بہار شریعت

مبیع وثمن میں تصرف کے متعلق مسائل

مبیع وثمن میں تصرف کے متعلق مسائل

احادیث:

حدیث۱: بخاری ومسلم وابوداود ونسائی وبیہقی عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی کہتے ہیں بازار میں غلہ خرید کر اسی جگہ ( بغیر قبضہ کئے )لوگ بیچ ڈالتے تھے رسول اللہ ﷺنے اسی جگہ بیع کرنے سے منع فرمایاجب تک منتقل نہ کرلیں ۔

حدیث ۲: نیز صحیحین میں انہیں سے مروی رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو شخص غلہ خریدے جب تک قبضہ نہ کرلے اسے بیع نہ کرے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں جس کو رسول اللہ ﷺ نے قبضہ سے پہلے بیچنا منع کیا وہ غلہ ہے مگر میراگمان یہ ہے کہ ہرچیز کا یہی حکم ہے ۔

مسائل فقہیہ

مسئلہ۱: جائدادغیر منقولہ خریدی ہے اس کو قبضہ کرنے سے پیشتر بیع کرنا جائز ہے کیونکہ اس کاہلاک ہونا بہت نادر ہے اور اگر وہ ایسی ہو جس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتوجب تک قبضہ نہ کرلے بیع نہیں کرسکتا مثلاًبالاخانہ یادریا کے کنارہ کامکان اور زمین یا وہ زمین جس پر ریتا چڑھ جانے کا اندیشہ ہو۔( درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۲: منقول چیز خریدی تو جب تک قبضہ نہ کرلے اس کی بیع نہیں کرسکتا اور ہبہ وصدقہ کرسکتا ہے رہن رکھ سکتا ہے۔قرضاً عاریت دینا چاہے تو دے سکتا ہے ۔( درمختار)

مسئلہ۳: منقول چیز قبضہ سے پہلے بائع کو ہبہ کردی اور بائع نے قبول کرلی تو بیع جاتی رہی اور اگر بائع کے ہاتھ بیع کی تو یہ بیع صحیح نہیں پہلی بیع بدستور باقی رہی۔( درمختار)

مسئلہ۴: خود بائع نے مشتری کے قبضہ سے پہلے مبیع میں تصرف کیا اس کی دوصورتیں ہیں مشتری کے حکم سے اس نے تصرف کیا یا بغیر حکم ۔اگر حکم سے تصرف کیا مثلاًمشتری نے کہا اس کوہبہ کردے یا کرایہ پر دیدے بائع نے کردیا تو مشتری کا قبضہ ہوگیا اور اگر بغیر امر تصرف کیا مثلاًوہ چیز رہن رکھدی یا اجرت پردی ۔ امانت رکھ دی اور مبیع ہلاک ہوگئی بیع جاتی رہی اور اگر بائع نے عاریت دی ہبہ کیا۔ رہن رکھا اور مشتری نے جائز کردیا تویہ بھی مشتری کا قبضہ ہوگیا۔( ردالمحتار)

مسئلہ۵: مشتری نے بائع سے کہا فلاں کے پاس مبیع رکھ دو جب میں دام ادا کردونگامجھے دیدے گا اور بائع نے اسے دیدی تویہ مشتری کا قبضہ نہ ہوا بلکہ بائع ہی کا قبضہ ہے یعنی وہ چیز ہلاک ہوگی تو بائع کی ہلاک ہوگی۔( ردالمحتار)

مسئلہ۶: ایک چیزخریدی تھی اس پر قبضہ نہیں کیا بائع نے دوسرے کے ہاتھ زیادہ داموں میں بیچ ڈالی مشتری نے بیع جائز کردی جب بھی یہ بیع درست نہیں کہ قبضہ سے پیشتر ہے ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۷: جس نے کیلی چیز کیل کے ساتھ یا وزنی چیز وزن کے ساتھ خریدی یا عددی چیز گنتی کے ساتھ خریدی تو جب تک ناپ یاتول یا گنتی نہ کرلے ا س کو بیچنا بھی جائز نہیں اور کھانا بھی جائز نہیں اور اگر تخمینہ سے خریدی یعنی مبیع سامنے موجود ہے دیکھ کر اس ساری کو خریدلیا یہ نہیں کہ اتنے سیر یا اتنے ناپ یا اتنی تعدادکو خریدا تو اس میں تصرف کرنے بیچنے کھانے کے لئے ناپ تو ل وغیرہ کی ضرورت نہیں ۔ اوراگر یہ چیز یں ہبہ، میراث، وصیت میں حاصل ہوئیں یاکھیت میں پیدا ہوئی ہیں تو ناپنے وغیرہ کی ضرورت نہیں ۔( درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۸: بیع کے بعد بائع نے مشتری کے سامنے ناپا یاتولا تو اب مشتری کوناپنے تولنے کی ضرورت نہیں اور اگر بیع سے قبل اس کے سامنے ناپا تولاتھا یا بیع کے بعد اس کی غیر حاضری میں ناپا تولا تووہ کافی نہیں بغیر ناپے تولے اس کو کھانا اور بیچنا جائز نہیں ۔( درمختار،ردالمحتار)

