ARTICLES

متمتع کا عمرہ ادا کر کے میقات سے باہر جانا

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص حج کے مہینوں میں کراچی سے ایا اور عمرہ ادا کر کے شیڈول کے مطابق مدینہ شریف چلا جاتا ہے پھر وہاں سے صرف حج کا احرام باندھ کر اتا ہے اور حج کرتا ہے تو اس کا حج ’’تمتع‘‘ رہے گا یا نہیں ؟

(السائل : حافظ محمد رضوان، مکہ مکرمہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اس کا حج ’’حج تمتع‘‘ ہی رہے گا چنانچہ امام ابو البرکات عبد اللہ بن احمد بن محمود نسفی متوفی 710ھ لکھتے ہیں :

و لو اعتمر کوفی فیہا و اقام بمکۃ او ببصرۃ، و حج، صح تمتعہ (51)

یعنی، اگر کوفہ کے رہنے والے نے حج کے مہینوں میں عمرہ کیا او رمکہ میں ٹھہرایا یا بصرہ میں اور حج کیا تو اس کا تمتع صحیح ہوا۔ اور علامہ قاضی فقیہ حسین بن محمد سعید بن عبد الغنی مکی حنفی متوفی 1366ھ نقل کرتے ہیں :

ان من وصل الی مکۃ من اھل المدینۃ و غیرھم کالحجاج، و احرم بعمرۃ فی اشھر الحج و حد منہا، ثم طلع الی الطائف للتنزہ او غیرہ، ثم احرم بالحج منہ و نزل علی عرفۃ : لا شیئ علیہ سوی دم التمتع و بہ صرح فی ’’غایۃ البیان‘‘ فی باب التمتع (52)

یعنی، بے شک اہل مدینہ وغیرہ افاقی حاجیوں میں سے مکہ مکرمہ پہنچا اور اس نے حج کے مہینوں میں عمرہ کا احرام باندھا اور (عمرہ ادا کر کے ) اس سے فارغ ہوا پھر سیر و تفریح یا کسی اور کام سے طائف گیا۔ پھر وہاں سے حج کا احرام باندھا اور عرفات ا کر پہنچا تو اس پر کچھ نہیں سوائے دم تمتع کے اور ’’غایۃ البیان‘‘ کے باب التمتع میں اسی کی تصریح کی ہے ۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم السبت ، 4 ذوالحجۃ 1433ھ، 20 اکتوبر 2012 م 824-F

حوالہ جات

51۔ کنز الدقائق، کتاب الحج، باب التمتع، ص235

52۔ ارشاد الساری الی مناسک ملا علی القاری، باب التمتع، فصل : فی تمتع المکی، تحت قولہ : فمن تمتع منہم الخ، ص 307، ص391

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button