ARTICLES

محرم کوماسک پہنناکیساہے ؟

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ محرم اپنے چہرے پر ماسک لگاسکتاہے ؟

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں محرم اپنے چہرے پرماسک نہیں لگاسکتا،کیونکہ اسے لگانے کے سبب چہرے کاکچھ حصہ چھپ جاتاہے ،اورحالت احرام میں چہرہ چھپاناممنوع ہے ۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے : عن ابن عباسٍ رضی اللہ عنہما ، ان رجلًا اوقصتہ راحلتہ وھو محرم ، فمات.فقال رسول اﷲ صلی اللٰہ علیہ وسلم : اغسلوہ بماءٍ وسدرٍ وکفنوہ فی ثوبیہ، ولا تخمروا راسہ ولا وجہہ، فانہ یبعثیو ما لقیامۃملبیًا۔( ) یعنی،حضرت ابن عباسسے روایت ہے : ایک شخص حالت احرام میں اپنی سواری سے گرکرفوت ہوگیا،پس رسولﷺنے ارشادفرمایا : اسے پانی اوربیری کے پتوں سے غسل دواوراس کے دوکپڑوں میں اسے کفن دو،اوراس کاسراورچہرہ مت چھپانا کیونکہ یہ روزقیامت تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھایاجائے گا۔ اورمروی ہے کہ : عن ابن عباسٍ رضی اللہ عنہما : انہ کان لایجوزللمحرم ان یخمر وجھہ۔( ) یعنی،حضرت ابن عباس سے روایت ہے : محرم کے لئے اپناچہرہ چھپاناجائزنہیں ہوتا۔ اس حدیث کاظاہر اس بات کافائدہ دیتاہے کہ محرم کواپناچہرہ کھلارکھناواجب ہے ،اورفقہاء کرام نے اسی حدیث شریف سے چہرے کوکھلارکھنے پراستدلال کیاہے ۔ چنانچہ امام ابوالحسن علی بن ابی بکرمرغینانی حنفی متوفی٥٩٣ھ لکھتے ہیں : ولنا قولہ علیہ الصلاۃ والسلام : ”لا تخمروا وجہہ ولا راسہ فانہ یبعث یوم القیامۃ ملبیا”،قالہ فی محرم توفی۔ ( ) یعنی،اورہماری دلیل محرم میت کے بارے میں حضورنبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺ کافرمان ہے : ’’تم اس کے چہرے اورسرکونہ چھپاؤپس بے شک یہ روزقیامت تلبیہ کہتے ہوئے اٹھایاجائے گا‘‘حضورنبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺ نے اسے حالت احرام میں وفات پانے والے شخص کے بارے میں فرمایاہے ۔ اورامام ابوزیدعبداللہ بن عمردبوسی حنفی متوفی٤٣٠ھ لکھتے ہیں : نھی عن تخمیر وجہہ ، وعلل النھی ببقاء الاحرام بعد موتہ۔فدل علی ثبوت ھذا الحکم حال الحیاۃ من طریق الاولیٰ، ولان الاحرام حال الحیاۃ اقوی۔( ) یعنی،محرم میت کے چہرہ کوچھپانے سے منع کیاگیاہے ،اورنہی کی علت موت کے بعدبقاء احرام بتائی ہے ،پس اس نے بطریق اولیٰ حالت حیات میں اس حکم کے ثبوت پر دلالت کی کیونکہ حالت حیات میں احرام زیادہ قوی ہے ۔ اورعلامہ ابوالحسن کبیرمحمدبن عبدالھادی سندھی حنفی متوفی١١٣٨ھ مندرجہ بالاحدیث شریف کے بارے میں لکھتے ہیں : قیل کشف الوجہ لیس لمراعاۃ الاحرام وانما ھو لصیانۃ الراس من التغطیۃ کذا ذکرہ النووی وزعم ان ھذا التاویل لازم عند الکل قلت ظاھر الحدیث یفید ان المحرم یجب علیہ کشف وجھہ وان الامر بکشف وجہ المیت لمراعاۃ الاحرام نعم من لا یقول بمراعاۃ احرام المیت یحمل الحدیث علی الخصوص ولا یلزم منہ ان یؤولالحدیث کما زعم۔( ) یعنی،کہاگیااس حدیث میں چہرہ کوکھلا رکھنے کاحکم دینااحرام کی رعایت کے لئے نہیں ،بلکہ سرکے چھپنے سے حفاظت کے لئے ہے ،اسی طرح اسے امام نووی نے ذکرفرمایااورانہوں نے گمان کیاہے کہ بے شک یہ تاویل تمام کے نزدیک لازم ہے ، (شارح کہتے ہیں )میں نے کہاکہ حدیث کاظاہراس بات کافائدہ دیتاہے کہ محرم کواپناچہرہ کھلارکھناواجب ہے ،اوربے شک میت کے چہرے کوکھلارکھنے کاحکم دیناہے احرام کی رعایت کی وجہ سے ہے ،ہاں جومیت کے احرام کی رعایت کی وجہ سے اس حکم کے ہونے کاقائل نہیں تووہ حدیث کو خصوصیت پر محمول کرتاہے ،اوراس سے لازم نہیں ائے گا کہ حدیث کی تاویل پیش کی جائے جیساکہ انہوں نے گمان کیاہے ۔ اورحدیث شریف میں ہے جسے امام ابوالحسن احمدبن محمدقدوری حنفی متوفی ٤٢٨ھ نے نقل کیاکہ : لنا : ماروی ابن عمر رضی اللٰہ عنھما : ”ان النبی علیہ الصلوۃ و السلام صلی اللٰہ علیہ وسلم قال فی المحرم : لایغطی اللحیۃ فانہا من الوجہ”( ) یعنی،ہماری دلیل یہ ہے جوحضرت ابن عمرسے روایت کیاگیاہے ”بے شک نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺ نے محرم کے بارے میں ارشادفرمایاکہ وہ ڈاڑھی کونہ چھپائے کیونکہ یہ چہرے سے ہے ” لہذامندرجہ بالااحادیث نبویہ علیہ التحیۃ والثناء سے ثابت ہواکہ مردپرواجب ہے کہ حالت احرام میں اپناچہرہ کھلارکھے ۔اگرکوئی اعتراض کرے کہ حدیث شریف میں ہے : عن ابن عمر : ان النبی علیہ الصلوۃ و السلام صلی اللٰہ علیہ وسلم قال : احرام المراۃ فی وجہہا ، واحرام الرجل فی راسہ۔( ) یعنی،حضرت ابن عمرسے روایت ہے : بے شک نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺنے ارشادفرمایا : عورت کااحرام اس کے چہرے میں ہے اورمرد کا احرام اس کے سرمیں ہے ۔ حدیث شریف میں مردکے چہرے کاذکرنہیں ہے بلکہ سر کا ذکر ہے ،لہذامردکوچہرہ کھلارکھناواجب نہیں ہے تواس کاجواب دیتے ہوئے امام ابوزیددبوسی حنفی لکھتے ہیں : ولان الاحرام ما اوجب علی المراۃ الا کشف عضوٍ واحدٍ ، فکذلک من الرجل ، لان العلۃ فیھما واحدۃ وھو الاحرام ، الا ان الراس من المراۃ عورۃ فابدل الوجہ، ولان الوجہ من الرجل یکون مکشوفا عادۃ فلا یظھر فی انکشافہ اثر الاحرام فجعل فی الراس، فاما المراۃ فوجھھا فی نقاب اذا برزت عادۃ فظہر الاثر فیہ فلم یزد علیہ ….والمعنی : ان الاحرام اذا صح اوجب کشف الوجہ۔