ARTICLESشرعی سوالات

متمتع کا قربانی سے قبل حلق کروانا

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کی قربانی نہ ہوئی تھی اسے بتایا گیا کہ تیری قربانی ہو گئی ہے تو اس نے حلق کروا دیا تو اس صورت میں اس پر کیا لازم آئے گا؟

(السائل : محمد رضوان، لبیک حج گروپ، کھارادر)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : اس صورت میں اس شخص پر دم لازم ہے کیونکہ ہم احناف کے نزدیک متمتع رمی، ذبح اور حلق میں ترتیب واجب ہے ، جب اس نے ذبح سے قبل حلق کروا لیا تو ترتیب برقرار نہ رہی جو کہ واجبات میں سے ہے ، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی متوفی 1174ھ واجبات حج کے بیان میں لکھتے ہیں :

بیست و ششم : تقدیم رمی جمار بر ذبح در حق قارن و متمتع … بیست و ہشتم : تقدیم ذبح ہدی بر حلق در حق قارن و متمتع أیضاً (178)

یعنی، چھبیسواں (واجب) : رمی جمار کا ذبح پر مقدم ہونا قارن اور متمتع کے حق میں ۔ اٹھائیسویں (واجب) : ذبح ہدی کا بھی حلق پر مقدم ہونا قارن اور متمتع کے حق میں ۔ لہٰذا ترکِ واجب کی وجہ سے اس پر دم لازم آئے گا،چنانچہ علامہ رحمت اللہ بن عبداللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

و لو حلق المفرد أو غیرہ قبل الرمی، أو القارن أو المتمتع قبل الذبح فعلیہ دم (179)

یعنی، اگر مفر د یا غیر مفرد (قارن یا متمتع) نے اس رمی سے قبل حلق کیا یا قارن یا متمتع نے ذبح سے قبل حلق کیا، یا قارن یا متمتع نے رمی سے قبل ذبح کیا تو اس پر ( ترکِ ترتیب کی وجہ سے ) دم لازم ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأربعاء، 8شوال المکرم 1427ھ، 1نوفمبر 2006 م (234-F)

حوالہ جات

178۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، مقدمۃ الرسالۃ، فصل سیوم، واجباب حج، ص44

179۔ لباب المناسک، باب الجنایات، فصل فی ترک الترتیب بین أفعال الحج،ص225

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button