ARTICLESشرعی سوالات

ماہواری ختم ہونے پر طوافِ زیارت کیا کہ پھر شروع ہو گئی

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت کو اس کی عادت کے مطابق پانچ دن ماہواری آچکی اس کے بعد اس نے پاک ہو کر غسل کر لیا، غسل کے بعد اس نے نماز شروع کر دی اور طوافِ زیارت بھی کر لیا، پھر ساتویں دن اسے دوبارہ ماہواری ہو گئی ، اس صورت میں اس کا طواف درست ہو گیا یا نہیں اور اس عورت پر کچھ لازم ہوا یا نہیں ؟

(السائل : محمد فتانی، مکہ مکرمہ )

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ دوسری بار آنے والا خون ماہواری کے دس دن پورے ہونے پر یا دس پورے ہونے سے قبل ختم ہوا تو کئے ہوئے طواف سے فرض تو ادا ہو گیا مگر اس پر بدنہ یعنی گائے یا اونٹ کا ذبح کرنا لازم ہو گیا اور وہ گنہگار ہوئی، چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی متوفی 996ھ لکھتے ہیں :

وطافت ثم عاد دمہا فی أیام عادتہا یصح طوافہا و لزمہا بدنۃ و کانت عاصیۃ (لُباب المناسک) وفی شرحہ : أی من وجہین لدخول المسجد و نفس الطواف (228)

یعنی، عورت نے طواف زیارت کر لیا پھر اس کی عادت کے ایام میں ماہواری کا خون دوبارہ آ گیا تو اس کا طواف صحیح ہو گیا اور اس پر بدنہ لازم ہو گیا اور وہ گنہگار ہوئی۔ یعنی دو وجوہ سے ایک مسجد میں داخل ہونے اور دوسری نفسِ طواف کی وجہ سے ۔ اور اس پر لازم ہے کہ ماہواری سے پاک ہونے کے بعد طوافِ زیارت دوبارہ کرے اگر وہ ایسا کر لیتی ہے تو اس پر سے بدنہ ساقط ہو جائے گا، چنانچہ لکھتے ہیں :

و علیہا أن تعید طاہرۃ، فإن أعادتہ سقط ما وجب (229)

یعنی، اس پر لازم ہے کہ وہ پاک ہو کر طواف زیارت کا اعادہ کرے ، پس اگر وہ اس کا اعادہ کر لیتی ہے تو اس پر سے وہ ساقط ہو گیا جو واجب ہوا تھا (یعنی بدنہ ساقط ہو جائے گا)۔ اور گناہ بہر حال باقی رہے گا جس کے لئے توبہ کرنا ضروری ہو گی، چنانچہ مندرجہ بالا عبارت کے تحت ملا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

و علیہا التوبۃ من جہۃ المعصیۃ و لو مع البدنۃ (230)

یعنی، اس پر معصیت (گناہ) کی جہت سے سچی توبہ لازم ہے اگرچہ بدنہ بھی دے دے ۔ اور اس صورت میں بظاہر عورت کا قصور تو نہیں کیونکہ اُسے عادۃً ماہواری آ چکی اور اس نے غسل کر لیا پھر طوافِ زیارت کیا اور طواف کر لینے کے بعد حیض کی مدّت یعنی دس دنوں کے اندر اُسے ماہواری دوبارہ شروع ہو گئی تو فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ اس کا طواف صحیح ہو گا اور اس پر بدنہ لازم آیا اور وہ گنہگار ہوئی اور اگر وہ دوبارہ آئے ہوئے ماہواری کے خون کے ختم ہونے پر وہ غسل کرے اور طواف کر لے تو بدنہ ساقط ہو جائے گا توبہ بہر حال کرنی ہو گی، اور جو معصیت واقع ہو جانے کی وجہ سے توبہ کا حکم لگایا گیا ہے اس کے بارے میں اگر کہا جائے کہ شاید اس لئے کہ مدّت ماہواری جب دس دن ہے اور اس مدّت میں طہر مُتخلّل بھی حیض ہی کہلاتا ہے تو اُسے اس مدّت میں یعنی دس دن تک انتظار کرنا چاہئے تھا کہ مدّت میں حیض کا احتمال باقی رہتا ہے اور اس صورت میں پھر یہ کہ عورت اپنی عادت کے مطابق ماہواری سے پاک ہو گئی اور طوافِ زیارت کا واجب وقت ابھی باقی ہے اور حیض کی مدّت بھی ابھی باقی ہے پھر اگر وہ مدّتِ حیض گزار کر طواف ِ زیارت کرتی ہے تو واجب وقت نکل جاتا ہے تو اس کا مطلب ہو گا کہ عورت نے قدرت و فرصت میسر آنے کے باوجود طوافِ زیارت اپنے وقت پر نہیں کیا جس کی بناء پر اس پر دم لازم آئے گا۔ تو اس کے باوجود توبہ کا حکم دیا گیا شاید یہ حکم احتیاط پر مبنی ہے ۔ اور اگر دوسری بار آنے والا خون دس دن کے بعد تک جاری رہا تو کئے ہوئے طواف سے فرض ساقط ہو جائے گا اور اس صورت میں عورت پر کچھ بھی لازم نہ ہو گا۔ کہ وہ ماہواری نہیں بلکہ استحاضہ ہے جیسا کہ کُتُبِ فقہ میں مذکور ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأحد، 18ذوالحجۃ 1427ھ، 7ینایر 2007 م (352-F)

حوالہ جات

228۔ لباب المناسک و شرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب الجنایات وأنواعھا، النوع الخامس : الجنایات فی أفعال الحج، فصل فی طواف الزیارۃ للحائض، ص496

229۔ لباب المناسک و شرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب الجنایات وأنواعھا، النوع الخامس : الجنایات فی أفعال الحج، فصل فی طواف الزیارۃ للحائض، ص496

230۔ لباب المناسک وشرحۃ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب الجنایات وأنواعھا، النوع الخامس، الجانیات فی أفعال الحج، فصل فی فی طواف الزیارۃ للحائض، تحت قولہ : فان أعادتہ سقط ما وجب، ص496

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button