیت کی اور موصی کا اور کوئی مال سوائے اس بستان (باغ)کے نہیں ہے تو یہ وصیت جائز ہے اور موصی لہ اس کا ثلث پانے کا مستحق ہے اگر موصی لہ نے باغ کا تہائی حصہ ورثہ سے تقسیم کر لیا پھر اس حصہ سے آمدنی ہوئی جو موصی لہ کے پاس آیا اور ورثہ کے حصے میں آمدنی نہیں ہوئی یا ورثہ کے حصہ میں آمدنی ہوئی اور موصی لہ کے حصہ میں آمدنی نہیں ہوئی تو دونوں صورتوں میں وہ ورثہ اور موصی لہ ایک دوسرے کے شریک ہوں گے (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۲)

مسئلہ ۹ : کسی کے لئے ثلث بستان کی وصیت کی تو ورثہ کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے حصہ کا دو ثلث بستان فروخت کر دیں ، ایسی صورت میں دو ثلث کا خریدار موصی لہ کے ساتھ شریک ہو جائے گا (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۳)

مسئلہ ۰ ا: ایک شخص نے کسی کے لئے اپنی زمین کی پیداوار کی وصیت کی اور اس زمین میں کھجور کے درخت ہیں اور نہ اور کوئی درخت ہے اور موصی کا اس کے سوا اور مال بھی نہیں ہے تو اس کو کرایہ پر اٹھایا جائے گا اور اس کرایہ کا ایک ثلث موصی لہ کو دیا جائے گا اور اگر اس میں کھجور کے درخت ہیں اور بھی درخت ہیں تو ان درختوں کی پیداوار کا ثلث موصی لہ کو ملے گا (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۳)

مسئلہ ۱۱ : وصیت کرنے والے نے کسی کے لئے اپنی بکریوں کی اون کی یا اپنی بکریوں کے بچوں کی یا ان کے دودھ کی ہمیشہ کے لئے وصیت کی تو ان تمام صورتوں میں موصی لہ کو ان بکریوں کا وہی اون ملے گا جو وصیت کرنے والے کی موت کے دن ان کے جسم پر ہے اور وہی بچے ملیں گے جو موصی کی موت کے دن ان کے پیٹوں میں ہیں اور وہی دودھ ملے گا جو موصی کی موت کے دن ان کے تھنوں میں ہے خواہ موصی نے وصیت میں ہمیشہ کا لفظ کہا یا نہ کہا ۔(ہدایہ از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۳)

مسئلہ ۱۲ : کسی شخص نے اپنے بستان (باغ) کی پیداوار کی وصیت کی پھر موصی لہ نے میت کے ورثہ سے غلہ کے عو ض پورا باغ خرید لیا تو یہ جائز ہے اس صورت میں وصیت باطل ہو جائے گی اس طرح اگر ورثہ نے باغ اس کو فروخت نہیں کیا لیکن انھوں نے کچھ مال دے کر موصی لہ کو اپنے حصہ کے غلہ سے بری ہونے پر راضی کر لیا تو یہ بھی جائز ہے (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۳)

مسئلہ ۱۳ : اپنے گھر کے کرایہ کی مساکین میں تقسیم کرنے کی وصیت کی تو یہ اس کے ثلث مال میں سے جائز ہے اور اگر مساکین کے لئے اپنے گھر میں رہنے یا اپنی سواری پر سوار ہونے کی وصیت کی تو یہ جائز نہیں مگر یہ کہ موصی لہ معلوم ہو (محیط از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۳)

مسئلہ ۱۴ : مساکین کے لئے اپنے انگور کے باغ کی بہار کی تین سال تک کے لئے وصیت کی اور مر گیا اور تین سال تک اس کے انگور کے باغ میں انگور کی بہار نہ آئی تو بعض کے قول پر یہ باغ موقوف رہے گا جب تک اس کی تین سال کی بہار مساکین پر صدقہ نہ کر دی جائے، فقیہ ابو اللیث رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا یہ قول ہمارے اصحاب کے مطابق ہے (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۳)

مسئلہ ۱۵ : اپنے جسم کے لباس کی وصیت کی تو یہ جائز ہے اور موصی لہ کو اس کے جبے، قمیص، چادریں اور پاجامے ملیں گے، اس کی ٹوپیاں ، موزے، جرابیں اس میں شامل نہ ہوں گے۔ (فتاوی قاضی خاں از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۳)

مسئلہ ۱۶ : یہ وصیت کی کہ یہ کپڑے صدقہ کر دو تو یہ جائز ہے کہ وہ کپڑے فروخت کر کے ان کی قیمت صدقہ کر دیں یا چاہیں تو کپڑے فروخت نہ کریں رکھ لیں اور ان کی قیمت دے دیں (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۳)