مسئلہ۹: موزون یا کمیل کو بیع تعاطی کے ساتھ خریدا تومشتری کاناپنا تولنا ضروری نہیں قبضہ کرلینا کافی ہے ۔ ( درمختار)

مسئلہ۱۰: بائع نے بیع سے قبل تولاتھا اس کے بعدایک شخص نے جس کے سامنے تولااس کو خریدامگر اس نے نہیں تولا اور بیع کردی اورتول کر مشتری کودی یہ بیع جائز نہیں کہ تولنے سے قبل ہوئی ۔( فتح القدیر)

مسئلہ۱۱: تھان خریدا اگرچہ گزوں کے حساب سے خریدا مثلاًیہ تھان دس گز کا ہے اور اس کے دام یہ ہیں اس میں تصرف ناپنے سے پہلے جائز ہے ہاں اگر بیع میں گز کے حساب سے قیمت ہو مثلاًایک روپیہ گزتو جب تک ناپ نہ لیا جائے تصرف جائز نہیں اور موزوں چیز اگر ایسی ہو کہ اس کے ٹکڑے کرنا مضرہو تو وزن کرنے سے پہلے اس میں تصرف جائز ہے جیسے تانبے وغیرہ کے لوٹے اور برتن ۔( درمختار)

مسئلہ۱۲: ثمن میں قبضہ کرنے سے پہلے تصرف جائز ہے اس کو بیع وہبہ واجارہ وصدقہ ووصیت سب کچھ کرسکتے ہیں ۔ثمن کبھی حاضر ہوتا ہے مثلاًیہ چیز ان دس روپوں کے بدلے میں خریدی اور کبھی حاضر کی طرف اشارہ نہیں کیا جاتا مثلاًیہ چیز دس روپے کے بدلے میں خریدی پہلی صورت میں ہرقسم کے تصرف کرسکتے ہیں مشتری کو بھی مالک کر سکتے ہیں اور غیر مشتری کو بھی اور دوسری صورت میں مشتری کومالک کردینے کے علاوہ دوسرا تصرف نہیں کرسکتے یعنی غیر مشتری کو اس کی تملیک نہیں کرسکتے مثلاًبائع مشتری سے کوئی چیز ان روپوں کے بدلے میں خریدسکتا ہے جومشتری کے ذمہ ہیں یا اس کا جانور یامکان کرایہ پر لے سکتا ہے اور یہ بھی کرسکتاہے کہ وہ روپے اسے ہبہ کردے صدقہ کردے۔ اور مشتری کے علاوہ دوسرے سے کوئی چیز خریدے ان روپوں کے بدلے میں جو اس مشتری پر ہیں یادوسرے کوہبہ کرے صدقہ کرے یہ صحیح نہیں ۔(درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۱۳: ثمن دوقسم ہے ایک وہ کہ معین کرنے سے معین ہوجاتا ہے مثلاًناپ اورتول کی چیز یں دوسرا وہ کہ معین کرنے سے بھی معین نہ ہو جیسے روپیہ اشرفی کہ بیع صحیح میں معین کرنے سے بھی معین نہیں ہوتے مثلاًکوئی چیز اس روپے کے بدلے میں خریدی یعنی کسی خاص روپیہ کی طرف اشارہ کیا تو اسی کا دینا واجب نہیں دوسرا روپیہ بھی دے سکتا ہے ۔دس روپے کی جگہ دس کا نوٹ پندرہ روپے کی جگہ گنی دے سکتا ہے مشتری کوہر گزیہ حق حاصل نہیں کہ کہے روپیہ لونگا نوٹ اشرفی نہیں لونگا۔( درمختار)

