ARTICLESشرعی سوالات

ماہواری کا اندیشہ ہو تو عورت کس حج کا احرام باندھے

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ ہم حجِ قِران کرنا چاہتے ہیں جب کہ ہمارے ساتھ کچھ خواتین بھی ہیں اور ہماری مکہ آمد آخری ایام میں ہو گی اور خواتین میں سے ایک خاتون کے ایام ماہواری عادت کے مطابق احرام کے بعد شروع ہو جائیں گے ا ب وہ خاتون کس حج کا احرام باندھ کر آئے کہ ُاس پر عمرہ کی قضاء اور دَم لازم نہ ہو کیونکہ مکہ آمد کے بعد اتنا وقت نہیں ہو گاکہ وہ ماہواری سے پاک ہو۔

(السائل : محمد عرفان، لبیک حج گروپ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں مذکورہ خاتون پر میقات سے احرام کے ساتھ گزرنا لازم ہے کیونکہ وہ عازمِ مکہ ہے ، چنانچہ حدیث شریف میں ہے :

’’لَا یُجاوزُ أَحَدٌ الوَقْتَ إلاَّ مُحْرِمٌ (52)

یعنی، کوئی میقات سے نہ گزرے مگراحرام والا۔ اس لئے اُسے چاہئے کہ وہ حجِ افراد کا احرام باندھ لے کیونکہ اگر حجِ تمتع یا حجِ قران کا احرام باندھے گی تو ماہواری کی وجہ سے اُسے عمرہ چھوڑنا پڑے گا اور اُس پر عمرہ کی قضا اور دَم لازم آ جائے گا، جب کہ حج افراد کا احرام باندھنے کی صورت میں عمرہ کا ترک لازم نہیں آئے گا بلکہ وہ مکہ پہنچ کر حالتِ احرام میں ٹھہری رہے پھر جب حاجی منیٰ کو روانہ ہوں اُن کے ساتھ منیٰ روانہ ہو جائے اِس طرح تمام افعال حج ادا کرے ، صرف اِس حالت میں طوافِ زیارت نہیں کرے گی جب پاک ہو جائے تب طوافِ زیارت کرے اگرچہ بارہ ذوالحجہ کا سورج غروب ہو جائے اور اُس پر کچھ لازم نہیں آئے گا، ہاں اگر بارہ تاریخ کے غروبِ آفتاب سے قبل پاک ہوئی اور غسل کر کے غروب سے قبل طواف کے چار پھیرے دے سکتی تھی اور اُس نے ایسا نہ کیا تو اُس پر تاخیر کی وجہ سے دَم لازم ہو گا۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الخمیس، 22 ذو القعدہ 1429ھ، 20نوفمبر 2008 م 475-F

حوالہ جات

52۔ اِن کلمات کو امام ابن شیبہ نے ’’المصنّف‘‘ کے کتاب الحجّ، باب (437) مَن قال : لا یجاوز أحدٌ إلخ (برقم : 15702، 11/435) میں عن سعید بن جبیر عن أبن عباس اِن الفاظ سے روایت کیا ہے کہ

’’لَا تَجُوْزُوا الْوَقْتَ إلاَّ بِإِحْرَامٍ،

یعنی میقات سے نہ گزرو مگر احرام کے ساتھ

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button