مسئلہ ۱۷ : کسی آدمی کو یہ وصیت کی کہ میری زمین سے دس جریب (گٹھ) زمین ہر سال کاشت کرے اس صورت میں بیج، خراج (مالگذاری) اور آبپاشی موصی لہ کے ذمہ ہوگی اور اگر وصیت میں یہ کہا کہ ہر سال میری دس جریب زمین میرے لئے کاشت کرے اس صورت میں بیج، مالگذاری اور آبپاشی متوفی موصی کے مال سے دیئے جائیں گے (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۴)

مسئلہ ۱۸ : کسی شخص کے لئے کھجور کے باغ کے کھجوروں کی وصیت کی جو کہ تیار تھیں یا کاشت کی وصیت کی جو کاٹے جانے کے قریب تھیں لیکن فصل کاٹی نہیں گئی تھی تو مال گزاری دی جائے گی (تاتار خانیہ از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۴)

مسئلہ ۱۹ : موصی نے کسی کے لئے اپنی تلوار کی وصیت کی تو اس میں تلوار کا پرتلہ اور حمائل داخل ہے (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۴)

مسئلہ ۲۰ : کسی کے لئے مصحف (قرآن پاک) کی وصیت کی اور مصحف کا غلاف بھی ہے تو اس کو مصحف ملے گا غلاف نہیں (قدوری از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۴)

مسئلہ ۲۱: سرکہ کے مٹکے کی وصیت کی تو اس میں مٹکا شامل ہے اور اگر جانوروں کے گھر (یعنی وہ گھر جس میں جانور رکھے جاتے ہیں ) کی وصیت کی تو وصیت دار (گھر) کی ہے اس میں جانور شامل نہیں ، ایسے ہی کھانے کی کشتی (ٹرے) کی وصیت کی تو اس میں کا کھانا دیا جائے گا کشتی (ٹرے) نہیں (محیط السرخسی از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۴)

مسئلہ ۲۲ : کسی کے لئے میزان (ترازو) کی وصیت کی تو اس میں اس کا عمود (ڈنڈی) پلڑے اور ا س کی ڈسیں شامل ہیں ، باٹ، بٹہ اور مٹھیہ (علاق) شامل نہیں لیکن اگر ترازو معین کر دی تو اس میں باٹ اور علاق بھی شامل ہوں گے( عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۴)

مسئلہ ۲۳ : اپنی بکریوں میں سے کسی کے لئے ایک بکر ی کی وصیت کی اور یہ نہیں کہا کہ میری ان بکریوں میں سے، پھر وارثوں نے اسے وہ بکری دی جس نے موصی کی موت کے بعد بچہ جنا تو یہ بچہ بکری کے ساتھ شامل نہ ہوگا یعنی فقط بکری ملے گی (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۴)

مسئلہ ۲۴ : اور اگر یہ کہا کہ میں نے فلاں کے لئے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری کی وصیت کی اور وارثوں نے اس موصی لہ کو وہ بکری دی جس نے موصی کی موت کے بعد بچہ دیا تو وہ بچہ اس بکری کا تابع ہوگا یعنی بکری مع بچہ کے موصی لہ کو دی جائے گی اور اگر وارثوں نے بکری معین کرنے سے پہلے پہلے بچہ کو ضائع کر دیا یعنی ہلاک کر دیا تو ان پر اس کا ضمان نہیں (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۴)

مسئلہ ۲۵ : دار (گھر) کی ایک شخص کے لئے وصیت کی اور اس کی بنیاد کی دوسرے کے لئے، یا یہ کہا کہ یہ انگوٹھی فلاں کے لئے ہے اور اس کا نگینہ دوسرے کے لئے، یا یہ کہا کہ یہ کنڈیا (زنبیل) فلاں کے لئے اور اس میں کے پھل فلاں کے لئے، تو ان تمام صورتوں میں اگر اس نے متصلا ًبلافصل کہا تو ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی وصیت اس کے لئے کی اور اگر متصلا ً نہیں کہا بلکہ فصل کیا تو امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک یہی حکم ہے اور امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اصل (یعنی دار یا انگوٹھی یا کنڈیا) تنہا پہلے کو ملے گی اور تابع میں دونوں شریک ہوں گے( عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۵ بحوالہ کافی) یعنی اس صورت میں گھر تنہا پہلے کو ملے گا بناء مشترک ہوگی، کنڈیا پہلے کو ملے گی پھل مشترک ہوں گے اور انگوٹھی پہلے کو ملے گی اور نگینہ مشترک ہوگا۔

مسئلہ ۲۶: اور اگر یہ وصیت کی کہ یہ گھر فلاں کے لئے ہے اور اس میں رہائش فلاں کے لئے یا یہ درخت فلاں کے لئے ہے اور اس کا پھل فلاں کے لئے یا یہ بکری فلاں کے لئے اور اس کا اون فلاں کے لئے تو جس کے لئے جو وصیت کی اس کو بلا اختلاف وہی ملے گا خواہ اس نے یہ متصلاً کہا ہو یا درمیان میں فصل کیا ہو (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۴)