مسئلہ۱۴: قبضہ سے پہلے ثمن کے علاوہ کسی دین میں تصرف کرنے کا وہی حکم ہے جو ثمن کا ہے مثلاً ۔ مہر ۔ قرض ۔اجرت۔ بدل خلع۔ تاوان ۔کہ جس پراس کامطالبہ ہے اس کو مالک بناسکتے ہیں یعنی اس سے ان کے بدلے میں کوئی چیز خریدسکتے ہیں اس کو مکان وغیرہ کی اجرت میں دے سکتے ہیں ہبہ وصدقہ کرسکتے ہیں اور دوسرے کومالک کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے ۔(درمختار)

مسئلہ۱۵: بیع صرف اور سلم میں جس چیز پر عقد ہوااس کے علاوہ دوسری چیز کولینا دینا جائز نہیں اور نہ اس میں کسی دوسری قسم کا تصرف جائز نہ مسلم الیہ راس المال میں تصرف کرسکتاہے اور نہ رب السلم مسلم فیہ میں کہ وہ روپے کے بدلے میں اشرفی لے لے اور یہ گیہوں کے بدلے میں جولے یہ ناجائر ہے ۔(درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۱۶: مشتری نے بائع کے لئے ثمن میں کچھ اضافہ کردیا بائع نے مبیع میں اضافہ کردیا یہ جائز ہے ثمن یا مبیع میں اضافہ اسی جنس سے ہویا دوسری جنس سے اسی مجلس عقد میں ہویابعد میں ہرصورت میں یہ اضافہ لازم ہوجاتا ہے یعنی بعد میں اگر ندامت ہوئی کہ ایسا میں نے کیوں کیا تو بیکار ہے وہ دینا پڑے گا۔ اجنبی نے ثمن میں اضافہ کردیا مشتری نے قبول کرلیا مشتری پرلازم ہوجائیگا اورمشتری نے انکار کردیا باطل ہوگیا ہاں اگراجنبی نے اضافہ کیا اور خود ضامن بھی بن گیا یا کہامیں اپنے پاس سے دوں گا تو اضافہ صحیح ہے اور یہ زیادت اجنبی پر لازم ۔( ہدایہ ، درمختا، ردالمحتار)

مسئلہ۱۷: مشتری نے ثمن میں اضافہ کیا اس کے لازم ہونے کے لئے شرط یہ ہے کہ بائع نے اسی مجلس میں قبول بھی کرلیا ہواور اس مجلس میں قبول نہیں کیا بعد میں کیا تو لازم نہیں اوریہ بھی شرط ہے کہ مبیع موجود ہو مبیع ہلاک ہونے کے بعد ثمن میں اضافہ نہیں ہوسکتا مبیع کوبیچ ڈالاہو پھر خریدلیا یا واپس کر لیا ہوجب بھی ثمن میں اضافہ صحیح ہے ۔بکری مرگئی تو ثمن میں اضافہ نہیں ہوسکتا اور ذبح کردی گئی ہے توہوسکتا ہے ۔مبیع میں بائع نے زیادتی کی اس میں بھی مشتری کا اسی مجلس میں قبول کرناشرط ہے اورمبیع کا باقی رہنا اس میں شرط نہیں مبیع ہلاک ہوچکی ہے جب بھی اس میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔( درمختار)

مسئلہ۱۸: ثمن میں بائع کمی کرسکتا ہے مثلاً دس روپے میں ایک چیز بیع کی تھی مگر خود بائع کو خیال ہواکہ مشتری پر اس کیگرانی ہوگی اور ثمن کم کردیا یہ ہوسکتاہے اس کے لئے مبیع کا باقی رہنا شرط نہیں ۔ یہ کمی ثمن کے قبضہ کرنے کے بعد بھی ہوسکتی ہے ۔(درمختار)

مسئلہ۱۹: کمی زیادتی جوکچھ بھی ہے اگرچہ بعد میں ہوئی ہو اس کو اصل عقد میں شمار کریں گے یعنی کمی بیشی کے بعد جو کچھ ہے اسی پر عقد متصور ہوگا۔ پورے ثمن کا اسقاط نہیں ہوسکتا یعنی مشتری کے ذمہ ثمن کچھ نہ رہے اور بیع قائم رہے کہ بلاثمن بیع قرار پائے یہ نہیں ہوسکتا یہ البتہ ہوگا کہ بیع اسی ثمن اول پر قرار پائے گی اور یہ سمجھا جائے گا کہ بائع نے مشتری سے ثمن معاف کردیا اس کا نتیجہ وہاں ظاہر ہوگا کہ شفیع نے شفعہ کیاتو پورا ثمن دینا ہوگا۔( ردالمحتار)

