ARTICLES

محرم کا بیلٹ والی چھتری کے پہننے کا حکم

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ محرم ایسی چھتری استعمال کرسکتاہے کہ جس کے ساتھ لگی ہوئی بیلٹ سر کے چاروں طرف گھومتی ہوئی سرکولگی رہتی ہے ،واضح رہے کہ اس بیلٹ کی چوڑائی تقریباایک ڈیڑھ انچ ہے ،اوراگرایسی چھتری کااستعمال محرم کے لئے ازروئے شرع ناجائزہے تویہ بھی رہنمائی فرمائیں کہ پھراسے استعمال کرنے والے محرم پرکیالازم ائے گا؟

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں محرم کے لئے مذکورہ چھتری کواستعمال کرناجائزنہیں ہے ،کیونکہ اس کے ساتھ لگی ہوئی بیلٹ کے سبب سرکاکچھ حصہ چھپ جاتاہے ،اورمحرم کے لئے عادت کے طریقے پرسرکوچھپانا جائز نہیں ،اگرچہ وہ بعض سرکوچھپائے ۔ چنانچہ امام ابومنصورمحمدبن مکرم بن شعبان کرمانی متوفی597ھ لکھتے ہیں : یحرم علیہ….تغطیۃ الراس۔( ) یعنی،محرم پرسرچھپاناحرام ہے ۔ ملاعلی قاری حنفی١٠١٤ھ لکھتے ہیں : فان الرجل ممنوع من تغطیتہما۔( ) یعنی،مردکوسراورچہرہ چھپاناممنوع ہے ۔ شیخ الاسلام مخدوم محمدہاشم ٹھٹوی حنفی متوفی1174ھ لکھتے ہیں : جائز نیست محرم را اگرمردباشدپوشیدن تمام سریابعض ان….حرمت پوشیدن سر در حق مردمحرم نیزوقتی باشدکہ بپوشدان را بچیزے کہ پوشیدہ شود بان سر را بطریق عادت۔( ) یعنی،محرم مردکے لیے مکمل یابعض سرکوچھپانا(شرعا)جائزنہیں ہے … محرم مردکے حق میں چھپانے کی حرمت اس وقت کہ جب وہ عادت کے طریقے پر چھپائے ۔ اوراگے لکھتے ہیں : بستن خرقہ بر سرور وئے پس داخل محرمات است ولازم ایدجزاء بان اگرچہ بعذر باشد یا بغیر ان… در صورت عذر اثم نباشد۔( ) یعنی،کپڑے کے ٹکڑے سے سراورچہرے کوباندھنامحرمات میں داخل ہے ، اورایساکرنے پرجزاءلازم ائے گی اگرچہ عذرسے کیاہویابغیرعذر،عذرکی صورت میں ایساکرنے والاگنہگارنہیں ہوگا۔ اوراعلی حضرت امام احمدرضاخان حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : (محرم کو) سر کسی کپڑے وغیرہ سے چھپانا(حرام ہے )۔ ( ) لیکن اگرکسی محرم نے مذکورہ چھتری کااستعمال ناجائزہونے کے باوجود کرلیا،توظاہرہے کہ مذکوربیلٹ کے سبب چوتھائی سرسے کم حصہ
چھپاہوگا،لہذامحرم اس چھتری کوچارپہریااس سے زائدلگاتارپہنے گا،تواس پرصدقہ لازم ہوگا،اور اس سے کم وقت پہننے کی صورت میں کفارہ لازم ہونے کے بجائے فقط گناہ سے توبہ لازم ہوگی،کیونکہ مردحالت احرام میں چوتھائی سرسے کم کو چار پہریازیادہ لگاتار چھپائے ، تو اس پرصدقہ لازم ہوتاہے اور چار پہر سے کم میں کفارہ لازم نہیں ہوتا،لیکن وہ گنہگارہوتاہے ۔ چنانچہ اعلی حضرت امام احمدرضاخان حنفی لکھتے ہیں : مردسارا سریاچہارم یا مرد خواہ عورت منہ کی ٹکلی ساری یا چہارم چار پہر یازیادہ لگاتار چھپائیں تو دم ہے …اور چہارم سے کم چار پہر تک یا چار[پہر] سے کم اگر چہ سارا سریا منہ توصدقہ ہے اور چہارم سے کم کو چار پہر سے کم تک چھپائیں تو گناہ ہے کفارہ نہیں ۔( ) اورصدرالشریعہ محمدعلی اعظمی حنفی متوفی١٣٦٧ھ لکھتے ہیں : مرد یا عورت نے مونھ کی ٹکلی ساری یا چہارم چھپائی یا مرد نے پورا یا چہارم سر چھپایا تو چار پہر یا زیادہ لگاتار چھپانے میں دم ہے اور کم میں صدقہ اور چہارم سے کم کو چار پہر تک چھپایا تو صدقہ ہے اور چار پہر سے کم میں کفارہ نہیں مگر گناہ ہے ۔( ) واللہ تعالیٰ اعلم

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button