مسئلہ ۲۷ : کسی شخص کے لئے اپنے دار (مکان) کی وصیت کی اور اس میں بنے ہوئے ایک خاص بیت (کمرہ) کی وصیت کسی دوسرے کے لئے کی تو وہ خاص مکان ان دونوں کے درمیان بقدر ان کے حصہ کے مشترک ہوگا (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۵)

مسئلہ ۲۸ : کسی کے لئے معینہ ایک ہزار درہم کی وصیت کی اور ان میں سے ایک سو درہم کی دوسرے کے لئے وصیت کی تو ایک ہزار والے کو نو سو درہم ملیں گے اور سو درہم دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم ہوں گے (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۵)

مسئلہ ۲۹ : اگر ایک شخص کے لئے مکان کی وصیت کی اور اس کی بناء کی دوسرے کے لئے تو بناء ان دونوں کے درمیان حصہ رسدی تقسیم ہوگی (بدائع از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۵)

مسئلہ ۳۰ : موصی نے اپنے جانور کی ایک شخص کے لئے وصیت کی ا ور اس کی سواری اور منفعت کی دوسرے کے لئے وصیت کی تو ہر موصی لہ کے لئے وہی ہے جس کی اس کے لئے وصیت کی (مبسوط از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۵)

مسئلہ ۳۱ : ایک شخص کے لئے اپنے گھر کے کرایہ کی وصیت کی اور دوسرے کے لئے اس میں رہنے کی وصیت کی اور تیسرے شخص کے لئے اس کے رقبہ کی وصیت کی ا ور یہ ایک ثلث ہے پس کسی شخص نے موصی کی موت کے بعد اس کو منہدم کر دیا تو جتنا اس نے گرایا ہے اس کی قیمت کا تاوان اس پر ہے پھر اس قیمت سے مکان بنائے جائیں جیسے بنے ہوئے تھے اور کرایہ پر دیا جائے، تو جس کے لئے کرایہ کی وصیت کی اسے کرایہ اور جس کی سکونت کی وصیت کی اسے حق سکونت ملے گا، یہی حکم بستان (باغ) کی وصیت کا ہے کہ اس نے ایک شخص کے لئے بستان کی پیداوار کی وصیت کی اور دوسرے کے لئے اس کے رقبہ کی، پھر کسی شخص نے اس میں سے درخت کاٹ لئے تو اس پر درختوں کی قیمت کا تاوان دے اس قیمت سے درخت خرید کر لگائے جائیں گے (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۷)

مسئلہ ۳۲ : موصی نے ایک شخص کے لئے اپنے باغکی آمدنی کی وصیت کی اور دوسرے کے لئے باغ کے رقبہ کی وصیت کی اور یہ اس کا ثلث مال ہے تو باغ کا رقبہ اس کے لئے ہے جس کے واسطے رقبہ کی وصیت کی اور اس کی آمدنی اس کے لئے جس کے واسطے اس کی آمدنی کی وصیت کی جب تک موصی لہ زندہ ہے اور اس صورت میں باغ کی آبپاشی، مال گذاری اور اس کی اصلاح و مرمت آمدنی والے پر ہے (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۷)

مسئلہ ۳۳: موصی نے ہمیشہ کے لئے اپنی بکریوں کے اون کی یا ان کے دودھ کی یا ان کے گھر کی یا ان کے بچوں کی کسی کے لئے وصیت کی تو یہ وصیت صرف اس اون میں جاری ہوگی جو موصی کی موت کے دن ان بکریوں کی پیٹھوں پر ہے یا وہ دودھ جو ان کے تھنوں میں ہے یا وہ گھی جو ان کے تھنوں کے دودھ سے برآمد ہو یا وہ بچے جو ان کے پیٹ میں ہوں جس دن کہ موصی کی موت ہوئی، اس کی موت کے بعد پھر جو کچھ پیدا ہوگا اس میں وصیت جاری نہ ہوگی (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۷)

مسئلہ ۳۴ : موصی نے کسی کے لئے ہمیشہ کے واسطے اپنے کھجوروں کے باغ کے محاصل (آمدنی) کی وصیت کی اور دوسرے کے لئے اس باغ کے رقبہ کی وصیت کی اور اس باغ میں بہار (پھل) نہیں آئی تو اس صورت میں اس کی آبپاشی اور اس کی اصلاح کا خرچہ و مرمت صاحب رقبہ پر ہے پھر جب اس پر پھل آجائیں تو یہ خرچہ آمدنی لینے والے پر ہے اور اگر ایک سال پھل آئے پھر نہ آئے تب بھی اس کی اصلاح و خرچہ کی ذمہ داری آمدنی لینے والے پر ہے، اگر آمدنی لینے والے نے خرچہ نہ کیا اور صاحب رقبہ نے خرچہ کیا یہاں تک کہ باغ میں پھل آگئے تو صاحب رقبہ اس سے اپنا خرچہ وصول کرے گا (مبسوط از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۷)