مسئلہ۲۰: کمی بیشی کو اصل عقد میں شمار کرنے کااثر یہ ہوگا کہ (۱)مرابحہ وتولیہ میں اسی کا اعتبار ہوگا ثمن اول کا یا مبیع اول کا اعتبار نہ ہوگا۔(۲) یونہی اگر ثمن میں زیادتی کردی ہے اورمبیع کا کوئی حقدار پیدا ہوگیا اورمبیع اس نے لے لی تومشتری بائع سے پورا ثمن واپس لے گا اور اگر ا س نے بیع کو جائز کردیاتو مشتری سے پورا ثمن لے گااور کمی کی صورت میں جوکچھ باقی ہے وہ لے گا۔(۳)ثمن اگر کم کردیا ہے تو شفیع کو باقی دینا ہوگا مگر ثمن میں اضافہ ہوا ہے توپہلے ثمن پر شفعہ ہوگا ۔ جو کچھ زیادہ کیا ہے نہیں دینا ہوگا کیونکہ شفیع کا حق ثمن اول سے ثابت ہوچکا ان دونوں کو اس کے مقابلہ میں اضافہ کرنے کاحق نہیں ۔(۴)مبیع میں اضافہ کیا ہے اور یہ زائد ہلاک ہوگیا تو ثمن میں اسکا حصہ کم ہوجائے گا ۔(۵) یونہی ثمن میں کم وبیش کیا ہے اور مبیع کل کا یا اس کاجز ہلاک ہوگیا تو اس کم یا زیادہ کا اعتبار ہوگا ثمن اول کا اعتبار نہ ہوگا۔(۶)بائع کو ثمن وصول کرنے کے لئے مبیع کے روکنے کا تعلق ثمن اول سے نہیں بلکہ اس سے ہے یعنی مثلاًزیادہ کردیا ہوتو جب تک مشتری اس زیادت کو ادا نہ کرلے مبیع کو بائع روک سکتا ہے ۔(۷)بیع صرف میں کم بیش کایہ اثر ہوگا کہ مثلاًچاندی کو چاندی سے بیچا تھا اور دونوں طرف برابری تھی پھرایک نے زیادہ یا کم کردی دوسرے نے اسے قبول کرلیا اور زائدیاکم پر قبضہ بھی ہوگیا تو عقد فاسد ہوگیا ۔( درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ ۲۱: ثمن میں اگر عرض ( غیر نقود ) زیادہ کردیا اور یہ چیز قبضہ سے پہلے ہلاک ہوگئی تو بقدراس کی قیمت کے عقد فسخ ہوجائے گا مثلاًسوروپے میں کوئی چیز خریدی تھی اور تقابض بدلین بھی ہوگیا پھر مشتری نے پچاس روپے کی کوئی چیز ثمن میں اضافہ کردی اور یہ چیز قبضہ سے پہلے ہلاک ہوگئی تو عقد بیع ایک تہائی میں فسخ ہوجائیگا۔(درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۲۲: مبیع میں اگر مشتری کمی کرنا چاہے اورمبیع ازقبیل دین یعنی غیر معین ہو جائز ہے اورمعین ہوتو کمی نہیں ہوسکتی ۔( درمختار)

مسئلہ۲۳: بائع نے اگر عقد بیع کے بعد مشتری کو ادائے ثمن کے لئے مہلت دی یعنی اس کے لئے میعاد مقرر کردی اورمشتری نے بھی قبول کرلی تویہ دین معیادی ہوگیا یعنی بائع پر وہ معیاد لازم ہوگئی اس سے قبل مطالبہ نہیں کرسکتا۔ ہردین کا یہی حکم ہے کہ میعادی نہ ہواور بعد میں میعاد مقرر ہوجائے تو میعادی ہوجاتا ہے مگر مدیون کا قبول کرنا شرط ہے اگر اس نے انکار کردیا تو میعادی نہیں ہوگا فوراً اس کا ادا کرنا واجب ہوگا اور دائن جب چاہے گا مطالبہ کرسکے گا۔( درمختاروغیرہ)

مسئلہ۲۴: دین کی میعاد کبھی معلوم ہوتی ہے مثلاًفلاں مہینہ کی فلاں تاریخ اور کبھی مجہول مگر جہالت یسیرہ ہوتو جائز ہے مثلاًجب کھیت کٹے گا ۔ اور اگرزیادہ جہالت ہو مثلاًجب آندھی آئے گی یا پانی برسے گایہ میعاد باطل ہے ۔(ہدایہ )

