بہار شریعت

مختلف جنایات کے متعلق مسائل

مختلف جنایات کے متعلق مسائل

مسئلہ ۱ : دو آدمی رسہ کشی کر رہے تھے کہ درمیان سے رسی ٹوٹ گئی اور دونوں گدی کے بل گر کر مر گئے تو دونوں کا خون رائیگاں جائے گا اور اگر منہ کے بل گر کر مرے تو ہر ایک کی دیت دوسرے کے عاقلہ پر ہے۔ اور اگر ایک منہ کے بل گر کر مرا اور دوسرا گدی کے بل گر کر مرا تو گدی کے بل گرنے والے کا خون رائیگاں جائے گا اور منہ کے بل گرنے والے کی دیت گدی کے بل گرنے والے کے عاقلہ پر ہے (درمختار و شامی ص ۵۳۲ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۶۰ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۵۱ ج ۶، بدائع نائع ص ۲۷۳ ج ۷)

مسئلہ ۲ : دو آدمی رسہ کشی کر رہے تھے کہ کسی شخص نے درمیان سے رسی کاٹ دی اور دونوں رسہ کش گدی کے بل گر کر مرگئے تو دونوں کی دیت رسی کاٹنے والے کے عاقلہ پر ہے (درمختار و شامی ص ۵۳۲ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۶۰ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۵۱ ج ۶، بدائع صنائع ص ۲۷۳ ج ۷)

مسئلہ ۳ : کسی شخص نے کسی کے پرندے یا بکری یا بلی، یا کتے کی ایک آنکھ پھوڑ دی تو آنکھ کی وجہ سے قیمت کے نقصان کا ضامن آنکھ پھوڑنے والا ہوگا۔ اور اگر دونوں آنکھیں پھوڑ دیں تو جانور کے مالک کو اختیار ہے کہ چاہے تو نقصان وصول کر لے اور چاہے تو آنکھ پھوڑنے والے کو جانور دے کر پوری قیمت وصول کر لے (درمختار و شامی ص ۵۳۵ ج ۵)

مسئلہ ۴ : کسی کے اونٹ، گائے، گدھا، گھوڑا، خچر، بھینس یعنی باربرداری سواری، اور کاشت کاری کے جانور نر یا مادہ کی ایک آنکھ پھوڑنے کی صورت میں چوتھائی قیمت کا ضامن آنکھ پھوڑنے والا ہوگا۔ اور دونوں آنکھوں کو پھوڑنے کی صورت میں مالک کو اختیار ہے کہ چاہے تو جانور آنکھ پھوڑنے والے کو دے کر پوری قیمت وصول کرے اور چاہے تو دونوں آنکھوں کے ضائع ہونے کی وجہ سے قیمت میں جو نقصان آیا ہے وہ وصول کرے اور جانور اپنے پاس رکھے (درمختار و شامی ص ۵۳۶ ج ۵، ہدایہ و فتح القدیر و عنایہ ص ۳۵۲ ج ۸، بحرالرائق ص ۳۶۳ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۵۳ ج ۶)

مسئلہ ۵ : دو سوار یا پیدل چلنے والے آپس میں ٹکرا کر مرگئے اگر یہ حادثہ خطائً ہوا تھا تو ہر ایک کے عاقلہ پر دوسرے کی دیت ہے (ہدایہ فتح ا لقدیر ص ۳۴۸ ج ۸، بحرالرائق ص ۳۵۹ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۵۰ ج ۶، بدائع صنائع ص ۲۷۳ ج ۷، عالمگیری ۸۷ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۴۴ ج ۳)

مسئلہ ۶ : کسی شخص نے اپنی ملک میں شہد کی مکھیوں کا چھتہ لگایا۔ ان مکھیوں نے دوسرے لوگوں کے انگور یا دوسرے پھل کھا لئے تو چھتہ والا اس کا ضامن نہیں ہوگا اور چھتہ والے کو اس پر مجبور بھی نہیں کیا جائے گا کہ وہ چھتہ کو وہاں سے ہٹا دے۔ (درمختار و شامی ص ۵۳۷ ج ۸)

مسئلہ ۷ : کسی شخص نے دوسرے کی ملک میں لمبی رسی سے اپنے جانور کو باندھ دیا تھا جانور نے بندھے بندھے خود پھاند کر کسی کا کچھ نقصان کر دیا تو باندھنے والا ضامن ہوگا۔ (بحرالرائق ص ۳۵۷ ج ۸، بدائع صنائع ص ۲۷۳ ج ۷)

مسئلہ ۸ : جنایت بہائم میں یہ قاعدہ ہے کہ جب جانور اپنی جگہ اور اسی حالت پر رہا جس پر کھا کرنے والے نے کھڑا کیا تھا تو مالک اس کے ہر نقصان کا ضامن ہوگا۔ اور اگر جانور نے وہ جگہ اور حالت بدل لی تو مالک اس کے کسی نقصان کا ضامن نہیں ہے۔ (بحرالرائق ص ۳۵۷ ج ۸)

مسئلہ ۹ : کسی شخص نے کسی کو درندے کے آگے پھینک دیا اور درندے نے اس کو پھاڑ کھایا تو پھینکنے والے پر دیت نہیں لیکن اس کو تعزیر کی جائے گی اور توبہ کرنے تک قید میں رکھا جائے گا۔ (بحرالرائق ص ۳۶۲ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۵۳ ج ۶)

مسئلہ ۱۰ : اگر کوئی شخص کسی آدمی پر سانپ وغیرہ ڈال دے اور وہ اس کو کاٹ لے تو یہ ضامن ہوگا۔ (مبسوط ص ۵ ج ۲۷)

مسئلہ ۱۱ : کوئی شخص کسی کے گھر میں گیا اجازت سے گیا ہو یا بلااجازت اور صاحب خانہ کے کتے نے اس کو کاٹ کھایا تو صاحب خانہ ضامن نہیں ہے (بدائع صنائع ص ۲۷۳ ج ۷، مبسوط ص ۵ ج ۲۷)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button