مسئلہ ۳۵: یہ وصیت کی کہ ان تلوں کا تیل فلاں کے لئے اور اس کی کھلی دوسرے کے لئے ہے تو تیل نکالنے کی ذمہ داری اس کی ہے جس کے لئے تیل کی وصیت کی۔ (فتاوی قاضی خاں از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۷)

مسئلہ ۳۶ : انگوٹھی کے حلقہ کی ایک شخص کے لئے وصیت کی اور اس کے نگینہ کی دوسرے کے لئے تویہ وصیت جائز ہے اگر اس کانگ نکالنے میں انگوٹھی کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے تو دیکھا جائے گا اگر حلقہ کی قیمت نگ سے زیادہ ہے تو حلقہ والے سے کہا جائے گا کہ وہ نگ والے کو نگ کی قیمت ادا کرے اور اگر نگ کی قیمت زیادہ ہے تو نگ والے سے کہا جائے گا کہ وہ انگوٹھی کے حلقہ کی قیمت ادا کرے (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۷)

مسئلہ ۳۷: ایک شخص نے کسی کے لئے اپنے بستان (باغ) کے ان پھلوں کی وصیت کی جو اس میں موجود ہیں اور اس نے اس کے لئے اس کے پھلوں کی ہمیشہ کے لئے بھی وصیت کی، اس کے بعد موصی کا انتقال ہوگیا اور موصی کا اس کے سوا اور مال نہیں ہے اور باغ میں پھل سو روپے کی قیمت کے ہیں اور پورے باغ کی قیمت تین سو روپے کے مساوی ہے، اس صورت میں موصی لہ کے لئے باغ میں موجود پھلوں کا تہائی حصہ ہے اور آئندہ جو پھل آئیں گے ان میں سے ہمیشہ اس کو ایک ثلث ملتا رہے گا (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۷)

مسئلہ ۳۸: یہ وصیت کی کہ میرے مال سے فلاں شخص پر ہر ماہ پانچ درہم خرچ کئے جائیں تو اس کے مال کا ایک ثلث رکھ لیا جائے گا تاکہ موصی لہ پر ہر ماہ پانچ درہم خرچ کئے جاتے رہیں جیسا کہ موصی نے وصیت کی ہے (مبسوط از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۸)

مسئلہ ۳۹ : ایک شخص نے دو آدمیوں کے لئے وصیت کی کہ ان میں سے ہر ایک پر میرے مال س ے اتنا اتنا خرچ کیا جائے تو اس کا ایک ثلث مال ان دونوں پر خرچ کے لئے رکھ لیا جائے گا پھر اگر وارثوں نے ان میں سے کسی ایک سے کچھ دے کر مصالحت کر لی اور وہ وصیت سے دستبردار ہوگیا تو اس صورت میں موصی کا کل ثلث مال دوسرے پر خرچ کرنے کے لئے رکھ لیا جائے گا اور وارثوں کے حق میں دستبرداری دینے والے کا حق وارثوں کو نہ ملے گا (محیط از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۷)

مسئلہ ۴۰ : ایک شخص نے وصیت کی کہ میرے مال میں سے فلاں شخص پر اس کی تاحیات ہر ماہ پانچ درہم خرچ کئے جائیں اور ایک دوسرے شخص کے لئے اپنے ثلث مال کی وصیت کی اور ورثہ نے اس کی اجازت دے دی تو اس صورت میں اس کا مال چھ حصوں میں تقسیم ہو کر ایک حصہ موصی لہ ثلث کو ملے گا اور باقی پانچ حصے محفوظ رکھے جائیں گے ان میں سے پانچ درہم والے پر ہر ماہ پانچ درہم خرچ کئے جائیں گے اور اگر یہ شخص جس کے لئے پانچ درہم ہر ماہ خرچ کرنے کی وصیت کی تھی اپنے حصہ کا محفوظ روپیہ خرچ ہونے سے پہلے ہی مرگیا تو جس کے لئے ثلث مال کی وصیت کی تھی اس کا ثلث پورا کیا جائے گا اور یہ ثلث مال اس دن کے حساب سے لگایا جائے گا جس دن کہ موصی کی موت ہوئی لیکن اگر مال کا دو ثلث حصہ سے زیادہ خرچ ہوچکا تھا اور اب جو باقی بچا اس سے موصی لہ ثلث کا ثلث پوا نہیں ہوتا تو اس صورت میں اس مرنے والے کے حصہ میں سے جو نفقہ بچا ہے وہ اسے دے دیا جائے گا اور اس کا ثلث پورا نہیں کیا جائے گا اور اگر مال اتنا بچ گیا تھا کہ موصی لہ ثلث کا ثلث پورا ہو کر بچ گیا تو جو باقی بچا وہ موصی کے ورثہ کو ملے گا نہ کہ اس کے ورثہ کو جس کے لئے پانچ درہم ماہانہ خرچ کرنے کی وصیت کی تھی (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۸)