مسئلہ۲۵: دین کی میعاد کو شرط پر معلق بھی کرسکتے ہیں مثلاًایک شخص پر ہزار روپے ہیں اس سے دائن کہتا ہے اگر پانچ سو روپے کل ادا کردو توباقی پانچ سو کے لئے چھ ماہ کی مہلت ہے ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۲۶: بعض دین میں میعاد مقرر بھی کی جائے تو میعادی نہیں ہوتے ۔(۱) قرض جس کو دست گردان کہاجاتا ہے یہ میعادی نہیں ہوسکتا یعنی مقرض ( قرض دینے والے)نے اگر کوئی میعاد مقرر کر بھی دی ہوتووہ میعاد اس پر لازم نہیں جب چاہے مطالبہ کرسکتا ہے ۔(۲) بیع صرف کے بدلین اور (۳) بیع سلم کاثمن جس کو راس المال کہتے ہیں ان دونوں میں میعاد مقرر کرنا نا جائز ہے ۔اسی مجلس میں ان پرقبضہ کرنا ضرورہے ۔( ۴) مشتری نے شفیع کے لئے میعاد مقرر کردی یہ بھی صحیح نہیں ۔(۵) ایک شخص پر دین تھا اس کی معیادمقرر تھی وہ قبل معیاد مرگیا اورمال چھوڑا یا وہ دین غیر میعادی تھا اس کے مرنے کے بعد دائن نے ورثہ کو ادائے دین کے لئے میعاددی یہ میعاد صحیح نہیں کہ یہ دین اس شخص کے ذمہ تھا اس کے مرنے کے بعد دین کا تعلق ترکہ سے ہے اور جب ترکہ موجود ہے تومیعاد کے کیا معنے یہاں دین کاتعلق ورثہ کے ذمہ سے نہیں کہ ان سے وصول کیا جائے ان کومہلت دی جائے ۔(۶)اقالہ میں مبیع مشتری نے واپس کردی اور ثمن بائع کے ذمہ ہے اس کو مشتری نے مہلت دی یہ میعاد بھی صحیح نہیں ۔( درمختار) میعاد صحیح نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ دائن کو فوراًوصول کرلینا واجب ہے وصول نہ کرے تو گنہگار ہے بلکہ یہ کہ مدیون کو فوراًدینا واجب ہے اور دائن کا مطالبہ صحیح ہے اور دائن وصول کرنے میں تاخیر کررہا ہے تویہ اس کا ایک احسان وتبرع ہے مگر بیع صرف کے بدلین اورسلم کے راس المال پر اسی مجلس میں قبضہ کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ۲۷: بعض صورتوں میں قرض کے متعلق بھی میعاد ہے ۔ (۱) قرض سے قرض دار منکر تھا اور ایک رقم پر صلح ہوئی اور اس کی ادائیگی کے لئے میعاد مقررر ہوئی صحیح یہ میعاد صحیح ہے مثلاًایک شخص پر ہزار روپے قرض ہیں اور سوروپے پرایک ماہ کی مدت قرار دیکر صلح ہوئی ہزار کے سو ملیں یعنی نوسو معاف ہیں یہ صحیح ہے مگر میعاد صحیح نہیں یعنی فی الحال دینا واجب ہے اور اگر اس صورت مذکورہ میں قرضدار انکاری ہوتو میعاد صحیح ہے ۔(۲) یونہی قرضدار نے قرض خو اہ سے تنہائی میں کہا اگر تم مہلت نہ دوگے تومیں اس قرض کااقرار ہی نہیں کروں گااس نے گواہوں کے سامنے میعادی دین کا اقرار کیا ۔(۳)قرضدار نے قرض خواہ کے مطالبہ کوکسی دوسرے شخص پر حوالہ کردیا اور اس کوقرض خواہ نے مہلت دی تویہ میعاد صحیح ہے (۴)یا ایسے پر حوالہ کیا کہ خود قرضدار کا اس پر میعادی دین تھا تویہ قرض بھی میعادی ہوگیا ۔(۵) کسی شخص نے وصیت کی میرے مال سے فلاں کو اتنا روپیہ اتنی میعاد پر قرض دیا جائے اور ثلث مال سے قرض دیا گیا ۔(۶)یا یہ وصیت کی کہ فلاں شخص پر جو میرا قرض ہے میرے مرنے کے بعد ایک سال تک اسکو مہلت ہے ان صورتوں میں قرض میعادی ہوجائے گا۔(درمختار، فتح القدیر)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button