( ) یعنی،کیونکہ عورت پر ایک ہی عضوکاکھلارکھناواجب ہے ،پس ایسے ہی مردکے لئے حکم ہے ،کیونکہ ان دونوں میں علت ایک ہی ہے اوروہ احرام ہے ،مگرعورت کاسرچھپانے کی چیزہے لہذابدل میں چہرے کاحکم ہے ،اوراس لئے کہ مردکاچہرہ عادۃ کھلارہتاہے ،پس اسے کھلارکھنے میں چونکہ احرام کااثرظاہر نہیں ہوگا،لہذا مردکااحرام اس کے سرمیں رکھاگیاہے ،رہی عورت تواس کاچہرہ چونکہ عادۃً نقاب ہی میں ظاہرہوتاہے ،لہذاعورت کے احرام کااثرچہرہ کھلارکھنے میں ظاہر ہوگا،پس چہرے پرزیادتی نہیں کی،اورمعنی یہ ہے کہ احرام اسی وقت صحیح ہوگاکہ چہرے کوکھلارکھناواجب قراردیاجائے ۔ دوسری بات یہ کہ عورت کے چہرہ کھولنے میں فتنے کااندیشہ تھا،تب بھی حکم ہواکہ وہ چہرہ کھولے ،جب عورت کوچہرہ کھولنے کاحکم ہے تو مرد کو بطریق اولیٰ چہرہ کھولنالازم ہوگا۔ چنانچہ امام مرغینانی لکھتے ہیں : ولان المراۃ لا تغطی وجہہا مع ان فی الکشف فتنۃ فالرجل بالطریق الاولی۔( ) یعنی،اورمردکواس لئے بھی چہرہ چھپانا ممنوع ہے کہ عورت اپناچہرہ نہیں چھپائے گی حالانکہ کھولنے میں فتنہ ہے ، تومردبطریق اولیٰ چہرہ نہیں چھپائے گا۔ اوراحناف کے نزدیک بھی حالت احرام میں مردکوچہرہ کھلا رکھنا واجب ہے ۔ چنانچہ امام محمدبن حسن شیبانی متوفی١٨٩ھ لکھتے ہیں : ولا تغط راسک ولا وجھک۔( ) یعنی،حالت احرام میں تواپنے سراورچہرے کونہیں چھپانا۔ اورامام قدوری لکھتے ہیں : قال اصحابنا : یجب علی الرجل کشف وجہہ ،وقال الشافعی : لایجب۔( ) یعنی،ہمارے اصحاب نے فرمایا : مردپر حالت احرام میں اپنے چہرے کوکھلارکھناواجب ہے ،اورامام شافعینے فرمایا : واجب نہیں ۔ اوراپنی دوسری کتاب میں لکھتے ہیں : ولایغطی راسہ ولا وجہہ۔( ) یعنی،محرم اپنے چہرے اورسرکونہ چھپائے ۔ امام ابوزیددبوسی حنفی لکھتے ہیں : ان المحرم لا یحل لہ ان یغطی وجھہ۔( ) یعنی،محرم کے لئے اپنا چہراچھپانا حلال نہیں ۔ اورامام مالک کابھی یہی قول ہے ،اورایک روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل بھی اسی کے قائل ہیں ۔ چنانچہ ملاعلی قاری حنفی١٠١٤ھ لکھتے ہیں : فان الرجل ممنوع من تغطیتہما ، والمراۃ ممنوعۃ من تغطیۃ الوجہ لا غیر . ثم تغطیۃ الراس حرام علی الرجل اجماعا کتغطیۃ وجہ المراۃ ، واما تغطیۃ وجھہ فحرام کالمراۃ عندنا،وبہ قال مالک واحمد فی روایۃ۔( ) یعنی،مردکوسراورچہرہ چھپاناممنوع ہے ،اورعورت کو صرف چہرہ چھپاناممنوع ہے ،پھرمرد کوسرچھپانابالاجماع حرام ہے جیسے عورت کاچہرہ چھپانا،اورمرد کااپنے چہرے کو چھپاناایسے ہی حرام ہے جیسے ہمارے نزدیک عورت کوحرام ہے ،اورایک روایت کے مطابق امام مالک اورامام احمد بن حنبل نے بھی یہی کہاہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button