مسئلہ ۴۱ : اگر دو آدمیوں کے لئے یہ وصیت کی کہ ان دونوں پر ان کی تاحیات میرے مال سے ہر ماہ دس درہم خرچ کئے جائیں اور ایک تیسرے کے لئے اپنے ثلث مال کی وصیت کی تو اگر ورثہ نے اس کی اجازت دی تو اس کا مال چھ حصوں میں تقسیم ہوگا اور اگر ورثہ نے اجازت نہ دی تو دو برابر حصوں میں تقسیم ہوگا اور اگر ان دونوں آدمیوں سے جن کے لئے تاحیات دس درہم ماہانہ کی وصیت کی تھی ایک آدمی کا انتقال ہوگیا تو اس کا حصہ اس کو نہیں ملے گا جس کے لئے ثلث مال کی وصیت کی تھی بلکہ جو کچھ ان دو آدمیوں کے لئے محفوظ رکھا تھا وہ ویسے ہی محفوظ رہے گا اور اسے اس ایک پر خرچ کیا جائے گا جو ان دونوں میں سے زندہ باقی ہے (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۸ کتاب الوصایا)

مسئلہ ۴۲ : اگر میت نے یہ وصیت کی کہ میں نے فلاں کے لئے اپنے ثلث مال کی وصیت کی اور فلاں کے لئے اس پر تاحیات ہر ماہ پانچ درہم خرچ کرنے کی وصیت کی اور ایک دوسرے کے لئے تاحیات اس کی اس پر پانچ درہم خرچ کرنے کی وصیت کی تو اگر ورثہ نے اس کی اجازت دے دی تو اس کا مال نو (۹)حصوں میں منقسم ہوگا، جس کے لئے ثلث مال کی وصیت کی اس کو ایک حصہ اور بقیہ بعد والے دونوں موصی لہما کے لئے چار چار حصے محفوظ رکھے جائیں گے اور ان پر ہر ماہ خرچ ہوں گے (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۸)

مسئلہ ۴۳ : اگر میت نے وصیت کی کہ میرے مال سے فلاں پر اس کی تاحیات پانچ درہم ماہانہ خرچ کیا جائے اور فلاں اور فلاں پر ان کی تاحیات دس درہم ماہانہ خرچ کئے جائیں ، ہر ایک کے لئے پانچ درہم، اور ورثہ نے اس کی اجازت دے دی تو مال موصی لہ اور موصی لہما کے درمیان نصف نصف تقسیم ہوگا اس طرح کہ جس کے لئے پانچ درہم ماہانہ کی وصیت کی اسے ایک نصف اورجن دو کے لئے دس درہم ماہانہ کی وصیت کی انھیں دوسرا نصف، اس طرح نصف مال پہلے ایک کے لئے اور نصف مال دوسرے دو کے لئے محفوظ رکھا جائے گا اور ان پر ماہ بماہ خرچ ہوگا (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۸) اور اگر اس ایک کا انتقال ہوگیا جس ایک کے لئے پانچ درہم ماہانہ کی وصیت کی تھی تو جو کچھ بچا وہ ان دو پر خرچ ہوگا جن دو کے لئے دس درہم ماہانہ کی وصیت کی تھی اور اگر ان دونوں میں سے ایک کا انتقال ہوگیا جن کے لئے ایک ساتھ دس درہم ماہانہ کی وصیت کی تھی اور پانچ درہم والا زندہ رہا تو اس صورت میں مرنے والے کا حصہ اس کے شریک وصیت کے لئے محفوظ رکھا جائے گا اور اس پر خرچ کیا جائے گا، یہ اس صورت میں ہے جب ورثہ نے اجازت دے دی اور اگر ورثہ نے اجازت نہیں دی تو میت کا ثلث مال نصف نصف دو برابر حصوں میں تقسیم ہوگا، نصف ثلث اس کو ملے گا جس ایک کے لئے پانچ درہم ماہانہ کی وصیت کی اور نصف ثلث ان دونوں کو ملے گا جن دونوں کو ایک ساتھ ملا کر ان کے لئے دس درہم ماہانہ کی وصیت کی (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۹)

