ARTICLES

محرم بھول جائے کہ کس کااحرام باندھا تھاتوکیاحکم ہوگا؟

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کو بھولنے کی بیماری تھی اس نے میقات سے احرام باندھااور منی روانگی کودن بھی کم تھے اوراسے یاد نہ رہاکہ اس نے عمرہ کا احرام باندھا ہے یا حج کاتوایسے شخص کے لئے کیاحکم ہوگا؟

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اس پر حج اور عمرہ دونوں لازم ہوں گے ،اور وہ شرعا قارن نہیں ہوگا۔ چنانچہ قاضیخان امام فخر الدین حسن بن منصور اوزجندی حنفی متوفی٥٩٢ھ اور ان کے حوالے سے علامہ ابو الحسن علاء الدین علی بن بلبان فارسی حنفی متوفی٧٣٩ھ نقل کرتے ہیں : اذا احرم بشیءٍ ونسیہ لزمہ حجۃ و عمرۃ۔( ) یعنی، جب کسی شے کااحرام باندھا اور بھول گیاتواس پر حج اور عمرہ لازم ہے ۔ اورعلامہ ابن بلبان حنفی‘‘محیط رضوی’’(ل/ ٢١٨)کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : لو احرم بشیءٍ بعینہ ثم نسیہ لزمہ حجۃ وعمرۃ،کمن ترک صلاۃً من یوم ولیلۃ وقد نسیھا،یقضی صلاۃ یومٍ ولیلۃ۔( ) یعنی،اگر کسی نے معین شے کے ساتھ احرام باندھاپھر اسے بھول گیاتواس پر حج اور عمرہ کرنالازم ہوگا،جیسے کسی نے ایک دن اورایک رات میں سے نماز چھوڑدی اور اسے بھول گیا(کہ وہ کون سی تھی؟)تووہ ایک دن اور ایک رات کی نماز قضاء کرے گا۔ اوراس صورت میں پہلے وہ عمرہ کے افعال اداکرے گا۔ چنانچہ علامہ ابن بلبان حنفی‘‘محیط رضوی’’(ل/ ٢١٨)کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : ویقدم افعال العمرۃ علی الحج۔( ) یعنی،وہ عمرہ کے افعال کو حج سے پہلے اداکرے گا۔ اور اس صورت میں وہ قارن نہیں ہوگا۔ چنانچہ لکھتے ہیں : ولایکون قارنا۔( ) یعنی،اور وہ قارن نہیں ہوگا۔ اور نہ ہی اس پر دم قران یعنی دم شکرلازم ہوگا۔ چنانچہ لکھتے ہیں : ولا یلزمہ ھدی القران۔( ) یعنی،اوراس پردم قران لازم نہ ہوگا۔ خلاصہ کلام یہ کہ اس پرحج اور عمرہ دونوں لازم ہوں گے ،اوروہ حج قران کے افعال بجا لائے اوروہ یوں کہ پہلے عمرہ کرے پھرحج مگر قران کی قربانی اس کے ذمہ واجب نہیں ہوگی۔ چنانچہ صدرالشریعہ محمد امجد علی اعظمی حنفی متوفی١٣٦٧ھ لکھتے ہیں : احرام باندھا اور یا د نہیں کہ کس کا باندھا تھا تو دونوں واجب ہیں یعنی قران کے افعال بجا لائے کہ پہلے عمرہ کرے پھر حج مگر قران کی قربانی اس کے ذمہ نہیں ۔( ) واللہ تعالیٰ اعلم

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button