مسئلہ ۴۴ : ایک شخص نے وصیت کی کہ میرا ثلث مال فلاں کے لئے رکھا جائے اور اس پر اس میں سے ہر ماہ چار درہم خرچ کئے جائیں جب تک کہ وہ زندہ رہے اور میں نے وصیت کی کہ میرا ثلث مال فلاں فلاں کے لئے ہے ان دونوں پر ہر ماہ تاحیات ان کی دس درہم خرچ کئے جائیں تو اگر ورثہ نے اس کی اجازت دے دی تو چار درہم والے کو اس میت کے مال کاکامل ثلث (پورا تہائی حصہ) ملے گا وہ جو چاہے کرے اور دس درہم والے دونوں کو اس میت کے مال کا دوسرا ثلث کامل ملے گا اور یہ ثلث ان دونوں کے درمیان برابر برابر تقسیم ہوگا اور محفوظ کچھ نہ رکھا جائے گا، اور اگر ان تینوں موصی لہم (جن کے لئے وصیت کی گئی) میں سے کسی کا انتقال ہوگیا تو اس کے حصہ کا مال اس انتقال کر جانے والے کے وارثوں کو ملے گا اور اگر ورثہ نے میت کی اس وصیت کو جائز نہیں کیا تو اس صورت میں چار درہم والے کو نصف ثلث (تہائی مال کا آدھا) ملے گا اور ان دونوں کو جن کے لئے دس درہم ماہانہ کی وصیت کی تھی نصف ثلث ملے گا اور یہ نصف ثلث ان دونوں کے مابین آدھا آدھا بٹے گا (بحوالہ جامع الصغیر از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۹)

مسئلہ ۴۵ : میت نے کہا میں نے فلاں کے لئے ایک ثلث مال کی وصیت کی اس پر اس میں سے ہر ماہ چار درہم خرچ کئے جائیں اور میں نے فلاں فلاں کے لئے وصیت کی کہ فلاں پر پانچ درہم ماہانہ اور فلاں پر تین درہم، پس اگر ورثہ نے اس کی اجازت دے دی تو چار درہم والے کو ماہانہ اس کے کل مال کا ایک ثلث ملے گا اور بقیہ دو کو دو ثلث ملیں گے اور یہ دو ثلث ان دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم ہوں گے، یہ لوگ اپنے اپنے حصہ کو جیسے چاہیں استعمال کریں ، اور اگر ورثہ نے اس کی اس وصیت کو جائز نہ کیا تو چار درہم والے کو نصف ثلث ملے گا اور بقیہ دو کو دوسرا نصف ثلث ملے گا اور یہ ان کے مابین آدھا آدھا بٹ جائے گا اور اگر ان میں سے کسی کا انتقال ہوگیا تو اس کا حصہ اس کے وارثوں کو میراث میں ملے گا (محیط از عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۹)

مسئلہ ۴۶ : میت نے وصیت کی کہ فلاں پر میرے مال سے ہر ماہ چار درہم خرچ کئے جائیں اور ایک دوسرے پر ہر ماہ پانچ درہم میرے بستانی (چہار دیواری والا باغ) کی آمدنی سے خرچ کئے جائیں اور میت نے بجز بستان کے اور کوئی مال نہیں چھوڑا تو اس صورت میں میت کا ثلث (تہائی) بستان ان دونوں کے لئے نصف نصف ہے پھر بستان (باغ) کی ثلث پیداوار فروخت کی جائے گی اور اس کی قیمت وصی کے قبضہ میں یا اگر وصی نہیں ہے تو کسی ایماندار و ثقہ آدمی کے قبضہ میں دے دی جائے گی، وہ وصی اور ثقہ ان دونوں پر حصہ رسدی ماہ بماہ خرچ کرے گا اور اگر ان دونوں کا انتقال ہوگیا تو جو کچھ رہے گا وہ موصی کے ورثہ کو ملے گا (عالمگیری ج ۶ ص ۱۲۹)

مسئلہ ۴۷ : یہ وصیت کی کہ فلاں شخص پر میرے مال سے چار روپے ماہانہ خرچ کئے جائیں اور فلاں اور فلاں پر پانچ روپے ماہانہ تو اس صورت میں تنہا ایک کے لئے مال وصیت کا چھٹا حصہ اور دوسرے دونوں کے لئے، دوسرا چھٹا حصہ خرچ کرنے کے لئے محفوظ رکھا جائے گا (عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۰) یعنی میت کا مال بارہ حصوں میں تقسیم ہوگا اس میں سے ایک ثلث یعنی چار حصے وصیت میں دیئے جائیں گے باقی دو ثلث یعنی آٹھ حصے ورثہ کو ملیں گے پھر ثلث مال کی وصیت کے ان چار حصوں میں سے ایک دو حصہ یعنی حصہ تنہا پہلے موصی لہ کے لئے اور دوسرے دو حصے دوسرے دنوں موصی لہما کے لئے، اور ان پر ہر ماہ خرچ ہوگا۔

مسئلہ ۴۸ : میت نے اپنی آراضی کی پیداوار کی کسی ایک شخص کے لئے وصیت کی اور دوسرے شخص کے لئے اس آراضی کے رقبہ کی وصیت کی اور ثلث مال میں ہے پھر اس کو صاحب رقبہ نے (یعنی جس کے لئے رقبہ کی وصیت کی تھی) فروخت کر دیا اور اس شخص نے اس بیع کو تسلیم کر لیا جس کے لئے پیداوار کی وصیت کی تھی تو بیع جائز ہوگئی، اور پیداوار کی وصیت جس کے لئے تھی وہ وصیت باطل ہوگئی اب اس کا اس پیداوار کی قیمت میں بھی کوئی حصہ نہیں (عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۰)

مسئلہ ۴۹ : مریض نے اپنے بستان کی پیداوار کی وصیت کسی کے لئے کی اور موصی کی موت سے قبل کئی سال اس میں پیداوار ہوئی پھر موصی کا انتقال ہوگیا تو موصی لہ کا اس پیداوار میں حصہ ہے جو موصی کی موت کے وقت یا اس کے بعد پیدا ہو (مبسوط از عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۰) جو پیداوار موصی کی موت سے پہلے ہوئی اس میں کوئی حصہ نہیں ۔

مسئلہ ۵۰ : یہ کہا کہ میں نے ان ایک ہزار کی فلاں کے لئے وصیت کی اور میں نے فلاں کے لئے اس میں سے سو (۱۰۰)کی وصیت کر دی ہے تو یہ رجوع نہیں ہے، اس صورت میں نو سو(۹۰۰) پہلی وصیت والے کے لئے ہیں اور سو (۱۰۰)میں دونوں آدھے آدھے کے شریک ہیں (عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۰)

مسئلہ ۵۱ : مریض نے کہا کہ میرا ثلث مال فلاں اور فلاں کے لئے اور فلاں کے لئے اس میں سے ایک سو ہے اور ا س کا ثلث مال کل سترہ درہم ہی ہے تو یہ کل ثلث اسی کو ملے گا جس کے لئے سو مقرر کئے (عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۰)

مسئلہ ۵۲ : یہ وصیت کی کہ میرا ثلث مال عبداللہ کے لئے زید و عمرو کے لئے اور عمرو کے لئے اس میں سے سو (۱۰۰)روپے اور اس کا ثلث مال کل سو(۱۰۰) روپے ہی ہے تو یہ سو (۱۰۰)روپے عمرو کو ملیں گے اور اگر اس کا ثلث مال ڈیڑھ سو(۱۵۰) روپے تھے تو عمرو کو سو (۱۰۰)روپے ملیں گے اور جو بچا اس میں عبداللہ اور زید نصف نصف کے شریک ہیں (عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۰)

مسئلہ ۵۳ : یہ وصیت کی کہ یہ ایک ہزار فلاں اور فلاں کے لئے، فلاں کے لئے اس میں سے سو(۱۰۰) روپے، تو وہ اس طرح تقسیم ہوں گے فلاں کو سو(۱۰۰) روپے اور دوسرے کو نو سو(۹۰۰) روپے، اگر اس میں سے کچھ ضائع ہوگئے تو باقی کے دس حصے کر کے ایک حصہ سو (۱۰۰)والے کو اور باقی نو(۹) حصے دوسرے کو دیئے جائیں گے (عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۰) اور اگر اس نے ایک تیسرے شخص کے لئے دیگر ایک ہزار روپے کی وصیت کر دی اور اس کا ثلث مال کل ایک ہزار روپے ہے تو اس صورت میں نصف ہزار تیسرے موصی لہ وک ملے گا اور نصف ہزار پہلے دو موصی لہما کو دیا جائے گا اور وہ دس حصوں میں تقسیم ہو کر پہلے کو ایک حصہ اور دوسرے کو نو حصے ملیں گے (عالمگیری ج ۲ ص ۱۳۰)

مسئلہ ۵۴ : اگر کہا کہ یہ ایک ہزار فلاں اور فلاں کے لئے، اس میں سے پہلے فلاں کے لئے سو روپے اور دوسرے کے لئے مابقی یعنی نو سو روپے، تو پہلے والے کو سو(۱۰۰) روپے ملیں گے اور اگر تقسیم سے پہلے ہزار میں سے نو سو(۹۰۰) ہلاک ہوگئے تو پہلے کے لئے سو(۱۰۰) روپے ہیں اور دوسرے کے لئے کچھ نہیں اور اگر یہ کہا کہ میں نے اپنے ثلث مال سے فلاں کے لئے سو (۱۰۰)روپے کی وصیت کی اور فلاں کے لئے بقیہ کی اور میں نے فلاں کے لئے ایک ہزار(۱۰۰۰) روپے کی وصیت کر دی اس صورت میں بقیہ والے کو کچھ نہ ملے گا اور میت کا ثلث مال پہلے والے موصی لہ اور تیسرے والے موصی لہ میں گیارہ حصوں میں تقسیم ہو کر ایک حصہ پہلے والے کو اور دس حصے ایک ہزار والے کو یعنی تیسرے والے کو ملیں گے (عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۰)

مسئلہ ۵۵ : یہ کہا کہ میں نے اس ایک ہزار کی فلاں فلاں کیلئے وصیت کی اور فلاں کے لئے سات سو(۷۰۰) اور فلاں کے لئے چھ سو(۶۰۰) تو اس صورت میں یہ ایک ہزار(۱۰۰۰) ان دونوں کے درمیان تیرہ حصوں میں تقسیم ہوگا، سات حصے سات سو والے کو اور چھ حصے چھ سو والے کو ملیں گے (عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۱ محیط السرخسی)

مسئلہ ۵۶ : یہ کہا کہ فلاں کے لئے اس ایک ہزار میں سے ہزار اور فلاں کے لئے ہزار، تو اس صورت میں یہ ایک ہزار ان دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم ہوگا (محیط السرخسی از عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۱)

مسئلہ ۵۷ : یہ کہا کہ میں نے اس ایک ہزار کی فلاں اور فلاں کے لئے وصیت کی فلاں کے لئے اس میں سے ایک ہزار تو اس صورت میں ایک ہزار سب کے سب دوسرے موصی لہ کو ملیں گے (محیط السرخسی از عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۱)

مسئلہ ۵۸ : ایک شخص نے کچھ لوگوں کے لئے کچھ وصیتیں کیں ، ان میں سے کوئی آیا اور اس نے اپنے لئے وصیت کا ثبوت پیش کیا اور یہ چاہا کہ اس کا حصہ اسے دے دیا جائے تو اس کا حصہ اسے دے دیا جائے اور باقی لوگوں کا حصہ محفوظ رکھا جائے پس اگر ان باقی لوگوں کا حصہ صحیح و سالم رہا تو وہ ان کو دے دیا جائے گا اور اگر ضائع ہوگیا تو یہ سب اس کے حصہ میں شریک ہوں گے جس نے اپنا حصہ لے لیا تھااور اس کو حصہ دے دینا بقیہ لوگوں کے لئے تقسیم کا حکم نہیں رکھتا (محیط از عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۱)

مسئلہ ۵۹ : کسی نے وصیت کی کہ فلاں شخص کو ایک ہزار درہم دے دیئے جائیں جن سے وہ قیدیوں کو خرید لے پس اگر وہ شخص روپے لینے سے قبل ہی انتقال کر گیا تو حاکم کو یہ روپیہ دے دیا جائے گا وہ اس کام کے لئے لوگوں میں سے کسی کو ولی بنا دے گا تاکہ وہ اس روپے سے قیدیوں کو خریدے (خزانتہ المفتیین از عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۱)

مسئلہ ۶۰ : ایک شخص نے یہ وصیت کی کہ میرا گھر فروخت کیا جائے اور اس کی قیمت سے دس بوجھا گیہوں (مثلا دس کوئنٹل) اور ایک ہزار من روٹیاں خریدی جائیں (من ۶۷ ۲/۱ تولہ کا ایک پیمانہ تھا، (فتاوی رضویہ ج ۴) اور اس نے کچھ اور وصیتیں بھی کیں ، پس اس کا گھر فروخت کیا گیا اور اس کی قیمت مذکورہ مقدار گیہوں اور روٹیوں کے لئے پوری نہیں ہوئی اور اس گھر کے علاوہ اس کا اور بھی مال ہے تو اگر اس کا ثلث مال اس کی تمام وصیتوں کے لئے گنجائش رکھتا ہو تو وہ تمام وصیتیں اس کے ثلث مال سے پوری کر دی جائیں گی (عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۱)

مسئلہ ۶۱ : ایک شخص نے کچھ وصیتیں کیں اس کے ورثہ کو معلوم ہوا کہ ان کے باپ نے کچھ وصیتیں کی ہیں ، لیکن یہ نہیں معلوم کہ کس چیز کی ہیں انھوں نے کہا کہ ہمارے باپ نے جس چیز کی وصیت کی ہم نے اس کو جائز کیا تو ان کی یہ اجازت صحیح نہیں ، صرف اس صورت میں اجازت صحیح ہوگی جب کہ انھیں علم ہو جائے (منتقی از عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۱)

مسئلہ ۶۲ : ایک شخص نے کسی آدمی کے لئے کچھ مال کی وصیت کی اور فقراء کے لئے کچھ مال کی وصیت کی اور موصی لہ محتاج ہے تو اس کو فقراء کا حصہ بھی دیا جاسکتا ہے (فتاوی قاضی خاں از عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۱)

مسئلہ ۶۳ : ایک شخص نے کچھ وصیتیں کیں پھر کہا اور باقی فقراء پر صدقہ کیا جائے پھر اپنی کچھ وصیتوں سے رجوع کر لیا جن کے لئے وصیتیں کی تھیں (موصی لہم) ، یا ان میں سے بعض موصی لہم موصی کی موت سے پہلے ہی مرگئے تو باقی مال فقراء پر صدقہ کیا جائے گا اور اگر اس نے فقراء کے لئے وصیت سے رجوع نہیں کیا ہے (محیط از عالمگیری ج ۶ ص ۱۳۱)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button